درس و تدریس کی راہوں میں [آخری قسط] از: صفدر امام قادری

0
85

شعبۂ اردو، کالج آف کامرس، آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ

افسروں یا عام سماج کے ایک طبقے کا مان لیں تو یونی ورسٹی اساتذہ کی جماعت کے بارے میں یہ عام رائے ہے کہ یہ طبقہ کم کام کرتا ہے اور طبیعت سے کاہل اور سست ہے۔ اس بات میں پیشہ وارانہ رقابت تو ہے ہی لیکن کچھ حقیقت بھی ہے۔ جب اپنی زبان کے اساتذہ کے کاموں کا معائنہ کرتا ہوں تو ایسا لگتا ہے کہ ہماری جماعت میں بہت تھوڑے لوگ ایسے ہیں جو چوبیس گھنٹے استاد کی زندگی جیتے ہیں ۔ ہمارے پیشے کو اس لیے بھی تفوّق حاصل تھا کہ ہم ہر وقت اپنے فرض کی ادائیگی میں لگے ہوتے تھے۔ پڑھنا ،لکھنا اور پڑھانا ۔کل وقتی مشاغل تھے ۔ ہم ملازمت نہیں کرتے تھے اور بینکر یا کلرک کی طرح سے طے شدہ گھنٹوں کے بعد اپنے فرائض سے سَو فی صد الگ ہو کر نہیں جیتے تھے۔ ہم میں ہر روز خود کو تازہ رکھنے اور طالبِ علم کو نئی سے نئی معلومات بہم پہنچانے کا ذوق ہوتا تھا۔ اساتذہ تنخواہوں سے نہیں اپنی تعلیمی سر گرمیوں اور نسلِ نَو کی بہترین تربیت کی وجہ سے قابلِ احترام سمجھے جاتے تھے۔مگر اب اس پیشے میں ایک بڑا طبقہ تنخواہوں میں اضافے کی شرح اور مہنگائی بھتّے کے اعدادوشمار جمع کرنے کے کاموں میں منہمک دکھائی دیتا ہے۔اپنی ترقی میں تو مستعدی بہت ہے، مگر آپ جس مضمون کو پڑھانے کے لیے یونی ورسٹی تک پہنچے تھے، اس میں آپ نے کون سے کارہائے نمایاں انجام دیے، اس پر غور کرنے والے خال خال نظر آ تے ہیں۔ انتظامی کاموں یا سیاسی ، سماجی مصروفیات میں اب اساتذہ کا جی زیادہ لگتا ہے جس کے نتیجے میں ملک کے طول وعرض میں فرض شناس اساتذہ کی تعدادواقعی سَو پچاس بھی مشکل سے ملے گی اور ایسے اساتذہ جو اپنے طلبا کو صحیح تعلیم دے کر تراش خراش کر کے اسے علمی راستے کا سچا راہی بنا دیں ،وہ ایک ہاتھ کی انگلیوں پر بھی پورے طور پر گن لیے جائیں تو حیرت نہیں ہونی چاہیے۔

