زندہ شاعری کا شاعر۔۔۔وکیل اختر از:۔ڈاکٹر محمد علی حسین شائق

0
506

آزادی کے بعد مغربی بنگال کی شاعری کے افق پر جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو ایک ایسا شاعرنظر آتا ہے جس نے اپنی زندگی کی چوتھی دہائی کانصف حصہ تک کا ہی سفر کرپایا تھا کہ مالک حقیقی سے جا ملا ۔ادبی افق کا چمکتا ہوا روشن ستارا وکیل اختر ہے۔اس نے زندگی کو کتنے زاویوں سے دیکھا اور اس کے پر پیچ راہوں پر کس طرح سفر کیا اور زندگی کی خوبصورت اور سفاک چہرے کو اپنی تخلیقات میں کس طرح پیش کیا اس کا اندازہ ان کی شاعری سے لگایا جا سکتا ہے ۔ایک تخلیق کار زندگی کو جتنے زاویوں ااور صورتوں میں دیکھتا ہے وہ ایک عام شخص کے دائرے سے باہر ہوتا ہے ۔زندگی کے حسن اور اس کی بد صورتی کا جو ایک گہرا تجزیہ شعر و ادب میں ملتا ہے اس کا اندازہ اس تخلیق کار کے اشعار سے لگا یا جا سکتا ہے ۔ زندگی اتنی سادہ نہیں جتنی بظاہر نظر آتی ہے اس میں بہت پیچ ہے اور اس کے رنگ بہت متنوع ہے، وہ ہمدرد بھی ہے اور اپنی بعض صورتوں میں سفاک بھی ۔

وکیل اختر کی شاعر ی حقیقت میں زندہ شاعری ہے جس نے زمانے کے غم سہے ،پریشانیاں جھیلیں ، بیماریوں کے ستم سہے لیکن اف تک نہیں کیا ۔ زندگی کے عمیق مطالعے کا شاعر وکیل اختر نے یقینا زندگی کو بہت قریب سے دیکھا تھا ، اس کو پرکھا تھا یہی وجہ تھی کہ انہوں نے جب شاعری کے لئے قلم اٹھا یا تو صفحہ قرطاس پر اس کی حقیقت بیا ن کردی۔

وکیل اختر کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے سہل زبان میں شاعری کرکے عام قاری تک رسائی حاصل کر لی ۔ ان کی شاعری میں ثقالت کا دور دور تک سائبا نظر نہیں آتا ہے ۔ انہوں نے زندگی کو کتنی قریب سے دیکھا تھا اس کا اندازہ ان کے اس شعرسے بہ آ سانی لگایا جا سکتا ہے ۔۔۔۔
وہ جو مرنے پہ تلا ہے اختر
اس نے جی کر بھی تو دیکھا ہوگا
اس شخص کے غم کا کوئی اندازہ لگائے
جس کو کبھی روتے ہوئے دیکھا نہ کسی نے
ا س شعر میں بلا کی سہل پسندی ہے کہ عام قاری بھی پڑھ کر فکر کی عمیق گہرائی میں غوطہ زن ہو جاتا ہے ۔وکیل اخترنے یقینا زندگی کی اس حقیقت کو بھی محسوس کیا کہ خلوص و محبت اور انکساری سے ملنے والا انسان ہمیشہ بڑا ہوتا ہے ۔خلوص و انکساری سے ملنا اس کا جھکنا نہیں ہوتا ہے بلکہ اس کے اندر مذہب کا جذبہ کا رفرما ہوتا ہے ۔ مذہب کا مطالعہ کرنے والا کبھی بھی کسی سے اکڑ کر نہیں مل سکتا ہے ۔ وکیل اختر کی شاعری اس بات کی غماز ہے کہ انہوں نے مذہب کا بھی مطالعہ کیا تھا ، یہی وجہ تھی کہ وہ کہنے میں ہچکچاتے نہیں ہیں کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ سے جھک کے جو ملتا ہوگا
