دکن کے ادبی اجلاسوں میں گونجنے والی متحرک و معتبر آواز خاموش ہوگئی ! از: محسن خان،حیدرآباد دکن

0
103

آج صبح پروفیسر فاطمہ بیگم پروین، سابق صدر شعبہ اردو جامعہ عثمانیہ کا انتقال پُر ملال۔ انا للہ و انا الیہ راجعون

محترمہ 30 ڈسمبر 1953ء کو حیدرآباد میں پیدا ہوئیں۔ جامعہ عثمانیہ سے ایم اے میں امتیازی کامیابی کے ساتھ دو گولڈ میڈل حاصل کئے۔ بعد ازاں جامعہ عثمانیہ سے ہی آپ نے ڈاکٹریٹ مقالہ تکمیل کیا۔ مختلف کالجوں میں تدریسی خدمات انجام دہی کے بعد آرٹس کالج، جامعہ عثمانیہ سے منسلک ہوئیں بعد ازاں صدر شعبہ کے عہدہ پرفائز ہوئیں۔ 17سال آپ نے جامعہ عثمانیہ میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ قومی اور بین الاقوامی سمیناروں میں بے شمار مقالے پیشکشی کا اعزاز حاصل کیا۔ اختر انصاری کی شاعری: زاویہ نگاہ اور دکنی ادب کا مطالعہ آپ کی مشہور تصنیفات میں شامل ہیں۔
ہندی اور تلگو کی کتابوں کا بھی آپ نے اردومیں ترجمہ کیا۔ متحدہ آندھرا پردیش اور مغربی بنگال اردو اکیڈیمی نے آپ کو ایوارڈ سے نوازا۔ عصر حاضر کی معروف خاتون مقررین میں جانا پہچانا نام رہیں۔ حیدرآباد دکن میں منعقد ہونے والے تقریباً ادبی اجلاسوں میں صدارت فرمانے کا شرف حاصل رہا۔ ہمہ جہت موضوعات پر معلوماتی اور ان سے منسلکہ اہم نکات پر آپ کی طویل تقریر ہوتی تھی۔ وہ فرماتی تھیں کہ جب بھی تقریر ہو، موضوعات کا مکمل احاطہ کیا جانا چاہئے ورنہ چند لفظوں میں اکثر بات ادھوری رہ جاتی ہے۔

بیشمار کتابوں کا پیش لفظ آپ نے تحریر فرمایا۔ کورونا وباء کے سبب آن لائن منعقد ہونے والے ویبنارس میں بھی آپ کا صدارتی خطاب ہوتا تھا اور وہ وہاں بھی طویل اور پرجوش خطاب سے محظوظ فرماتی تھیں۔
جب کبھی آن لائن پروگرام میں آپ کی شمولیت رہتی مجھے یاد فرماتی تھیں۔ پروگرام کے اخیر تک میں مدد کی خاطر ان کے گھر پر ہی رہتا کیوں کہ وہ سوشیل میڈیا وغیرہ استعمال نہیں کرتی تھیں۔ عیدین کے موقع پر اصرار کیساتھ عیدی سے نوازتی رہتی تھیں۔

آپ کے کئی مضامین اور مقالوں کی کمپوزنگ کاشرف مجھے حاصل رہا۔ ڈاکٹر حمیرہ سعید صاحبہ، صدر شعبہ اردو سنگاریڈی ڈگری کالج کو بہت عزیز رکھتی تھیں۔ نمازکی پابندی کرتی تھیں۔۔

ماہ محرم الحرام میں بھی ان کے پرجوش آن لائن خطابات ہوتے رہے ہیں۔ واقعات کربلا کا تذکرہ کرتے ہوئے آپ غمگین ہوجاتی تھیں۔ سالارجنگ میوزیم میں نہج البلاغہ سوسائٹی کی جانب سے منعقدہ اجلاسوں میں بھی آپ کا خطاب معلوماتی ہوتا تھا۔ تن تنہا برسوں سے تمام مرد حضرات کے درمیان خواتین کی نمائندگی کرتے ہوئی دیکھی جاتی رہیں۔ حال ہی میں آپ کو “بلبل دکن” کا خطاب اردو ہال میں منعقدہ ایک پر وقار ادبی تقریب دیا گیا تھا۔ اس تقریب میں اردو کے تقریباً سینئر اساتذہ کرام اور طلبہ کی کثیر تعداد موجود تھی۔

ہمیشہ فرماتی تھیں کہ جو استاد اپنے طلبہ سے جڑا نہ رہے وہ حقیقی استاد نہیں۔ موجودہ دور میں اردو کے تقریبا سبھی اسکالرس آپ سے وابستگی برقرار رکھنے کو ترجیح دیتے رہے ہیں. وہ ہر کسی ضرورت مند کی مدد کرنے میں پیش رہا کرتی تھیں۔ آخری وقت تک اردو کی ادبی خدمات میں ہمہ تن مصروف رہیں۔

اللہ مرحومہ کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے، آمین

****

Previous articleوزیراعلی اردو ایکشن کمیٹی کے مطالبات پر غور کریں! مولانااحمد ولی فیصل رحمانی کی اپیل!
Next articleفانی بدایونی ایک تعارف از: سید نوید جعفری حیدرآباد دکن

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here