دیوبند اے ٹی ایس کمانڈو پروجیکٹ اور خدشات از: ڈاکٹرراحتؔ مظاہری

0
60

؎ کھٹکتاہوں دلِ یزداں میں کانٹے کی طرح

اتر پردیش کے تاریخی وعلمی شہر دیوبند کو اللہ تعالیٰ نے اپنے نورانی علوم اور احکام شریعت کی نشرواشاعت کی بدولت جو چار دانگ عالم اورہفت کشور میں ایک خاص مقبولیت عطا فرمائی ہے وہ یقینی طور پر نہ صرف ہندوستانی مسلمانوں، ملک کےعام باشندوں ہی نہیں بلکہ وطن عزیز ہندوستان کی تمام ہی ماضی وحال کی حکومتوں کے لئے بھی منجملہ یورپ و عرب ممالک میں بھی باعث صد افتخار ثابت ہوئی اور آج بھی ہے،چاہے کوئی اس کی تعریف میں گونگے کا گڑ کھا لے یا اپنی زبان پر تالا لگا کے بیٹھ جائے۔ نیزہندستان کی تاریخ جنگ آزادی کاصفحہ بغیر شمولیت دیوبند اورریشمی رومال تحریک ناقص اور ادھوراہے۔

میں دعا گو ہو کہ اللہ تعالی اس خاکِ وطن مادرہندکے مخصوص قصبے دیوبنداور اس کی سرزمین کو ان اسلامی قلعوں اور علوم القرآن والسنۃ کی برکت سےمزیدشرف وعظمت بخشے۔
واضح ہوکہ سردست میراموضوع ِگفتگوسرزمین دیوبندزاداللہ شرفاوتعظیما کی شان میں کوئی مدح سرائی یا اس کی قصیدہ خوانی ہرگز نہیں بلکہ اپنے بھولے بھالے عوام اور فکر مند دوستوں کو یہ تسلی دلانامقصدہے کہ اتر پردیش حکومت نے اپنے حفاظتی اور دفاعی نظام کے تحت دیوبند میں میں اے ٹی ایس(Anti-Terrorism Squad (ATS)) کمانڈو پروجیکٹ کے لیے دو ہزار اسکوائر میٹر اراضی کا الاٹ مینٹ کیا ہے جس پرزیر تربیت کمانڈوز کو رکھا جائے گانیز وہاں پر اے ٹی ایس کا اہم اڈابنانے کاارادہ ہے،جس کے اس سے قبل بڑے بڑے سینٹرمہاراشٹر،گجرات،کیرلا،یوپی،
راجستھان،جھارکھنڈ، مغربی بنگال میں ہیں۔
اس الاٹمنٹ(allotment) کے خلاف ہمارے بعض دوست بے حد دم بخود،خائف، دل برداشتہ اور خوفزدہ نظر آتے ہیں ،اس کی بنیادی وجہ در اصل یہ ہے ان کو کو یہ تو خبر ملی کہ حکومتِ اترپردیش اپنے حفاظتی اور دفاعی نقطہ نظر کے تحت مرکزعلم ودانش اورگہوارہ علم وآگہی قصبہ دیوبند (Deoband)کو ایسا کرنے کے لیے منتخب کررہی ہے مگر انہیں شاید یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یوگی سرکارکاکہ اس کے علاوہ اترپردیش کے دوسرے شہروں میں بھی
اسی قسم کے سینٹر قائم کرنے کا منصوبہ ہے،جیساکہ یوپی حکومت کے ایک اعلی افسر نے اپنی بریک نیوز
ز میں ان تمام پروجیکٹس کا نام‌بنام خلاصہ کیا ہے۔

