سحر وجادو کی حقیقت. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر سحر کامعاملہ . ایک تحقیقی مطالعہ

1
81

قرآن کریم میں متعدد مقامات پرسحر (جادو) اور ساحر (جادوگروں) کا تذکرہ آیا ہے، جادوگروں کے ساتھ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مناظرہ اور شکست خوردہ ہونے کے بعد تمام جادوگروں کے ایمان لانے کا واقعہ بھی پوری تفصیل سے بیان ہوا ہے.

قرآن مجید میں سب سے پہلا مقام جہاں سحر کا تذکرہ آیا ہے؛ وہ سورہ بقرہ کی 102 نمبر کی آیت ہے. جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
“اور(انبیاء کی ہدایات کی پیروی کے بجائے ) انھوں نے اس علم کی پیروی کی ، جس کی تعلیم شیاطین دیا کرتے تھے ، سلیمان کے عہد میں. اور سلیمان نے کفر نہیں کیا تھا ؛ لیکن کفر شیاطین نے کیا تھا ، جو لوگوں کو جادو کی تعلیم دیتے تھے ، نیز ان لوگوں نے اس جادو کی بھی پیروی کی ، جس کا علم بابل کے دو فرشتوں — ہاروت و ماروت —کو دیا گیا تھا ؛ حالاں کہ وہ دونوں کسی کو ( جادو کی )تعلیم اس وقت تک نہ دیتے تھے ، جب تک یہ نہ کہہ دیتے کہ ہمارا وجود (تمہاری) آزمائش کے لئے ہے ؛ اس لئے تم کفر کا راستہ اختیار مت کرو ، یہ لوگ ان دونوں سے ایسا جادو سیکھتے تھے ، جس کے ذریعہ شوہر اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی پیدا کردیں ، اور یہ لوگ جادو کے ذریعہ کسی کو خدا کی مشیت کے بغیر نقصان نہیں پہنچاسکتے ، یہ ایسی باتیں سیکھتے ہیں جو ان کے لئے نقصاندہ ہیں، فائدہ مند نہیں ہیں ، اور یہ اچھی طرح واقف ہیں کہ جس نے جادو کو اختیار کیا ، آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہے ، اور بہت ہی بُری چیز ہے جس کے بدلہ انھوں نے اپنے آپ کو بیچ لیا ہے ، کاش ! ان کو عقل ہوتی۔”

اس ہفتہ جامع مسجد بیگوسرائے میں منعقد مجلس درس قرآن کریم میں اسی آیت کریمہ کی تفسير بیان کی گئی. درس کے اختتام پر حضرت مولانا شیث عالم مفتاحی صاحب دامت برکاتہم نے سوال کیا کہ جادو کی حقیقت کیا ہے اور کیا انبیاء کرام بھی جادو سے متاثر ہوسکتے ہیں, کیا خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو ہوا تھا؟

یہ سوال چوں کہ بہت اہمیت کا حامل ہے. ایک طرف عصمتِ انبیاء اور تحفظِ رسالت کا معاملہ ہے، تو دوسری طرف صحیح روایات کو تسلیم کرنے کا معاملہ ہے… اس لیے اس کا جواب؛ جو مستند مفسرین، ممتاز محققین اور اکابر اہل علم کی کتابوں سے مستفاد ہے؛ نذر قارئین کیا جارہا ہے.
اس حوالے سے سب سے پہلی بات یہ ہے کہ جادو کی حقیقت کیا ہے؟
علامہ فخر الدین رازی ؒلکھتے ہیں:’’شریعت میں سحر، جادو ہر اس کام کے ساتھ مخصوص ہے، جس کا سبب مخفی ہو، اسے اس کی اصل حقیقت سے ہٹ کر پیش کیا جائے اور دھوکا دہی اس میں نمایاں ہو ‘‘۔
درحقیقت سحر جادو گر اور شیطان کے درمیان ہونے والے ایک معاہدے کا نام ہے، جس کی بناء پر جادو گر کچھ حرام اور شرکیہ امور کا ارتکاب کرتا ہے اور شیطان اس کے بدلے جادوگر کی مدد کرتا اور اس کے مطالبات پورے کرتا ہے -”

