ریختہ روزن-تبصرہ: حقانی القاسمی

0
116

ایڈیٹر: ہما خلیل
صفحات: 224، قیمت فی شمارہ:250 روپے، جولائی-ستمبر 2021
رابطہ: ریختہ فاؤنڈیشن، B-37، سیکٹر 1، نوئیڈا۔ 201301 (یوپی)

کیا عصرحاضر میں کسی ادبی رسالے کی ضرورت ہے؟
یہ سوال ڈاکٹر شبیہ الحسن کا ہے۔ان کے پیش کردہ تیرہ نکات سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ آج کے عہد میں اردو کے ادبی رسائل کی قطعی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ان کے مطابق :
معاشرے کو ادبی مباحث نہیں، سائنسی علوم کی ضرورت ہے۔
غیرادبی ماحول میں ادبی رسالہ نکالنا غیردانش مندانہ فعل ہے۔
ادبی رسائل متحرک نہیں منجمد ہوتے ہیں، جن کا عملی زندگی میں کوئی فائدہ نہیں۔

یہ رسائل ذاتی مفادات اور تشہیر کے لیے نکالے جاتے ہیں، یہ ادب کافروغ نہیں ترقی ذات اور درجات کا ذریعہ ہیں۔
مقالات سطحی، تخلیقات غیرمعیاری اور شاعری اوزان و بحور سے عاری ہوتی ہے ۔
رسائل کسی طرزِ احساس کو اجاگرکرنے میں ناکام رہتے ہیں ۔
زیادہ تر رسالے تجارتی مقاصد کے لیے نکالے جاتے ہیں ۔
اس سے ادیب کو عروج حاصل ہوتا ہے اور ادب زوال پذیر ہوتا ہے ۔
ہر رسالے کا اپنا ایک خاص گروپ اور حلقۂ اثر ہے ۔
ادبی رسائل میں حیاسوز مواد شائع ہوتا ہے۔
ان رسائل کا اسلوب بیان بھی متعین نہیں اور نہ ہی یہ قارئین کے لیے کوئی لائحۂ عمل مرتب کرپا رہے ہیں ۔
یہ سوالات اہم ہوں یا غیر اہم مگر مدیران اور مالکان مجلات کے پاس ان کا تشفی بخش جواب شاید ہی ہو۔ سہ ماہی ’ریختہ روزن‘ کو ان سوالات کی روشنی میں دیکھا اور پرکھا جائے تو دو تین نکات کے اطمینان بخش جوابات تو مل جاتے ہیں مگر مکمل نہیں۔ ریختہ کا ادبی منشو راور مقصد واضح ہے۔ سات سال کے عرصے میں ریختہ نے صرف اور صرف زبان و ادب کو فروغ دیا ہے۔ اس کا تجارت اور ترقی ذات سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ اس کے مالک سنجیو صراف ہیں جن کا اردو زبان و ادب سے کوئی مفاد یا منفعت وابستہ نہیں ہے۔انھوں نے یہ رسالہ اس لیے شائع کیا ہے تاکہ پوری دنیا میں پھیلے ہوئے اردو کے شیدائیوں کو مربوط کیا جائے اور ادب کے مکمل جہان سے آشنائی کی کوئی بہتر صورت نکل سکے۔

