دبستانِ عظیم آباد کی ایک گم شدہ کڑی: سید محمد محسن [حصّہ اوّل]از:صفدر امام قادری

2
285

شعبۂ اردو، کالج آف کامرس، آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ

دبستان عظیم آباد ہر چند کہ مرزا عبدالقادر بیدل، راسخ اور علی محمد شاد عظیم آبادی کی وجہ سے قبولیت کا شرف حاصل کر سکا۔لیکن جب اس خطّۂ اراضی کو دہلی اور لکھنؤ کے بعد ادبی مرکزیت ملنے کی گھڑی آئی، ٹھیک اسی زمانے میں جاگیر دارانہ تہذیب اور قدیم ادبی اقدار کے اختتام اور جمہوریت کے نئے سورج کے طلوع ہونے سے ایک علاحدہ سلسلہ قائم ہوا۔ بیسویں صدی کے شروع ہوتے ہی اردو میں علاقائی مراکز کے ختم ہونے، دبستانی تفوّق کے ماند پڑنے اور جدید تعلیمات کے ساتھ ساتھ مغربی طوفانوں سے لیس ہو کر نئی نسلوں کے سہارے تاریخ میں اپنی جگہ بنانے کا وقت آگیا تھا۔ شاگردوں کی لمبی چوڑی فوج قائم کر کے، تذکیر و تانیث اور محاوروں میں ایک لفظ کے ہیر پھیر سے ادب میں طاقت کا استعمال کر کے کسی کو فصیح یا غیر فصیح قرار دینے کا فیصلہ اب شاید ہمیشہ کے لیے ختم ہونے والا تھا۔

تاریخ کے اسی موڑ پر ۲۰ یں صدی کی پہلی دہائی میں ہندستان کے مختلف خطّوں میں ایسے ادیب اور شاعر، نقّاد اور محقق، صحافی اور ظرافت نگار پیدا ہوئے جنھوں نے اردو شعر و ادب کی دنیا بدل دی۔ دوسرے حلقوں سے صرفِ نظر کرتے ہوئے صرف ترقی پسند تحریک کی صفِ اوّل پر نظرڈالیے، اکثر و بیشتر اصحاب ۱۹۰۰ء سے ۱۹۱۰ء کے دوران پیدا ہوئے۔ پانچ سال قبل اور پانچ سال بعد یعنی ۱۸۹۵ء سے ۱۹۱۵ء کے بیس برسوں کو بنیاد مانیں تو یہ کہنا شاید غلط نہ ہو کہ اردو کی ادبی تاریخ میں اس سے زیادہ سرگرم کوئی دوسری نسل سامنے نہیں آسکی۔ علاقائی سطح پر اس مفروضے کو صرف بہار یا دبستانِ عظیم آباد تک محصور کر دیں تو اندازہ ہوگا کہ کیسے آفتاب و ماہتاب اس عہد میں اپنی روشنی بکھیر رہے تھے۔ شاعروں میںجمیل مظہری، پرویز شاہدی، اجتبٰی حسین رضوی، افسانہ نگاروں میں سہیل عظیم آبادی، اختر اورینوی، شمس منیری، عبد المنان بیدل، تنقید میں کلیم الدین احمد، محققین میں قاضی عبد الودود، عطا کا کوی، مسلم عظیم آبادی، معین الدین دردائی تاریخ داں کے بطور سید حسن عسکری، ماہرِ نفسیات اور ’انوکھی مسکراہٹ‘ کے افسانہ نگار سید محمد محسن، ظرافت نگار رضانقوی واہی، فارسی داں سید حسن اور اقبال حسین……یہ تمام لوگ اسی عہد میں پیدا ہوئے اور تیسری چوتھی دہائی میں شعر و ادب اور تعلیم و تدریس کے شعبے میں اُبھر نے لگے۔

