دلآویز مسکراہٹوں کا پیکرِ مجسم ۔۔ ڈاکٹر ناصر علی انصاری

0
37

عظیم انصاری

دسمبر 2019 میں چینی شہر ووہان میں کورونا وبا کا ظہور ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے چند مہینوں کے اندر پوری دنیا کو اس نے اپنی گرفت میں لے لیا ‌۔ اس جان لیوا اور ہلاکت خیز وبا کو کنٹرول کرنے کے لیے دنیا کے بیشتر ممالک نے لاک ڈاؤن کا نفاذ کردیا اور لوگ اپنے گھروں تک محدود ہوکر رہ گئے ۔ اس برق رفتار دنیا کو اس طرح اچانک رکتے ہوئے پہلے کسی نے نہیں دیکھا تھا ‌ ۔ اس وبا کا قہر زیادہ تر مغربی ممالک میں رہا اور ڈھیر سارے لوگ لقمۂ اجل ہوگئے۔ کو رونا کی اس پہلی لہر کے دوران مغربی ممالک بالخصوص امریکہ میں لاکھوں لوگ لقمۂ اجل ہوئے جب کہ ہمارا ملک ہندوستان نسبتاً محفوظ رہا ‌۔ لیکن اس موذی وبا کی دوسری لہر ہندوستان میں سونامی بن کر آئی اور یومیہ کورونا کیسیز میں صرف اضافہ ہی نہیں ہوا بلکہ ڈھیر ساری ہلاکتیں بھی ہوئیں ‌۔ بیشمار گھر ماتم کدے میں تبدیل ہوگئے ۔

ہمارے صوبے مغربی بنگال میں بھی کورونا کیسیز کی وجہ سے بہت سے قیمتی جانیں چلی گئیں ۔ اور اس کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے گرچہ رفتار اب کچھ سست ہوگئی ہے ۔ اس وبا کے دوران بہت سی علمی و ادبی شخصیات بھی ہم سے رخصت ہوگئیں اور اپنے عزیز و اقارب کو غمزدہ چھوڑ گئیں ۔ ایسی ہی ایک پیاری اور دلنواز شخصیت کا نام ڈاکٹر ناصر علی انصاری بھی ہے ۔

ڈاکٹر ناصر علی انصاری کورونا سے متاثر ہوئے تو انھیں ہسپتال میں داخل کرایا گیا ، 16 دن تک وہ اس سے جنگ کرتے رہے ۔ درمیان میں کچھ حالت بہتر ہوئی تھی مگر اچانک پھر حالت بگڑی اور پھر بگڑتی ہی چلی گئی اور وہ اپنے عزیز و اقارب کو روتا بلکتا چھوڑ کر ملکِ عدم کو روانہ ہوگئے ۔

ڈاکٹر ناصر علی انصاری میرے عزیز دوستوں میں سے تھے ۔ ان سے دوستی میرے قریبی دوست خلش امتیازی کے ذریعہ ہوئی ۔ خلش امتیازی اور ڈاکٹر ناصر علی انصاری دونوں رشی بنکم چندر کالج کے اسٹوڈنٹ تھے اور مجھ سے ایک سال سینیر تھے ۔ خلش کے گھر اکثر محفل جمتی جہاں میں اور میرا ہم جماعت محمد ایوب انصاری موجود ہوتے اور جس دن ڈاکٹر شاہد اختر اور ڈاکٹر ناصر آجاتے ، اس دن تو محفل کی رونق دوبالا ہوجاتی ۔ خلش اور شاہد کی جوڑی محفل کو زعفران زار بنادیتی تھی ۔ یہاں یہ بتاتا چلوں کہ ڈاکٹر ناصر ہی اکثر ان دونوں کے نشانہ بنتے ۔ ڈاکٹر ناصر خود بھی ان کے مزاحیہ جملوں سے محظوظ ہوتے، دل کھول کر ہنستے اور ان دونوں کی شرارتیں بڑھ جاتیں تو کچھ محبت بھری گالیاں دے کر دل کی بھڑاس نکال لیتے تھے ۔ قربان جائیے ان کی دلآویز مسکراہٹوں پر ، جو مرتے دم تک ان کی پہچان بنی رہی ۔ ایسے لوگ آج کی دنیا میں کمیاب ہیں ۔ ڈاکٹر ناصر کا دولت کدہ حاجی نگر میں ہے اور وہیں ان کے پڑوس میں میرے بھیا کی سسرال بھی ہے ۔ لہذا وہاں جب بھی جانا ہوتا تو ان سے ضرور ملنے کی کوشش کرتا ۔ دیکھتے ہی خندہ پیشانی سے ملتے ۔ دوست احباب کی خیریت دریافت کرتے ۔ ڈاکٹر ناصر کی زبان سے میں نے کبھی کسی کی شکایت نہیں سنی ۔ وہ بے ضرر انسان تھے ۔ صرف کام سے کام رکھتے تھے اور دوسروں کے بھی کام آتے تھے ۔ مضافات سے لے کر کلکتہ تک ہر ملنے والا شخص ان کے اخلاق کا گرویدہ تھا ۔ وہ خود کو اتنا مصروف رکھتے تھے کہ ان کے پاس دوسروں کی غیبت کرنے کا موقع ہی نہیں تھا ۔

