شاہ طلحہ رضوی برقؔ کی نعت گوئی از: علیم صبا ؔنویدی

0
173

اردو دنیا میں طلحہ رضوی برقؔ کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ یہ نام اردو کے معمولی طالب علم کے لیے بھی شناسا ہے۔ شاعری کی تقریباً تمام اصناف پرآپ کو عبو رہے اور آئے دن رسالوں میں آپ کا کلام پڑھنے کوملتا ہے۔ سب سے زیادہ جو چیز طلحہ رضوی برقؔ کی قاری پراثر انداز ہوتی ہے وہ اظہار کی شسگتی اور خیالات کی مہذبانہ ادائے گی ہے۔ لفظیات آپ کے قلم کی پابند ہیں اور موضوع کی ادائے گی میںموصوف کوکسی طرح کی کھینچ تان کی ضرورت پیش نہیںآتی۔ موــضوع آپ خودالفاظ میں ڈھلنے لگتا ہے اور جب شاعری ہوتی ہے تورنگ و آہنگ کی آمیزش آپ خود ہونے لگتی ہے۔

غزل پرپوری طرح دسترس رکھنے والے طلحہ رضوی برقؔ نے جب نعت گوئی کی طرف دھیان دیا تو غزل کے فارم نے آپ کو سہارا دیا اور غزل کے فارم میںنعت گوئی کو بیشترشعرا نے موزوں قراردیا ہے کیونکہ نعتوں میںجمالیتی عنصر بہت زیادہ ہوتا ہے اور عشقِ رسولؐ بھی غزل کی صنف میں بڑی آسانی سے جگہ پاسکتا ہے ۔ قوافی اور ردیف کی پابندی کے باعث نعتیں غزل کا مزہ دیتی ہیں اور ان میں بحر وں کا تنوع بھی غنائیت کو جگہ دیتا ہے۔ حضوراکرم ؐ کی تحمید و ثنا وسلام کو خود رب العالمین نے اپنایا اور ملائکہ کو بھی اس کا حکم دیا اور بندوں پر اسے فرض کیا ہے تو کیوںنہ ایک عاشقِ رسولؐ شاعر ان کو اپنائے۔طلحہ رضوی برقؔ کی نعتوں میں مدحتِ رسول ؐ بھی ہے اور عشقِ رسولؐ بھی ۔ احترام و اکرامِ رسول تولازمی امر ہے اورحق با ت کے کہنے میں بے باکی بھی ہے اوراحتیاط بھی۔

چوں کہ طلحہ رضوی برقؔ نے غزل کے فارم میں نعتیں کہی ہیں ان میں غزل کے معشوق کی طرح حضور کو لینے میں طلحہ رـضوی برقؔ نے ایک ہلکی سے جنبش کی ہے اوربڑی نزاکت سے اسے غزل کے معشوق سے علاحدگی بخشی ہے۔ یہ احتیاط بہت ضروری تھی۔ چلیے اس قبیل کے چند شعرلیتے ہیںاور ان میں شاعرکی اس ’’ہلکی سی جنبش‘‘ کومحسوس کرتے ہیں ؎

تڑپنا بھی فراقِ دوست میں لذت کا باعث ہے
یہی اک روگ تو لگ کر کبھی اچھا نہیں ہوتا

اس شعر میںغزل کے دیگر اشعار کے قوافی کے درمیان یہ شعر نعت کا شعر بنتا ہے دیگر قوافی ہیں ’’قاب قوسین اوادنیٰ‘‘،یس و طہ،محمد کا‘، وغیرہ۔
اسی نعت کا ایک اورشعر بھی سنیے ؎