دبستانِ عظیم آباد کے لیے واقعی یہ تاریخی دور تھا۔ شعر و ادب کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے اصحاب اتنی بڑی تعداد میں عظیم آباد سے براہ راست متعلق ہو گئے تھے۔ یہ زمانہ شہر عظیم آباد کے ادبی مرکز بننے سے عبارت ہے۔ اپنے علمی اور ادبی مرتبے کی وجہ سے ۱۹۳۰ء کے بعد سے شہرِ عظیم آباد کی مرکزیت اور اہمیت میں روز افزوں اضافہ ہوتا گیا۔ تنقید میں کلیم الدین احمد نے پورے ملک کو ایک نئے انداز اور ناقدانہ رویّے کا احساس دلایا۔ قاضی عبد الودود نے بھی تحقیق میں شورِ قیامت برپا کیا۔ سہیل عظیم آبادی، جمیل مظہری، رضا نقوی واہی اور عطا کاکوی، سب نے اپنے اپنے حلقے اور شعبے میں پورے ملک کو متوجہ کر لینے میں کامیابی پائی۔ سید حسن عسکری نے عہدِ وسطٰی کی تاریخ کے نہ جانے کتنے نئے ماخذ تلاش کر کے تاریخ کے اندھیروں سے روشنی کی کِرن نکالی۔

انھی لوگوں میں تھے سید محمد محسن جنھوں نے علمِ نفسیات کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا؛ اس مضمون میں اعلا تعلیم اور طویل مدّت تک تدریس کے ساتھ ساتھ انگریزی میں نصف درجن مستند کتابیں تیار کیں جنھیں ممتاز ناشرین نے اہتمام کے ساتھ شائع کیا۔ اپنے آپ میں یوں تو یہ مکمّل کا رمانہ ہیں لیکن ’کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے‘ کا انداز سید محمد محسن پر حاوی رہا۔ ابتدا افسانہ نگاری سے ہوئی۔ پہلا افسانہ ۱۹۳۷ء میں ’’ساقی‘‘ میں چَھپا، عنوان تھا ’’انوکھی مسکراہٹ‘‘۔ اگلے چھے ساتھ برسوں میں ایک درجن سے زیادہ افسانے تخلیق ہوئے اور پھر افسانہ نگاری کا سلسلہ بند ہو گیا۔ لیکن ’’انوکھی مسکراہٹ‘‘ کا نقش قائم ہو چکا تھا۔ اُس وقت تک شخصیت کی گہری پرتوں کو اتنی فنکارانہ مہارت کے ساتھ کسی دوسرے افسانہ نگار نے نہیں دیکھا تھا۔ پریم چند کے ’’عید گاہ‘‘ اور بیدی کے ’’بھولا‘‘ کی طرح سید محمد محسن کاافسانہ ’’انوکھی مسکراہٹ‘‘ اردو افسانے کی تاریخ میں ایک مستقل باب کی طرح یاد کیا جاتا ہے۔

پیشے ورانہ مصروفیات اور علوم نفسیات کی سرگرمیوں میں زیادہ شامل ہونے کی وجہ سے سید محمد محسن اردو افسانے کی طرف دوبارہ لوٹ کر نہ آسکے لیکن اردو میں اُن کے لکھنے پڑھنے کا سلسلہ چلتا رہا۔ مختلف رسائل میں ان کے مضامین وقتاً فوقتاً شائع ہوئے ۔ ’’انوکھی مسکراہٹ‘‘ افسانوی مجموعے کی شکل میں ۱۹۷۳ء میں سامنے آیا۔ ’’سعادت حسن منٹو اپنی تخلیقات کی روشنی میں ‘‘ کی اشاعت ۱۹۸۲ء میں عمل میں آئی جو ادیب یا شاعر کی شخصیت کو اس کی تحریروں کے متن سے جاننے کی اردو میں اوّلین منضبط کوشش ہے۔ ’’نفسیاتی زاویے‘‘ (۱۹۸۰) اور ’’جائزے‘‘ (۱۹۸۷ء) سید محمد محسن کے دو مجموعہ ہائے مضامین ہیں جن کے دائرے میں ادب اور نفسیات دونوں شامل ہیں۔ ۱۹۸۸ء میں ’’زخم کے پھول‘‘ عنوان سے ایک شعری مجموعہ بھی شائع ہوا۔ ۲۰۰۲ء میں وفات کے بعد ’’لمحوں کا کارواں‘‘عنوان سے ان کے صاحب زادے نے اُن کی خود نوشت شائع کی۔