ڈاکٹر ناصر کی تدریسی زندگی کا آغاز 1979 میں بنیا پوکھر پرائمری اسکول سے ہوا ۔ بعد میں ان کی تقرری انگس ہائی مدرسہ میں ہوئی جہاں ان کے دیرینہ رفیق ڈاکٹر شاہد اختر کی تقرری کوئی سات آٹھ مہینہ قبل ہوئی تھی ۔ اس کے بعد وہ پرولیا ضلع ہائر سکینڈری اسکول ، ہگلی گورنمنٹ مدرسہ، پھر جینکنس گورنمنٹ اسکول ، کوچ بہار میں رہے اور آخر میں وہ 15 ستمبر 2008 میں ہگلی گورنمنٹ مدرسہ چلے آئے اور یہیں سے بحیثیت ہیڈ ماسٹر 30 ستمبر 2013 کو سبکدوش ہوئے ۔ انھوں نے سبکدوشی کے بعد وکالت کی ڈگری سے فیض اٹھانے کا ارادہ کیا اور پریکٹس شروع کردی ۔

ڈاکٹر ناصر بہت ہی متحرک انسان تھے ۔ انھوں نے ایم اے ، بی ایڈ اور ایل ایل بی کرنے کے بعد اپنے تعلیمی سفر کو ختم نہیں کیا بلکہ 1999 میں انھوں نے ” قیصر شمیم کا ادبی شعور” پر تحقیقی مقالہ لکھ کر ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر یونیورسٹی ، بہار سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی حاصل کی ۔ اسی درمیان انھوں نے راشٹر بھاشا کووید، ادیب کامل، جامعہ ملیہ اور دیوبند سے فاضل دینیات کا کورس بھی مکمل کیا ۔

ڈاکٹر ناصر خاموش بیٹھنے والے انسان نہیں تھے ۔ وہ اپنے تدریسی فرائض کے علاوہ بھی کسی نہ کسی فلاحی کام سے جڑے رہتے تھے۔ وہ 1980 سے لے کر 1990 تک جامعہ اردو ، علی گڑھ ( سنٹر حاجی نگر) کے مہتمم رہے جہاں ہر سال ادیب، ادیب ماہر، ادیب کامل اور معلم اردو کے امتحانات منعقد ہوتے تھے ۔ اس سنٹر کو کامیابی سے چلانے کے لیے مضافاتی علاقوں کا دورہ بھی کرتے تھے ۔ وہ جامعہ دینیات اردو ، دیوبند کے حاجی نگر سنٹر کے ناظم بھی رہے ۔ اس کے علاوہ 1980 سے 2000 تک انجمن ترقی اردو ہند ، شاخ حاجی نگر کے سکریٹری رہے ۔ وہ سماجی اور ملی کاموں میں بھی پیش پیش رہے ۔ وہ جمیعتِ اہلِ حدیث ، پیپر مل ، مارواڑی کل کے نائب سکریٹری اور مدرسہ قاسمیہ مادھیامک شکھشا کندر ، ہائی اسکول کے فاؤنڈر ٹیچر بھی تھے۔

