سلطان اختر کی شاعری شِکوہ و مناجات کے پیراہن میں

0
165

ڈاکٹر محمد ذاکر حسین
خدا بخش لائبریری، پٹنہ
Email: zakirkbl@gmail.com
Mobile: 09199702756

شِکوہ و مناجات اردو شاعری کے اہم موضوعات میں شمار ہوتے ہیں۔محبوب کی بے اعتنائی و بے رخی کا ذکر شِکوَہ کے ذیل میں آتا ہے۔ محبوب خواہ حقیقی ہو یا مجازی ، اس کا اطلاق دونوں پر ہوتا ہے۔محبوب مجازی کے شِکوَہ کے ساتھ ساتھ محبوب حقیقی کا شکوہ بھی اردو شاعری میں پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔ اس کا ابتدائی نقش میر تقی میر کے کلام میں موجود ہے:

پیشتر ہم سے کوئی تیرا طلب گار نہ تھا
ایک بھی نرگسِ بیمار کا بیمار نہ تھا

جنس اچھی تھی تری لیک خریدار نہ تھا
ہم سوا کوئی ترا رونق بازار نہ تھا

اقبال نے اسے ایک فن کے طور پر متعارف کرایا۔ اس لحاظ سے وہ اردو کے پہلے شاعر ہیں جنہوں نے باضابطہ شکوہ نگاری میں اپنی انفرادیت ثابت کی۔ ان کے علاوہ دوسرے شعرا کے یہاں جو شکوہ کے اشعار ملتے ہیں وہ ان کی غزلوں ، نظموں وغیرہ میں بکھرے پڑے ہیں، ایک جگہ مرتب انداز میں نہیں ہیں۔ انہوں نے سب سے پہلے مرتب انداز میںشکوہ کے عنوان سے شکوہ نگاری کو اردو شاعری سے روشناس کرایا۔ ان کے بعد جو شعرا منصہ شہود پر جلوہ گر ہوئے اور اپنی شاعری کو ایک مقام تک پہنچایا، ان کے یہاں بھی شکوہ کے اشعار مل جاتے ہیں لیکن یہ بھی ان کی غزلوں ، نظموں وغیرہ میںمنتشر ہیں، باضابطہ شکوہ کے عنوان سے شعر کہا ہو، ایسی روایت نہیں ملتی ہے۔

موجودہ عہد کے مستند اور معتبر شاعروں میںسلطان اختر اپنے انوکھے لب و لہجہ اور منفرد اندازِ بیان و حسنِ ادا کے اعتبار سے صفِ اوّل کے شاعر ہیں۔ ان کی شاعری میں ہمیں موجود عہد جیتا جاگتا نظر آتا ہے۔ موجودہ دور میں عظیم آباد کے نمائندہ شاعرکی نشاندہی کی جائے تو سلطان اختر ہی اس منصب پر فائز نظر آتے ہیں۔ اس ضمن میںان کا یہ دعوی حق بجانب ہے:

دبستانِ عظیم آباد صدیوں یاد رکھے گا
کہ ہم بھی شاعری کو گوہرِ نایاب دیتے ہیں

سلطان اختر نے اردو شاعری کو نئی طرز سے روشناس کرایا ہے۔ دیگر محاسن شعری کے ساتھ ان کی شاعری کا ایک وصف اور بھی ہے جس کی طرف ابھی تک ناقدین کی نگاہ نہیں پڑی ہے۔شکوہ کو اقبال نے اپنی فنکاری سے ایک فن بنا دیا ہے۔ ان کے شکوہ کا ابھی تک اردو شاعری جواب تلاش نہیں کرسکی ہے۔ جب بھی اردو شاعری میں شکوہ کی بات آتی ہے۔اقبال کی جانب ہی نگاہیں منعطف ہوجاتی ہیں۔ یہ درست ہے کہ ان کی طرح کسی شاعر نے پوری سنجیدگی کے ساتھ شکوہ کو اپنی شاعری کا حصہ نہیں بنایا ہے۔ البتہ شاعروں کے کلام میں جابجا شکوہ کے اشعار مل جاتے ہیں۔ سلطان اختر کی شاعری میں بھی ہمیںشکوہ کے اشعار اپنی پوری رعنائی و زیبائی کے ساتھ نظر آ جاتے ہیں۔ اقبال نے کہا تھا:

جرأت آموز مری تابِ سخن ہے مجھ کو
شکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کو