اس کا قد آپ سے اونچا ہوگا
وکیل اختر کا یہ شعر ایسا ہے کہ ہر زمانے میں زندہ رہے گا ۔ وکیل اختر کی شاعری اپنے اندر فلسفانہ اساس لئے رہتی ہے ۔ وہ شاعری کو عام فہم اور سہل زبان میں کہتے ہیں لیکن فلسفانہ اساس کو سرے سے باہر نہیں کرتے ہیں گرچہ کہ وہ اردو کے استاد رہے ہیں لیکن انہوں نے فلسفے کا احساس بھی اپنے اندر جا گزیں رکھا تھا یہی وجہ تھی کہ ان کی شاعری کا مطالعہ کرتے وقت ان کے فلسفانہ اساس کا بھی اگر خیال رکھیں تو ان کی شاعری کا احاطہ کرنے میں کافی مدد ملے گی۔
درج با لا شعر اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ جھک کر ملنے والا آدمی ہمیشہ سامنے والے سے لمبا ہوتا ہے ، اسی وجہ سے وہ جھک کر ملتا ہے ۔جھک کر ملنا اپنے اندر وہ کڑی رکھتا ہے جس میں دہرا معنی چھپا ہوا ہے ۔جھک کر ملنا ایک طرف خلوص کا اظہار کرتا ہے تو دوسری طرف ملنے والے کی لمبائی کی جسامت کو بھی بیان کرتا ہے ۔ وکیل اختر کی شاعری میں اکثر و بیشتر دہرے خیالات ملتے ہیں۔
چونکہ وکیل اختر پیشے سے ایک استاد تھے ۔ وہ ایک اسکول میں درس و تدریس کے پیشے سے منسلک تھے اور انہوں نے بحیثیت استاد ، اسکول کے ماحول کو اچھی طرح پڑھا تھا ، وہ اس بات پر کاری ضرب لگاتے ہیں کہ استاد اس کو کہا جا تا ہے جو متعلقہ مضمون میں دسترس رکھتا ہو،اپنے فرض کی ادائیگی ٹھیک سے کرتا ہو، وہی اصل میں استاد کہلا نے کا مستحق ہوتا ہے ۔ وکیل اختر نے جب تک نوکری کی ایک ایماندار استاد کی طرح اپنا فرض نبھا تے رہے لیکن انہیں اس بات کا قلق ضرور رہا کہ ا سکول میں اثر و رسوخ کا استعمال کر کے ایسے ویسے لوگوں کی تقرری ہو جاتی ہے جس سے اسکول کا ما حول خراب ہو جاتا ہے ۔ اثر و رسوخ کا استعمال کرکے نوکری پانے والوںکے اندر تعلیم کا فقدان ہوتا ہے اور اس سے بچوں کی زندگی پر اثر پڑتا ہے۔موصوف کا یہ شعر دیکھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
جہالت کا منظر جو راہوں میں تھا
وہی بیش وکم درس گاہوں میں تھا
موصوف کے اس شعر سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ درس گاہوں میں جہالت کا منظر کا ہونا کتنا درد انگیز بات ہوگی، جس طرح علاقے میں ان پڑھ ، کم پڑھے لکھے لوگ رہتے ہیں ، جنہیں نہ جینے کا سلیقہ معلوم ،نہ گفتگو کے آداب ، نتیجہ تہذیب کا جنازہ نکل جاتا ہے ، بالکل اسی طرح اسکولوں میں نا قا بل اور نا اہل اساتذہ کی تقرری درس گاہوں کے ماحول کو بگاڑ کر رکھ دیتی ہے۔
