شریعت کے مطابق صلاحیت کے ساتھ انصاف میں عزت ہے از: مدثر احمد قاسمی

0
116

اللہ تبار و تعالیٰ نے حضرتِ انسان کو بے شمار صلاحیتوں سے نوازا ہے،جن کو پہچاننے،نکھارنے اور بروئے کار لانے میں دین و دنیا کی کامیابی مضمر ہے۔تاریخ ِانسانی اِس بات کی گواہ ہے کہ جن لوگوں نے بھی اپنی صلاحیتوں کو جِلا بخشا اور اس کا بھر پور استعمال کیا ،انہوں نے ناممکن نظر آنے والی چیزوں کو بھی ممکن کر دکھلایا اور اِس طرح وہ کامیابی کے اوجِ ثریا تک پہونچے۔لوہے کو جہاز کی شکل میں آسمان میں اُڑانے سے لے کر سمندر کی گہرائیوں میں آبدوزوں کو پہونچانے تک اِس کی اَن گنت مثالیں موجودہیں۔انسانوں کی اِن جیسی اور دیگرگونا گوں صلاحیتوں کی وجہ سے اللہ رب العزت نے اُنہیں صاحبِ فضیلت قرار دیا ہے،چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:”ہم نے اولادِ آدم کو عزت بخشی ہے، ہم نے اُن کو خشکی اور دریا میں سواری دی ہے، ان کو پاکیزہ و نفیس رزق عطا فرمائی ہے اور ہم نے ان کو اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت سے نوازا ہے۔”(سورہ بنی اسرائیل:۷۰)

مفسرین نے انسانوں کی مختلف صلاحیتوں اور خصوصیتوں کو وجہ فضیلت بتلانے کے ساتھ عقل کی دولت کو ایک ممتازصفت گردانا ہے کیونکہ اِسی عنصر سے انسانوں کو مختلف صلاحیتوں کا ادراک ہوتا ہے اور اس کے صحیح استعمال سے صلاحیتیں نکھرتی اور وجہ ِاستفادہ بنتی ہیں ۔علامہ قرطبی ؒ نے اِس نکتے کو بہت ہی معقول انداز سے سمجھاتے ہوئے تحریر فرمایا ہے کہ :”شریعت کی حیثیت سورج کی ہے اور عقل کی حیثیت آنکھ کی ہے۔”(تفسیر قرطبی ۱۰/۲۹۴)اِس تشریح سے زیرِ بحث موضوع کی اِس طور پر بہت ساری پرتیں کھلتی ہیںکہ جب انسانوں کی عقل کی آنکھیں کھلیں گی تو شریعت کی روشنی میں اُن کو دینی و دنیاوی کامیابی کے بہت سارے راستے نظر آئیں گے،اِس کے بعد انسانوں کا کام صرف یہ ہوگا کہ اپنی اپنی صلاحیتوں کے حساب سے راستے متعین کریں اور کامیابی کی منزل پر پہونچ جائیں۔

یہاں اب ایک اہم سوال یہ ہے کہ انسانوں کو اپنی صلاحیتوں کا ادراک کیسے ہوگا۔اِس کا سب سے صاف اور آسان جواب یہ ہے کہ انسان لکھنے پڑھنے کے نظام سے اپنے آپ کو وابستہ کر لے۔اِس طرح جب انسانوں کو علم و قلم کی روشنی ملے گی تو اُن کو اپنا دلچسپ میدان عمل بھی نظر آئے گا اور وہ مردِ میدان بننے کے لئے اپنی خوابیدہ صلاحیتوں کو بیدار کرنے کی طرف قدم بھی بڑھائیں گے۔قرآن مجید کی ابتدائی پانچ آیتوں میں لکھنے پڑھنے کی جو ترغیب دی گئی ہے وہ اِس بات کو واضح کرنے کے لئے کافی ہے کہ مناسب اور معقول تعلیم کے بغیر تمام صلاحیتیں بنجر زمین کی طرح ہیں ؛جس طرح بنجر زمین پر محنت کے بغیر پھل نہیں آتے ،بالکل اسی طرح تعلیم کے بغیر صلاحیتیں وجود میں نہیں آتیں۔ اس کے برخلاف جب انسان تعلیم حاصل کرتا ہے تو خود بخود اُس کو اپنی صلاحیتوں کا علم ہونے لگتا ہے اور یہی وہ مقام ہوتا ہے جب اساتذہ اور گھر والوں کو صحیح فیصلے کے ذریعے طالب علم کی معاونت کرنی ہوتی ہے۔یہاں ہمیں یہ سمجھنا ہے کہ قرآن کی ابتدائی پانچ آیتیوں کے ذریعے اللہ رب العزت نے یہ طے فرمادیا ہے کہ علم و تحقیق کی روشنی میں ہی ترقی ہوگی اور صلاحیتوں کا صحیح استعمال ہوگا۔