سہ ماہی ’ریختہ روزن‘ کا پہلا شمارہ24 زمرو ں/ شقوں میں منقسم ہے۔ ہر شق /زمرہ ادبی لحاظ سے معنویت، اہمیت، ارزش اور افادیت کا حامل ہے۔ اداریہ، خراجِ عقیدت، اردو کی کہانی شاعر کی زبانی، کہانیاں نئی پرانی، غزلیں، اردو کی گنگاجمنی تہذیب، میزان، طنز و مزاح، نظمیں، یادرفتگاں، آپ کی زبان سے ہماری زبان تک (ترجمہ)، قلم کے زاویے (خاکے)، آئینہ دل، کیا کہا آپ نے( ماضی کے دریچے سے)، خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہوگئیں، فی الوقت، نامہ بر، دلچسپ قصے، سوچیے (کوئز)، حلقۂ زنجیر (ضبط شدہ ادب)، نئے اور پرانے اوراق (تبصرے)، پیکر (تصاویر) فی الحال ریختہ میں ، آپ کی رائے— ان دائروں میں ’ریختہ روزن‘ کی تقسیم و ترتیب سے رسالے کے تنوع کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس کے بیشتر مشمولات مفید، معلوماتی اور معیاری ہیں اور مدیر ہما خلیل کے ادارتی جوہر اورحسن انتخاب کا مظہر بھی۔ریختہ روزن میں وہ پرانی تخلیقات بھی شائع کی گئی ہیں جو رسائل کے صفحات میں مدفون ہیں۔ وہ زندہ تحریریں جو ہماری نگاہوں سے اوجھل ہوگئی ہیں انھیں ریختہ روزن نے پھر سے نئی زندگی دی ہے اور نئی نگارشا ت شامل کرکے امکانات کے نئے دریچے بھی وا کیے ہیں تاکہ جدید و قدیم اردو زبان و ادب کا متنوع اور وسیع تر منظرنامہ ہمارے سامنے آسکے۔ مکمل ادبی جہان کی سیر و سیاحت تو مختصر صفحات میں ممکن نہیں ہے لیکن ریختہ نے مکمل ادبی جہان سے روبرو کرانے کا ایک خوبصورت تجربہ کیا ہے اور ایسی تخلیقات ریختہ روزن میں شامل کی ہیں جن سے ہمیں نئے اور پرانے ادبی رویے اور رجحانات سے بھی آگہی ہو اور نئے اور پرانے قلم کاروں سے بھی ہم اپنا ذہنی رشتہ قائم کرسکیں۔ بعض تحریریں تو یقینی طور پر ایسی ہیں جن کی قارئین کو اکثر تلاش رہتی ہے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ ریختہ کے پاس ادب کا بیش بہا سرمایہ موجود ہے اس لیے ایسی تحریرو ںکی تلاش میں انھیں دشواری پیش نہیں آتی۔ ریختہ روزن کی یہ کوشش قابل ستائش ہے کہ ادب کے ان ناموں کو بھی پھر سے ذہنوں میں زندہ کردیا ہے جنھیں ہم فراموش کرتے جارہے ہیں۔ خاص طور پر جارج پیش شور، منشی جوالا پرشاد برق، عبدالغفور شہباز، آغا صادق، سمت پرکاش شوق اور بہت سے نام ہیں جنھیں ادبی معاشرے نے تقریبا بھلا دیا ہے۔ ریختہ روزن نے ان کی تحریروں کو نئی زندگی اور تابندگی عطا کرنے کی جوکوشش کی ہے وہ قابل قدر ہے۔ ضبط شدہ ادب بھی ایک بیش قیمت سرمایہ ہے۔ اس زمرے میں سجاد ظہیر، سعادت حسن منٹو، خلیل الرحمن اعظمی کی تحریروں کو پڑھنے سے ہمیں ادب کی مقصدیت اور اردو میں مزاحمتی ادب کی ایک مضبوط روایت کا پتہ چلتا ہے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ’ریختہ روزن‘ کا یہ تجربہ منجمد ادبی معاشرے کو متحرک کرنے میں یقینا کامیاب ہوگا۔اس نوع کے تجربے ہمیں ایک نئے جہان اور ایک نئے جزیرے کی سیر کرانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ ہمیں تجربوں سے خو ف زدہ نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی تجربوں کو مسترد کرنا چاہیے کیونکہ یہی تجربے ہمیں ایک نقش راہ اور مستقبل کا لائحہ عمل تیار کرنے میں ممد و معاون ثابت ہوتے ہیں۔ ریختہ روزن کا یہ پہلا نقش ہے۔ آگے چل کر ان تجربوں میں اور توسیع ہوگی اور یقینی طور پر تجرباتی توسیع کا یہ سلسلہ ادبی معاشرے کے لیے بھی مفید ثابت ہوگا۔ مشمولات کے عنوانات خوبصورت ہیں مگر کچھ عنوانات کو خوب سے خوب تر کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ پرانی تحریروں کا انتخاب بھی عمدہ ہے مگر ان تحریروں کے حوالے سے قلمکاروں کے سوانحی کوائف اور مشمولہ تخلیق پر مختصر تجزیاتی نوٹ کی شمولیت سے ان تحریروں کی اہمیت اور افادیت بڑھ جائے گی کیونکہ آج کی نسل بہت سے پرانی ادبی شخصیات سے مکمل طور پر واقف نہیں ہے۔ریختہ روزن میں موضوعاتی زمین کو اور وسعت دیے جانے کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر وہ موضوعات اور مضامین جن سے ہمارے ادبی معاشرے کو ایک نئی روشنی، ایک نئی راہ ملے۔ ماضی کے رسائل میں بہت قیمتی خزانے مدفون ہیں، خاص طور پر عبدالحلیم شرر کے ’دلگداز‘ میں کچھ ایسے سلسلے ہیں جن کی بازیافت کی جائے تو یقینی طور پر یہ بہت اہم کام ہوگا۔ ریختہ کے پاس نایاب و نادر کتب کے علاوہ اہم ادبی رسائل کا وافر خزانہ موجود ہے اس لیے ریختہ کو اہم موضوعات کی تلاش میں دشواری پیش نہیں آئے گی۔

ریختہ روزن کے مشمولات اتنے اہم ہیں کہ تفصیلی گفتگو کے لیے ایک دفتر درکار ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ ریختہ نے ایک اچھا قدم اٹھایا ہے۔ اس قدم کی ستائش کی جانی چاہیے۔ ’ریختہ روزن‘ کی خوبصورت اشاعت کے لیے سنجیو صراف اور ہما خلیل کے ساتھ ساتھ رسالے کے سرپرست: پروفیسر گوپی چند نارنگ، ذکیہ مشہدی، سید شاہد مہدی اور اردو ہندی کی مجلس ادارت میں شامل تمام افراد مبارکباد کے مستحق ہیں۔

Previous articleدہلی میں چھٹ پوجا کو لے کر بی جے پی اور عام آدمی پارٹی میں گھمسان کیجریوال نے کہا-
Next articleشاہینوں کے جھرمٹ میں از:ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here