درس و تدریس کی راہوں میں [حصّہ سوم] از:صفدر امام قادری

2
133

شعبۂ اردو، کالج آف کامرس، آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ

یہ محض اتفاق رہا کہ میں نے ایک نازک مرحلے میںیہ فیصلہ لیا تھاکہ مقابلہ جاتی امتحانات بالخصوص سول سروس کے امیدواروں کو تربیت دونگا۔1995- 96کا زمانہ تھا ۔ میںپٹنہ کے ایک ایسے علاقے میں رہتا تھا جس کا اردو آبادی سے قریب کا رشتہ نہیںتھا۔کسی طالبِ علم کو میرے گھر پہنچنے میں پانچ چھ کیلو میٹر کی دوری طے کرنی ہوتی ۔اسی دوران ایک طالبِ علم نے کسی دوسرکے ذریعے رابطہ قائم کیا کہ اسے بہار پبلک سروس کمیشن کا تحریری امتحان دینا ہے اور مَیں اردو میں اس کی معاونت کردوں۔ میں نے گھر پر اس بچّے کی تربیت کا سلسلہ شروع کیا۔ ایک اور طالبِ علم بھی شریک ہو گیا۔روزانہ دوگھنٹے انھیں پڑھاتا ، ان کے امتحان کے لیے نوٹس تیار کرتا اور پھر امتحان میں بہتر کارکردگی کے لیے ان کی تربیت کرتا رہابیچ بیچ میں ٹسٹ بھی لیتارہا۔امتحان کا جب نتیجہ نکلا تو دونوں طالبِ علم ڈی۔ ایس ۔ پی کے لیے منتخب ہو گئے تھے۔ایک طالبِ علم تو سکنڈٹاپر بھی ہوااس نتیجے کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیلی اور پھرمیرے گھرپر بچوں کا تانتا لگنا شروع ہوا۔ صبح سویرے دس دس سائکلیں لگی ہوتی تھیں۔بعض طلبا نے ہی مجھ سے کوچنگ انسٹی چیٹ قائم کرنا اور بازار میں آنے کی وکالت کی مگر اسی انداز سے چند گھنٹے پڑھا دینے کا سلسلہ قائم رہا۔اسی زمانے میں یونیورسٹی اساتذہ کی تقریباً ساڑھے چار مہینے کی ہڑتال ہوئی ۔ ہڑتال ختم ہونے کے بعد فوری طور پر سرکار نے یہ فیصلہ کیا کNo work no payکا نفاذ ہو گا یعنی ساڑھے چار مہینے کی تنخواہ صفر ہوگئی۔صبح سویرے اخبار میں تفصیلات آئیں ۔میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ ایسی صورتِ حال میں نئے مالی وسائل قائم کرنے چاہییں ۔کالج گیا اور واپس ہوتے ہوئے کوچنگ کی منڈی پہنچا جہاں پڑھانے کے لیے کرائے پر ایک دفتر اور ایک کلاس روم کی تلاش مکمل ہوئی ۔

ہمارے ایک دوست ہندی مضمون پڑھاتے تھے۔ میں نے ان سے درخواست کی کہ اس کام کو ساتھ ساتھ شروع کریں ۔ اس زمانے میں بہار پبلک سروس کمیشن کے تحریری امتحانات ہونے تھے۔ ہم نے پندرہ دن کے مفت کلاسیز کا اشتہار جاری کیا اورمقرّرہ تاریخ میں اردو پڑھنے کے لیے دس بچّے سامنے آگئے۔ چند دنوں میں یہ تعداد چالیس تک پہنچ گئی۔ ابتدائی طور پر یہ فیصلہ کیا تھا کہ تیس گھنٹے کی پڑھائی میں منتخب سوالوں تک محدود رہوںگا لیکن امتحانات کی تاریخ میں توسیع اور بچوں کی توجہ میں اضافے کے سبب مفت کی تدریس میں بھی انھیں پورا کورس پڑھایا۔یہ سلسلہ کچھ اس طرح بڑھتا گیا کہ صوبۂ بہارسے باہر کے بچے بھی پٹنہ آکر پڑھنے لگے۔ کبھی کبھی باہر کے بچوں کے لیے مختصرمیعادی کورس بھی کرانے پڑتے جس کے نتیجے میں بہار اور بہار سے باہرمرکزی اور صوبائی حکومتوں کے اعلا عہدوں پر صدہا بچے پہنچتے چلے گئے۔

