درس و تدریس کی راہوں میں [حصّہ اوّل]از: صفدر امام قادری

1
338

شعبۂ اردو، کالج آف کامرس، آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ

میرے لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ بچپن ہی سے استاد بننے کا خواہاں تھا یانہیں؟ یہ بھی سچائی ہے کہ جس معاشرے میں مَیں پیدا ہوا، وہاں اس کی کوئی مستحکم روایت شاید ہی موجود تھی۔ دادا جان درس و تدریس سے وابستہ تھے مگر جب میں نے انھیں دیکھا تو وہ زمانہ نکل چکا تھا۔ والد وکالت کے پیشے سے منسلک تھے اور شعر و ادب، سماجی اور مذہبی کاموں میں شرکت، ان کی اضافی مصروفیت تھی۔ اسکول جانے سے پہلے دوست محمد نام کے ایک استاد ہم بھائیوں کو گھر پر پڑھاتے تھے مگر ایسا یاد نہیں آتا کہ ان کی شخصیت سے تاثر لے کر کبھی استاد بننے کی خواہش پیدا ہوئی ہو۔ محلّے کے اسکول کی استانیاں بھی کبھی باعثِ ترغیب ہوئی ہوں ، یہ یاد نہیں آتا۔ آمنہ اردو ہائی اسکول، بتیا میں دوسری جماعت کے درمیانی سیشن میں داخل ہوا۔ تیسری جماعت پاس کرتے کرتے اسکول نے ایک درجہ جمپ کرنے کی سہولت فراہم کردی جس کے سبب چوتھی جماعت کا قصّہ میری زندگی کا حصّہ نہیں بنا اور براہِ راست تیسری جماعت سے پانچویں میں پہنچ گیا۔

یاد آتا ہے کہ ایک بار ہیڈ ماسٹر سید ہاشم رضا رائونڈ لیتے ہوئے ہماری جماعت تک پہنچے۔ اس وقت دوسرے درجے میں شور ہورہا تھا۔ انھیں معلوم تھا کہ ایک گھنٹہ خالی ہے اور استاد موجود نہیں۔ انھوںنے پتا کیا کہ علم الحساب کی پڑھائی ہونی ہے۔ ہماری جماعت کے سامنے وہ تشریف لائے اور مجھ سے انھوںنے پوچھا کہ کیا دوسری جماعت کے بچوں کو حساب پڑھا سکتے ہو؟ میں نے اعتماد کے ساتھ ’ہاں‘ کہا اور ہیڈ ماسٹر مجھے لے کر دوسرے درجے میں پہنچے۔ میری لمبائی ایسی تھی نہیں کہ بورڈ کے اوپری حصّے پر لکھ سکوں، اس لیے ایک بینچ کا انتظام کیا گیااور اس پر چڑھ کر میں نے دوسری جماعت کے بچوں کو حساب پڑھایا۔ اسی دن میں نے طلبہ کی حاضری بھی لی تھی اور ایک غیر حاضر طالب علم کے لیے جرمانہ بھی لگایا تھا۔

