سرسید نے طرزِ تحریر ہی نہیں بلکہ ہندوستان کے طرزِ احساس کو بھی بدلا ہے:پروفیسر احمد القاضی(مصر)

0
70

شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے زیر اہتمام آن لائن بین الاقوامی توسیعی خطبے کا انعقاد

نئی دہلی (۹؍ ستمبر): سرسید نے صرف طرزِ تحریر ہی نہیں بلکہ ہندوستان کے طرزِ احساس کو بھی تبدیل کیا ہے۔ ان کے اس طرز کو صحیح معنوںمیں سائنٹفک طرز قرار دیا جاسکتا ہے۔ جدید علمِ کلام کی داغ بیل ڈالنے کا سہرا بھی انھیں کے سر ہے۔ سرسید کی زندگی، شخصیت اور فکر و عمل سبھی کچھ حقیقت پسندی اور روشن خیالی سے عبارت ہے۔ اس حوالے سے انھوں نے عرب قلم کاروں کو بھی متاثر کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے زیرِ اہتمام منعقدہ آن لائن بین الاقوامی توسیعی خطبے میں معروف ترجمہ نگار، عربی اردو کے محقق اور دانشور جامعہ ازہر، مصر کے استاذ پروفیسر احمد محمد احمد عبدالرحمٰن المعروف بہ احمد القاضی نے ’سرسید احمد خان کل اور آج: احمد امین کی تحریروں کی روشنی میں‘ کے عنوان سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صدارتی کلمات پیش کرتے ہوئے صدرِ شعبہ پروفیسر شہزاد انجم نے سرسید شناسی کے حوالے سے کرنل گریہم، منشی سراج الدین سے لے کر خلیق احمد نظامی، اصغر عباس، شان محمد اور افتخار عالم خان تک کی تحقیقات کا از سرِ نو جائزہ لینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سرسید جیسا عبقری اور دیوقامت قائد برصغیر نے شاذ و نادر ہی پیدا کیا ہو۔ مہمان خصوصی پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نے مہمان مقرر پروفیسر احمدالقاضی کی پذیرائی کرتے ہوئے کہا کہ ان کا یہ خطبہ صحیح معنوں میں وقیع اور بلیغ تھا۔ اس خطبے سے سرسید شناسی کے کئی مخفی گوشے روشن ہوتے ہیں۔انھوںنے احمدالقاضی کی اردو پر ماہرانہ دسترس اور لب و لہجے پر مسرت آمیز حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی گفتگو سے اس کا بالکل بھی احساس نہیں ہوتا کہ ان کی مادری زبان اردو نہیںہے۔ توسیعی خطبے کے کنوینر ممتاز فکشن نگار پروفیسر خالد جاوید نے پروفیسر احمدالقاضی اور خطبے کے موضوع کا مفصل تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر احمدالقاضی ہند عرب تہذیب و ثقافت کے گہرے رمز شناس ہیں۔ ان کے تراجم، کتابیں اور لیکچرز سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ہند و عرب کلچر کے مایۂ ناز سفیر ہیں۔ اظہارِ تشکر میں ڈاکٹر سرورالہدیٰ نے سرسید اور ان کے کارناموں کو نوآبادیاتی مطالعات کی روشنی میں دیکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ علی گڑھ سے لے کر جامعہ تک کے اس تاریخی سفر کو استعمار شناسی کی روشنی میں پرکھنے کی ضرورت ہے۔ نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے ڈاکٹر خالد مبشر نے کہا کہ یہ پر مغز خطبہ سرسید کے حوالے سے عرب دانشوری کے نقطۂ نظر کا بہترین ترجمان ہے۔ خطبے کا آغاز شعبے کے طالب عالم حافظ عبدالرحمٰن کی تلاوت سے ہوا۔ اس موقع پر پروفیسر احمد محفوظ، پروفیسر کوثرمظہری، ڈاکٹر شاہ عالم، ڈاکٹر مشیر احمد، ڈاکٹر محمد مقیم، ڈاکٹر عادل حیات، ڈاکٹر جاوید حسن، ڈاکٹر ساجد ذکی فہمی، ڈاکٹر محمد خالد انجم عثمانی اور ڈاکٹر شاداب تبسم سمیت درجنوں ریسرچ اسکالرز اور طلبا و طالبات شریک ہوئے۔

Previous articleاردو آبادی کے لیے بڑی خوشخبری! مغربی بنگال ارود اکاڈمی کی جانب سے کتابوں پر ہوا انعام کا اعلان!
Next articleRRBآر آر بی گروپ ڈی امتحان 2021: اب تک کی تازہ اپڈیٹ اور امتحان کی ممکنہ تاریخ جانیں۔

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here