انسان کو ہمیشہ اصول کا پابند ہونا چاہئے اور فرض شنا س بھی ہونا چائیے ساتھ ہی زندگی کے آداب سے بھی با خبر ہوناچاہئے کیونکہ عزت بڑی مشکل سے حا صل ہوتی ہے ۔ انسان کی ذرا سی چوک اس کے تمام کئے کرائے پر پانی پھیر دیتی ہے ۔انسان جو دوسروں کی نظروں میں محترم رہتا ہے اس کی ذرا سی لغزش اس کی عزت کو خاک میں ملا دیتی ہے اس لئے انسان کو ہمیشہ اس معاملے میں محتاط رہنا چاہئے۔ موصوف اس خیال کا اظہار اپنے اس شعر سے کر تے ہیں جو نہایت ہی خوبصورت ہے ۔ملا حظہ کیجئے۔۔۔۔۔۔۔
ہماری نظروں سے وہ کل گر گیا
جو کل تک ہماری نگاہوں میں تھا
موصوف نے قاری کو خود احتسابی کا بھی درس دیا ہے کہ انسان جو کل تک عزت کی نظروں سے دیکھا جاتا تھا آخر کون سی حرکت اس سے سرزد ہوئی کہ وہ نظروں سے گر گیا ۔یہاں اسلام کا فلسفہ نظر آتا ہے ۔اسلام ہمیشہ ا س بات کی تاکید کرتا ہے کہ انسان کچھ کرنے اور کچھ کہنے سے پہلے اس پر نظر ثانی کر لے ، اچھی طرح غورو خوض کرلے پھر وہ بات کہے یا کرے ،ورنہ متلون مزاجی سے کا م کرنے یا بات کہنے سے انسان کی عزت خاک میں مل جاتی ہے ۔
وکیل اختر نے اس بات کو بھی محسوس کیا کہ جو لوگ اچھا کام کرتے ہیں ، بہتر سماج کی تشکیل کے لئے ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں ، برائی کوسماج سے ختم کرنے کے لئے تحریکیں چلاتے ہیں ایسے لوگوں کو جان کا خطرہ بھی لا حق ہوتا ہے لیکن ایک حساس انسان کبھی بھی اپنے آپ کو اس سے الگ نہیں کرسکتا ہے ۔اسے اپنی ذمہ داری کا احساس رہتا ہے ،اس لئے وہ سماج سے برائی کو ختم کرنے کا عزم لے کر چلتا ہے ۔ حالات و انجام سے بے پرواہ اپنے راستے پر گامزن رہتا ہے لیکن بالاآخر اس کی جان پر بن آتی ہے اور غیر سماجی عناصر اسے اپنے راستے کا کانٹا سمجھتے ہیں اور اس کی زندگی کے چراغ کو مدھم ہی نہیں بلکہ بجھا دینے کی حتی المقدور کوشش بھی کرتے ہیں اور انجام موت تک پہنچتا ہے ۔ موصوف نے اس خیال کواس شعر میں نہاہت ہی خوبصورتی سے ڈھالا ہے ۔ ملا حظہ کیجئے ۔۔۔۔۔۔
اسے اس لئے ما ر ڈالا گیا
کہ وہ زیست کے خیر خواہوں میں تھا
اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ وکیل اختر نے زندہ شاعری کی ہے کہ ان کے مطالعے سے حقیقت کے دروازے وا ہونے لگتے ہیں ۔ انہوں نے انسانوںکو بہت قریب سے پڑھا تھا ۔ ایک حساس انسان جب بہت زیادہ دھوکہ اور چوٹ کھا جاتا ہے توتنہارہنا زیادہ پسند کرتا ہے ، اسی میں اس کو عافیت بھی ملتی ہے اور سکون بھی ۔لیکن باوجود تنہائی میں سکون ملنے کے ،ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ گھبرا جاتا ہے اور پھر لوگوں کے درمیان آجاتا ہے جہاں اسے فریب کاری ، خود غر ضی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔آج کا سماج ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے کہ ایک حساس انسان نہ آگے بڑھ سکتا ہے نہ پیچھے ہٹ سکتا ہے ۔ وہ کشمکش سے دو چار ہو جاتا ہے ۔ وہ سماج میں رہنا بھی نہیں چاہتا ہے اور تنہائی میں گھبراتا بھی ہے ۔ایسے حا لات میں وہ فیصلہ نہیں کر پاتا ہے کہ کیا کرے کیا نہ کرے۔ نتیجے میں وہ گھٹن کا شکار ہو جاتا ہے۔ موصوف نے اس تجربے کو اچھی طرح محسوس کیا ہے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اس خیال کو اپنے شعر میں باندھ دیا ہے ۔ ملا حظہ کیجئے۔۔۔۔۔۔۔
یوں تو تنہائی میں گھبرائے بہت
مل کے لوگوں سے بھی پچھتائے بہت
ایسے لمحے زیست میں آئے بہت
ہم نے دھوکے جان کے کھائے بہت
جب انسان زندگی سے گھبرا جاتا ہے تو وہ موت کو گلے لگانا چا ہتا ہے لیکن وہیں وہ اس بات کو بھی محسوس کرتا ہے کہ خود کشی حرام ہے ، یہ سوچ کر وہ الجھن میں پڑ جاتا ہے ،جبکہ زندگی تو بہت بڑی نعمت ہے لیکن ایک وقت ایسا آجاتا ہے کہ وہی زندگی ایک بوجھ بن جاتی ہے اور انسان اس زندگی سے فرار حاصل کرنا چا ہتا ہے لیکن معاملہ وہی ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائینگے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائینگے
اسی خیال کو موصوف نے کچھ اس طرح باندھا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔
تم ہی بتلادو کہ کوئی کیا کرے
زندگی جب بوجھ بن جائے بہت
موصوف بالواسطہ موت کی خواہش نہیں کرتے لیکن قاری کے لئے ایک سوال چھوڑ دیتے ہیں جس کو پڑھنے؎ کے بعد قاری وہی جواب دیتا ہے جس کی وہ دبے لفظوں میں خواہش کرتے ہیں لیکن یہ مسئلے کا حل بھی تونہیںہے۔
وکیل اختر کی شاعری میں جہاں زندگی کے با شعور تجربات نظر آتے ہیں وہیں ان کی شاعری میں مذہب کا رنگ بھی غالب نظر آتا ہے ۔ اس شعر کو دیکھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نام لیوا ہوں تیرا تو معتبر کردے
حیات خوب نہیں ہے تو مختصر کردے
اس شعر میں تنوع ہے ۔شعر کا پہلا مصرعہ خوب سے خوب تر ہے یہ دعائیہ مصرعہ ہے جس میں شاعر رب کریم سے دعا گو ہے کہ وہ رب کا نام لیوا ہے ،ہر وقت وہ اس کی یاد میں کھویا رہتا ہے اس لئے وہ دعا گو ہے کہ رب کائنات اسے اس دنیا میں معتبر کردے لیکن مذہبی اعتبار سے دوسرا مصرعہ تھوڑا عجیب لگ رہا ہے ۔ حیات زیادہ نہیں تو مختصر کرنے کی خواہش ، یعنی موت کی خواہش کر رہا ہے ،یہ کچھ اٹ پٹا سا لگ رہا ہے۔فنی اعتبار سے اور عروض و بلاغت کے اعتبار سے یہ شعر بہت خوب ہے ، لیکن مذہبی اعتبار سے اس شعر کے دوسرے مصرعے پر نقطہ لگا یاجا سکتا ہے کیونکہ اسلام میں موت کی خواہش کرنا سخت منع ہے ، چاہے جتنی بھی پریشانیاں آئے لیکن موت کی خواہش نہیں کر سکتے ہیں ۔موت کی خواہش کرنا ایک گناہ ہے ۔زندگی سے گھبرانے کی صورت میں ہی انسان موت کی خواہش کرتا ہے لیکن اصل میں وہ زندگی کی حقیقت سے وہ نا آشنا ہے ۔