محمد رضوان خاں نے اُن کی انگریزی تصنیف”Elementary Psychology”کا اردو ترجمہ ’’ابتدائی نفسیات‘‘ کے عنوان سے کیا جسے ترقی اردو بیورو نے ۱۹۸۴ء میں شائع کیا۔ اِن کے علاوہ اُن کی اردو تحریروں میں مسوّدات کی شکل میں ’’فرائڈی نفسیات‘‘ عنوان سے ایک مختصر کتاب ملتی ہے جس کی اشاعت اب تک نہیں ہو سکی ہے۔ مختلف رسائل میں سید محمد محسن کے بعض مضامین بکھرے ہوئے موجود ہیں۔ انگریزی میں اُن کی نفسیات سے متعلق اہم کتابیں ہیں”Elementary Psychology” (1967), “Experiments in Psychology”(1975) “Research Method in Behavioural Sciences”(1984), Attitude, Concept formation and changes (؟) جیسی اہم کتابیں موجود ہیں۔ انگریزی میں ایک کتاب “Keynote of the Holy Quran”(1992ء) سید محمد محسن کے نئے علمی میدان کی طرف بڑھنے کا اعلانیہ ہے۔ پاکستان میں اس کتاب کی اشاعت “Towards Understanding Islam”عنوان سے ہوئی۔ انگریزی میں اُن کے متفرق مضامین کتابی صورت میں یکجا ہونے کے انتظار میں ہیں جو اپنے زمانے کے مشہور رسائل یا جرنلس میں شائع ہوئے۔

سید محمد محسن ذولسانی مصّنف ہیں اور مزاج کے اعتبار سے بھی وہ اردو کے دوسرے ناقدین و محققین سے مختلف شخصیت کے طور پر ہمارے سامنے آتے ہیں۔ انھوں نے ادب کے تعلق سے لگاتار نہیں لکھا۔ سلسلے وار طریقے سے اپنی متفّرق تحریروں کو شائع کرانے میں وہ زیادہ سرگرم نہیں ہوئے۔ اسی کے ساتھ ساتھ اپنے بنیادی موضوع سے وہ ایک لمحے کے لیے بھی غافل نہیں ہوئے بلکہ علمِ نفسیات کے نئے ابواب روشن کرنے میں وہ عظیم آباد کے اپنے دوسرے ہم عصروں کے مقابلے زیادہ بہتر کام کرتے رہے۔ کلیم الدین احمد تمام عمر انگریزی تعلیم و تدریس سے متعلق رہے لیکن وہ انگریزی زبان و ادب کے قابلِ توجّہ مصنّف نہیں بن سکے۔ قاضی عبدالودود بیرسٹر تھے اور معاشیات میں بھی انھوں نے ’’ٹرائی پوس‘‘ کیا تھا لیکن دنیا کو صرف اُن کی علمی تحقیق سے ہی استفادہ کرنے کا موقع ملا۔ اس اعتبار سے دیکھیں تو سید محمد محسن کی پیشے ورانہ شخصیت اور اردو ادب سے تعلق دونوں میں معقول توازن دکھائی دیتا ہے۔