میری تدریسی زندگی کے آغاز کایہی خاص لمحہ تھا۔ مجھے اب بھی یاد ہے کہ کلاس میں جب میں حساب کی مشقیں بنارہا تھا تو ہمارے ہم جماعت اور کچھ سینیر طالب علم اور چند اساتذہ بھی سامنے سے گزر کر اس طلسم خانۂ حیرت کا نظارہ کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ ایک گھنٹی پڑھانے کے بعد اس فخر کے ساتھ اپنے درجے میں واپس ہوا کہ پہلے سے بڑھ کر اور کچھ بہتر ہوکر آیا ہوں۔ ابتدائی زمانے میںاسکول اور گھر کے دورانیے میں نئی تعلیمی آہٹوں کو سننے اور سنانے کے متعدد مواقع حاصل ہوئے۔ جناب اصغر علی جغرافیہ پڑھانے کے لیے مختصر میعاد کے لیے ہمارے اسکول میں بہ حیثیتِ استاد تشریف لائے۔ اس زمانے میں ان کے ایم۔اے۔ ہونے کا رعب پورے اسکول پر غالب تھا۔ انھیں جغرافیہ اور سیاسیات کے درس دینے تھے۔ جغرافیہ میں انھوںنے جوار بھاٹا سمجھاتے ہوئے کچھ اتنی بار ہمیں پانی کے اٹھنے اور گرنے کی مشقیں کرائیں جس سے طلبہ نے ان کا نام ہی ’جوار بھاٹا‘ رکھ دیا۔ ایک روز صدارتی اور پارلیمانی جمہوریت کے تقابل کے لیے انھوںنے کلاس روم میں دو حلقے بنادیے۔ ہماری ٹیم جیت گئی اور ہماری منطقیں استاد کو پسند آگئیں۔ انھوںنے شاباشی دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ آپ کو کسی بھی سبجکٹ میں کوئی دشواری ہوتو بلا جھجک مجھ سے دریافت کرسکتے ہیں۔ اس کے لیے کسی جگہ کی بھی تخصیص نہیں۔ آپ بازار یا کھیل کے میدان میں بھی مجھے دیکھ لیں تو کچھ پوچھ سکتے ہیں۔ کمال یہ کہ میں بھی بازار میں انھیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر اپنے درسی سوالات گوش گزار کرتا اور وہ اسی بھیڑ میں ذرا کنارے ہوکر میرے سوالوں کے جواب پیش کرتے۔ ماسٹر اصغر علی کی یہ ادا اور اچھے شاگردوں کے سیکھنے کے مواقع بڑھا کر انعام دینے کا طَور میری تعلیمی زندگی میں مدرس کی طرف بہ نظرِ توجہ دیکھنے کی غالباً پہلی صورت ہوگی۔

ساتویں جماعت کے اواخر کا دور تھا جب ہمارے گھر میں باضابطہ طور پر رہ کر میرے چھوٹے بھائی کی تعلیمی ضرورتوں کے پیشِ نظر مولانا علی الیاس صاحب کی آمد ہوئی جو شہر کے کسی پرائمری اسکول میں پڑھانے کے لیے مقرر ہوئے تھے اور انھیں آزادانہ طور پر رہنے میں بعض دشواریاں تھیں۔ ان کی خوش خطی نے کچھ ایسا جادو کیا کہ خالی وقتوں میں ہم ان کے پاس اٹھنے بیٹھنے لگے۔ اپنی کاپی یا ڈائری پر ان سے اپنا نام لکھانے سے یہ سلسلہ شروع ہوا۔ وہ عالمِ دین بھی تھے۔ تعلیمی اور مذہبی معاملات میں ان سے کبھی کبھی گفتگو کرنے کا موقع ہاتھ آجاتا۔ آٹھویں جماعت میں پہنچتے ہی ہمیں معلوم ہوا کہ تاریخِ اسلام کوبھی پڑھنے کا موقع ملے گا۔ میں نے مولانا الیاس سے تاریخِ اسلام کے کچھ اہم مسئلوں کے نوٹس لکھائے جس کی وجہ سے امتحان میں کچھ ایسی کامیابی حاصل ہوئی کہ ہیڈ ماسٹر نے آکر کلاس روم میں مجھے میرے امتحان کی کاپی دی اور حکم کیا کہ کھڑے ہوکر پڑھ کر سنائو۔ میرے پڑھ لینے کے بعد تمام طلبا سے انھوںنے کہا کہ سوال کا جواب اس طرح سے لکھتے ہیں۔ ظاہر ہے یہ داد حقیقتاً مولانا الیاس صاحب کے لیے ہی تھی۔
مولانا الیاس کبھی کبھی گنگناتے ہوئے شعر کہتے اور لکھتے نظر آتے تھے۔ ایک مصرعے کو لکھ کر کئی کئی بار کاٹ چھانٹ کرتے ہوئے دیکھتا تھا ۔ یہ کاٹ چھانٹ اور کاغذ گندا کرنا مجھے کبھی اچھا نہیں لگتا تھا۔ میرے والد کی وجہ سے گھر پہ ادبی نشستوں اور ادبا و شعرا کے آنے جانے کا سلسلہ قائم رہتا۔ مولانا الیاس ان نشستوں میں کبھی شاعر کی حیثیت سے شریک نہ ہوئے مگر نشست کے بعد بحث و تبصرے میں ہم ساتھ ہوتے اور شعرا ے کرام کے کلام میں خامیاں ڈھونڈنے میں ہم استاد شاگرد بہت دور تک بڑھتے جاتے تھے۔ اسی دوران جو کتب و رسائل گھر میں نظر آتے، مولانا ان کی زبان کی خامیوں پر توجہ دلاتے اور کہیں نہ کہیں یہ احساس پیدا کرنے میں کامیاب ہوتے کہ مطبوعہ تحریروں میں بھی خامیاں ممکن ہیں۔ غالباًمیرے تنقیدی ذہن کی تعمیر و تشکیل میں مولانا الیاس کی تربیت کا یہ انداز بنیاد کا پتھر ثابت ہوا۔ اس علمی شہ زوری میں مَیں اپنے والد کے کلام میں اصلاح اور اسکول کی ڈائری کی زبان و بیان کی غلطیاں ظاہر کرنے کا قصور وار بھی بنا۔ ہیڈ ماسٹر کی بیتیں پڑیں کیوںکہ میں نے اپنی ڈائری کو سرخ اور سبز روشنائیوں سے چھلنی کردیا تھا مگر میرے لیے سب سے بڑی خوشی کا لمحہ تب آیا جب اگلے برس اسکول کی ڈائری میں زبان و بیان کی وہ غلطیاں درست کرلی گئی تھیں۔