شیطان انسان کو جن راہوں سے گمراہی کی طرف لے جاتاہے،ان میں جادو وہ ذریعہ ہے،جسے خالصتاً شیطانی عمل قرار دیا گیا ۔جادو کے لیے عربی زبان میں ’’سحر‘‘ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے،قرآن وسنّت میں سحر(جادو) ایسے امر کو کہا جاتا ہے جس میں شیاطین کو خوش کرکے ان کی مدد حاصل کی گئی ہو.
شیاطین کو راضی کرنے کی مختلف صورتیں ہیں۔ کبھی ایسے منتر اختیار کیے جاتے ہیں جن میں کفر وشرک کے کلمات ہوں اور شیاطین کی مدح سرائی کی گئی ہو، جن سے شیطان خوش ہوتا ہے۔کبھی ایسے اعمال اختیار کیے جاتے ہیں جو شیطان کو پسند ہیں، مثلاً کسی کو ناحق قتل کرکے اس کا خون استعمال کرنا،یا ناپاکی ونجاست کی حالت میں رہنا، کھوپڑی میں شراب پینا وغیرہ۔

جادو کے لیے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں ہر کوئی نہیں کرسکتا ، جو کر تےہیں ان کا جادو ہر معاملہ میں اثر نہیں کرتا. چھوٹے معاملوں میں بالعموم اس کا ضرور ہوتا ہے ۔
آسان الفاظ میں یوں کہیں کہ جادو ” رحمٰن کو ناراض کرکے شیطان کو راضی ” کرکے کیا جاتا ہے ۔
یا یوں کہہ لیں کہ جادو ” شیطانی چلے ” کاٹ کر شیطانی طاقتوں سے کام کروانے کا نام ہے ۔
اسی لیے فقہاء کے نزدیک سحر کرنا حرام اور ناجائز ہے،اور اگر اس میں شیاطین سے مدد طلب کی گئی ہو تو شرک اور کفر ہے.(شامی، رد المحتار: (مطلب فی الساحر و الزندیق، 240/4)
احادیث میں سحر کرنے کی سخت ممانعت وارد ہوئی ہے. عن أبي ہریرة رضي اللہ عنہ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: اجتنبوا الموبقات: الشرک باللہ والسحر (البخاري: ۲/۸۵۸) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :ہلاک کرنے والی چیز وں یعنی شرک اور سحر سے بچو.
کبھی سحر کا اطلاق کسی ایسے عمل پر بھی کردیا جاتا ہے جس کی تاثیر غیر معمولی ہوتی ہے. مثلاً :
سرکاردوعالمﷺ نے ایک حدیث میں فرمایا ہے :’’یقیناً کچھ بیان جادو ہوتے ہیں ۔‘‘
بیان پر سحر کا اطلاق اس لیے کیا گیا کہ ایک جادوبیان مقررلوگوں کوغلط کوصحیح اورصحیح کوغلط سمجھنے پر قائل کرسکتاہے. خطیب اپنے خطاب کے ذریعے سامعین کو اس طرح نچا سکتا ہے جیسے جادو گر اپنے جادو کے ذریعے لوگوں کو نچاتا ہے.

اسی لیے نبی اکرم ﷺ نے اس کے کچھ پہلوؤں کوجادو سے تعبیر کیا۔
البتہ یہ واضح رہے کہ جادو کے ذریعے اشیاء کی حقیقت نہیں بدل سکتی. وہ محض فریب نظر ہوتا ہے، شعبدہ بازی اور کرتب بازی ہوتی ہے.. البتہ انسان پر اگر جادو کیا جائے تو اس کا اثر ایساہی ہوتا ہے جیسا کہ زہر کا اثر ہوتا ہے، جسمانی طور پر اس سے تکلیف ہوتی ہے. کبھی کم اور کبھی زیادہ. اور کبھی نہیں بھی ہوتی ہے. یہ فریقین کی کیفیات ودیگر احوال پر مبنی ہے.
امام راغب اصفہانی کہتے ہیں :سحر کے کئی معنی بیان کئے جاتے ہیں۔ دھوکہ اور ایسی خیال اندازی کہ جس کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔جیسا کہ شعبدہ باز اپنے ہاتھ کی صفائی کے ذریعے لوگوں کو نگاہوں کو پھیر کر کرتا ہے۔لوگ گمان کرتے ہیں کہ جادو کی قوت سے صورتیں اور طبیعتیں بدل جاتی ہیں۔ تو وہ انسان کو گدھا بنا دیتاہے۔حالانکہ اُس کی کوئی حقیقت نہیں۔”
“جادو سے حقیقت تبدیل نہیں ہوتی مگر انسان کانفس اور اُس کے حواس اُس سے متاثر ہوکر یہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ حقیقت تبدیل ہوگئی ہے۔”
اس آیت مبارکہ(102) کی تشریح و توضیح میں تمام مفسرین نے بلا اختلاف جادو کے ان اثرات کو تسلیم کیا ہے۔