مجھے 1982 میں میٹل اینڈ اسٹیل فیکٹری ، ایشا پور میں ملازمت مل گئی ۔ آرڈننس فیکٹری کی ملازمت Systematic Overtime کی وجہ سے بہت سخت تھی ۔ صبح ساڑھے سات بجے سے شام ساڑھے پانچ بجے تک ڈیوٹی ہوا کرتی تھی ۔ لہذا دور دراز کے احباب سے ملنا بہت کم ہوگیا ۔ بہرحال جب کبھی بھی ڈاکٹر ناصر سے ملاقات ہوتی تو وہ بڑی گرم جوشی سے ملتے ۔ چہرے پر وہی پہلی جیسی مسکان ہوتی ۔ میں جب بھی حاجی نگر جاتا ان سے ضرور ملتا وہ بھی جب جگتدل آتے تو ضرور ملتے اگر ملاقات نہیں ہوتی تو خلش یا ایوب سے خیر و عافیت پوچھتے ۔

ایک مرتبہ وہ میرے گھر آئے تو ان کے ساتھ ان کی بیٹی بھی تھی ۔ انھوں نے بتایا کہ وہ بی۔ایس۔سی میں پڑھ رہی ہے اور اس کا ایک سبجکٹ انگریزی بھی ہے اور کہا چونک تم گریجویشن کے طالب علموں کو انگریزی پڑھاتے ہو لہذا اپنی اس بیٹی کو کچھ نوٹس دے دو ۔ میں نے فوراً نوٹس ان کے حوالے کئے ۔ بے تکلف دوست ہونے کے باوجود بار بار شکریہ ادا کرتے رہے ۔ جاتے وقت کہنے لگے ” یار، اتنی لمبی ڈیوٹی کے بعد ٹیوشن کیسے کرلیتے ہو ۔ میں نے کہا بی۔ایڈ کرنے کا حق ادا کررہا ہوں ۔ یہ سن کر مسکرانے لگے اور کہنے لگے اس معاملے میں تم مجھ سے سینیر ہو ، تم اور خلش تو 1982 میں بی۔ایڈ کرلئے جبکہ میں 1985 میں ۔

ڈاکٹر ناصر ادبی طور پر بھی متحرک تھے ۔ گاہے بگاہے ان کے مضامین اخبارات اور رسائل کی زینت بنتے تھے ۔ انھوں نے 1987 میں ایک ادبی مجلے ” لمعا ت ” کی ادارت بھی کی ۔اخبارات میں اکثر ان کے مرا سلے بھی شائع ہوتے تھے ۔ ان کے مراسلوں میں ملی و قومی درد نمایاں ہوتے تھے ۔ وہ رشی بنکم چندر کالج ، نئی ہٹی میں شعبۂ اردو کھلوانے کے لیے بہت متحرک رہے ۔ گرچہ حد درجہ مصروفیت
ان کو ادبی طور پر زیادہ متحرک نہیں ہونے دی لیکن ان کے جو بھی مضامین نظر سے گزرے ہیں ، وہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ڈاکٹر ناصر انصاری کے اندر ایک اچھا ادیب چھپا ہوا تھا جس کو اظہار کا موقع نہیں ملا ۔ ان کے مضامین کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی زبان ان ہی کی طرح شگفتہ اور رواں دواں تھی ۔ سبکدوشی کے بعد وہ ادبی طور پر سرگرم ہونے لگے تھے اور ادبی تقریبات میں اکثر دکھائی دینے لگے ۔ ان دنوں وہ اپنی تھیسس والی کتاب ” قیصر شمیم کا ادبی شعور ” کی ترتیب کا کام کررہے تھے ۔ مذکورہ کتاب کی تقریباً ستر فیصد کمپوزنگ بھی ہو چکی تھی لیکن وہ اس کے درمیان ہی داغِ مفارقت دے گئے۔ مجھے امید ہے کہ ڈاکٹر وحیدالحق جیسا ان کا لائق داماد، جو ایک اچھا ناقد بھی ہے ، ان کی اس کتاب کو جلد ہی منظر عام پر لاکر ان کی خواہش کی تکمیل کردے گا ۔