اسکول میں ہندی کے استاد نظام الدین انصاری مقرر ہوئے۔ اسکول جانے کے لیے ایک کیلو میٹر راستہ ہم دونوں کے لیے مشترک تھا۔ سفید کرتے پاجامے میں وہ آگے ہوتے اور ان کے پیچھے پیچھے ہم اسکول تک پہنچتے۔ کبھی کبھی دوچار جملے کی گفتگو ہوجاتی ورنہ ہم خاموش اور استاد کے خوف کے سائے میں گرفتار اسکول پہنچتے تھے۔نظام الدین انصاری جب بلیک بورڈ پر ہندی لکھتے تو آنکھیں پھٹی رہ جاتیں۔ اردو میڈیم اسکول کا ہندی استاد ایسا زبردست، ان کے بولنے، لکھنے اور چلنے ہر انداز کی نقل شروع ہوگئی۔ تلفظ کی ایک بھی غلطی نہ ہو، چھوٹی بڑی آوازوں میں باضابطہ امتیاز پیدا ہو، اس کے لیے ان کی کوششیں حیرت انگیز تھیں۔ قواعد اس قدر جی لگا کر پڑھاتے کہ ہمیں اب بھی جو یاد ہے، وہ اسی زمانے کی عطا ہے۔ تدریس میں گفتگو کے دوران زبان کا ایک ایسا معیار متعین رکھتے جسے اس زمانے میں ہم صحائف کی زبان ہی سمجھ سکتے تھے۔
اللہ کی یہ خاص مہربانی ہوئی کہ گھر پر جو ادبی فضا قائم تھی، اسے اردو کے استاد مولانا علی الیاس عاجز اور اسکول میں ہندی کے استاد نظام الدین انصاری نے کچھ اس طرح سے صیقل کیا کہ یہ دونوں زبانیں اپنے آپ ہماری زندگی کا حصّہ ہوگئیں۔ ان دونوں اساتذہ کی تدریس میں کچھ عجب گہرائی تھی۔ علمی معاملات میں وسیع النظری کے معمولات سے سیکھنے کی ایسی کار آمد فضا قائم ہوئی جس کے سبب نہ کبھی کالج اور یونی ورسٹی میں ان دونوں زبانوں میں درس و تدریس کے کام میں کسی طرح کی رکاوٹ پیدا ہوئی اور نہ آج تک اس فیضانِ علمی سے الگ ہونے کا کبھی احساس ہوتا ہے۔ پوری زندگی پر نظر دوڑاتا ہوں تو ان اساتذہ سے بڑھ کر کسی دوسرے استاد کو پختہ کام نہیں پایا چہ جاے کہ اس کا تعلق یونی ورستی سے ہی کیوں نہ ہو؟