رہا یہ سوال کہ کیا انبیاء کرام ؑ پر عمل سحر کااثر ہوتا ہے یا نہیں؟ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پرجادو کااثر ہوا تھا یا نہیں؟
یعنی کیا انبیاء پر جادو کرنا ممکن ہے، اگر ممکن ہے تو انبیاء پر اس کے اثرات بھی مرتب ہوسکتے ہیں.
اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن کریم کی تصریح کے مطابق انبیاء علیہ السلام) پر شیطان کو تسلط حاصل نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے:
إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ[الحجر : 42]
کہ اے شیطان ! میرے بندوں پر تیرا کوئی تسلط نہیں چلے گا.
البتہ اللہ کی حکمت کے تحت انبیاء کرام پر (تسلط کے بغیر) ہلکے پھلکے جادو کے جسمانی عارضی اثرات اور شیطانی وساوس مرتب ہو سکتے ہیں.
جیساکہ اللہ تعالیٰ نے سورہ بقرہ میں حضرت آدم کے واقعہ میں فرمایا :فَاَزَلَّہُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْہَا فَاَخْرَجَہُمَا مِمَّا کَانَا فِیْہِ. (36) آخر شیطان نے اسی درخت کے باعث اُن دونوں کو لغزش میں مبتلا کردیا اور ان کو اس سے نکال کرہی چھوڑا ، اسی طرح سورہ اعراف میں فرمایا :
فَوَسْوَسَ لَـهُمَا الشَّيْطَانُ (20)پھر انہیں شیطان نے بہکایا.
اسی طرح سورہ ص آیت ۴۱ میں فرمایا {وَ اذۡکُرۡ عَبۡدَنَاۤ اَیُّوۡبَ ۘ اِذۡ نَادٰی رَبَّہٗۤ اَنِّیۡ مَسَّنِیَ الشَّیۡطٰنُ بِنُصۡبٍ وَّ عَذَابٍ ﴿ؕ۴۱﴾} ’’اور ذرا یادکیجیے ہمارے بندے ایوبؑ کو ‘جبکہ اُس نے پکارا اپنے رب کو کہ مجھے شیطان نے شدید بیماری اور تکلیف میں مبتلا کر دیا ہے۔‘‘

اس آیت کریمہ میں تکلیف میں مبتلا کرنے کی نسبت شیطان کی طرف کی گئی ہے. جب کہ سب کچھ کرنے والا صرف اللہ کی ذات ہی ہے،ایسا اس لیے کہ ممکن ہے کہ شیطان کے وسوسے ہی کسی ایسے عمل کا سبب بنے ہوں جس پر یہ آزمائش آئی. یا پھر بطور ادب کے ہے. کہ خیر کا اللہ تعالیٰ کی طرف اور شر کو اپنی یا شیطان کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔
مفتی محمد شفیع عثمانی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ بعض حضرات نے شیطان کے رنج و آزار پہنچانے کی یہ تشریح کی ہے کہ بیماری کی حالت میں شیطان حضرت ایوب (علیہ السلام) کے دل میں طرح طرح کے وسوسے ڈالا کرتا تھا، اس سے آپ کو اور زیادہ تکلیف ہوتی تھی، یہاں آپ نے اسی کا ذکر فرمایا ہے۔