ہماری یونی ورسٹیوں میں اب شعبۂ اردو اساتذہ کی ترقی کے کارخانے کے طَور پر نظر آتے ہیں۔ طالبِ علم کی ترقی کے لیے کوئی جان نہیں لگاتا ۔حقیقت یہ ہے کہ اساتذہ کو اپنے طالبِ علم کی تعلیمی ترقی کے مقابلے اپنی تنخواہ کے علاوہ روزانہ کی آمدنی میں اضافہ اور محفلوں میں اپنے علمی رعب کا مظاہرہ کرناہی اوّلیات میں شامل ہے۔اردو کی پوری تدریس استاد مرکوذ ہو گئی ہے جسے صارفیت نے مزید مستحکم کیا ہے۔ ہر یونی واسٹی کے ریسرچ اسکالر کے دل کی پوچھیے کہ ان کے نگراںان کے تحقیقی کام کے سلسلے سے ایک ہفتے میں کتنا وقت صرف کرتے ہیں ۔ بعض معاملات میں ہفتے کی جگہ مہینہ اور سال رکھ کر بھی دیکھ لیجیے، جو جوابات آئیں گے، وہ طالبِ علم کی ناامیدی اور غم وغصّے سے بھرے ہونگے۔ اسی لیے کبھی کبھی اس بات کا افسوس ہوتا ہے کہ جس برادری کامیں حصّہ بنا، اب وہ صرف ڈھانچہ ہے اور اس کی روح سَلب ہوگئی ۔درس و تدریس سے وابستگی کے سبب اپنے طلبا کے لیے اچھا خاصا وقت دینے کے باوجود اپنے لکھنے پڑھنے کے کاموں کے لیے وقت نکال پانے میں مَیں بفضلِ خدا کامیاب رہتا ہوں۔مجھے اپنے ایسے دوست کبھی اچھے نہیں لگتے جنھوں نے تین دہائیوں میں ایک دو کتابیں لکھیں اور اپنی شہرت یا منصب سے مطمئن دکھائی دیتے ہیں ۔ ہمارا پیشہ ایسا ہے کہ ہمیں روز مٹی کھودنی ہے۔ میں اپنے طلبا سے اکثر اس بات کو بطورِ تازیانہ پیش کرتا ہوں کہ اپنے کام کے گھنٹے ہم سے زیادہ کر کے دکھاؤ۔ اکثر کسی مقابلہ جاتی امتحان کا جب رزلٹ آتا ہے تو ۹۹ فی صدی میں ہی انھیں اس کی اطلاع دیتا ہوں ۔یہ بھی کھلا چیلنج ہوتا ہے کہ ہم سے پہلے یہ کام کرکے دکھاؤ۔ بات صرف اتنی ہے کہ تدریس کا پیشہ ہمیشہ سرگرمی اور ایک خاص معیار پر قائم رہنے کے لیے ہمیں متوجّہ کرتا ہے۔ اگر ہم ایک طالبِ علم سے زیادہ پڑھتے نہیں، اپنے مطالعے کے نتائج تحریری طَور پر عوام کے سامنے نہیں پہنچاتے توطالبِ علم کے لیے مثالی کردار کس طرح بن سکتے ہیں؟دوسرں کے کیے کاموں کو کلاس روم میں اپنی طرف سے پیش کرنا یا تیس برس پُرانے نوٹس کو لے کر طلبہ کوباسی تھالی پَروسنا حالانکہ عام بات ہے مگر بہ فضلِ خدا اس سے میں صد فی صد دور رہا۔
طالبِ علمی کے زمانے سے ہی میرا صحافت سے رشتہ رہاجس کی وجہ سے مرَتّب طور پر اپنے نتائج فوراً ہی پیش کر دینے کی ایک عادت ہوگئی۔ اس سے لکھنے کی رفتار ہمیشہ قائم رہی۔ اپنے طلبہ اور ریسرچ اسکالرس میں ایسے بچّے مجھے بڑی تعداد میں ملے جنھیں میں نے اپنے مضامین بول کر لکھا ئے۔ اپنی متعدد کتابوں میں مَیں نے جب ان کا شکریہ ادا کیا اور انکی فہرست پیش کی تو اس بات کی خوشی ہوئی کہ طلبہ میں ایسے بہت سارے ہونہار ہیں جن کے تعاوُّن سے میری رفتارِ قلم میں ہزار مصروفیات کے باوجود خوب خوب اضافہ ہوا۔ مجھے طلبہ کی ایسی جماعت بھی ملی جنھیں یہ یاد رہتا ہے کہ فلاں موضوع پر مجھے مضمون لکھنا تھا اور میں اب تک یہ کام نہیں کر سکا ہوں۔ وہ صرف یاد دہانی پر قانع نہیں ہوتے بلکہ کاغذ لے کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہمیں لکھا ئیے۔ اب لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر سے سیدھے ٹائپ کرنے والے شاگرد بھی میدان میں ہیں ۔ ان کی گزارش، زور زبردستی اور بال ہٹ اگر نہ ہو تو لگاتار لکھتے رہنے کا میرا کام شاید ہی پورا ہوپائے۔ خدا انھیں اس کے لیے اجر عطا فرمائے۔میں نے فلیٹ خریدنے کے لیے جب تلاش وجستجو کی تھی اس وقت اس بات کا خیال رکھا کہ خدابخش لائبریری زیادہ دور نہ ہو۔ اﷲکی مہربانی سے اسی سڑک پر چند قدموں کے فاصلے پر رہائش کا انتظام ہوگیا۔ آج اس کا مجھے یہ فائدہ ملتا ہے کہ آدھے گھنٹے کا وقت بھی میسّر آیا تو کسی ایک مأخذ کی تلاش کر لیتا ہوں ۔ کسی کتاب کے لیے طالبِ علم کو بھیج دیا یا کالج آتے جاتے محدود وقت میں بھی وہاں سے استفادہ کرنے کا سلسلہ قائم ہو جاتا ہے۔