زندگی آرام طلبی اور آرام پرستی کا نام نہیں بلکہ زندگی پریشاں حالی کا نام ہے۔شاعر نے اس شعر میں جس فلسفانہ اساس کاا ستعمال کیا ہے وہی اس شعر کو اعتبار بخشتا ہے۔اس غزل میں اور دوسرے اشعار بھی بہت عمدہ ہیں ۔ مثال کے طور پر دیکھیں :۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لباس فقر میں اتنی تونگری تو دے
دل غریب کو وسعت میں بحر و بر کردے
وقار شخصی کہ شاعر نہ اس کی فکر وفن
تمام عیب ہیں چاہے تو سب ہنر کردے
جب انسان با شعور ہو جاتا ہے ۔ اس کی سوجھ بوجھ جب اس کے احساس کو بالغ کر دیتی ہے تو وہ دنیا کو پڑھنے لگتا ہے ۔ دنیا کے احساس کو محسوس کرنے لگتا ہے اور جب اسے اس بات کا پوری طرح یقین ہو جاتا ہے کہ یہ دنیا بالکل خود غرض ہوگیء ہے ، اپنے یا پرائے سبھی لوگ خود کے بارے میں سوچنے لگے ہیں تو اپنا تو اپنا غیر بھی اس کی نظروں سے اتر جاتا ہے ۔ اس کے اندر بے چینی کا ایک طوفان اٹھنا شروع ہوجاتا ہے کیونکہ اس کے اندر کا شعور اس خود پرستی کو پسند نہیں کرتا ہے، نتیجے میں وہ اپنوں کیے ساتھ غیروں سے بھی اپنے آپ کو الگ رکھ کر سکون و اطمینان محسوس کر تا ہے ۔بقول۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔
ہم نے اپنی مفلسی کا رکھا کچھ اس طرح بھرم
واسطے کم کر دیئے مغرور کہلانے لگے
یہ دنیاوی حقیقت ہے ۔ ہر آدمی اپنے ڈھنگ سے جینا چاہتاہے ۔ کوئی سماج میں رہ کر ،کوئی تنہا رہکر،کوئی سماج میں پھیلی بد عنوانی اور عفریت کے درمیان رہ کر تو کوئی اس بد عنوانی اور عفریت سے دور رہ کر ، کنارہ کشی اختیار کر کے اپنی زندگی گذارنے کا متمنی ہوتا ہے ،لیکن یہ بات حقیقت پر مبنی ہے کہ ایک با شعور انسان خود پرستی ،عفریت ،بد عنوانی کو کبھی بھی حمایت نہیں کر سکتا ہے،اس سے بہتر اس کے لئے یہی ہوگا کہ وہ تنہا زندگی گذارے ۔ ایک ادیب جب ان چیزوں سے گھبرا جاتا ہے تو اس کے جذبات قلم سے نکل کر صفحہ ابیض پر ابھر آتے ہیں ۔ وکیل اختر کی شاعری بھی اس سے مستشنی نہیں ہے ۔وہ ایک زندہ د ل شا عر ہونے کے ساتھ ایک حساس قلمکار تھے۔ وہ زمانے کی بے ثباتی اور بے رخی سے اس قدر پریشان تھے کہ کا قلم بر جستہ اس خیال کا اظہار کر دیتا ہے ۔ وہ عرض کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
یہ غیر بھائے نہ اپنا لگے بھلا مجھکو
مرے شعور نے کیسا بنا دیا مجھ کو
وکیل اختر کی شاعری جہاں زمانے کی بے ثباتی ،گرتی ہوئی اخلاقی قدروں کی تر جمان ہے وہیں ان کی شاعری میں رومان پسندی کا اظہار بھی ہے ۔ ان کا یہ شعر دیکھیں ۔۔۔۔۔
تم کو پانے کے لئے تم کو بھلا نے کے لئے
دل میں اور عقل میں اک جنگ رہی ہے بر سوں