اسی طرح حضرت موسیٰؑ پر جادو کا وقتی اور معمولی اثر کا ہونا بھی قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے ۔’’موسیٰ نے(جادوگروں سے) کہا: تم ہی ڈالو۔ ڈالتے ہی ان کی رسیاں اور لاٹھیاں موسیٰ کے خیال میں ایسے آنے لگیں کہ وہ دوڑ رہی ہیں تو موسیٰ نے اپنے دل میں خوف محسوس کیا،ہم نے کہا: خوف نہ کرو۔‘‘ (۲۰؍طٰہٰ: ۶۶۔۶۸)
جب موسٰی علیہ السلام اور جادوگروں کا مقابلہ ہوا تو موسٰی علیہ السلام نے فرمایا :
’’ تم ہی ڈالوپھر ان کے سحر کے اثر سے موسٰی علیہ السلام کو خیال گزرنے لگاکہ ان کی رسیاں اور لاٹھیاں یکدم دوڑنے لگ گئیں ،پس موسٰی علیہ السلام نے اپنے دل میں خوف محسوس کیا‘‘۔(طہ666-67/20)
دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ’پھر جب انہوں نے رسیاں پھینکی تو انہوں نے لوگوں کی آنکھوں پر سحر کیا اورانہیں خوف زدہ کردیا ۔۔۔۔‘‘(اعراف116/77)
ان آیات سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ جب جادو گروں نے اپنی رسیاں ڈالیں تو جادو کے اثر سے ہزاروں کے مجمع کی آنکھوں پر ایساجادو ہوا کہ سب نے انہیں سانپ ہی محسوس کیا ، ان سے لوگ بھی خوف زدہ ہوئے اور موسی علیہ السلام بھی ۔یعنی لوگوں پر اور موسی علیہ السلام پر جادو کا وقتی اثر ہوا ۔
اب آخری سوال یہ ہے کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر سحر ہوا تھا؟
اس سلسلے میں میں عرض ہے کہ
رسول اللہ ﷺ پر یہودیوں کا سحر کرنا اور اس کی وجہ سے آپﷺ پر بعض وقتی آثار کا ظاہر ہونا اور بذریعہ وحی اس جادو کا پتا لگنا اور اس کا ازالہ کرنا احادیثِ صحیحہ سے ثابت ہے۔صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایت ہے. جودوسری حدیث کی کتابوں میں بھی موجود ہے.
حضرت زیدبن ارقم ؓسے روایت ہے کہ ایک یہودی نے نبی اکرم ﷺ پرجادوکیا،جب آپ ﷺ نے اس کے اثرات کواپنے اوپرمحسوس کیاتوجبرئیل علیہ السلام تشریف لائے اور سورۃ الفلق اور سورۃ الناس جن کو ’’معوّذتین‘‘ کہتے ہیں، وحی کی گئیں ۔پھرجبرئیل علیہ السلام نے آپ ﷺ سے کہا:’’یقیناً ایک یہودی نے مجھ پرجادوکیاہے اوراس کاطلسم فلاں کنویں میں رکھاہواہے ۔‘‘نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی ؓ کوبھیجاکہ وہاں سے طلسم لے آئیں ۔جب وہ اسے لے کرو اپس آئے توآپ ﷺ نے حضرت علی ؓ سے فرمایاکہ اس کی گرہوں کوایک ایک کرکے کھولیں اورہرگرہ کے ساتھ ان سورتوں میں سے ایک ایک آیت پڑھیں ۔جب انہوں نے ایساکیاتوآپ ﷺ یوں اٹھ کھڑے ہوئے، گویاوہ پہلے بندھے ہوئے تھے۔(صحیح بخاری )

حضور ﷺ پر جادو ہونے کی یہ روایات صحیحین میں موجود ہیں اور پوری امت کے محدثین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ روایات صحیح ہیں، لہذا ان روایات کا انکار محض جہالت کے سوا کچھ نہیں.
قرونِ ماضیہ میں معتزلہ اور موجودہ زمانے میں منکرین حدیث جادو کے اثر کو تسلیم نہیں کرتے،البتہ اہل سنت و الجماعۃ کتاب وسنت کے ظاہر پر عمل کرتے ہوئے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر) جادو کے اثر کو تسلیم کرتے ہیں.
اس جادو کے آپ پر کیا اثرات تھے. اس سلسلے میں بخاری اور مسلم شریف کی روایت میں یہ صراحت ہے :
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو ہوا اس کی وجہ سے آپ کو لگتا تھا کہ آپ کچھ کررہے ہیں یا کرچکے ہیں؛ لیکن ایسا نہیں ہوتا تھا. ایک دن آپ نے خوب دعا کی. پھر فرمایا کہ اللہ تعالی نے میرے اس معاملے میں مجھے آگاہ فرمادیا کہ میری شفا کس چیز میں ہے. میرے پاس دو آدمی آئے، ایک میرے سر کے پاس بیٹھا اور دوسرا میرے پیروں کے پاس، پھر ایک نے دوسرے سے کہا کہ اس شخص کو کیا بیماری ہے؟ تو دوسرے نے کہا کہ اس پر جادو ہوا ہے، تو پہلے نے پوچھا: کس چیز میں جادو کیا گیا ہے؟ تو دوسرے نے کہا کہ کنگھی اور کنگھی سے نکلے ہوئے بالوں میں اور نر کھجور کے گودے میں، تو پہلے شخص نے پوچھا: وہ کہاں ہے؟ تو دوسرے نے کہا کہ ذروان کنویں میں ہے.
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کنویں کی طرف تشریف لے گئے اور پھر جب واپس آئے تو حضرت عائشہ صدیقہ سے فرمایا کہ وہاں کی کھجوریں گویا شیطان کے سر تھے (گویا بڑا خوفناک منظر تھا). حضرت عائشہ نے پوچھا: کیا آپ نے وہ چیزیں نکالیں؟ تو آپ نے فرمایا: نہیں، مجھے اللہ تعالی نے شفا دی، مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں اس کے تذکرے لوگوں میں عام نہ ہوجائیں (اور لوگ پریشان نہ ہوں)؟ پھر اس کنویں کو بند کردیا گیا.
بخاري (3268) ومسلم (2189)