اب سلطان اختر کا یہ شعر ملاحظ فرمائیں:

میں تجھ پہ روشن ہوں لیکن تو مجھ میں روپوش
ایسے میں تو ناممکن ہے تجھ سے نباہ خدا

سلطان اختر نے اس شعر میں کتنے پتے کی بات کہی ہے کہ میرا وجود ہمیشہ خدا کی نظروں میں عیاں ہے لیکن خدا ہے جو میرے اندر روپوشی کا جامہ پہن رکھا ہے۔ اب عیاں اور روپوش کا آپس میں نباہ کیسے ہوسکتا ہے؟ سلطان اختر کا یہ شعر اپنے مفہوم و مطلب میں بہت ہی معنی خیز ہے اور فہم و دانش کو ایک نئی غذا عطا کررہا ہے۔ اقبال نے معذرت کے ساتھ شکوہ کیا تھا۔ سلطان اختر نے تو ’نباہ‘ نہ ہونے کا اقرار کرلیا۔شکوہ کا یہ لہجہ آگے چل کر اور تیز ہوجاتا ہے اور شاعر خدا کو آسمان سے اتر کر زمین پر تھوڑا وقت گزارنے کی صلاح دیتا ہے کہ آکر دیکھو تو سہی انسان کتنے مصائب و آلام میںگھرا ہوا ہے:

ایک دو دن زمین پر بھی گزار
آسماں سے کبھی اتر یا رب

سلطان اختر کا مشاہدہ بہت تیز ہے۔ وہ اپنے مشاہدہ کی روشنی میں خدا سے شکوہ کرتے ہیں کہ زمین والے کب تک آسمانی روز و شب کے چکر میں پڑے رہیں گے۔ اب تو ایک ایک لمحہ صدی کے برابر معلوم ہوتا ہے۔ اس حقیقت کو انہوں نے کس شاندار طریقے سے اپنی شاعری میں پرویا ہے:

کوئی لمحہ بھی صدی سے کم نہیں ہے اے خدا
ہم زمیں والوں پہ کب تک آسمانی روز و شب

سلطان اختر کے شکوہ کا انداز اس شعر میں اور تیکھا ہوگیا ہے۔ اقبال نے اپنی حد یہ مقرر کی تھی کہ:
پھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیں
ہم وفادار نہیں تو بھی تو دلدار نہیں
کبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہے
بات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہرجائی ہے
لیکن سلطان اختر اس حد سے کافی آگے نکل گئے ہیں۔ اقبال نے ’بات کہنے کی نہیں‘ کے بعد یہ شکوہ درج کیا تھا۔انہوں نے صرف خدا کو ہرجائی کہا ہے۔ لیکن سلطان اختر نے اس کی بھی ضرورت نہیں سمجھی اور اس حقیقت سے پردہ اٹھادیا کہ دنیا کا کام خدا کے بغیر بھی چل رہا ہے۔ اور انسان اس سے مطمئن بھی ہے:

ہم مطمئن ہیں اس کی رضا کے بغیر بھی
ہر کام چل رہا ہے خدا کے بغیر بھی
اس شعر میں شکوہ اپنے انتہائی عروج پر ہے۔ بظاہر ان کا یہ شعر عقیدہ سے متصادم نظر آتا ہے۔ لیکن اگر غور سے اس کا مطالعہ کیا جائے اور ’شعرِ مُرا بہ مدرسہ کے برد‘ کی روشنی میں اس کی تشریح کی جائے تو اس میں منفی کے بجائے مثبت معنی برآمد ہوں گے۔ اپنے معاشرہ اور سماج پر نگاہ دوڑائیے کہ کیا بُرائیوں کے انبار پر ہم اپنی زندگی نہیں گزار رہے ہیں؟ کیا یہ خدا کی مرضی سے ہورہا ہے؟ اگر اس میں خدا کی مرضی شامل ہے تو پھر گناہ کیسا؟ یہ حقیقت ہے کہ ایک پتّا بھی خدا کی مرضی کے بغیر نہیں ہل سکتا۔ پھر یہ بُرائی کیوں ہے؟ اگر بُرائی ہے تو اس کا انتساب خدا کی طرف مناسب ہے؟ اگر نہیں تو اسی پس منظر میں اس شعر کو پڑھئے۔ یہ شعر اسی حقیقت کو واشگاف کرتا نظر آئے گا۔ اس شکوہ کے بعد سلطان اختر کے مشاہدہ کی آگ اور تیز ہوجاتی ہے اور وہ یہ کہنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ اتنی شکوہ سنجی کے باوجود ان کی سخن طرازیاں بے کار ثابت ہوئیں:

سُننے کی طرح سُن نہ سکا آج تک خدا
میرا ہر ایک حرفِ شرر رایگاں ہوا
پھر ایک اور دھماکہ کرتے ہیں:
یہ بھی اک طرفہ تماشا ہے خداوند جہاں
تیری دنیا کو گنہ گار سنبھالے ہوئے ہیں
غالب نے اپنے طنزیہ انداز میں جنت کی حقیقت بیان کی تھی:
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے

سلطان اختر نے بھی غالب کے نقش قدم کی پیروی کرتے ہوئے جنت سے پہلے وقوع میں آنے والی حقیقت کو شاعرانہ انداز میں کچھ یوں بیان کیا ہے:

یہی صدیوں سے سنتے آرہے ہیں
سوا نیزے پر سورج آچکا ہے

غالب کی برجستگی و سلاست اور نغمگی سلطان اختر کو میسر نہ ہوسکی۔ لیکن یہی کیا کم ہے کہ غالب کے فکری زاویے سے اپنی فکر کو آنچ دے گئے۔
اقبال نے اپنے شکوہ میں خدا کو ہرجائی اور بے وفا کہا تھا۔ سلطان اختر ’بے مروت‘ لفظ سے اپنے شکوہ کو مہمیز کر رہے ہیں:
وہی میں، وہی میری مجبوریاں
وہی بے مروت خدا ہر طرف
سلطان اختر کے شکوہ میں جا بجا طنز یہ پیرایہ بھی نظر آتا ہے۔صراط مستقیم یعنی خدا کا راستہ بہت ہی سیدھا ہے۔ لیکن شاعر اپنے مشاہدے سے اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ:

قدم قدم پر پھن پھیلائے جنگل جھاڑ پہاڑ
سنتے آئے تھے کہ تیری سیدھی راہ خدا

سلطان اختر نے اقبال کی طرح باضابطہ شکوہ سنجی کے فن کو نہیں اپنایا ہے۔ یہ ان کے وہ اشعار ہیں جو ان کی غزلوں میں جگہ جگہ بکھرے پڑے ہیں۔لیکن ان اشعار کے تیور سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے اندر شکوہ نگاری کے اوصاف موجود ہیں۔ اگر وہ باقاعدہ اس پر دھیان دیں تو اردو شعر و سخن اقبال کی طرح ایک اور شکوہ سے متعارف ہوسکتا ہے۔ ان کی کلیات میں ان اشعار کے علاوہ اور بھی شعر ہیں جو شکوہ کے طور پر کہے گئے ہیں۔ مثلاً:
خدا اپنی وسعت میں سمٹا رہا
میں بکھرا ہوا اس کی راہوں میں تھا
کام آئے گی کب خدا کی ذات
ہر طرف ہے طلسم سیل سیاہ
مرے خدا مجھے اب دیکھنے کی تاب نہیں
تماشے تو نے بہت عمر مختصر کے دکھائے
سب کچھ جوں کا توں ہے اختر
ایسے میں کہاں رب یاد آئے
مرے چاروں طرف یہ سازش تسخیر کیسی ہے
لرزتا رہتا ہوں یا رب تری تعمیر کیسی ہے
چھین لے قوت بینائی خدایا مجھ سے
دیکھا جاتا نہیں اب تیرا تماشا مجھ سے
روکتا ہی نہیں اختر مجھے آوارگی سے
ان دنوں مجھ کو خدا بھول گیا ہے شاید
یہ محبت نہیں معراج محبت ہے خدا
بوجھ ہم ڈھوتے ہیں اور دُکھتا ہے شانہ تیرا
جنگلوں پر ہی کیوں ہے ابر کرم
آگ تو شہر میں لگی ہے خدا
ردائے روز و شب دھانی نہیں ہے
کہیں اب فضل ربانی نہیں ہے
ان اشعار کی روشنی میں یہ کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ شکوہ کے باب میں سلطان اختر کے یہاں وہی تیور پایا جاتا ہے جو اقبال کے شکوہ میں ہے۔یہاں یہ بات واضح کردوں کہ اقبال کے مرتب نظامِ شکوہ میں جو ادبی خصائص اور شعری محاسن موجود ہیں، وہ سلطان اختر کے بکھرے شکوہ میں اس درجہ پر فائز نہیں ہیں جو اقبال کا طرہ امتیاز ہے۔البتہ یہ ضرور ہے کہ سلطان اختر کے شکوہ میں بھی ادبی چاشنی کی کمی نہیں ہے۔ اقبال نے تو لوگوں کے اعتراضات سے متاثر ہوکر جواب شکوہ لکھ ڈالا۔ لیکن شکوہ میں جو ان کا تیور ہے وہ جواب ِشکوہ میں نہیں اتار سکے۔ سلطان اختر کو ان حالات کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔لیکن ایک مماثلت تو دکھائی دیتی ہے کہ جوابِ شکوہ تو نہیں البتہ مناجات میں اپنے دل کی بات انہوں نے خدا سے ضرور کی ہے۔ اور اپنے شکوہ کا جواب مناجات کی شکل میں دینے کی کوشش کی ہے۔ اردو میں حمد و مناجات کی روایت اتنی ہی قدیم ہے جتنی اردو شاعری۔ چونکہ یہ واضح طور پر اعتقاد کا معاملہ ہے۔ اس لئے ہر شاعر اپنی شاعری کو حمد و مناجات سے شروع کرنے میں فخر محسوس کرتا ہے۔ اسی عقیدت کا نتیجہ ہے کہ بیشتر شاعر کے دواوین، کلیات اور مجموعے کی ابتدا اسی سے ہوتی ہے۔ سلطان اختر نے شکوہ کے ذیل میں کوئی مکمل غزل یا نظم نہیں رقم کی ہے۔ البتہ ان کی کچھ غزلیں مناجات کے ضمن میں ہیں۔ جیسے:

چہرہ چہرہ گرد جمی ہے، اے مولا تو پانی دے
ہر شے میلی میلی سی ہے، اے مولا تو پانی دے
یہ پوری غزل دس اشعار پر مشتمل ہے۔ اسی طرح ان کی ایک اور غزل ہے جو ۱۶؍ اشعار پر مشتمل ہے۔ اس کا پہلا مصرعہ ہے:
کوئی نہیں ہے تیرا ثانی یا اللہ
ہر شے فانی تو لافانی یا اللہ
سلطان اختر نے شکوہ سنجی میںجو باغیانہ تیور اختیار کیا ہے۔ مناجات میں ان کا انداز اتنا ہی عاجزانہ ہے۔ عبدیت کی صدا ان کی حمدیہ اور مناجاتی غزلوں کے ہر ہر لفظ سے ٹپکتی ہے۔ ایک مخلوق کو اپنے خالق کے حضور اس عاجزی اور انکساری سے جانا چاہئے کہ حد ادب کے آبگینہ کو کوئی ٹھیس نہ پہنچے، یہی ادا ہمیں سلطان اختر کی ان غزلوں میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ ان اشعار کے تیور سے اندازہ ہوتا ہے کہ سلطان اختر نے اپنے رب کے روبرو اپنا سینہ چاک کرکے رکھ دیا ہے۔ حمد و مناجات پر مسلسل غزلوں کے علاوہ ان کی دیگر غزلوں میں بھی حمد و مناجات کے اشعار موجود ہیں۔ ایک بندہ کی عبدیت اس وقت اپنا عروج حاصل کرتی ہے جب اس کے اندر تقوی اور خوفِ خدا کا جذبہ اپنے کمال پر ہو۔ اسی کی ترجمانی کرتے ہوئے سلطان اختر کہتے ہیں:
اختر ڈھلی نہیں ہے ابھی گمرہی کی دھوپ
یعنی دلوں میں خوفِ خدا اور چاہئے
عرفان نفس عرفان خدا کا ذریعہ اور وسیلہ ہوتا ہے۔ جس کو صوفیا کی زبان میں مَن عَرَفَ نَفسَہُ فقد عَرَفَ ربَّہُ سے ادا کیا گیا ہے۔ اس کی تشریح ہمیں سلطان اختر کے اس شعر میں نظر آتی ہے:
خدا تو دور تھا، اپنا سراغ پا نہ سکے
حریفِ عقل حصارِ سگاں میں قید رہے
ایک بندہ کی معراج یہی ہے کہ وہ خدا کا بن کر رہ جائے۔ اس معراج کو حاصل کرنے میں سب سے بڑا پتھر اپنی خود ستائی ہے۔ شاعر کی نگاہ زندگی کے ہر پہلو پر ہوتی ہے۔ وہ اپنے نفس کا محاسبہ بھی کرتا ہے اور اپنے محاسبہ سے عوام کو ایک پیغام بھی دیتا ہے۔ سلطان اختر نے بھی اپنی شاعری سے یہ کام لیا ہے۔ وہ خدا سے دست بستہ التجا کرتے ہیں کہ اپنی خودستائی سے اسے نجات دلادے اور خدا کا حقیقی بندہ بننے کی توفیق دے:
اور کب تک میں کروں مدح سرائی اپنی
مجھ کو توفیق دے یا رب کہ میں تیرا ہوجاؤں
سلطان اختر نے حمد و مناجات کے ضمن میں قرآنی آیات کی بھی ترجمانی اپنے اشعار میں کی ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ میں بندوں سے ان کی شہہِ رگ سے زیادہ قریب ہوں(وَ نَحنُ اَقرَبُ اِلَیہِ مِن حَبلِِِ الوَرِید)۔اسی آیت قرآنی کی جھلک ہمیں ان کے اس شعر میں نظر آتی ہے:
اڑا رہے ہو عبث خاکِ جستجو اختر
خدا تو رہتا ہے شہہ رگ سے بھی قریں روشن

