شعری مجموعہ “آئینہ ادراک” پر ایک نظر ۔۔از : عارفہ مسعود عنبر

0
330

محترم جناب نازک سنبھلی صاحب کو “آئینہ ادراک” کے رسم اجراء کے موقع پر دل کی عمیق گہرایوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں ،خاکسار کو اس منفرد انداز کے شعری مجموعہ کا بے صبری سے انتظار تھا ، بڑی مدت کے انتظار کے بعد یہ خوبصورت لمحات دیکھنا نصیب ہوئے ہیں ۔کافی دن پہلے نازک صاحب نے” آئینہ ادراک” ہمیں بطور تحفہ پیش کی تھی جس کے لیے ہم نازک صاحب کے دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہیں۔ ،”ائینہ ادراک” حقیقت میں ایک ایسا آئینہ ہے جس میں شاعری کے تمام علوم و فنون کی صاف اور شفاف تصویر نظر آتی ہے ہمیں یقین ہے “آئینہ ادراک ” نو مشک شعرا کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگی ، ہمارا شعری سرمایہ صرف تقلید گذشتگان کا مرہون منت نہیں ہے بلکہ اس میں عہد بہ عہد اور فکری سطح پر تبدیلیاں ہوتی رہی ہیں اور انہیں کے باعث ہماری شاعری سر سبز اور شاداب ہے ۔اردو شعروں ادب کی تاریخ میں وہی شعرائے کرام اہم تصور کئے جاتے ہیں جنہوں نے تقلید کی ڈگر سے ہٹ کر تازہ نسیم صحر کا استقبال خوش دلی سے کیا ہے ،تقلید جامد سے انحراف کرکے نئ فضاؤں سے فیضیاب ہوئے ہیں ایسے ہی شاعر جناب نازک سنبھلی صاحب نے ہمارے شعری ادب کو ایک منفرد انداز کا شعری مجموعہ “ائینہ ادراک” کی شکل میں پیش کیا ہے ۔ آئینہ ادراک شائقین ادب کے لیے بیش قیمتی تحفہ ہے ۔448 صفحات پر مشتمل یہ شعری مجموعہ اردو ادب میں منفرد مقام کا حامل ہے جناب نازک سنبھلی صاحب نے اردو شاعری کی ہر صنف سخن پر طبع آزمائی کی ہے اور کمال یہ ہے کہ ایک ماہر فن کی طرح ہر صنف سخن کے ساتھ بھر پور انصاف کیا ہے ،ایک طرف آپ نے غزل کی روایتوں کا خیال رکھا ہے تو دوسری طرف مذہبی روایات اور حکایات سے اردو شاعری کا رشتہ نہیں ٹوٹنے دیا ،اپ کی شاعری میں حال کی جھلک بھی موجود ہے اور ماضی کی تصویر بھی نیز آپ کے کلام میں اسلامی شعار اور تہزیب کی آئینہ داری پوری صداقت کے ساتھ موجود ہے “آئینہ ادراک” تین ابواب پر مشتمل ہے ،باب اول میں حمد ،نعت اور غزل کے کل 33 سیٹ ہیں ، باب دوم میں سلام و منقبت کے 9 سیٹ اور باب سوم میں غزل کے 33 سیٹ تینوں ابواب میں کل 2239 اشعار شامل کئے گئے ہیں جس میں پہلے باب میں 967 اشعار دوسرے باب میں 242 اشعار تیسرے باب میں 1030 اشعار ۔ یہ شعری سرمایہ نازک صاحب کی 50 برس کی ریاضت کا ثمر ہے ۔ اس سیٹ کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں نعت ،حمد اور غزل میں بحر اور قافیہ ردیف یکساں ہے اور صنف سخن کے لحاظ سے مضامین جدا جدا ہیں ، شاعر کا کمال فن یہ ہے کہ جب شاعر حمد کہتا ہے تو خندہ پیشانی سے بارگاہ الٰہی میں خود کو پیش کر دیتا ۔

نور اور ظلمت کا بن کے سلسلا سورج
نظم ہے ترا یکتا یہ بتا گیا سور ج

جب نعت کہتا ہے تو لفظ لفظ عشق رسول میں سرشار نظر آتا ہے

نور حسن احمد کا بن کے آ ئنا سورج
کائنات عالم کو جگمگا گیا سورج

اور جب غزل کہتا ہے تو غزل کی تمام روایات کا خیال رکھتا ہے ۔

وجہ اختلاف آخر بن کے ہی رہا سورج
ان کو چاند لکھنا تھا ہم نے لکھ دیا سورج

(بحر کا نام : بحر ہند مثمن اشتر مکفوف مقبوض مخنق سالم آخر: ایک مصرع کا وزن : فاعلن مفاعیلن فاعلن مفاعیلن)