¤ علامہ ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری میں لکھا ہے کہ صحیح بخاری میں ابن عیینہ کی جو روایت ہے اس میں اس بات کی وضاحت ہے کہ آپ علیہ السلام کو لگتا تھا کہ گویا آپ اپنے گھر والوں سے ملے ہیں؛ لیکن درحقیقت ایسا نہیں ہوتا تھا.
¤ قاضی عیاض فرماتے ہیں کہ اس سے معلوم ہوا کہ جادو کا اثر صرف جسم پر تھا نہ کہ آپ کے علم اور اعتقاد پر.
¤ امام مہلب کا قول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شیطانوں سے محفوظ کیا گیا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ شیطان اپنے وسوسے اور خباثتیں نہیں کرسکتے، کیونکہ صحیح روایات میں ہے کہ شیطان نے آپ علیہ السلام کی نماز کو خراب کرنا چاہا تو اللہ تعالی نے آپ علیہ السلام کو اس پر غلبہ عطا فرمایا، اسی طرح جادو آپ کی تبلیغی زندگی کو متاثر نہیں کرسکا، البتہ جیسے سارے امراض جسم کو متاثر کرتے ہیں اسی طرح جادو نے آپ کے جسم کو متاثر کیا کہ کچھ بات چیت یا افعال میں آپ کو دشواری پیش آئی. (فتح الباري:10/226، 227)
¤ علامہ ابن القیم رحمه اللہ فرماتے ہیں کہ یہود نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا اور آپ نے اس کا علاج کیا.
بعض لوگ اس کو نبوت کی شان کے خلاف سمجھتے ہیں حالانکہ معاملہ ایسا نہیں ہے؛ بلکہ جیسے اور امراض لاحق ہوسکتے ہیں؛ ویسے ہی یہ بھی ایک مرض کی طرح لاحق ہوا، اور جیسے زہر نے آپ پر اثر کیا تھا ایسے ہی جادو نے بھی اثر کیا، لیکن اس جادو نے صرف آپ علیہ السلام کی ظاہری زندگی کو متاثر کیا تھا نہ کہ نبوی امور کو، کیونکہ امور نبوت کی حفاظت کا اللہ تعالی نے وعدہ فرما رکھا ہے. (زاد المعاد:4/124)
علامہ عینی رحمه اللہ فرماتے ہیں:
بلاشبہ اس جادو نے نبی اکرم ﷺ کو ضرر پہنچایا، لیکن وحی میں سے کوئی چیز متغیر نہیں ہوئی، نہ ہی شریعت میں کوئی مداخلت ہوئی، پس تخیل اور وہم میں سے ایک چیز رسول اللہ ﷺ کو لاحق ہوئی، پھر اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اسی حالت پر نہیں چھوڑا، بلکہ آپ کو اس سے محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ اس کا تدارک بھی کیا، آپ کو جادو کی جگہ بھی بتائی، اس کو نکالنے کا بھی پتہ دیا اور آپ پر سے اس کو ختم کیا، جس طرح کہ بکری کے شانے کے گوشت کے بولنے کے ساتھ اس کے زہر کو آپ سے دور کیا تھا، تیسری بات یہ ہے کہ جادو آپ کے ظاہر پر ہوا تھا، دل و دماغ اور اعتقاد پر نہیں، جادو امراض میں سے ایک مرض ہے اور بیماریوں میں سے ایک بیماری ہے، دوسری بیماریوں کی طرح آپ کو اس کا لاحق ہونا بھی ممکن ہے، لہٰذا یہ بات آپ کی نبوت میں کوئی عیب پیدا نہیں کرتی، دنیاوی معاملات میں آپ پر اس کا اثر ممکن ہے، دوسرے انسانوں کی طرح دنیاوی معاملات میں آپ ﷺ پر بھی آفات آسکتی ہیں۔ (عمدۃ القاری ازعینی:۱۶؍۹۸)
حضرت مولانا اشرف علی تھانوی تحریر فرماتے ہیں
“یاد رکھیے سہو و نسیان مرض اور غشی وغیرہ عوارض خواصِ بشریت سے ہیں۔ اگر انبیاء بشر ہیں، تو ان خواص کا پایا جانا ان کے رتبہ کو کم نہیں کرتا۔ ہاں یہ ضروری ہے کہ جب ایک شخص کی نسبت دلائل قطعیہ اور براہینِ نیرہ سے ثابت ہوجائے کہ وہ يقينا اللہ کا سچا رسول ہے، تو ماننا پڑے گا کہ اللہ نے اس کی عصمت کا تکفل کیا ہے اور وہی اس کو اپنی وحی کے یاد کرانے، سمجھانے اور پہنچانے کا ذمہ دار ہے. ناممکن ہے کہ اس کے فرائض دعوت و تبلیغ کی انجام دہی میں کوئی طاقت خلل ڈال سکے۔ نفس ہو، یا شیطان، مرض ہو یا جادو، کوئی چیز ان امور میں رخنہ اندازی نہیں کرسکتی، جو مقصد بعثت کے متعلق ہیں۔ کفار جو انبیاء کو ” مسحور ” کہتے تھے، چونکہ ان کا مطلب نبوت کا ابطال اور یہ ظاہر کرنا تھا کہ جادو کے اثر سے ان کی عقل ٹھکانے نہیں رہی، گویا ” مسحور ” کے معنی ” مجنون کے لیتے تھے اور وحی الہی کو جوش جنون قرار دیتے تھے (العیاذ بالله) اس لئے قرآن میں ان کی تکذیب و تردید ضروری ہوئی۔ یہ دعوی کہیں نہیں کیا گیا کہ انبیاء علیہم السلام) لوازمِ بشریت سے مستثنیٰ ہیں۔ اور کسی وقت ایک آن کے لئے کسی نبی پر سحر کا معمولی اثر؛ جو فرائض بعثت میں اصلا خلل اندازہ ہو نہیں ہوسکتا۔