ڈاکٹر ناصر 2013 میں ملازمت سے سبکدوش ہوئے اور میں 2016 میں ۔ اس کے بعد تو کئی بار ملاقاتیں ہوئیں ۔ لیکن 2017 سے ہم لوگ زیادہ قریب آگئے جب ایک دن ڈاکٹر وحیدالحق نے فون کرکے کہا کہ ” ماموں میری شادی آپ کے دوست ڈاکٹر ناصر علی انصاری کی بیٹی سے طے پاگئی ہے اور فلاں تاریخ کو آپ کو شادی کا دن مقرر کرنے جانا ہے ” ۔ میرے لیے یہ خوشگوار حیرت والی خبر تھی ۔ اس کے بعد تو ڈاکٹر ناصر سے گاہے بہ گاہے ملاقاتیں ہونے لگیں ۔

ڈاکٹر ناصر سے آخری دو ملاقاتیں خاص طور سے یاد آتی ہیں ۔ ایک جو سیالدہ اسٹیشن پر ہوئی تھی اور دوسری رابندر بھون، شیام نگر میں ۔ 6,فروری 2021 کو میں بلند اقبال کے ساتھ مغربی بنگال اردو اکیڈمی میں معروف شاعر و ناقد جاوید ہمایوں کی کتاب ” چراغِ گمشدہ ” کے اجرا کی تقریب میں جارہا تھا ۔ سیالدہ میں ٹرین سے اترے تو ڈاکٹر ناصر صاحب سے ملاقات ہوگئی ۔ پوچھنے لگے کہ ہم دونوں کہاں جارہے ہیں ۔ اکیڈمی کا نام سن کر کہنے لگے کہ وہ بھی وہیں سے آرہے ہیں کیونکہ وہاں دوپہر میں ڈائمنڈ کارنر کا افتتاح تھا ۔ اس کے بعد ڈاکٹر وحید کا ذکرِ خیر کرنے لگے اور مجھ سے کہنے لگے کہ اسے سمجھاؤ کہ آخر کار کب تک ہائی اسکول میں پڑا رہے گا ۔ باصلاحیت لڑکا ہے ۔ کہیں کسی کالج وغیرہ میں پارٹ ٹائم لیکچرر ہی ہوجائے ۔ اس کے لیے تھوڑی بھاگ دوڑ کی ضرورت ہے ۔ اچھے لوگوں کے رابطے میں رہنے کی ضرورت ہے ۔ دوسری اور آخری ملاقات ڈاکٹر خورشید اقبال کے بیٹے ضیا خورشید کے ولیمے میں ہوئی ۔ وہاں بوفے سسٹم تھا ۔ ڈاکٹر شاہد اختر کولہے کے آپریشن کے بعد ابھی ابھی چلنے پھرنے کے لائق ہوئے تھے ۔ محبت میں چلے تو آئے تھے ۔ ان کی پریشانیوں کا خیال کرتے ہوئے کھانا لاکر میں نے انکے ٹیبل پر رکھدیا ۔ ڈاکٹر ناصر بھی ان کے بازو میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ انھوں نے فوراً کہا عظیم اکر تکلیف نہ ہو تو میرے لئے بھی کھانا لا دو کیونکہ پاؤں میں درد ہونے کی وجہ سے مجھے بھی چلنے میں دقت ہورہی ہے ۔ میں نے کہا اس میں تکلیف کی کیا بات ہے ۔ دونوں دیرینہ دوستوں کو کھاتا ہوا چھوڑ کر میں دوسرے مہمانوں کو ایٹنڈ کرنے میں لگ گیا ۔ کھانے کے بعد قیصر شمیم کے ساتھ گروپ فوٹو میں ڈاکٹر ناصر بھی شریک تھے ۔

مختصر یہ کہ ڈاکٹر ناصر علی انصاری بہت ہی متحرک قسم کے انسان تھے ۔ وہ تدریسی خدمات کے ساتھ ساتھ سماجی اور ملی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے ۔ لوگوں سے خندہ پیشانی سے ملتے تھے ۔ میرے خیال سے ان کے جان پہچان والے احباب کی تعداد خاصی ہے ۔ ان کو اس بات کا ادراک تھا کہ حسن اخلاق ہی سب سے بڑی دولت ہے اور یہی ان کی مقبولیت کا راز بھی ہے

خدا بخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں

Previous articleخوش تو ہیں ہم بھی جوانوں کی ترقّی سے مگر……
Next article” آتی ہے ان کی یاد ” میرے مطالعہ کی روشنی میں

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here