نازک صاحب کے مجموعے کلام” آئینہ ادراک “کے تینوں ابواب میں فن کا جو مظاہرہ پیش کیا ہے وہ حقیقتاً قابلِ تحسین ہے ،فن کی ایسی مثال ہم نے اس سے پہلے کہیں نہیں دیکھی ،عموما عام شعراء کے لیے ایک ہی ردیف قافیہ اور بحر میں ایک سے زیادہ کلام کہنا مشکل ہوتا ہے وہیں نازک صاحب نے حمد نعت اور پھر غزل کے 33 سیٹ اور باب دوم میں قوافی بدل بدل کر پہلے سلام کے 9سیٹ بے حد حسین انداز میں پیش کئے ہیں اور ۔ کاریگری اور فن سخن کا ایسا نادر و نایاب گلدستہ اس سے پہلے ہماری نظروں سے نہیں گزرا۔ آئینہ ادراک کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں شامل کلام علم عروض کے زیور سے اس قدر سجا سنورا کے کہ اس نے ہر سیٹ کے حسن میں چار چاند لگا دئیے ہیں یعنی حسب صراحت اوزان کا بھر پور خیال رکھا گیا ہے، نادر و نایاب تشبیہات نے کلام میں مزید دلکشی پیدا کر ہے ۔لفظوں کی ساخت اور برجستگی کا بھر پور خیال رکھا گیا ہے ۔ حمد، نعت ، منقبت وغیرہ کے الگ الگ مجموعے تو لا تعداد دیکھنے کو مل جائیں گے لیکن اس طرح کا خوبصورت گلدستہ اپنے آپ میں ایک مثال ہے اور اس پر فن کی چابک دستی ایسی کہ کسی بھی صنف سخن کے ساتھ کوئ نا انصافین نظر نہیں آتی ۔اپ کا یہ کارنامہ شعر و ادب کی دنیا میں سونے پر سہاگا ہے کہ ہر سیٹ کی پیشانی پر بحر کا نام اور ایک مصرعے کا وزن بتایا گیا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ نازک صاحب علم عروض پر پوری دسترس رکھتے ہیں ۔ایک سیٹ کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں ۔

حمد :۔ جو بار گہ حق میں سرشار نہیں ہوتا
جنت کا کسی پہلو حق دار نہیں ہوتا۔۔۔

نعت: جو شخص غریبوں کا غمخوار نہیں ہوتا
الطاف محمد کا حقدار نہیں ہوتا

ایک ہی بحر اور قافیہ میں حمد اور نعت کہنے کے بعد غزل میں بھی بہترین مضمون کے ساتھ اشعار کو باندھا ہے ۔۔

غزل :۔ جس دن بھی مجھے ان کا دیدار نہیں ہوتا
دل میرا مسرت سے سرشار نہیں ہوتا

ناکام محبت ہوں عمر ہوئ لیکن
پھر بھی تیری الفت سے انکار نہیں ہوتا

نازک صاحب نے آئینہ ادراک میں کہیں بھی مبالغہ آرائ سے کام نہیں لیا ہے ،شاعری کے اصول و ضوابط کو کہیں بھی ہاتھ سے چھوٹنے نہیں دیا ،نازک صاحب کے کلام میں چستی اور روانی کے ساتھ ساتھ تشبیہات،تلمیحات ، استعارات اور محاورات کا خوبصورتی سے استعمال کیا گیا ہے
ہمیں امید ہی نہیں یقین ہے کہ ‘آئینہ ادراک” اُردو دنیا میں ایک منفرد مقام حاصل کرے گی نازک صاحب کے اس شعر کے ساتھ اپنی تحریر کا اختتام کرتی ہوں

میرا کلام نہ کیوں مشتہر ہو دنیا میں
ہیں میری فکر میں روشن تیری ثناء کے چراغ

Previous articleغزل ’’اب کہاں تیری ردائے شب بخیر ‘‘ از: افتخار راغبؔ دوحہ، قطر
Next articleامیر شریعت کے انتخاب کے لیے ارباب حل و عقد کا اجلاس 10 اکتوبر: آفس سکریٹری

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here