( بیان القرآن ،از: حکیم الامت مولانا اشرف علی تهانوی)
مفتی محمد شفیع عثمانی رحمه اللہ فرماتے ہیں:
کسی نبی یا پیغمبر پر جادو کا اثر ہوجانا ایسا ہی ممکن ہے جیسا کہ بیماری کا اثر ہوجانا، اس لئے کہ انبیاء علیہم السلام بشری خواص سے الگ نہیں ہوتے، جیسے ان کو زخم لگ سکتا ہے، بخار اور درد ہوسکتا ہے، ایسے ہی جادو کا اثر بھی ہوسکتا ہے، کیونکہ وہ بھی خاص اسباب طبعیہ جنات وغیرہ کے اثر سے ہوتا ہے، اور حدیث سے بھی ثابت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ پر جادو کا اثر ہوگیا تھا.(معارف القرآن: ۵؍۴۹۰۔۴۹۱)
علامہ شبیر احمد عثمانی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:
لفظِ مسحور سے جو مطلب وہ (کفار) لیتے تھے، اس کی نفی سے یہ لازم نہیں آتا کہ نبی پر کسی قسم کا سحر (جادو) کا کسی درجہ میں عارضی طور پر بھی اثر نہ ہوسکے، یہ آیت مکی ہے، مدینہ میں آپ پر یہود کے جادو کرانے کا واقعہ صحاح میں مذکور ہے، جس کا اثر چند روز تک اتنا رہا کہ بعض دنیاوی کاموں میں کبھی کبھی ذہول (بھول) ہوجاتا تھا۔ (تفسیر عثمانی )
جادو کی کے اثرات کی مدت : یہ جادو کتنے دن رہا؟