کہاں پھر چھیڑتا مضرابِ غم یہ نغمۂ الفت
دلِ بسمل کا سینے میں جو اکتارا نہیں ہوتا
دیگر نعتوں میںبھی اسی طرح کے اشعارآئے ہیں ؎
ترے جلوں کے تصور کا ہی فیض ہے کہ یہ دل
ہے وہ آئینہ شکستہ نہ ہوا، نہ ہے، نہ ہوگا
سرخ آنسوئوں کو ہجر میں صہبا بنادیا
آنکھوں کو جام قلب کو مینا بنادیا
خواہش کی چاندنی سے تمنا کی دھوپ نے
اک ظرفِ نقرئی کو مطلاّ بنادیا
اللہ رے خونِ حسرت و ارماں کی دلکشی
زخموں کو روکشِ گل و لالہ بنادیا
دیکھتے ہی ان کا دیوانہ مجھے کہہ دے کوئی
ایسا بھی اے ضبطِ غم اک بار ہونا چاہیے

مگر نعتوں کے درمیان یہ جب آتے ہیں توان میں نعتیہ موضوع آ پ خود چھلک آتاہے۔
چند اشعار میں طلحہ رضوی برقؔ نے علویتِ خیال کوجگہ دی ہے ان میں ذیل کے اشعار ایک خاص ڈھنگ کی مدحت کو جگہ دیتے ہیں ؎
سنگِ اسود بوسہ گاہِ ختمِ پیغبرؐ بنے
دل یہ کہتا ہے کہ چوما سنگ نے لب آپؐ کا
خود وجودِ مہ و خورشید ہے صدقہ ان ؐ پر
نور کا چاندنی یا دھوپ میں سایہ ہوتا
قبر میں ہوگا نصیب انؐ کی زیارت کا شرف
ہے یہ حسرت کہ کئی بار میں پیدا ہوتا
برقؔ کی مٹی سوارت تھی اگر پس کے یہ دل
ان کے قدموں سے لگی خاک کا ذرّہ ہوتا
ہے داغِ عشق سے دل اشرفیّوں کا وہ گنجینہ
میسّر قدسیوں کو بھی جو سرمایا نہیں ہوتا
وہ نور چھن رہا تھا جو قندیل عرش سے
ارض و سما کی آنکھ کا تارا بنادیا
ہے دل پہ نسبتِ چشتی کی ضرب الااللہ
اب اپنے نام کی سرکار آبرو رکھنا
یہ چادر زندگی کی برقؔ میلی ہو نہیں سکتی
کہ اس میں تانا ہے اللہ کا بانا محمد کا
یہ ماینطق سے ہوا صاف ظاہر
کلامِ خدا ہے کلامِ محمدؐ
دفترِ کائنات میں مصحفِ ناطق آپؐ ہیں
متنِ حقیقت اک یہی اور تو حاشیہ فقط
خونِ دل صرف ازپئے اشعار ہونا چاہیے
نعت گو کو حاملِ ایثار ہونا چاہیے

طلحہ رضوی برقؔ نے اپنے ایک شعر میں یہ اطلاع دی ہے کہ آپ کا تعلق سلسلۂ چشتیہ سے ہے اور اس کے بعد یہ گمان جاتا رہا کہ طلحہ صاحب نے اشعار میں محض دیگر شعرا کی طرح تک بندیوں سے کام لیا ہے۔ کیونکہ جوآدمی سلاسلِ اربعہ میں سے کسی سے بھی منسلک ہوتا ہے اس میںعشقِ رسولؐ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتاہے اور اس کی کہی ہوئی باتوں میں صدق ہے، عشق ہے، ایثار ہے ، احترام ہے اور سب سے بڑھ کر حضورؐ کی ذاتِ برکات کا صحیح عرفان ہے۔ ان کے اشعار میں ایک دم ہم کونور ہی نور لگنے لگا ہے اور ازسرِ نوان کی نعتوں پر نظر گئی اور ان کے ہر شعر میں ایک نہ ایک زاویہ سے حضورؐ کی شان میں مدحت ملی، التجا ملی، ان کی ذات کے آگے شاعر کی خاکساری ملی اور سب سے بڑھ کر حضورؐ سے امیدِ شفاعت کی پختگی ملی۔

Previous articleاُردو ادبِ اطفال کی موجودہ صورت حال عالمی ادبِ اطفال کے تناظر میں از: امام الدین امامؔ
Next articleاردو زبان وادب کا ابتدائی دور – ایک مطالعہ از: ڈاکٹر محمد سراج اللہ تیمی

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here