شہرِ ظلمت میں روشنی کا سفیر: پریم ناتھ بسملؔ از: کامران غنی صباؔ

0
16

شعبۂ اردو نتیشور کالج، مظفرپور

اردو محبت کی زبان ہے۔ اردو خیر سگالی کی زبان ہے۔ اردو گنگا جمنی تہذیب کی علامت ہے۔زبان مذہب اور سرحد کی قید سے آزاد ہوتی ہے۔یہ باتیں کوئی نئی نہیں ہیں۔اردو کے تعلق سے یہ باتیں بڑے جوش و خروش کے ساتھ کہی جاتی ہیں۔ ایک بار بھاگلپور کلکٹریٹ آفس میں ضلع اردو زبان سیل کی طرف سے فروغِ اردو سمینار کے موقع پر افسران اردو کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا رہے تھے۔غیر اردو داں افسران کی زبان سے اردو کی قصیدہ خوانی ،تالیوں کی گڑگڑاہٹ میں سماعتوں میں رس گھول رہی تھی۔افسران عام بول چال سے لے کر فلم اور ادب تک اردو کی عظمتیں بیان فرما رہے تھے۔مجھے کچھ عرض کرنے کا موقع ملا تو میں نے افسران کی اردو نوازی کا اعتراف کرتے ہوئے نہایت ادب کے ساتھ ایک سوال رکھ دیا۔ “اردو محبت و اخوت کی زبان ہے۔ اردو شیریں زبان ہے۔ اردو قومی یکجہتی اور گنگا جمنی تہذیب کی علامت ہے۔” اگر یہ ساری باتیں درست ہیں تو آپ اپنے بچوں کو اردو کیوں نہیں پڑھواتے ہیں؟ کیا آپ نہیں چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ محبت و اخوت کا امین بنے؟ قومی یکجہتی اور گنگا جمنی تہذیب کا علم بردار ہو؟”

میرے اس سوال کے بعد جلسہ گاہ میںسکوت کی سی کیفیت طاری ہو چکی تھی۔ مجھے آج تک اس سوال کا جواب نہیں مل سکا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ اردو کے ساتھ کیسا المیہ ہے کہ بہ یک وقت یہ زبان “اعتراف” اور “انحراف” دو انتہائوں کے درمیان اپنے وجود کی جنگ لڑ رہی ہے۔ جو لوگ اردو کی عظمت کا اعتراف کرتے ہیں وہی اردو کو نظر انداز بھی کرتے ہیں۔ یہی اردو کی دردناک داستان ہے۔یہ سچ ہے کہ اردو زبان کو بام عروج تک پہنچانے میں غیر مسلم شعرا و ادبا کا بہت اہم اور ناقابلِ فراموش کردار رہا ہے لیکن رفتہ رفتہ تعصب کی ایسی فضا تیار کی گئی کہ اردو ایک خاص قوم و مذہب کی زبان بن کر رہ گئی۔ اگر یہ حقیقت نہیں ہے توکوئی مجھے بتا دے کہ پورے ہندوستان کے لاکھوں اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں میں کتنے غیر مسلم طلبہ و طالبات اردو بطور مضمون پڑھتے ہیں؟اس وقت ہندوستان گیر سطح پر کتنے غیر مسلم شعرا و ادبا اپنی شناخت رکھتے ہیں؟ ان سوالوں پر خاموش رہ کر کوئی اردو سے محبت کا ثبوت کیسے پیش کر سکتا ہے؟

یہ باتیں اردو کے تعلق سے مایوس کن ضرور ہیں لیکن ظلمت کدے میں ایک ایسا “بسمل” بھی ہے جو اردو کی محبت میں مسلسل تڑپ رہا ہے۔میری مراد بہار کے ویشالی ضلع سے تعلق رکھنے والے نوجوان شاعر و معلم پریم ناتھ بسمل سے ہے۔ پریم ناتھ بسمل نے جب آنکھیں کھولیں تو دور دور تک اردو بولنے اور لکھنے پڑھنے والاکوئی موجود نہ تھا۔ آس پاس کوئی ایسا اسکول بھی نہیں تھا جہاں اردو تدریس کا کوئی نظم ہو۔فلمی نغموںمیں اردو الفاظ کی دلکشی نے پریم ناتھ کو اردو کی محبت میں بسملؔ بنا دیا۔ کہتے ہیں کہ ذوق صادق ہو تو منزل خود آکر قدم بوسی کرتی ہے۔ پریم ناتھ بسمل کے ذوق و جذبہ نے انہیں مدرسہ تک پہنچا دیا۔ ویشالی ضلع میں مدرسہ احمدیہ ابابکرپور ایک قدیم اور مشہور تعلیمی ادارہ ہے۔ بسملؔ اردو سیکھنے کا شوق لے کر مدرسہ پہنچ گئے۔ مدرسہ کی آب و ہوا انہیں ایسی راس آئی کہ وہ وہیں کہ ہو رہے۔انہوں نے مدرسہ احمدیہ، ابابکرپور سے “مولوی” کا کورس مکمل کیا اور پریم ناتھ “مولوی پریم ناتھ بسملؔ” بن گئے۔مدرسہ کے اساتذہ کی شفقت و محبت کے سائے میں “پریم” کا اردو پریم اتنا بڑھا کہ اردو سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے وہ پٹنہ چلے آئے اور پٹنہ کالج میں بی اے اردو آنرس میں داخلہ لیا پھر پٹنہ یونیورسٹی سے اردو میں ہی ایم اے مکمل کیا۔ اردو کی محبت نے انہیں اردو کا استاد بنا دیا۔ بہار حکومت کی طرف سے اساتذہ بحالی کا عمل شروع ہوا تو پریم ناتھ بسمل اردو کے استاد بن کر مہوا کے ایک میڈل اسکول سے وابستہ ہوئے۔ تادمِ تحریر وہ اسی اسکول میں اپنے تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ساتھ ہی پندرہ روزہ رسالہ “صدائے بسمل” میں بطور اعزازی مدیر وہ اپنی خدمات پیش کر رہے ہیں۔

