رفعت میں آسماں سے بھی اونچا ہے بامِ ہند! از: مظفر نازنین، کولکاتا

0
306

وطن عزیز ہندوستان بالآخر 15؍ اگست 1947 ء کو انگریزوں کی غلامی کے شکنجے سے آزاد ہوا۔ ہرطرف شادیانے بجنے لگے اور لال قلعے کی فصیل پر ترنگا لہرانے لگا۔ 26؍جنوری 1950 ء کو ہندوستانی دستور ِ اساس کے نئے قوانین نافذ ہوئے۔ اور وطن وعزیز ہندوستان میں جمہوری نظام حکومت کا نرول ہوا۔ یہ وہ دور تھا جب سینکڑوں برسوں کی کوششوں کے بعد ملک کو آزادی ملی۔ جس کے لیے ہمارے رہنماؤں نے جان کی بازی لگا دی تھی۔ بے مثال قربانیاں پیش کی گئیں۔ جن کے لیے تاریخ کے اوراق شاہد ہیں۔ تابناک ماضی کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو صاف شیشے کی مانند عیاں ہے کہ کس کس طرح مسلمانوں نے برادرانِ وطن کے ساتھ شانہ بہ شانہ تحریک ِ آزادی میں حصہ لیا۔اور بیشمار محبان وطن نے اپنے ملک کے لیے اپنی جان نچھاور کی۔ بہادر شاہ ظفر اردو کے معروف شاعر تھے جنہیں انگریزوں نے قید کر کے برما کی راجدھانی رنگون بھیج دیا ۔ ان کا ذہن حب الوطنی کے جذبے سے سرشار تھا۔ اسیرزنداں بہاد شاہ ظفر شکستہ دل، چشم پُر نم اپنے لرزیدہ ہاتھوں سے قلم کو جنبش دے کر اس شعر کو رقم کیا تھا ؎
کتنا ہے بدنصیب ظفرؔ دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں

بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر جو دلتوں کے مسیحا تھے کی قیادت میں دستورِ اساس کی تشکیل ہوئی۔ جہاں سبھی مذاہب کے ماننے والوں کو یکساں حقوق دیئے گئے۔ یاد رکھنے کی بات ہے کہ وطن عزیز ہندوستان میں مختلف مذاہب کے ماننے والے ہیں۔ ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی ، جین، پارسی جن کے روحانی عقائد بلاشبہ مختلف ہیں۔لیکن یہ سب ہندوستانی ہیں۔ جہاں ایک فرقے اور مذہب کے ماننے والے کو دوسرے فرقے اور مذہب کے ماننے والوں کا احترام لازمی ہے۔ ہمیں وطن ِ عزیز ہندوستان سے گہرا لگاؤ ہے۔ہمیں اس سر زمین پر فخر و ناز ہے۔ سنہرے ماضی میں اسی ہندوستان کے لیے شاعر نے کہا تھا ؎
ہندوستان ! رشکِ خلد بریں
اُگلتی ہے سونا وطن کی زمیں

وطن عزیزہندستان جنت نشاں ہے۔ یہ ایک ایسا ملک ہے جہاں قدت کے انمول خزانے موجود ہیں۔ یہاں ہر طرح کی زمینی شکلیں ہیں۔سر زمین ہند کے شمال میں کشمیر، جنت ِ نظیر تو جنوب میں دکن کا سطح مرتفع، نیلگری کی پہاڑی، مغربی میں تھار کا ریگستان تو مشرق میں ابر آلود چھوٹی چھوٹی شمال مشرقی پہاڑی ریاستیں۔ پھر گنگا کا زرخیز وسیع میدانی علاقہ اور پھر کارگل اور دراس کی جوٹیاں۔ کل ملا کر کہہ سکتے ہیں کہ ہندوستان قدرت کا انمول عطیہ ہے۔ شاعر نے سر زمین ہند کی تعریف کرتے ہوئے کیا خوب کہا ہے ؎
کشمیر سے عیاں ہے جنت کا رنگ اب تک
شوکت سے بہہ رہا ہے دریائے گنگ اب تک

غنچے ہمارے دل کے اس باغ میں کھلیں گے
اس خان سے اٹھے ہے اس خاب میں ملیں گے

یہاں کے پیرہن ، شال، پشمینہ اور لباسِ فاخرہ غیر ممالک درآمد کر کے بہترین زرمبادلہ حاصل کیا جاتا ہے۔ یہ وہی ہندوستان ہے جس کی شاں عہد ِ ماضی میں نرالی تھی۔ جس کی تہذیب پر ساری دنیا رشک کرتی ہے۔جہاں قدرت کے حسین نظارے سے لطف اندوز ہونے کے لیے غیر ممالک سے سیاح آتے ہیں۔ اس کے درخشاں اور تابندہ ماضی کی نظیر نہیں ملتی۔ آزادی کے بعد وطن ِ عزیز ہندوستان نے بہت سے نشیب و فراز دیکھے۔ سیاسی مدو جزر کے باوجود آج ہندوستان کا شمار عظیم ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے۔ مختلف مذاہب، قوم ، زبان اور تہذیب کے باوجود یہاں کثرت میں وحدت (unity in the midst of diversity) کا راز مخفی ہے۔ جس کا مظاہرہ کرنے کے لیے فلم ، documentary بنائی گئی ۔مختلف زبانوں میں حب الوطنی پر مبنی نغمات لکھے گئے۔ دیش بھکتی کے گیت گائے گئے۔ ہر شعبۂ ہائے حیات سے منسلک لوگوں نے دیش بھکتی اور حب الوطنی کا ثبوت مختلف انداز میں پیش کیا۔ لیکن افسوس صد افسوس جب کہ مسلمانانِ ہند جاں نثاران ِ وطن ہیں۔ شہید کھودی رام بوس، شہید بھگت سنگھ، وطنِ عزیزہندوستان کے لیے اپنی جان نچھاور کی۔ ان شہدائے کرام کے اسمائے گرامی بھی ہندوستان کی تاریخ میں آب ِ زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔(یہ بھی پڑھیں!ڈاکٹر امام اعظم ’’گیسوئے افکار‘‘ کے حوالے سے از:ڈاکٹر مظفر نازنین)