سید محمد محسن اردو زبان و ادب کے لیے کُل وقتی خدمت گار نہیں بن سکے، شاید وہ بننا بھی نہیں چاہتے تھے۔ رہ رہ کر اُن کے لکھنے کی رفتار ٹوٹی۔شاعری، نفسیات، افسانہ نگاری، تنقید اور قرآنیات…..یہ اپنے آپ میں نفسیاتی مسئلہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی وجہ سے سید محمد محسن مختلف فیہ علمی اور ادبی کوچوں کی سیاحی میں سرگرداں رہے۔ کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ کس ایک شعبے میں انھیں سیرابی نہیں میسّر آئی۔ اُن کے مقابلے میں اُن کے شہر کے دیگر ہم عصروں میں کئی اصحاب یکسوئی سے ایک شعبے میں سرگرم ہو کر مطمئن ہو ئے۔کلیم الدین احمد اور قاضی عبد الودود نے تو ۱۹۴۰ء کے بعد کی اردو تنقید اور تحقیق پر واضح طور پر حکمرانی کی۔ ملک گیر اور بین الاقوامی سطح پر ان دو حضرات کی قبولیت نے شاید یہ ثابت کیا کہ صلاحیت کے ساتھ ساتھ کام میں ذہنی اور موضوعاتی یا شعبہ جاتی ارتکاز چاہیے۔ سید محمد محسن ایسا نہیں کر سکے۔ ابتداً اُن کی بھی شہرت ہوئی۔ افسانہ نگار کی حیثیت سے تو وہ خاصے معروف ہوگئے تھے لیکن پڑھنے والوں کو لگاتار اُن کی تحریریں دیکھنے کو نہیں ملیں۔ اُن کی ادبی اہمیت گھٹ کر صوبائی حد بندیوں میں سمٹ گئی۔ ’’انوکھی مسکراہٹ‘‘ کا ذکر پہلے جتنا ہوتا تھا، اس میں بھی کمی آئی۔ اپنے دوسرے ساتھیوں کے مقابلے اردو کے ادبی محاذ پر پچھڑتے جانا سید محمد محسن کے لیے آسان نہیں تھا۔ وفتاً فوقتاً انھوں نے کلیم الدین احمد اور قاضی عبدالودود کے سلسلے سے جو مضامین تحریر کیے، اُن میں اکثر یہ خلش معاندانہ چشمک سے بڑھ کر کینہ پروری یا بداندیشی تک پہنچ جاتی ہے۔

آج سید محمد محسن ایک بھولی ہوئی کہانی کی طرح ہیں۔ افسانہ نگار کی حیثیت سے جس کی ادبی زندگی منٹو، بیدی، کرشن چندر کے ساتھ شروع ہوئی ہواور جو اپنے انداز کا موجد بھی تھا، اسے بھی لوگ بھول گئے۔ نصابی کتابوں میں کہیں کہیں ’’انوکھی مسکراہٹ‘‘ ہے لیکن اس کے علاوہ سید محمد محسن دوسری جگہ کم کم یاد آتے ہیں۔ اُن کے بعض اچھے ادبی مضامین ہیں لیکن اُن پر کسی نے خاص دھیان نہیں دیا۔ منٹو پر اُن کی کتاب بلاشبہہ کار آمد اور میعاری ہے جس پر تفصیلی گفتگو ہونی چاہیے اور جسے ماڈل مانتے ہوئے دوسرے مصنّفین پر کتابیں تیار کرنے کی غرض سے استعمال میں لایا جانا چاہیے۔ نفسیات سے متعلق جو ا نھوں نے انگریزی میں لکھا ہے، اس پر بھی اردو کا حق ہے اور اسے بلاشبہہ ترجمہ ہو کر جلد سے جلد شائع ہو جانا چاہیے۔ اُن کی تخلیقات بھی یکجا ہو کر ایک ضخیم جلد میں آجائیں تو پڑھنے والوں کا زیادہ بھلا ہوگا۔ موجودہ مطالعہ اس سلسلے کی ایک ابتدائی کوشش ہے کہ عظیم آبادکے سنہرے دور کی یادگار شخصیت سید محمد محسن کی خدمات کا اجمالی تعارف لوگوں کے سامنے پیش کیا جا سکے۔
حالاتِ زندگی
۱۰ جولائی ۱۹۱۰ء کو سرزمینِ عظیم آباد کے سبزی باغ محلّے میں سید محمد محسن پیدا ہوئے۔ دادیہال اور نانیہال دونوں حلقے سے تعلیم یافتہ گھرانہ تھا۔ دادا سید وحیدالدین نے منیر شریف سے سبزی باغ منتقل ہو کر مستقل بود و باش کے لیے پٹنہ کو مستقر بنایا۔ سید محمد محسن کے والد سید محمد رشید سینٹ زیویرس کالج، کلکتہ سے بی۔اے پاس کرنے کے بعد سب رجسٹرار کی ملازمت میں آگئے۔ محسن کے نانا جناب یوسف حسین سرسید کی تعلیمی تحریک سے بے حد متاثر تھے۔ گیا ضلع (موجودہ جہان آباد) کے علم پرور علاقے کا کو سے اُن کا تعلق تھا۔ محمد محسن نے اپنی خود نوشت میں بتایا ہے کہ شعر و ادب سے اوّلین تعارف اُن کا اپنے نانیہال میں ہی ہوا۔ پروفیسر مُسلم عظیم آبادی، اختر اورینوی، قاضی عبدالودود، عطا کاکوی جیسے اصحاب کا اس بستی سے براہ راست تعلق تھا اور چھٹّیوں میں ایک جگہ جمع ہونے سے یہ سلسلہ پروان چڑھنے لگا۔

ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی۔ ۱۹۳۱ء میں پٹنہ کالج سے فلسفے میں آنرز پاس کیا اور ۱۹۳۴ء میں ایم۔اے درجۂ اوّل میں مقام اوّل حاصل کر کے کامیاب ہوئے۔اس زمانے میں فرسٹ کلاس میں فرسٹ آنے پر گولڈمیڈل کے علاوہ یونیورسٹی سے دوسو روپے کتابیں خریدنے کے لیے بھی ملتے تھے۔ ایم۔اے۔ کے بعد حکومت کی طرف سے ریسرچ اسکالرشپ ملی۔ ۱۹۳۸ء میں پٹنہ کالج میںعارضی طور پر لکچرر منتخب ہوئے پھر مستقل ہو گئے۔ ۴۸۔۱۹۴۶ء کے دوران تحقیق کے لیے اڈنبرا یونیورسٹی (برطانیہ) میں مقیم رہے اور پروفیسر جیمس ڈریور کی نگرانی میں پی ایچ۔ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ اس زمانے میں فلسفے سے نفسیات کو علاحدہ کر کے اڈنبرا یونیورسٹی میں آزاد شعبہ قائم ہو چکا تھا۔ کیمبرج یونیورسٹی کے مقابلے نئے مضمون کے طریقۂ تدریس اور تحقیق میں اڈنبرا یونیورسٹی کی اہمیت زیادہ تھی۔ اسی لیے محسن صاحب نے اڈنبرا کا انتخاب کیا۔ انگلینڈ میں تحقیق کے دوران علم نفسیات کے بہت سارے ماہرین کے ساتھ کام کرنے کے مواقع ملے۔ وہاں سے واپسی پر پھر پٹنہ کالج کے شعبۂ نفسیات سے تعلق قائم ہوگیا۔ ۱۹۵۳ء میں شعبۂ نفسیات کے صدر ہوئے جو سلسلہ ۱۹۷۴ء، ملازمت سے سبکدوشی کے وقت تک قائم رہا۔ رٹائرمنٹ کے بعد پانچ برسوں تک یوجی سی کی اسکیم کے تحت یونیورسٹی میں تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے۔

۱۹؍اکتوبر ۱۹۳۳ء کو مولوی ضمیر الدین احمد کی بڑی صاحبزادی محترمہ محفوظہ سے شادی ہوئی۔ تین صاحبزادے شفیق محسن، آفتاب محسن، اور ندیم محسن اعلا تعلیم یافتہ ہیں۔ چار لڑکیاں شاہدہ، خالدہ، شاہینہ اور ناہیدہ ہیں۔ سب نے بہترین تعلیم حاصل کی اور اچھے گھروں میں بیاہی گئیں۔ ۱۹۷۳ء میں انھوں نے اہلیہ کے ساتھ حجِ بیت اﷲ کا فریضہ ادا کیا۔ یونیورسٹی سے علاحدگی کے بعد، جیسا کہ خود انھوں نے بار بار لکھا ہے کہ اہالیانِ حکومت کی طرف سے مختلف مناصب کی پیش کش ہوئی لیکن اس سے الگ تھلگ رہ کر تصنیف و تالیف کو ہی واحد مشغلہ بنایا اور تقریباً پچیس برسوں میں کسی عہدے پر فائز ہوئے بغیر خود کو علمی کاموں میں ہمہ تن مصروف و منہمک رکھنے میں کامیابی حاصل کی۔