ہر شاعر اپنے سماج اور معاشرہ کا پروردہ ہوتا ہے۔ سلطان اختر اس سے مستثنا نہیں ہیں۔ وہ جب بھی سماج و معاشرہ کو سہما ہوا دیکھتے ہیں۔ فوراً ان کا ہاتھ دعا کے لئے اٹھ جاتا ہے اور بارگاہ ایزدی کے حضور بہت ہی عاجزی کے ساتھ اپنی التجا شعری پیکر میں پیش کرتے ہیں:
اپنی رحمت بکھیر رب کریم
سہمی سہمی ہوئی فضا کو سمیٹ
سلطان اختر بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں۔ غزل گوئی کے مسلسل کرب اور تھکن سے جب چور ہوجاتے ہیں تو حمد و مناجات کے فرحت بخش سایے میں پناہ گزیں ہوجاتے ہیں۔ اس فرحت بخش پناہ گاہ سے ان کے اندر پھر سے تازگی لوٹ آتی ہے۔ اس ضمن میں ان کا یہ شعر ملاحظہ فرمائیں:
جب غزل کہہ کے تھکن حد سے گزر جاتی ہے
تازہ دم ہوتے ہیں پھر حمد و مناجات سے ہم
’لا تسبو الدھر انی انا الدھر‘ یعنی خدا کا فرمان ہے کہ زمانہ کو گالی مت دو۔ زمانہ تو میں ہی ہوں۔ سلطان اختر اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں۔ اسی لئے وہ دھوپ کو بُرا کہنے سے منع کر رہے ہیں۔ کیونکہ دھوپ بھی زمانہ کا ایک حصہ ہے۔ اور اس کی توضیح بھی کیا خوبصورت ہے کہ فرشتے اپنے پَر سکھاتے ہیں۔ اس سے سلطان اختر کی دلی کیفیت اور قلبی رجحان کا پتا لگایا جاسکتا ہے:
بُرا مت کہو دھوپ کو جانِ من
فرشتے سکھاتے ہیں پَر دھوپ میں
سلطان اختر نے شکوہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ:
ہم مطمئن ہیں اس کی رضا کے بغیر بھی
ہر کام چل رہا ہے خدا کے بغیر بھی
شکوہ تو انہوں نے کیا لیکن اس کا جواب بھی دیتے نظر آئے کہ:
میں تیرا بندہ ناچیز مطمئن ہوں بہت
سکون دے مجھے یا رب کہ انتشار میں رکھ

