یوں اپنی بھول کی میں سزا کاٹنے لگا

0
282

افتخار راغب

یوں اپنی بھول کی میں سزا کاٹنے لگا
جس کو گلے لگایا گلا کاٹنے لگا

اب کے عجیب طرح کی بارش ہوئی یہاں
سیلِ وفا بھی راہِ وفا کاٹنے لگا

کس کشمکش میں تھا کہ میں دیوارِ عشق پر
لکھّا پہ لکھ کے نام تِرا کاٹنے لگا

اپنی جفا پہ پھوٹ کے رونا پڑا اُسے
جس وقت وہ بھی فصلِ جفا کاٹنے لگا

آب و ہوا کی آنکھوں میں کیوں اشک آگئے
شاید کوئی درخت ہرا کاٹنے لگا

راغبؔ نہ پوچھ اُس کے بھروسے کی خستگی
جو شخص لکھ کے حرفِ وفا کاٹنے لگا

Previous articleنظم”انعام مبارک ہو” از ظفرکمالی
Next articleاے میرے خدا اے میرے خدا

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here