افسانہ نگاری
۳۶۔۱۹۳۵ء کے دوران پٹنہ کے ادبی ماحول کو یاد کریں تو سب سے بڑی تعداد افسانہ نگاروں کی ملے گی۔ سہیل عظیم آبادی، اختر اورینوی، اور مسلم عظیم آبادی تو مستند افسانہ نگار مانے جانے لگے تھے۔جمیل مظہری، قاضی عبدالودود اور آرزو جلیلی جیسے لوگ بھی افسانہ نگاری کی طرف متوجہ تھے۔ جو طبع زاد نہیں لکھ رہے تھے۔ انھوں نے ترجمہ شروع کر رکھا تھا۔ ترقی پسند تحریک کے آغاز کا زمانہ تھا۔ ’ساقی‘،’ ادبی دنیا‘، ’نیرنگِ خیال‘، اور’ نگار‘ کی بڑی دھوم تھی۔ بہار سے بھی ’سہیل‘،’ ندیم‘،’ معاصر‘، اور’ معیار‘ رسائل نکل رہے تھے جن میں خاصی تعداد میں افسانے شائع ہو رہے تھے۔ سید محمد محسن کو اسی ماحول اور حلقۂ دوستاں سے ترغیب ملی ہوگی۔ انھوں نے خود بتایا ہے کہ اُن کا پہلا افسانہ ’’انوکھی مسکراہٹ‘‘ ایک حقیقی واقعے سے ماخوذ ہے جو خود انھوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ ۲۷ سال کی عمر میں جب یہ افسانہ لکھا گیا تو عظیم آباد کے نوجوان ادیبوں اور دوستوں نے ایک ادبی نشست میں اس کی ڈھیر ساری تکنیکی اور فنّی خامیوں پر اعتراضات کیے لیکن محمد محسن نے اُس زمانے کے مستند رسالے ’’ساقی‘‘ کو یہ افسانہ بھیج دیا جس کے مدیر شاہد احمد دہلوی تھے۔ جولائی ۱۹۳۷ء کے افسانہ نمبر میں یہ شائع ہوگیا۔
تھوڑے دنوں کے بعد جب ’’ساقی‘‘ نے اپنا دس سالہ انتخاب شائع کیا، اُس میں بھی اِس افسانے کو جگہ ملی۔ اگلا افسانہ ’’تعمیرِ جنوں‘‘ ساقی کے جنوری ۱۹۳۸ء کے شمارے میں شائع ہوا۔ اسی رسالے میں جولائی ۱۹۳۸ء میں ’’زہری‘‘ عنوان سے سید محمد محسن کا نیا افسانہ اشاعت پذیر ہوا۔ جون ۱۹۴۰ء میں ’’ردِّعمل‘‘ اور جولائی ۱۹۴۰ء میں ’’طوائف‘‘ افسانے بھی اسی معروف رسالے کی زینت بنے۔ ۱۹۴۱ء میں معاصر، پٹنہ نے ’’احساسِ گناہ‘‘ شائع کیا اور ۱۹۴۱ء میں سہیل، گیا نے ’’شکستِ عزم‘‘ شائع کیا۔ ۱۹۴۱ء اور ۱۹۴۲ء میں معاصر میں ’’فرار‘‘ اور ’’نئی ماما‘‘ عنوان کے افسانے شامل ہوئے۔ جھوٹی بھوک (معاصر، ۱۹۴۲ء) لذّتِ آزار (معاصر، ۱۹۴۵ء)، باغی (معاصر، ۱۹۴۳ء) ماں (آجکل، دہلی ۱۹۴۴ء) خون کا اثر (ساقی، مئی ۱۹۴۴ء) پے در پے شائع ہوتے گئے۔ یہ تمام نفسیاتی افسانے تھے۔ مخصوص ترقی پسندانہ روِش کا خیال کرتے ہوئے سید محمد محسن نے ’’مزدورکا بیٹا‘‘ عنوان سے بھی ایک افسانہ لکھا جو ’’ساقی‘‘ میں شائع ہوا۔کسی وجہ سے سیدمحمد محسن نے اس افسانے کو اپنے مجموعے میں شامل نہیں کیا۔
پندرہ افسانوں کی یہ کائنات مختصر ہونے کے باوجود اہم ہے۔ یہ عجب اتفّاق ہے کہ پہلا افسانہ ہونے کے باوجود محمد محسن اب بھی ’’انوکھی مسکراہٹ‘‘ کے حوالے سے ہی پہچانے جاتے ہیں۔ اپنی خود نوشت میں بھی انھوں نے اس کا ذکر کیا ہے کہ کئی جگہ انھیں صرف اسی افسانے کے توسط سے پہچانا گیا۔ اردو کے طالب علم اور اساتذہ کے بیچ تو وہ ’’ انوکھی مسکراہٹ والے سید محمد محسن‘‘ کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ جس زمانے میں ’’انوکھی مسکراہٹ‘‘ جیسا افسانہ لکھا گیا، واقعتاً فنّی اعتبار سے ایسی سادہ اور پُر کار حقیقت نگاری کسی نوجوان سے متوقع نہیں تھی۔ آٹھویں دہائی میں پٹنہ کی ایک بزم میں عصمت چغتائی اور قرّۃ العین حیدر کے سامنے سید محمد محسن نے یہ بتا کر کہ ۱۹۳۷ء کا افسانہ ہے اسے پڑھا۔ سید محمد محسن نے اپنی خود نوشت میں یہ درج کیا ہے کہ عصمت نے سخت تعجب کا اظہار کیا کہ ۱۹۳۷ء میں ایسا مکمّل نفسیاتی افسانہ لکھ لیا گیا تھا!۔