گویا اس شعر میںوہ راضی بہ رضا کی کیفیت سے پوری طرح لبریز نظر آرہے ہیں۔ اس کو اگر جواب شکوہ مان لیا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ مذکورہ بالا اشعار کے علاوہ اور بھی شعر ہیں جو حمد و مناجات کے زمرے میں آتے ہیں۔ ذوق کی تسکین اور شوق کو مہمیز کرنے کے لئے حمد و مناجات سے تعلق رکھنے والے اشعار ذیل میں درج کئے جارہے ہیں تاکہ ان کی روشنی میں سلطان اختر کی حمدیہ و مناجاتی شاعری کا جائزہ لینے میں آسانی ہو۔ اشعار ملاحظہ فرمائیں:
اپنا سایہ روشن کردے ہونٹوں کی دیواروں پر
محفل محفل تشنہ لبی ہے، اے مولا تو پانی دے
وقت کی دھوپ کو نم کردے ذرا ربِّ جلیل
اب پرندوں کے پر و بال بھی جلنے لگے ہیں
اسے سمیٹ لے اپنی پناہ میں یا رب
وہ کاینات کو اب زیرِ پر سمجھتا ہے
اب اس سے گریہ و فریاد بھی نہیں کرتی
عجیب خلقِ خدا ہے، خدا سے ڈر گئی ہے
ملوں تو جھک کے ملوں، سب سے ہنس کے بات کروں
یہی تو مجھ سے مرا ذوالجلال چاہتا ہے
ضرورتوں سے زیادہ نوازتا ہے خدا
قناعتوں سے ہے لبریز کاسہ درویش
میں گنہ گار زمانہ ہوں مگر میرا خدا
مشکلوں کو مری آسان کرتا ہے
زباں پر نہ تھی اس کی مدح و ثنا
مگر دل میں خوفِ خدا تھا بہت
خدا نے آج تک یوں تو پریشاں حال رکھا ہے
مگر صبر و رضا سے مجھ کو مالامال رکھا ہے
بھرنے لگتا ہے خدا پھر مرا کشکول طلب
جب سر عرش بریں میری دعا گونجتی ہے
وسعتیں اور عطا کردے اے ربِّ جلیل
میرے دل میں جو ترا خوف ذرا سا کچھ ہے
دامنِ دل پسار لے اختر
اور پھر رحمتِ خدا کو سمیٹ
جس سے کہتا ہوں وہ کہتا ہے مجھے ازبر ہے
اے خدا کس کو سناؤں میں فسانہ تیرا
دونوں ہاتھوں سے لٹاتا ہے تو بندوں پہ خدا
پھر بھی خالی نہیں ہوتا ہے خزانہ تیرا

حمد و مناجات کے باب میںمذکورہ بالا اشعارسلطان اختر کو ایک ہنر مند اور کامیاب شاعر کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اپنی حمدیہ اور مناجاتی شاعری میں وہ فلسفہ نہیں بگھارتے ہیں بلکہ اپنی باتوں کو اتنے سلیس اور سادہ انداز میں رکھتے ہیں کہ دل کی کھڑکیوں سے باد صبا کے جھونکے ذہن و دماغ کو معطر کردیتے ہیں۔ یہاں یہ بات غور کرنے کی ہے کہ سلطان اختر کا تیور شکوہ کے بیان میں جتنا باغیانہ روپ اختیار کئے ہواہے۔ حمد ومناجات کے باب میں ان کا تیور اتنا ہی نرم و نازک اور عاجزانہ و انکسارانہ ہے۔ اس سے شاعر کی قوت گویائی کا پتا چلتا ہے۔ وہ ہر فن میں یکتا اور منفرد نظر آتے ہیں۔ جس فن کا جو مقام ہے۔ اس کے مطابق ہی انہوں نے اپنی فکر و فن کو سنوارا اور نکھارا ہے۔ ان کے اندر شکوہ نگاری کے پورے اوصاف موجود ہیں۔ اگر وہ شکوہ پر کوئی مستقل غزل یا نظم رقم کریں جو حالات حاضرہ کے مطابق ہو تو وہ یقیناً اردو شاعری میں گراں قدر اضافے ثابت ہوں گے۔ خود شاعر کو اس کا احساس ہے کہ :

جو کچھ سنا رہا ہوں غزل کی زبان میں
افسانہ کم ہے، اس میں حقیقت زیادہ ہے
اس سے بڑھ کر کوئی میرے لئے اعزاز نہیں
میری غزلوں سے اگر بزم معطر ہوجائے

Previous articleرفعت آسیہ شاہین کی شاعری میں عصری آگاہی کا عنصر نمایاں
Next articleجمعیۃ علماء ہند کا دوروزہ قومی مجلس عاملہ: لیے گئے اہم فیصلے!

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here