اسی دوران یونیورسٹی گرانٹس کمیشن نے نیٹ امتحان میں کامیابی کو لیاقتی معیار تسلیم کرلیا۔وہ زمانہ تھا جب یو۔جی۔ سی اپنا نصاب طلبا کو ان کے ایڈمٹ کارڈ کے ساتھ ایک ہفتہ پہلے بھیجتی تھی۔ اس کی وجہ سے کامیابی کا تناسب بہت معمولی ہوتا تھا۔ میں نے خود ایم۔اے میں پڑھتے ہوئے اس امتحان میں جونیر ریسرچ فیلوشپ حاصل کی تھی ، اس لیے اپنے دوستوں اور طلبا کے لیے پہلے غیر رسمی، پھر رسمی طور پر تربیت دینے کا سلسلہ شروع کیا۔ ابتدائی طور پر گھر میں، پھر کوچنگ انٹی چیوٹ میں،رانچی اور جمشید پور کے مختلف مراکز اور پٹنہ میں انجمن ترقی اردو میں اس سلسلے سے باضابطہ تربیت دینے کا سلسلہ شروع کیا۔ یو۔ جی۔ سی بھی اپنے امتحان کے نظام میں بار بار تبدیلی کرتی رہی ۔کبھی دس لفظ میںجواب، کبھی تیس لفظ میں ،پچاس سو، دوسو، تین سو اور ہزار الفاظ میں سوالوں کے جواب لکھنے کی باضابطہ تیاری کراتا رہا۔میں نے کوشش کی کہ طالبِ علم ہر پہلو سے آراستہ ہو جائے اور معروضی سوالوں کے ساتھ ساتھ تحریری امتحان میں بھی وہ اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کرسکے ۔کامیاب طلبا کی فہرست پر جو نظر ڈالتا ہوں تو اس بات کا اطمینان رہتا ہے کہ ہماری تربیت سے فائدہ اٹھا کر کامیاب ہونے والے طلبا آج ملک کی متعدد یونی ورسٹیوں میں نظر آتے ہیں۔ہندستان کی بڑی یونی ورسٹیوں میں شمار مرکزی یونی ورسٹیوں میں ہمارے طلبا بڑی تعداد میں تحقیقی کام کر رہے ہیں یا وہاں سے فارغ ہو کر زندگی کے اگلے راستوں میں قدم بڑھا رہے ہیں۔کم ازکم ایک سو ایسے طالبِ علم ہوںگے جو جونیر ریسرچ فیلوشپ سے سرفراز ہوئے اور ڈیڑھ سو سے زیادہ طالبِ علم نیٹ پاس کرنے میں کامیاب ہوئے ۔ علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ، جواہر لال نہرو یونی ورسٹی، دہلی یونی ورسٹی،، مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی، بنارس ہندو یونی ورسٹی، پٹنہ یونی ورسٹی، رانچی یونی ورسٹی اور بہار کی دیگر تمام یونی ورسٹیوں میں مجھ سے باضابطہ طور پر پڑھ کر کامیاب ریسرچ اسکالر کی ایک بڑی جماعت دیکھی جا سکتی ہے۔