شہرِ عظیم آباد میں رہتے ہو ئے اب تین دہائیاں گزر چکی ہیں۔ اگر مٹھی بھر دوست اور سیکڑوں کی تعداد میں طالبِ علم ساتھ نہ ہوں تو یہ شہراجنبی ہی معلوم ہوتاہے ۔ مقامی اور ادبی سیاست میں حاشیے پہ رہنا بار بارلطف دیتا ہے ۔ کوئی سے می نار منعقد ہو، معلوم ہوا آپ کا نام خارج ہوگیالیکن یہ بات مزید دلچسبی کا سامان فراہم کرتی ہے کہ اسی سے می نار کے مدعوئین یعنی مقالہ نگار کبھی مواد طلب کرنے، کبھی اصلاح کرانے اور کبھی باضابطہ طَور پر لکھوالینے کے لیے آدھمکتے ہیں ۔ایسے ادبی انعقادات بھی ہوتے ہیں جن میں فہرست سازی کے مرحلے میں ہمارا نام کٹ گیا مگر خوشی اس بات کی ہوتی ہے کہ وہاں ہمارے تین چار شاگرد مقالہ خواں کے طَور پر موجود ہیں۔اپنی تنقید نگاری سے تو ایک عالَم کو میں نے ناراض کر ہی رکھا ہے۔ سے می ناروں میں بھی سخت بات کہنے سے دریغ نہ کرنے کا اندازاکثرناپسندیدہ قرار دیا جاتا ہے مگراس بات کا ایک ذرّہ برابر افسوس نہیں کیونکہ اپنی تنقید ہو یا گفتگو ،اسے پیش کرتے ہوئے میں نے ہمیشہ ایمان کا ساتھ دیا اورہوس کاری سے خود کو الگ رکھنے کی کوشش کی ۔
کالج اور یونی ورسٹیوں میں جس طرح شعبہ ہائے اردو اپنا کام کررہے ہیں یا خاص طور پر بہار کی مختلف یونی ورسٹیوں میں جس معیار کی تعلیم دی جارہی ہے، خدا کے فضل سے میں نہ صرف بے اطمینانی میں مبتلا ہوا بلکہ علاج کے راستے پر بھی تھوڑا بہت آگے بڑھا۔ بی۔اے۔ اور ایم۔اے۔ کی ڈگری کے ساتھ طلبہ میں ایک مقابلہ جاتی رجحان کا پیدا کرنا اور قومی سطح کے امتحانات میں اپنی صلاحیت کے اعتبار سے مقابلہ آرا ہونے کے لیے میں نے اپنے طلبا کو ہمیشہ تیار کرنے کی کوشش کی۔ نتائج ہمیشہ بڑھ کر ملے۔ آج ایسے ہزاروں معصوم چہروں کو روزگار کی طمانیت کے ساتھ تھوڑا بہت خوش و خرم دیکھتا ہوں تو اطمینان ہوتا ہے کہ ایک مدرس کی حیثیت سے میں نے کچھ نہ کچھ مناسب اقدام ضرو اٹھائے ہوںگے۔

ایک دور میں مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی کا اسٹڈی سنٹر ہمارے کالج میں قائم ہوا۔ ایم۔اے۔ کے فاصلاتی نظام کے بچوں کو میں نے یو۔جی۔سی۔ کے امتحان میں شامل ہونے کے لیے آمادہ کیا۔ فاصلاتی نظامِ تعلیم پر ہمارے اساتذہ طرح طرح کے الزامات عاید کرتے رہتے ہیں۔ اس سلسلے سے مولانا آزاد یونی ورسٹی کے بارے میں اور اس کے امتحانات کے تعلق سے مزید بے اعتمادی ظاہر کی جاتی رہی ہے۔ ان باتوں کو جانتے ہوئے میں نے فاصلاتی نظامِ تعلیم کے بچوں کو مقابلہ جاتی امتحانات میں جھونکنے کے لیے سارے انتظامات کیے۔ ان کی باضابطہ تربیت کی کوشش کی گئی ۔ امتحانات کے نتائج گواہ ہیں کہ اس دور میں پٹنہ اسٹڈی سنٹر سے اردو میں نیٹ اور جے۔آر۔ایف۔ کے جتنے بچے کامیاب ہوئے، اس کا دسواں حصّہ بھی مولانا آزاد یونی ورسٹی کے مرکزی کیمپس اور ملک کے تمام گوشوں میں پھیلے ہوئے فاصلاتی نظامِ تعلیم کے مراکز کو حاصل نہیں ہوا۔ ان کامیاب بچوں میں بہت سارے ملک کی مرکزی یونی ورسٹیوں میں تحقیق کرنے کے لیے پہنچے اور بعض تو زندگی کی کامیاب اڑان پانے میں سرفراز ہوئے۔