مذکورہ کمشنرکے مطابق دیوبند کے علاوہ اتر پردیش کے دیگر بڑے شہروں(1) میرٹھ ،(2)بہرائچ، (3)شراوستی،(4) جیور ایرپورٹ وغیرہ بھی اس فہرست میں شامل ہیں جہاں حکومت اتر پردیش اپنے کمانڈوز کو تربیت دے گی۔
افسر کے بیان کے مطابق قصبہ دیوبند کو ہریانہ اور اتراکھنڈ صوبوں کے زیادہ قریب ہونے کے سبب منتخب کیا گیا ہے چونکہ ان دنوں ریاستوں ہریانہ اور اتراکھنڈ سے دوسرے بعض ممالک کی سرحدیں بہت زیادہ نزدیک ہیں۔
اسی خدشہ کو مدنظررکھتے ہوئے اے ٹی ایس(Anti-Terrorism Squad (ATS))) پروجیکٹ کے لیے دیوبند کا انتخاب کیا گیا ہے۔ مذکورہ افسرکی وضاحت کے سوا ہم اس تمام کہانی کو ایک دوسرے زاویہ سے بھی دیکھ سکتے ہیں کہ آپ کو معلوم ہے کہ آئندہ جلدی ہی یوپی اور اتراکھنڈ کے اسمبلی الیکشن سر پر ہیں۔نیز ماضی قریب کے اترپردیش، وہاں حکمران طبقے کے عزائم اور غلط ارادوں سے بھی نظر نہیں چرانی چاہیے ۔
بعض سیاسی مبصرین کے نزدیک یوپی حکومت نے یہ صورتحال اس لئے اختیار کی ہے کہ ملک کااکثریتی طبقہ اس طرح کے اقدام سے خوش ہو کراس کے حق میں اپنا ووٹ استعمال کرتاہے نیز اقلیتی طبقے کے افراد میں یوگی سرکار کی اس چال سے مزید خوف وہراس کی کیفیت پیدا ہو جیسا کہ اس کا ماضی بھی اسی طرح کے اقدامات کا گواہ ہے۔

کریلا اور نیم چڑھا دوسری جانب مسلمانوں کے دشمن گودی میڈیا کو اپنی ٹی آر پی بڑھا نے کے لئے ایک نیا موضوع اور گرما گرم مرچ، ہاتھ لگ گیا مسالہ کہ مسلمانوں میں وہ مزید ہراسگی اور مایوسی پیدا

کرسکےاور مسلمان تلملاکر حکومت مخالف نعرے دے ،سڑکوںپر نکلے اورجلسے ، جلوس اورمنیٹنگوں میں لگ کر کے اپنی انرجی کوضائع کردے جیساکہ ابھی تک ہوتارہاہے۔
تو اس طرح بھی اقلیت کی جانب سے حکومت کی کھلی مخالفت کرنے کے سبب ہندوووٹ مزیدمتحد ہوجائے گا ،اورموجودہ سرکار کو اترپردیش میں، واپسی اپنی اگلی حکومت بنانے میں سہولت ہوگی۔
میری ان تمام وضاحتوں کے بعد کسی مزید سوچ بچاراورگھبرانے کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی ہے۔
حکومتوں اورنیتاؤں کو نہ کسی کے سگے ہوتے ہیں اورنہ ہی جانی دشمن، جیساکہ پوراملک جانتاہے کہ آنجہانی اندراجی نے گاؤکشی کے خلاف دھرنادیتے اپنے ہی دھرم گرو سادھوؤں پر بوٹ کلب پر سرعام گولیاں چلوادی تھیں اورانہی کے فرزند راجیوگاندھی نے مسلم حمایت بٹورنے کے ئے شاہ بانوکے کیس پرمسلم پرسنل لا کواستحکام بخشد یاتھا نیز آگے چل کر اپنے مفادکی خاطر بابری مسجد کا تالا بھی کھلوادیا۔
؎ کھٹکتاہوں دلِ یزداں میں کانٹے کی طرح۔
لہٰذایہ کبھی نہیں بھولناچاہئے کہ موسم اور حکومت دونوں ہی نہایت غیر مستحکم اوربے بھروسہ چیزیں ہیں
کوئی پتہ نہیں کہ کون کس وقت آجائے اور کس وقت چلاجائے؟

جس طرح ابھی ایک ملک پر ایک کمزورسے ٹولے کی پیش قدمی سے دنیاحیرت زدہ ہے، حکومتوں کے اسی تزلزل اور بے ثباتی کو بالفاظ وحی اللہ نے خود اپنی کتاب حکمت میں ارشاد فرمایا ہے ’’وتلک الایام نداولہا بین الناس،۔(140/3)
ترجمہ:ہم اِن دنوں کو لوگوں کے درمیان ادلتے، بدلتے رہتے ہیں،یعنی کبھی صبح، کبھی شام اورکبھی کسی کی فتح کسی کی شکست ہے یہ اوریہ دن یونہی گذرتے رہتے ہیں۔

Previous articleبلا عنوان “انشائیہ” (قسط-2) از: کامران غنی صبا
Next articleذرہ ذرہ کربلا منظر بہ منظر تشنگی از: توصیف خان

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here