اس کے علاوہ کسی بھی ایسے کام جہاں مقابلہ جاتی سطح پر اردو کے سلسلے سے گنجائش ہو، طلبا کو ویسے امتحانات میں تیار کرنے کے لیے میں نے ہمیشہ کوششیں کی ہیں۔ اسکول اور کالج کے اساتذہ کے لیے جن صوبوں میں الگ سے امتحانات ہوتے ہیں ، ان کے لیے کلاس روم میں باضابطہ طور پر ایک ایک پہلو واضح کرنا اور امتحان میں کام آنے کے نوٹس اور ضروری مٹیریل تیار کرنے کا ایک لامتناہی سلسلہ قائم ہوتا چلا گیا میرے طالبِ علموں کی کامیابی کا تناسُب اﷲ کے فضل سے اگر زیادہ ہے تو اس کی ایک واضح وجہ یہ بھی ہے کہ میں پورا نصابِ تعلیم پڑھانا اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ منتخب نصاب کو پڑھا دینا اور طلبا کو ان کے امتحانات میں پریشانی میں ڈالنا معقول بات نہیں۔ میں جس انداز کا امتحان ہو، اس انداز کے تحریری مواد کو فراہم کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ امتحان کے لیے طالبِ علم مشق کریں،اسے عملی جامہ پہناتا ہوں م معروضی سوالوں کے امتحانات میں پچیس اور تیس سٹ سوالات تیار کر کے اپنے طالبِ علموں کو اتنی مشق کراتا ہوں جس سے امتحان میں انھیں کم سے کم پریشانی ہوتی ہے۔ جہاں انٹرویو کی گنجائش ہے ،وہاںدس بیس Mock Testکی منزلوں سے گزار کر انھیں شاہراہِ ترقی پر گامزن کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ انھی اسباب سے اردو سے الگ دوسرے مضامین کے طالبِ علم بھی ہمارے حلقے تک پہنچتے ہیں۔ان سب کو کامیاب دیکھتے ہو ئے اس بات کی خوشی ہوتی ہے کہ اﷲنے مجھے اس لائق بنایا کہ کسی کے کام آسکوں۔
طرح طرح کی ذہنی سطح کے بچّوں کو پڑھانے کا مجھے علمی اعتبار سے بہت فائدہ ہوا۔ سکھانے کے عمل میں بہت ساری نئی چیزیں سیکھیں۔ لسانیاتی مباحث اور قدیم ادب بالخصوص دکنی دور سے مجھے جس خاص انداز کا لگاؤپیدا ہوا، اس کی بنیاد میں پہلی بارطلبا کی ضرورت ہی محرّک کے طَور پر سامنے تھی۔مختلف انداز کے کورس کے سبب میں نے بہت ساری ایسی چیزیں سنجیدگی سے پڑھیں جنھیں بہ صورتِ دیگر میں شاید ہی اپنے مطالعے کا حصّہ بنا سکتا تھا۔سِول سَروس کے طلبا اکثروبیشتر غیر اردو مضامین سے آتے ہیں۔ انھیں پڑھاتے پڑھاتے میری عادت کا یہ حصّہ ہو گیا کہ اردو کے کسی مشکل لفظ کے معنی بتاتے ہوئے سب سے پہلے انگریزی یا ہندی متبادل میری زبان پر چلے آتے ہیں۔یہ اس لیے ہوا ہوگا کہ جنھیں مجھے پڑھانا تھا، وہ انگریزی یا ہندی زبانوں کو زیادہ بہتر طریقے سے جانتے تھے۔ اسی طرح اردو کی ادبی تاریخ کے سلسلے سے ہزاروں تاریخیں مجھے ذہن پر زورڈالے بغیریاد آجاتی ہیں۔ یہ بھی اپنے طالب علموں کی ضرورت کے پیشِ نظر ہوا۔ آپ کہیں رہیں، آپ کے طالب علم موبائل کی سہولت کا استعمال کر کے کسی دقّت طلب مسئلے کی وضاحت چاہتے ہیں۔ ای۔ میل اور واٹس اَپ نے ایسے جُویانِ علم کی تعداد میں بے شک اضافہ کیا ہے ۔ اگر آپ اپنی لائبریری میں نہ ہوں اور کوئی علمی مسئلہ درپیش ہو تو حافظے کے علاوہ اور کوئی سہارا نہیں ہوتا۔ لگاتار مقابلہ جاتی امتحانات کے لیے تربیت دینے کی وجہ سے اکثر میں زبانی جواب دینے میں بفضلِ تعالی کامیاب ہوتا ہوں۔ان طالب علموں کی وجہ سے ہی علمی طور پر ہمیشہ چاق وچوبند اور مستعد رہنے کی لازمیت رہتی ہے۔ غور کرتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ طالب علموں نے مجھے زیادہ ہوش مند اورعلمی اعتبار سے زیادہ بارآور بنانے میں میری مدد ہی نہیں حقیقتاً رہنمائی بھی کی۔
بہار کی یونی ورسٹیوں میں تدریس کے فرائض ادا کر کے لائق طالبِ علموں کو نکالنا اور علی گڑھ، دہلی یا سنٹرل یونی ورسٹی کے شعبوں میں کام کرتے ہوئے نتائج پیش کرنا واضح طور پر دوصورتِ حال کی عکّاسی ہے۔ ملک کے ہر گوشے سے باصلاحیت اور اپنے تعلیمی معاملات میں مستعد بچے مقابلہ جاتی امتحانات دے کر مشہور یونی ورسٹیوں میں پہنچ کر ناموراساتذہ کے سامنے زانوئے ادب تہہ کرتے ہیں اور کامیابی کے علَم لہراتے ہیں۔بلاشبہ ان طلبا میں سب سے بڑی وہی جماعت ہوتی ہے جنھیں صوبائی سطح پر ہم اور ہمارے جیسے اساتذہ ان کی تربیت کرکے قومی سطح پر اپنی صلاحیت کا لوہا منوانے کے لیے آگے بڑھاتے ہیں ۔اصل مشقّت اس بات میں پنہا ںہے کہ علاقائی یونی ورسٹیوں کے اساتذہ کے پاس اکثر بچی کھچی طلبا کی وہ جماعت ہوتی ہے جسے اپنے کیریر کے لیے کوئی خاص فکر مندی نہیں ،اونچی اڑانوں کے لیے اس کے پر بھی مضبوط نہیں، وہ کلرک یا اسکول کا استاد بن جائے، اس میں بھی ہر طرح سے اطمینان ہی اطمینان ہے۔ایسی حالت میں اگر ہمارے جیسے اساتذہ ان بچوں پر وقت صرف کر کے انھیں قومی سطح کے امتحانوں میں کامیابی کے دروازے تک پہنچا دیتے ہیں اور ملک کی بڑی یونی ورسٹیوں کے ہم پلّہ نتیجہ پیش کرتے ہیں تو اسے عام صورتِ حال نہیں کہنا چاہیے۔ اس کام میں علاقائی سطح پر اردوتدریس کی شمع روشن کرنے والے استاد واقعتاقوم کی دعا کے مستحق ہیں۔(یہ بھی ملاحظہ کریں!درس و تدریس کی راہوں میں [حصّہ دوم] از:صفدر امام قادری)