اسکول کے زمانے میں آٹھویں جماعت سے ہی سائنس کی تعلیم الگ ہوجاتی تھی اور اسی لیے ہم نے سائنس کے ساتھ علم الحساب مضمون منتخب کر رکھا تھا۔ عقیل احمد اور محمد رفیع نام کے دو اساتذہ نے حساب کے ہر سوال کو حل کرنے اور کرانے میں اپنی پوری قوت لگادی۔ حساب میں سو میں سَو نمبر آئیں، اس کی توقع پیدا کی اور جب مجھے امتحان میں صد فی صد نمبر آئے تو ان اساتذہ نے دعا دی۔ کلاس روم میں وہ خود چائے پیتے تھے جسے اس زمانے میں ذرا الگ سے دیکھا جاتا تھا۔۔ بہ طورِ انعام اس دن میرے لیے بھی ایک پیالی چائے منگائی گئی۔ انگریزی کے استاد جمیل احمد پابندیِ وقت کی ایسی مثال تھے جیسا شاید ہی کوئی دوسرا ہوسکتا ہو۔ جغرافیہ کے استاد حنیف اختر شعر بھی کہتے تھے اور کبھی کبھی کسی ٹیچر کے نہیں ہونے پر فارسی پڑھانے کے لیے آجاتے تھے۔ ایک روز آٹھویں جماعت میںکچھ تُک بندی کرکے انھیں ڈرتے ڈرتے میںنے دکھایا تو انھوںنے ایک لفظ کو بدلتے ہوئے کہا کہ یہاں تم اپنا تخلص ڈال دو۔ تب سمجھ میں آیا کہ شاعری کے لیے تخلص بھی ضروری ہے اور کیوں شعرا کے اکثر دوسرے نام ہوتے ہیں۔