پریم ناتھ بسملؔ سے میرے مراسم 2006ء سے ہیں۔ میں نے پٹنہ کالج میں اردو آنرس میں داخلہ لیا تھا۔ پریم بھائی مجھ سے ایک سال سینئرتھے لیکن ان کے اندر سینئروالاکوئی ہائو بھائو نہیں تھا۔وہ مہوا سے روزانہ کلاس کرنے کے لیے پٹنہ آتے تھے۔ وہ مجھے شروع سے ہی کم گو نظر آئے۔اپنی کم گوئی کے باوجود وہ اس وقت بھی شعبہ کے ہردل عزیز طالب علم تھے۔شاعری کا روگ انہیں اسی وقت لگ چکا تھا۔ کبھی کبھار ان کی غزلیں پندار میں شائع ہوا کرتی تھیں۔پریم بھائی نے گریجوئیشن کے بعد پٹنہ یونیورسٹی میں ہی پوسٹ گریجوئیشن میں داخلہ لیا۔ 2009ء میں میرا داخلہ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی میں ہو گیا اور یوں ہم لوگ ایک دوسرے سے دور ہو گئے۔ اُس وقت موبائل اتنا عام نہیں ہوا تھا لہٰذا ہم لوگوں کے بیچ کوئی رابطہ بھی نہیں رہ سکا۔پریم بھائی نے ایم اے مکمل کرنے کے بعد اسکول کیا جوائن کیا، شعر و ادب سے ان کا رشتہ بالکل ہی منقطع ہو گیا۔

ٹھیک نو سال بعد 2018 کوہم لوگوں کی دوبارا ملاقات ہوئی۔ پریم بھائی نے “روزنامہ پندار” میں میرا موبائل نمبر دیکھ کر مجھے فون کیا۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ میں چک نصیر(ویشالی) میں ملازمت کر رہا ہوں توان سے صبر نہ ہو سکا، وہ مجھ سے ملنے اسکول چلے آئے۔ برسوں بعد ملاقات کے بعد ہماری جو کیفیت تھی اسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا ہے۔تقریباً دن بھر پریم بھائی میرے ساتھ رہے۔ انہوں نے پچھلے نو برسوں کی تلخ و شیریں یادیں مجھ سے شیئر کیں۔میں نے اُن سے وعدہ لیا کہ وہ پھر سے نئے جوش و ولولہ کے ساتھ شعر و ادب کے افق پر اپنی موجودگی کا ثبوت پیش کریں گے۔مجھے خوشی ہے کہ پریم بھائی نے اپنا وعدہ وفا کیا۔ “صدائے بسمل” ان کے ایفائے وفا کا ثبوت ہے۔

“صدائے بسملؔ” کے حوالے سے میں اپنی رائے اس لیے محفوظ رکھنا چاہتا ہوں کیوں کہ مجھے خدشہ ہے کہ فرط رفاقت سے مغلوب ہو کر میںانصاف نہیں کر پاؤں گا۔ پریم ناتھ بسملؔ کا شعری مجموعہ جب دانشوران علم و ادب کی بصارتوں کا حصہ بنے گا تو وہ اس پر بہتر اظہار خیال کریں گے۔ ہاں اتنی بات ضرور عرض کرنا چاہتا ہوں کہ پریم ناتھ بسمل کی شاعری ان کی شخصیت کی طرح صاف و شفاف ہے۔جس طرح انہوں نے اپنی شخصیت کو پروپیگنڈے سے اب تک محفوظ رکھا ہے، اسی طرح ان کی شاعری بھی پروپیگنڈے سے پوری طرح محفوظ ہے۔میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ پریم ناتھ کی جگہ اگر کسی دوسرے “ناتھ” نے مدرسہ سے تعلیم حاصل کی ہوتی، عربی جانتا، اردو کا شاعر ہوتا تو وہ اپنے “نام” کا استعمال کر کے شہرت کی بلندیوں پر پہنچ چکا ہوتا لیکن پریم ناتھ بسملؔ نے کبھی اپنی اردو دوستی کا سہارا لے کر ادبی افق پر چھا جانے کی کوشش نہیں کی۔

ایسے وقت میں کہ جب اردو اندرونی و بیرونی ہر سطح پر تعصب و امتیاز کا شکار ہے، کہیں دانستہ تو کہیں غیر دانستہ طور پر اسے مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے، ایسے میں پریم ناتھ بسمل کا نام شہر ِظلمات میں روشنی کے سفیر کے طور پر ابھرتا ہے۔ “صدائے بسمل” کی اشاعت پر میں اپنے مخلص دوست اور اردو کے سچے عاشق پریم ناتھ بسمل کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ “ترے جنوں کا خدا سلسلہ دراز کرے۔”

Previous articleناول : رُوحانیت سے رومانیت تک از:خورشید حیات
Next articleنئے امکانات پر دستک دیتا گرم سیر: عظیم انصاری از: عالیہ خان

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here