میں نے درس و تدریس اور تصنیف و تالیف کے کاموں میں مقدور بھر توازن قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ گذشتہ ۲۵ ؍برسوں کی تدریسی زندگی میں شاید ہی کبھی آرام کے مواقع حاصل کیے ہوں لیکن ہمیشہ یہ کوشش کی کہ پڑھنے، لکھنے اور پڑھانے تینوں کاموں کو کسی نہ کسی طور پر کرتا رہوں۔ یہ درست ہے کہ کبھی ایک جگہ کچھ چھوٹتا ہے تو دوسری جگہ کچھ تدارُک کی گنجایش نکل آتی ہے۔ کھونا اور پانا لگا رہتا ہے۔ میں نے اپنے طلبا کو بھی اسی ڈگر پر چلانے کی ہمیشہ کوشش کی ہے۔ صرف پڑھنا، صرف پڑھانا اور صرف لکھنا یا ملازمت کے لیے چند محدود کاموں کو کرکے آرام سے زندگی گزر بسر کر لینے کی ترغیب میں نے آج تک اپنے کسی طالب علم کو نہیں دی۔ میں نے کبھی خود کو تعلیمی جزیرہ بنانے کی بھی کوشش نہیں کی۔ اپنے عہد کے اساتذہ، دوسرے شعبہ ہاے علوم سے متعلق شعرا و ادبا سے ہمیشہ خود کو جوڑ کر دیکھنے کی کوشش کی۔ اپنی زبا ن کی غیر تدریسی دنیا سے بھی خود کو متعلق رکھنے کی مہم سر کی۔ ادبی مجلسوں میں پہنچنا، مقدور بھر علمی شرکت کرنا اور طلبا کو بھی اس کام میں شریک رکھنے کی جستجو میرے لیے سرمایۂ زندگی ہے۔اپنے بہت سارے دوستوں کی طرح سے می نار یا ادبی مجلسوں میں باضابطہ تحریر کے بجاے بے ترتیب تقریر کے فن کو اپنا کر بوالہوسی کو شعار نہیں بنایا۔ اپنے بزرگوں کے شیوۂ علمی سے اپنے آپ کو کبھی الگ نہیں کیا۔ کوشش یہی رہی کہ کلاس روم کی تدریس ہو یا سے می نار کا مقالہ ہر جگہ موضوع پر ارتکاز قائم رہے۔ کلیدی خطبہ بھی ہوس کارانہ انداز میں دینے سے خود کو الگ رکھا اور کوشش کی کہ ذہن میں دو چار جیسی بھی باتیں سمجھ میں آتی ہیں، ان کے اہم نکات تحریری طور پر پیش کردیے جائیں تاکہ بعد میں بھی ہماری باتوں کی جانچ پرکھ ہوسکے اور اگلا زمانہ آزادانہ طور پر ہمارا احتساب کرسکے۔