اسکول انتظامیہ سے چند معاملات میں اختلافات ہوئے اس وقت ہم گیارہویں جماعت میں آچکے تھے۔ تین دنوں کی ہڑتال کرادی۔ اسکول کے ہیڈ ماسٹر اور انتظامیہ کے دوسرے افراد ہمیں اور ہمارے چند دوستوں کو اسکول سے نکالنے کے دَر پَے ہوئے۔ اسکول کی سطح پر انتظامیہ کی جو میٹنگیں ہوتیں، شام میں ان کی رپورٹ اور ان کی کاٹ کے لیے نظام الدین انصاری کے مشورے ہمارے ساتھ ہوتے۔ انھیں یہ بات معلوم تھی کہ طلبا کا احتجاج درست ہے۔ کالج میں انٹر میڈیٹ کی سطح پر سید مظفر اقبال، لطف الرحمان، ناز قادری اور ایک گھنٹی کے لیے رئیس انوررحمان نے ہمیں اردو کی کتابیں پڑھائیں۔ سائنس کے طالب علم ہونے کی وجہ سے اردو کے لیے ہفتے میں محض ایک کلاس مخصوص تھی اور ہم اسی سے فیضیاب ہوتے رہے۔ بزرگ دوستوں میں اس زمانے میں قمر الہدیٰ فریدی اور خورشید اکبر دوسرے مضامین پڑھتے تھے اور ہم مل جُل کر اپنی ادبی زندگی کی ابتدائی اینٹیں درست کررہے تھے۔ بی۔اے۔ کے زمانے میں پروفیسر راحت حسین بزمی اور سید شبیر حسن ہمارے اساتذہ میں شامل تھے۔ راحت حسین صاحب ادبی پروگراموں کی نظامت کرتے تھے اور ان کے بولنے کا انداز بے حد دل پذیر تھا، اسی نے ہمیں متاثر کیا۔ آوارگیِ شوق کی وہ ابتدا تھی، اس لیے واقعتا بی۔اے۔ میں اردو کی ایک کلاس نہیں کی۔ مختلف مضامین کے اساتذہ اور ادبا وشعرا کی محفلوں میں بیٹھ کر کچھ سیکھنے کی کوشش ہو رہی تھی۔ اپنے مضمون سے الگ کبھی سیاسیات، کبھی فلسفہ اور کبھی سنسکرت کے درجوں کی خاک چھانتا۔ شاعری، افسانہ نگاری اور تنقید نگاری ذرا آگے پیچھے ایک ساتھ شروع ہوچکی تھی، ایسے میں درس اور خارج از درس کا کوئی فرق ہی نہیں تھا۔ شہر کے تمام ادبا، شعرا اور ہر مضمون کے استاد سے جرح کرنا، کالج، گھر ، بازار اور ان کی رہائش سب جگہ علمی دستکیں دینے کی کوشش کرنا؛ یہی ہمارا مشغلہ تھا۔