سورہ علق کی پانچویں آیت :”انسان کو اُن چیزوں کی تعلیم دی ،جن کو وہ نہیں جانتا تھا۔”میں زیرِ بحث موضوع کے اعتبار سے ایک لطیف نکتہ یہ بھی ہے کہ نبی اکرم ﷺ کا دورِ نبوت جو تاقیامت ہے ،یہ دور نئی تحقیقات،علمی انکشافات اور جدید ایجادات کا دور ہوگا۔چنانچہ یہ ایک حقیقت ہے کہ نبی اکرم ﷺ سے پہلے کئی ہزارصدیوں پر محیط زمانے میں وہ چیزیں معرضِ وجود میں نہیں آئیں جوکہ نبی اکرم ﷺ کے زمانے سے لے کر آج تک پندرہ سو سالوں میں تیزی سے وجود میں آئیںاور یہ سلسلہ مزید تیزی کے ساتھ رواں دواں ہے۔اِس میں ہمارے لئے یہ پیغام ہے کہ ہمیں وقت کی رفتار اور تقاضے سے ہم آہنگ ہونے کے لئے اور اپنی صلاحیتوں کو صحیح رخ دینے کے لئے علم کے میدان کو جولان گاہ بنا نا ہوگاتاکہ ہماری صلاحیتیں ضائع ہونے سے بچیں ، معاشرے میں قابلِ عزت مقام ملے اور پسماندہ طبقوں میں ہمارا شمار نہ ہو۔

مذکورہ تناظر میں آج ہمارے سماج کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ بعض دفعہ ماں باپ اور بچے مستقبل کے حوالے سے اونچے اونچے خواب دیکھتے ہیں(جو معقول حد میں ضروری ہے) لیکن اِس درمیان جو محنت درکار ہوتی ہے اس میں کوتاہی کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں۔بسا اوقات ماں باپ سے یہ غلطی ہوتی ہے کہ بچوں کی صلاحیتوں کو پرکھے بغیر اُن کو اپنی خواہش کا اسیر بنادیتے ہیں،جس خواہش کی تکمیل بچوں کے لئے ٹیڑھی کھیر بن جاتی ہے۔اسی طرح کبھی کبھار ماں باپ اچھی تعلیم گاہ یا اچھے اساتذہ کے انتخاب کو کافی سمجھتے ہیں ؛جبکہ اس کے ساتھ ساتھ نگرانی اور تربیت بھی ضروری ہے۔ بچوں سے یہ کوتاہی ہوتی ہے کہ وہ اپنی قابلیت اور صلاحیت کے مطابق پڑھنے اور کام کرنے سے جی چراتے ہیںاور عملا ًوہ یہ چاہتے ہیں کہ بغیر محنت کے بلندمقام حاصل کر لیںبالفاظِ دیگر تمام محنت اساتذہ اور گھر والے کریں اور بیٹھے بٹھائے اُن کی صلاحیتوں کا ظہور ہوجائے اور عہدے سے سرفراز ہوجائیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ ہمارے بچوں کو علم کے راستے سے اپنی صلاحیتوں کا ادراک کرنا ہے اورساتھ ہی اساتذہ وماں باپ کی مدد سے اپنی صلاحیتوں کے ساتھ انصاف بھی کرنا ہے ؛اس کے بعد نہ ہی کوئی ہمیں علم سے نا بلد سمجھے گا اور نہ ہی کوئی ہمیں صلاحیتوں کی بنیاد پر زیادہ دیر تک حق سے محروم کرنے کی جرات کر پائے گا۔ ان شا ء اللہ

Previous articleمسلم معاشرہ میں غیر ضروری رسومات کی بہتات از : ڈاکٹر کہکشاں عرفان الہ آباد
Next articleاردو ادب میں پہلی بار ایک خانوادے میں تین ایوارڈ : تاریخ ساز واقعہ

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here