Previous articleاپنوں کی غربت و فرقت کا قصہ سناتی ’عمارت‘ از: پروفیسر صالحہ رشید
Next articleمنزل کی جستجو میں منزل پہ ہی نظر ہے از: حامد حسین

2 COMMENTS

  1. بہت انسپائرنگ تحریر ھے۔ اُردو کے طلبہ کو مقابلہ جاتی امتحانات کے لئے آپ نے کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کھولا۔ چار مہینے ہڑتال کے بعد سرکار کے نو ورک نو پے کے اعلان کے بعد آپ نے نئے سرے سے عزم کیا اور کوچنگ شروع کی۔ اس سے آپ مالی طور پر ذرا پر سکون حالت میں چلے آئے۔
    یہ تیسرا حصہ ھے اور نئے لوگوں کے لئے بہت انسپائرنگ تحریر ھے۔ میری بہت بہت مبارک باد قبول فرمائیں ❤️❤️❤️

  2. علاقائی یونی ورسٹیوں کے اساتذہ کے پاس اکثر بچی کھچی طلبا کی وہ جماعت ہوتی ہے جسے اپنے کیریر کے لیے کوئی خاص فکر مندی نہیں ،اونچی اڑانوں کے لیے اس کے پر بھی مضبوط نہیں،

    یہ بات وہی شخص کہہ سکتا ہے جس نے سالہا سال تدریس کے عمل میں عرق ریزی کی ہو۔
    بہت عمدہ تحریر۔

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here