فرقہ پرستی کے زہر نے ہندوستانی سماج کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ ہر مذہب کا احترام لازمی ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو جمہوریت کے ماتھے پر کلنک ہے۔ شاعر فخریہ انداز میں سر زمین ِ ہند سے یوں مخاطب ہے ؎
تیری مقدس خاک سے نانک اٹھے ، اکبر اٹھے
آج عصری اور دینی تعلیم کی ضرورت ہونے کے ساتھ اخلاقیات کی تعلیم بھی بے حد ضروری ہے۔ آج کے نوجوانوں کو تابندہ ماضی سے سبق لینے کی ضرورت ہے۔ اپنی زندگی کو قوم و ملت کے لیے وقف کرنا عصرِحاضر کی پکار ہے ؎
مجاہدینِ صف شکن ، بڑھے چلو بڑھے چلو
روش ، ربد، چمن چمن بڑھے چلو بڑھے چلو
یہ نازشِ کمال پن بڑھے چلو بڑھے چلو

خدا کے سال ِ رواں کا سورج نئی تابندگی لائے جس کی تابانی سے وطن ِ عزیز ہندوستان میں گھر ے ہوئے فرقہ پرستی کے گھنے کہرے کا خاتمہ ہو۔ فرقہ پرستی کے گھنے بادل چھٹ جائیں۔ اور قومی یکجہتی اور ہم آہنگی کے نور سے سارا بھارت جگمگائے اور اس کی روشی سے دوبارہ ہندوستان نوجوانوں کو توانائی ملے۔ وہ توانائی جو نوجوانوں کے ذہن کو تقویت دے اور پھر ایک منظم اور مستحکم ہندوستان کی تشکیل کے لیے کمبربستہ ہو جائیں۔ وہ تہذیب جس پر ہم ہندوستانیوں کو ناز ہے ؎
مر کر ملی ہے چادر ، خاکِ وطن مجھے
مٹی نے اس زمین کی دیا ہے کفن مجھے

اجڑا ہوا دیار ہے فخر دمن مجھے
اے ہند ! پھر دکھا وہی شانِ کہن مجھے
یہی وہ ملک ہے جہاں نانک، سرمد، چشتی، گوتم اور مہاویر نے جنم لیا۔ شاعر ِ مشرق جن میں جذبۂ حب الوطنی کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔یوں رقمطراز ہیں ؎
تلوار کا دھنی تھا ، شجاعت میں فرد تھا
پاکیزگی میں جوش ، محبت میں فرد تھا

ہے رام کے وجود یہ ہندوستان کو ناز
اہل ِ نظر سمجھتے ہیں اس کو امام ِ ہند

خلیج منار، آبنائے پاک – ہندوستان کی سر حد پر اس کی پاسبانی کرتے ہیں۔ دنیا کا سب سے بڑا میدان جو Gangetic plain کے نام سے جانا جاتا ہے اور سندر بن کا ڈیلٹا جو mangrove vegetation کے لیے ساری دنیا میں مشہور ہے۔ تہذیب یہاں پھولی پھلی، پروان چڑھی ، آداب، تہذیب، کلچر، tradition تو پڑوسی ممالک اور دوسرے ایشیائی ممالک نے ہم سے ہی سیکھا ہے۔ گویا یہ ملک بالکل مختلف اور جداگانہ ہے۔ اس لیے تو اس کی خوبصورتی سے متاثر ہو کر اس کی شان اور عظمت کی داددیتے ہوئے شاعر مشرق ڈاکٹر سرعلامہ اقبال نے کہا تھا ؎
یہ ہندیوں کے فکر و فلک رس کا ہے اثر
رفعت میں آسماں سے بھی اونچا ہے بامِ ہند

آج کے موجودہ پس منظر میں یہ شعر صادق آتا ہے ؎

بلبل کو گل مبارک ، گل کو چمن مبارک
شیدائے بوستاں کو سر و سمن مبارک
ہم بے کسوں کو اپنا پیارا وطن مبارک

Mobile : 9088470916
E-mail : muzaffarnaznin93@gmail.com

Previous articleمنٹو کا تخلیقی جہان از: امتیاز سرمد
Next articleپروفیسر لطف الرحمن کی غزلیہ شاعری کے فکری و فنی ابعاد (بوسۂ نم کے حوالے سے)از: ڈاکٹر احمد علی جوہر

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here