اپنے ہونٹوں کی دہکتی ہوئی سر خی بھر دو
داستاںعشق کی بے رنگ رہی ہے بر سوں
دل نے اک چشم میں ہی کیا ہے وہ کام
جس پہ دنیائے خرد دنگ رہی ہے برسوں
موصوف نے جب شاعری میں رومان پسندی کا استعمال کیا تواس کے اندر اظہار بیان کا منفرد انداز عطا کردیا ۔ عشق کے میدان میں حرماں اور نا کامی کی تلافی کے لئے ،عاشق معشوق سے ہونٹوں کی دہکتی ہوئی لالی بھرنے کا جو انداز اپنایا ہے وہ منفرد طریقے کا ہے ۔ عاشق اپنے معشوق کو پانے کے لئے بے قرار ہے۔چونکہ ہر آدمی کے دل میں محبت کا جذبہ کار فرما رہتا ہے اور اپنے محبوب سے وصال اور اس کی خوشنودی کیلئے ہر وہ کام کرنے کا وعدہ کرڈالتا ہے اور اس کے لئے کوشش بھی کرتا ہے لیکن جب معشوق کا وصال نصیب نہیں ہوتا ہے تو اس کو بھلانے کی تد بیریں نکالنے کی کوشش کرتا ہے ۔ یہیں سے عقل و دل میں ایک جنگ چھڑ جاتی ہے کیونکہ محبوب کے پانے کا تعلق دل سے ہوتا ہے اوردل میں جو بات بیٹھ جاتی ہے اس کو بھلانا ممکن نہیں ہوتا ہے لیکن محبوب سے وصال کا راستہ نہ ملنے پر دل اب اسے بھلانے کی ترکیب سوچنے لگتا ہے ،دل اور عقل کے درمیان جاری جنگ میں بیچارہ عاشق پریشاں حالی کا شکار ہو جاتا ہے ۔ موصوف نے عشق کے معاملے کو بہت ہی خو بصورت انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔
وکیل اخترنے اپنی شاعری میں انسان کے دو رخی نظریہ کو بھی نہایت خوبصورت طریقے سے پیش کرنے کی سعی کی ہے ۔ آج کے ما حول کو دیکھ کرایک انسان کو پہچاننا بہت مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ دوست ہے یا دشمن ۔ اگر دوست اور دشمن کی پہچان ہو جائے تو انسان بہت سی پریشانیوں سے بچ جائے لیکن آج کا انسان اپنے چہرے پر ایسا خول چڑھائے ہوئے ملتا ہے کہ پہچان مشکل ہوجاتی ہے ۔اس خیال کے اظہار کیلئے موصوف نے آئینہ لفظ کا استعمال کیا ہے جو فنکارانہ صلاحیت کی بہترین مثال ہے ۔شعر دیکھئے ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دوستوں کی طرح ہے نہ دشمنوں کی طرح
میں جس کو دیکھ کر حیراں ہوں آئینوں کی طرح
آئینہ ایک ایسی شئے ہے کہ اس کے سامنے جو چہرہ آئے گا اسی کو دکھلائے گا ۔ آئینے کے اندر حقیقت بیانی کا جوہر ہوتا ہے لیکن حقیقت شناسی کا جو ہر نہیں ہوتا ہے ۔
اس طرح کے اور بھی بہت سے اشعار ہیں جس سے وکیل اختر کی شاعری کی بلند پروازی کا احساس ہوتا ہے ۔ وکیل اختر نے زندگی سے فرار حا صل کرنے کی کوشش نہیں کی اور اس سے فرار حا صل کرنا بھی نہیں چاہتے تھے ، بلکہ و ہ مزید زندگی جینا چاہتے تھے۔، لیکن جس خطر ناک اور مہلک مرض نے انہیں دبوچ لیا تھا کہ اس سے نکلنا ممکن نہیں تھا ۔انہیں اس بات کا احساس تھا کہ یہ مہلک مرض رفتہ رفتہ موت کی طرف لئے جا رہی ہے اور وہ ابھی زندہ رہنا چاہتے تھے ۔ زندگی اور موت کے درمیان جاری خاموش جنگ میں وکیل اختر لڑتے رہے اور کہہ دیا کہ ۔۔۔۔