بی۔اے۔ آنرس میں ٹاپ کرنے کے بعد بہار یونی ورسٹی، مظفّرپور کے شعبۂ اردو میں جب پہنچا تو اچھے طلبا اور چند اساتذہ کا حلقہ میسر ہوا۔ مختلف مضامین کے طلبا اور اساتذہ سے بھی قربت پیدا ہوئی۔ انگریزی کے ایک استاد امیشور پرساد کی صحبتوں میں حاضر رہ کر متن کو تنقید کے دوران کس طرح آزماتے ہیں، اس کے بنیادی اسباق سیکھے۔ پروفیسر ناز قادری نے اردونثر کی بعض معتبر کتابیں پڑھائیں۔ ’’باغ و بہار‘‘، ’فسانۂ عجائب‘‘، ’’یادگارِ غالب‘‘، ’’حیاتِ جاوید‘‘، ’’امرائو جان ادا‘‘ اور ’’انارکلی‘‘؛ جس تفصیل سے ان کتابوں کا سیاق انھوںنے روشن کیا، وہ اب بھی میرے لیے مثالی تدریس کا نمونہ معلوم ہوتا ہے۔ ان کے طریقۂ تدریس میں یہ بات خاص تھی کہ وہ متعلقہ تمام مآخذ سے باضابطہ استفادہ کرتے اور کلاس روم میں تحقیق و تنقید کے توازن کے ساتھ اپنے نتائج پیش کرتے۔ پروفیسر قمر اعظم ہاشمی نے دو برس کی تدریس میں کبھی ایک منٹ دیر سے آکر اپنا درجہ نہیں لیا۔ وقت کی حیرت انگیز پابندی کی وجہ سے وہ مثالی حیثیت رکھتے ہیں جب کہ یہ بات ان کی تدریس سے متعلق نہیں کہی جاسکتی۔ یونی ورسٹی میں ہمارے دوستوں میں منظر اعجاز بہت نمایاں تھے اور بارہ تیرہ برس کی پڑھائی چھوڑ کر وہ ہمارے ہم جماعت بنے تھے۔ احمد بدر بھی ہمارے ہونہار ہم جماعت تھے۔ انگریزی اور ہندی میں ہمارے کئی دوست تھے جن کے بیچ یونی ورسٹی کی زندگی چلتی رہی مگر اسکول کے زمانے کے دو اساتذہ علی الیاس عاجز اور نظام الدین انصاری؛ یونی ورسٹی کی تدریس کے دوران ناز قادری اور اُمیشور پرساد جیسے ماہرین کا سوچتے ہوئے سر فخر سے اونچا ہوجاتا ہے جنھوںنے ہماری تعلیمی بنیادیں کچھ اس طرح استوار کیں جن پر میں کچھ نہ کچھ آگے ہی بڑھتا گیا۔
بی۔اے۔ کے دور میں دوستوں کے ساتھ مل کر ہندی کا ایک سا ئیکلو اسٹائل رسالہ ’پراروپ‘ شروع کیا۔ اپنے ہاتھ سے اسے لکھتا تھا۔مگر اس کے لکھنے والوں کا دائرۂ کار محدود نہیں تھا۔ اس زمانے میں ہری ونش رائے بچن، خواجہ احمد عباس، گری راج کیشو اور اٹل بہاری واجپئی کے خطوط یا ان کی تخلیقات اس رسالے میں شایع ہوتی تھیں۔ کم صفحات میں زیادہ سے زیادہ چیزیں شامل کرنے کے لیے املا کے سلسلے سے کچھ تصرّفات روا رکھیں۔ اعتراضات ہونے لگے تو ہندی کے ایک استاد پروفیسر شیو چند امر سے مشورہ کیا۔ انھوںنے ہمارے لیے قواعد کی باریک دلیلیں وضع کیں اور کہا کہ اس سے آگے اگر کوئی بحث کرے تو میرے پاس بھیج دو یا انھیں میرا فون نمبر دے دو۔ بی۔اے۔ کے امتحانات کے دور میں شعر کی تقطیع کا معاملہ درپیش تھا۔ میں نے کچّے پکّے شعر کہنا شروع کردیے تھے اور ایم۔ایم۔وفا سے اصلاح لیتا تھا۔ انھی سے گزارش کی کہ اشعار کی تقطیع کرنا سکھا دیجیے۔ انھوںنے میری بیاض مانگی جس میں ابھی پانچ دس نظمیں اور اسی قدر غزلیں ہوئی تھیں۔ ایک صفحے پر میرے ہی ایک شعر کی تقطیع کرنے لگے۔ اس کے بعد میرے والد کے ایک شعر کی تقطیع کی اور اپنے ایک شعر کی تقطیع کی مجھ سے مشق کرائی۔ آدھے گھنٹے میں مجھے ساکن اور متحرک آوازوں کو سمجھنے کے لیے تیار کردیا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جن سے مجھے کسبِ فیض کے مواقع ملے، وہ اپنے فن میںمہارت تو رکھتے ہی تھے لیکن سیکھنے سکھانے کا اتنا سادہ اسلوب ان سب نے قائم کررکھا تھاجس سے یہ سمجھنا مشکل نہیںتھا کہ اہلِ علم چلتے چلاتے کس طرح اپنا قیمتی ہنر تقسیم کرتے جاتے ہیں۔(یہ بھی ملاحظہ فرمائیں!ظفرکمالی کی شانِ تحقیق [آخری قسط]از: صفدر امام قادری)
Safdar Imam Quadri
Department of Urdu,
College of Commerce, Arts & Science, Patna: 800020, Bihar India
Email: safdarimamquadri@gmail.com
Mob: +91 -9430466321

Previous articleلاریب مذھبی برادری کے لیے یہ ناقابل تلافی خسارہ ہے از: عبدالمالک بلندشہری
Next articleانشائیہ ”موڈ” از : جہانگیر انس (سیوان)

1 COMMENT

  1. درس کا حصہ تو بڑی تفصیل سے دیکھتے کا موقع ملا۔مگر تدریس کا محض ایک گھنٹا ہی نظروں سے گزرا۔ لیکن یہ تو کھلا ہی نہیں کہ تدریس کے پیسے میں داخل ہونے کی تحریک کیسے ملی؟شاید آئند قسط میں یہ بات آ جائے۔ انتظار رہے گا۔

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here