اسکے بارے میں علماء کے چند اقوال ہیں:
١ .حافظ ابن حجر نے ایک روایت نقل کی ہے جس میں چالیس دن مذکور ہے.
٢ . ایک دوسری روایت میں ہے کہ چھ ماہ جادو رہا.
٣ . بعض علماء فرماتے ہیں کہ ممکن ہے کہ اثرات چھ ماہ پہلے شروع ہوچکے ہوں اور پھر آخری چالیس دنوں میں پورا جادو ظاہر ہوا ہو.
جس اثر کو شدید ترین کہا گیا یعنی بشری معاملات میں ذہول، روایتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ صرف چند دن ہی رہا.
خلاصہ یہ ہے کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کے اثرات ہونے کے منکر یا تو صراحتا منکرین حدیث ہیں یا وہ لوگ جو شریعت کو اپنی عقل کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں اور جو بات ان کی سمجھ میں نہ آئے اس کا انکار کر بیٹھتے ہیں، جیسے ان صحیح روایات کا انکار کردیا ہے، حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ یہ واقعہ پیش آیا تھا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعے اس کا علاج بتایا گیا اور اس کے مطابق آپ کا علاج ہوا.
اگر جسم پر سحر کے اثر کی وجہ سے عصمت نبوت پر حرف آتا؛ تو حضرت موسیٰؑ پر جادو کا وقتی اثر نہ ہوتا جبکہ یہ بات تو قرآن سے ثابت شدہ ہے.
جب موسٰی علیہ السلام پر جادو عارضی طور پر اثر کرسکتا ہے تو نبی کریم ﷺ پر عارضی طور پر کیوں اثر نہیں کرسکتا ؟پھر احادیث جو بیان کررہی ہیں اس میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو آپ کے منصبِ نبوت میں قادِ ح ہو ۔ جب آیت کی طرح احادیث بھی یہی بیان کررہی ہیں کہ اس جادو سے عصمت انبیاء متاثر نہیں ہوئی تو آیت کے ساتھ ان احادیث کو تسلیم کرنے میں کیا حرج ہے۔؟ جس طرح موسیٰؑ کے جسم پر جادو کا اثر ہو گیا تھا مگر جادو کی وجہ سے کفار ان پر غالب نہ آسکے تھے۔ اسی طرح جادو کرنے سے یہودی آپﷺ پر غالب نہیں آ گئے تھے بلکہ مسلسل دشمنانِ پیغمبر ذلیل سے ذلیل تر ہوتے گئے۔

ان حوالہ جات سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ آپﷺ پر جادو کا اثر جسمانی حد تک تھا روحانیت اس سے متاثر نہیں ہوئی تھی۔ اسی لیے آپ کی دعوت و تبلیغ کی سرگرمیوں میں کوئی فرق نہیں آیا، یہی وجہ ہے کہ عام لوگ آپﷺ پر جادو کیے جانے کے واقعہ سے واقف تک نہ تھے۔ امہات المؤمنین میں سے بعض اس سحر کے اثرات سے واقف تھیں۔ جب یہ اثرات جسم کی حد تک تھے تو سحر کے نبیؐ پر اثر کر جانے کو عصمت نبوت کے منافی کیوں کر قرار دیا جا سکتا ہے؟

بعض لوگوں کا شبہ ہے کہ مذکورہ مسحور والی قرآنی آیات اورصحیحین کی حدیث کے درمیان تعارض نظر آرہا ہے حالانکہ دونوں میں کوئی تعارض وٹکراؤ نہیں ہے کیونکہ قرآن کی دونوں آیات مکی ہیں یعنی مکہ میں نازل ہوئیں اور صحیحین کی روایات مدینے کی ہیں یعنی آپ ﷺ پر مدینے میں جادو کیا گیا تھا نہ کہ مکہ میں ۔ اس لحاظ سے مکے کے سحر کا مدینے کے سحر سے کوئی تعلق ہی نہیں بنتا
منکرین حدیث بخاری ومسلم کی روایت کا انکار کرنے کے لیے دعویٰ کرتے ہیں کہ معوذتین کے مکی ہونے پر سب کا اجماع ہے۔ حضرت حسن بصری وغیرہ سمیت کچھ تابعین اس کو مکی کہتے ہیں۔ لیکن حضرت ابن عباس، ابن زبیر اور عقبہ بن عامر جیسے صحابہ سمیت مفسرین کی اکثریت ان سورتوں کو مدنی کہتے ہیں۔