محسن صاحب نے اپنے دوسرے افسانوں کے بارے میں بھی یہ بات بتائی ہے کہ یہ سب ’’انوکھی مسکراہٹ‘‘ سے ملتے جلتے ہیں۔ سب کسی نہ کسی نفسیاتی گُتھّی کو بنیاد بنا کر لکھے گئے۔ اب یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ سید محمد محسن آگے بھی افسانے لکھتے رہتے تو کیا صورتحال ہوتی۔ لیکن اُن کے مخصوص دور اور انداز کو دھیان میں رکھیں تو سید محمد محسن کو اردو افسانے کے ایک مخصوص رنگ کا ایجاد کنندہ کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ بعد میں آغا بابر، ممتاز مفتی، قدرت اﷲ شہاب، سعادت حسن منٹو، عصمت چغتائی اور راجندر سنگھ بیدی جیسے افسانہ نگاروں نے انسانی نفسیات پر مرتکز ہو کر جو افسانے لکھے، اُن کا ابتدائی سِرا محمد محسن سے ملتا ہے۔ اب اگر اردو افسانے کی تاریخ میں نفسیاتی اسکول کے قیام کو تسلیم کرلیں تو سید محمد محسن اس دبستان کے پہلے رکن قرار دیے جاسکتے ہیں۔(یہ بھی پڑھیں!درس و تدریس کی راہوں میں [آخری قسط] از: صفدر امام قادری)

Safdar Imam Quadri
Department of Urdu,
College of Commerce, Arts & Science, Patna: 800020, Bihar India
Email: safdarimamquadri@gmail.com

Previous article’’قلم کا سپاہی ‘‘ ایک مطالعہ از : عارفہ مسعود عنبر
Next articleانشائیہ ’’ٹرٹراہٹ ‘‘ از : جہانگیر انس

2 COMMENTS

  1. Excellent write ups ndhighly informative.article on Syed Md Mohsin.Definitely it’s a remarkable contribution of Janab Safdar Imam Qadri Saheb.

  2. محترم السلامُ علیکم!
    آپ کی تحریر پڑھنے کو ملی۔ آپ نے سید محمد محسن کی شخصیت پر جو بھی لکھا ہے بہت خوب لکھا ہے۔ آپ نے ان کے ننیحال قصبہ کاکو کا ذکر کیا ہے اور ان کی پیدائش پٹنہ لکھا ہے۔ جناب پروفیسر سید محمد محسن کی پیدائش اپنی ننیحالی مکان شمسی بلڈنگ، کاکو میں ہوئی تھی۔ جن ادبی شخصیتوں نے ان پر قلم اٹھایا ہے ان کی پیدائش کاکو ہی بتایا ہے۔ اور یہ بات سچ ہے۔ شمسی بلڈنگ، کاکو میرا دادیہال ہے اور محسن صاحب یہ ننیحال ہوا۔
    شکریہ
    یوسف شمسی
    شمسی بلڈنگ
    کاکو

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here