ایک استاد کے طور پر ملک کی درجنوں تعلیم گاہوں سے براہِ راست تعلق رہتا ہے۔ خدا کی مہربانی ہے کہ وہاں کے اساتذہ اور طلبہ سے ایک زندہ ربط قائم ہے۔ ان کے آئے دن کے تعلیمی مسائل سے ان کے اپنے استاد کی طرح سے میرا بھی رشتہ رہتا ہے۔ ان کی ادبی اور تخلیقی تحریروں کی اصلاح، اشاعت اور تشہیر کی الجھن میں بہ خوشی انھیںتعاون دیتا رہتا ہوں۔ ایسے بچوں کو مختلف سے می ناروں میں شامل کیا جائے اور ان کی باتیں سنجیدگی سے سنی جائیں ، اس کی میں وکالت کرتا رہتا ہوں اور ایسے افراد پچاس سے کم نہ ہوں گے جن کی صلاحیت کو پہچان کر پہلی بار کسی نہ کسی ادارے میں ان کے نام کی سفارش کی تھی۔ اس کی وجہ سے ملک کے ہر اہم شہر میں ہمارے اپنے پڑھائے طلبہ یا ہماری معاونت سے آگے بڑھ رہے طلبہ کی اچھی خاصی جماعت ملتی رہتی ہے۔ شاید اسی لیے پٹنہ کے علاوہ بھی دس بیس ایسی جگہیں ہیں جہاں مجھے محسوس ہوتا ہے کہ وہ سب بھی میری ہی جگہیں ہیں اور وہ تمام ادارے میرا ہی گھر ہیں۔
یونی ورسٹی میں تعلیم کے دوران ہی ہندی، اردو، انگریزی تینوں زبانوں کی صحافت سے رشتہ قائم ہوگیاتھا۔ آج جب اپنے صحافتی کاموں پر غور کرتا ہوں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حقیقت میں اپنے تدریسی اور ادبی کاموں کی ہی وہاں توسیع ہورہی ہے۔ صحافت کے وسیع پلیٹ فارم سے میں نے اپنے طلبا کے ہزاروں مسائل اور شعبہ ہائے اردو کے بکھراو کو سنبھالنے کے لیے ترغیب پیدا کی۔ اساتذہ اگر خود سست قلم یا غیر رواں طبیعت کے مالک ہوں گے تو وہ اپنے بچوں کو زیادہ سے زیادہ پڑھنے اور لکھنے کی ترغیب کیسے دے سکتے ہیں؟ میں نے بساط بھر سستی اور کوتاہی نہیں کی۔ مقررہ ادبی اور علمی کاموں کو وقت سے انجام دینے کی ہمیشہ کوشش کی۔ ۱۰۳ اور ۱۰۴ ڈگری بخار ہونے پر بھی تدریسی کاموں کو نہ چھوڑا اور عمرہ کے سفر کے دوران بھی اخبار کے کالم کو لکھنے کے لیے موقع نکال پانے میں کامیاب رہا۔ اپنے طلبا کو بھی زندگی کی اونچ نیچ کے دوران طے شدہ اہداف کے لیے مسلسل کچھ کیے جانے کے لیے ہمیشہ مستعد رکھنے کی کوشش کی ہے۔(یہ بھی پڑھیں!درس و تدریس کی راہوں میں [حصّہ سوم] از:صفدر امام قادری)

خانۂ کعبہ کی دیوار سے لگ کر بھی میں نے یہی دعا کی کہ خدا پڑھنے ، لکھنے اور پڑھانے کا شعور عطا کردے اور اتنا علم دے جس سے اگلی نسلوں کی معقول تربیت ہوجائے تاکہ ہمارے طالب علم زندگی اور کائنات کو سمجھنے کا کوئی نیا نظریہ وضع کرسکیں۔ درس و تدریس کے میدان میں ایک چھوٹی سی مدت گزارنے کے باوجود ہر کلاس میں ہمیشہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مبتدی کی حیثیت اب بھی قائم ہے اور کسی طرح اپنے حواس کو مجتمع کرکے طالب علموں تک اپنی باتیں پہنچانے کی کوشش کرتا ہوں اور گھر واپس آکر اپنی کوتاہیوں کو مطالعے سے پاٹنے میں لگ جاتا ہوں۔ بہتوں کی طرح اس بات کی یکسر پشیمانی نہیں کہ درس و تدریس کے شعبے میں کیوں کر آگیا اور کوئی افسر یا حکمراں کیوں نہیں بن گیا؟ جتنا وقت طلبہ کے بیچ گزرتا ہے، ہمیشہ یہ محسوس ہوتا ہے کہ اتنی دیر تک برائیوں سے محفوظ ہوں۔ زندگی کے جتنے اوقات بچے ہیں؛ پڑھنے، لکھنے اور پڑھانے کے علاوہ کسی دوسرے مشغلے میں اسے صرف کرنا میرے لیے پسندیدہ نہیں۔ دعا کرتا ہوں کہ صریرِ خامہ یا اوراق کے الٹنے کی آوازوں کے بیچ ہی زندگی کی آخری سانس نکلے۔ اس وقت یہ اطمینان ہوگا کہ مدرس پیشگی کو اپنی جان کا حصّہ بنانے میں مجھے کامیابی ملی۔(2017)

Previous articleبابائے اردو ” مولوی عبدالحق صاحب “ ایک تعارف: از:سید نوید جعفری حیدرآباد دکن
Next articleحیرت انگیز اور ہمہ گیر شخصیت: مولانابرکت ا للہ بھوپالی از: داؤداحمد

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here