کوئی صورت کسی صورت نکالو یار و
مجھے بے موت مرنے سے بچالو یارو
ان کا یہ شعر ان کے احساس کو واضح کرتا ہے کہ وہ سمجھتے تھے کہ ابھی مرنے کا وقت نہیں ہے ۔ عام طور سے لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ انسان عمر دراز ہو کر مرتا ہے ،وہی خیال ان کے اندر بھی تھا ۔ یہی وجہ تھی کہ جب موت رفتہ رفتہ قریب آرہی تھی تو ان کے اندر بے چینی کی شدت بڑھتی جا رہی تھی اور وہ اس سے باہر نکلنا چاہتے تھے لیکن موت کی بے رحم ہاتھوں نے کسکو بخشا ہے اور آخر کار ۳۵ سال کی عمر میں مالک حقیقی سے جاملے اور ادب کا یہ روشن ستارا ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گیا۔
مختصر میں کہا جا سکتا ہے کہ و کیل اختر نے مختصر زندگی پائی لیکن اسی مختصرزندگی میںانہوں نے اردو ادب کو اپنے خیالات کے نا یا ب گوہر سے ما لا مال کردیا ، جس پر مغربی بنگال کے شعری منظر نامے کو ناز ہے ۔وکیل اختر کی شاعری بلاشہہ زندہ شاعری ہے۔ ان کی موت کے لگ بھگ آدھی صدی پوری ہونے جا رہی ہے لیکن ان کی شاعری آج بھی ترو تازہ لگتی ہے ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ وکیل اختر کی شاعری پر تحقیقی کام کیا جائے ۔وکیل اختر کی شاعری زندگی کی تلخ سچائیوں کو پیش کرتی ہے ۔ان کی شاعری میں چاپلو سی ، خوشامد پسندی ، ایڑیا رگڑ نے کی بات نہیں ہے بلکہ حقیقت کی بھر پور جھلک ملتی ہے ۔
میں اپنی بات ان کے چند اشعار پر ختم کر رہا ہوں ۔ ملا حظہ کیجئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زندگی دست تہہ سنگ ر ہی ہے بر سوں
یہ زمیں ہم پہ بہت تنگ رہی ہے بر سوں

میری ہی آبلہ پائی کی بدولت اختر
رہ گزراںکی شفق رنگ رہی ہے برسوں

میں اس کو دیکھ تو سکتا ہوں چھو نہیں سکتا
وہ میرے پاس بھی ہوتا ہے فاصلوں کی طرح

وہ آبھی جائے تو اس کو کہاں بٹھائوں گا
میں اپنے گھر میں تو رہتا ہوں بے گھروں کی طرح

حقیقتوں سے فسانوں کو کیا علاقہ ہے
خدا نہیں بھی ہے لوگو ں مگر خد ا بھی ہے

کاشانہء مصطفے
بلاک نمبر ۳ ، کمرہ نمبر۱؍۲ تھانہ روڈ ، جگتدل ، ۲۴ پرگنہ (شمال) مغربی بنگال ۷۴۳۱۲۵

Mobile no. 9831530259 email :mahshaiq @gmail.com

Previous articleاردو کا پہلا بین الاقوامی ادبی جریدہ سہ ماہی ’’ورثہ‘‘ از : مظفر نازنین، کولکاتا، انڈیا
Next articleاتر پردیش کی نئی آبادی پالیسی از:مفتی محمد ثناءالہدی قاسمی

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here