جس طرح انبیاء کرام جسمانی امراض میں مبتلا ہوسکتے ہیں، بھوک کے وقت بھوک اور پیاس کے وقت پیاس کی شدت محسوس کرسکتے ہیں، انہیں کوئی ایذا پہنچائے چاہے زبانی یا جسمانی اس کی تکلیف محسوس کرسکتے ہیں اسی طرح ان پر جاود کے اثرات بھی ہوسکتے ہیں یہ ان کی علو شان کے خلاف نہیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ اگر اس کا کوئی اثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت متخیلہ پر پڑا بھی تو وہ چند گھنٹوں سے زائد نہیں رہا۔جیسا کہ حضرت موسیٰ ؑ نے جادوگروں کی رسیوں اور لاٹھیوں کو سانپ سمجھ لیا۔اور وقتی طور پر گھبرا گئے۔اس طرح کی کیفیات تھوڑی دیر تک طاری ہوجانا ،ناممکن نہیں ہوتا۔یہ کیفیات بطورامتحان بھی نبی کو پیش آسکتی ہیں ،لیکن ہوتی یہ وقتی اور عارضی ہیں۔تاکہ نبی کی عصمت مجروح نہ ہو۔
ایک نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو، ان کی نبوت پر نہیں تھا بلکہ درحقیقت امت کو اس کا تدارک سکھانے کیلے تھا.
صاحب مواہب الرحمٰن کہتے ہیں:

“واضح ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان مبارک میں اس یہودی کے سحر کا کچھ اثر نہ ہوتا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے بہت سے امور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جاری کرکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو تعلیم دی۔جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر سے سفر میں سوگئے۔تاکہ اُمت کو مسائل معلوم ہوں۔
اس مضمون کا اختتام مولانا عبد الماجد دریابادی کے چشم کشا تحریر پر کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے:
” عقل کے جدید اور قدیم پرستاروں کا نظریہ آپ نے پڑھ لیا۔ بات کا جس طرح انہوں نے بتنگڑ بنایا ہے، اس کو بھی آپ نے دیکھ لیا۔ ان اعتراضات اور شکوک کے بارے میں اہل سنت یہ کہتے ہیں کہ حضور (صلى الله علیہ وآلہ وسلم کی دو حیثیتیں تھیں۔ ایک حیثیت نبوت اور دوسری حیثیت بشریت. عوارض بشری کا ورود ذات اقدس پر ہوتا رہتا تھا۔۔ بخار ،درد چوٹ لگنا۔ دندانِ مبارک کا شہید ہونا۔ طائف میں پنڈلیوں کا لہولہان ہونا اور احد میں جبین سعادت کا زخمی ہونا۔ یہ سب واقعات تاریخ کے صفحات کی زینت ہیں۔ یہ لوگ بھی ان سے انکار کی جرات نہیں کر سکتے اور ان عوارض سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان رسالت اور حیثیت نبوت پر قطعا کوئی اعتراض وارد نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح یہاں بھی جادو کا اثر حضور کی جسمانی صحت تک محدود تھا، رسالت کا کوئی پہلو قطعاً اس سے متاثر نہ تھا۔ اگر ایسا ہوتا کہ اس جادو سے حضور کوئی آیت بھول جاتے یا الفاظ میں تقدیم و تاخیر کردیتے یا قرآن میں اپنی طرف سے کوئی جملہ بڑھا دیتے یا نماز کے ارکان میں ردو بدل ہوجاتا تو اسلام کے بدخواہ اتنا شوروغل مچاتے کہ الامان والحفیظ ! بطلان رسالت کے لیے انہیں ایک ایسا مہلک ہتھیار دستیاب ہوجاتا کہ اس کے بعد انہیں دعوت اسلامی کو ناکام کرنے کے لیے مزید کسی ہتھیار کی ضرورت نہ رہتی؛ لیکن اس قسم کا کوئی واقعہ کسی حدیث یا تاریخ کی کتاب میں موجود نہیں۔ دشمنان اسلام نے آج تک جتنی کتابیں پیغمبر اسلام (علیہ الصلوۃ والسلام) کے بارے میں لکھی ہیں ان میں بھی اس قسم کا کوئی واقعہ درج نہیں۔ معلوم ہوا کہ لبید یہودی کے جادو کا اثر فقط اس حد تک ہوا کہ صحت گرامی متأثر ہوا جس طرح علامہ سیوطی (رح) اور علامہ آلوسی (رح) کے حوالے نقل کیے جا چکے ہیں۔(تفسیر ماجدی)

از :(مفتی) محمد خالد حسین نیموی قاسمی

صدر جمعیت علماء بیگوسرائے ورکن انٹرنیشنل یونین فار مسلم اسکالرز دوحہ قطر 9905387547

Previous articleاعلان: 2023-25 سیشن کا فارم آن لائن شائع ہوچکا ہے۔ عزیز طلبہ و طالبات ویب سائٹ پر جاکر جلد از جلد فارم بھر لیں۔
Next articleعظیم آباد میں ملک العلما کی آخری یادگار : مولانا محمد سلیمان قادری

1 COMMENT

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here