پروفیسر خالد جاوید جامعہ ملیہ اسلامیہ کے برانڈ ایمبیسڈر ہیں: پروفیسر محمد اسد الدین شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے زیرِ اہتمام پروفیسر خالد جاوید کے ناول ’ایک خنجر پانی میں‘ پر مذاکرے کا انعقاد

0
169

(نئی دہلی): پروفیسر خالد جاوید جامعہ ملیہ اسلامیہ کے برانڈ ایمبیسڈر ہیں۔ انھوں نے اپنے منفرد فکشن سے صرف اردو ہی نہیں بلکہ کئی زبانوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ ان کا ناول ’ایک خنجر پانی میں‘ وہا پر لکھے گئے ادب میں ایک مختلف نقطۂ نظر کا اضافہ کرتا ہے اور ان کا بیانیہ انھیں دیگر فکشن نگاروں سے ممتاز کرتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار مشہور ترجمہ نگار اور ڈین فیکلٹی برائے انسانی علوم و السنہ، جامعہ ملیہ اسلامیہ پروفیسر محمد اسد الدین نے ممتاز فکشن نگار خالد جاوید کے تازہ ترین ناول ’ایک خنجر پانی میں‘ کے حوالے سے شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے زیرِ اہتمام منعقدہ آن لائن مذاکرے میں صدارتی کلمات پیش کرتے ہوئے کیا۔

صدر شعبہ ماس کمیونی کیشن، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پروفیسر شافع قدوائی نے کہا کہ پروفیسر خالد جاوید نے ایک ایسے موضوع پر ناول لکھا جس میں روایت سے انحراف یا نئی راہ نکالنا دشوار تھا۔ کیوںکہ اس سے پہلے اردو میں وبا کو ایک ربّانی سزا کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے اور یہ سزا انسانی بداعمالیوں کے نتیجے میں خدا کی طرف سے دی جاتی ہے۔ لیکن خالد جاوید نے اس تصور سے اپنا دامن بچا لیا اور وبا کے مسئلے کو وجودی سطح پر لاکر اس کو ڈسکورس کا حصہ بنایا۔ انھوں نے اس ناول کو ایک گہرے وجودی تجربے کے حوالے سے دیکھنے پر زور دیا۔ کئی زبانوں پر یکساں دسترس رکھنے والی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ میں مرکز برائے اسپینی اور لاطینی امریکی کی استاد پروفیسر سونیا سوربھی گپتا نے کہا کہ میں اس ناول کو سیاسی نقطۂ نظر سے دیکھتی ہوں۔ پانی میں وائرس پھیل جانے کے سبب جس طرح کی صورتِ حال پیدا ہوتی ہے اسے موجودہ شہریت ترمیمی قانون اور این آر پی کے نتیجے میں ایک خاص مذہبی اقلیت کو ہدف بنائے جانے اور ان کے زندگی کا قافیہ تنگ کردیے جانے کے حوالے سے دیکھا جاسکتا ہے۔ اور یہ وہی صورتِ حال ہے جو جرمنی میں پیش آچکی ہے۔ پروفیسر سونیا سوربھی گپتا نے اس ناول میں موجود گہرے سیاسی شعور اور سیاسی حسیت کے تناظر میں اس کی تعبیر کی کوشش کی۔ صدرِ شعبہ پروفیسر شہزاد انجم نے نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے کہا کہ خالد جاوید جیسے ممتاز فکشن نگار کسی بھی ادارے کے لیے ایک بڑے اثاثے کا درجہ رکھتے ہیں۔ ہمیں بجاطور پر فخر ہے کہ وہ ہمارے رفیقِ کار ہیں۔

خالد جاوید کے اس ناول پر شعبے کی جانب سے مذاکرے کا انعقاد ڈین فیکلٹی پروفیسر محمد اسد الدین کی ایما پر کیا گیا ہے۔ خالد جاوید کا ناول اس وبا سے پیدا شدہ صوتِ حال، اندوہناکیوں اور سفاک حقیقتوں کو جس شدت کے ساتھ پیش کرتا ہے اس میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔ صاحبِ کتاب پروفیسر خالد جاوید نے اپنے ناول کے ایک منتخب حصے کی قرأت بھی کی۔ مشہور تانیثی نقاد اور استاد شعبۂ اردو دہلی یونیورسٹی پروفیسر نجمہ رحمانی نے خالد جاوید کے فکشن کے امتیازی پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ وہ زندگی اور کائنات کے تمام اندھیروں کو جس طرح جذب کرتے ہیں اور ان کا بیانیہ اردو فکشن کو جن انوکھی جہتوں سے آشنا کرتا ہے وہ حیرت انگیز ہے۔ وہ بہت پیچیدہ اور بہت گھنا لکھتے ہیں۔ ان کا فکشن کہانی کے عام تصور کو بھی توڑتا ہے ۔ وہ حسن و جمال اور رومان کے سطحی تصورات پر ضرب کاری لگاتے ہیں اور انسان اور زندگی کی بدہیئتیوں ، بدصورتیوں ، بیماریوں اور غلاظتوں کو جس طرح پیش کرتے ہیں اسے ہم ایک نئی حقیقت پسندی سے بھی تعبیر کرسکتے ہیں۔ان کا فکشن کبھی کبھی ناقابلِ فہم ہونے کے باوجود ایک انجانی قوت کے ساتھ ہمیں اپنی طرف کھینچتا ہے۔ مشہور ہندی ادیب و نقاد اور استاد شعبۂ ہندی، جامعہ ملیہ اسلامیہ پروفیسر نیرج کمار نے ناول میں اٹھائے گئے نئے ڈسکورس پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ خالد جاوید کا یہ ناول مابعدِ صداقت عہد سے پیدا ہونے والی زندگی کی پیچیدگیوں کو پیش کرتا ہے اور ایک انسان جس طرح وجودی سطح پر ایک کش مکش میں مبتلا ہے، اس مسئلے کو اس کے تمام امکانات کے ساتھ موضوع بناتا ہے۔ مشہور ترجمہ نگار اور انگریزی و اردو کے شاعر ڈاکٹر عبدالنصیب خان نے کہا کہ یہ ناول عالمی وبائی ادب میں ایک گراں قدر اضافہ ہے۔ خالد جاوید نے عصری المناکیوں، وبا کے خوف، انسانی مصائب، بیماری کی ہمہ گیریت اور اشرف المخلوقات کی بے بضاعتی کو نرالے انداز میں پیش کیا ہے۔ پورا ناول ایک جبراً تھوپی ہوئی خاموشی ، قیامت خیز تباہی اور معاشرتی تعطل کا غمّاز ہے۔ مشہور تنقید نگار اور استاد شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ ڈاکٹر سرورالہدیٰ نے کہا کہ خالد جاوید اپنے بیانیے میں جس جگہ پر ہیں اس کے آس پاس ان کا کوئی ہمعصر نظر نہیں آتا ہے۔ انھوں نے مغربی تصورِ کائنات کو اپنے تخلیقی سانچے میں پیش کیا ہے۔ اگرچہ اس ناول میں قاری کئی ایسے مقامات سے گزرتا ہے، جہاں وہ یہ محسوس کرتا ہے کہ کہیں کوئی بات ایک الگ انجام سے دوچار ہوگی۔ ان کے پلاٹ کا تصور روایتی تصور سے مختلف ہے، جو ایک عام قاری کے لیے پریشان کن ہوتا ہے۔

ادیب و شاعر اور استاد شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامہ ڈاکٹر خالد مبشر نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس ناول کے اکثر جملوں میں فسانہ خیزی کی صفت بدرجہ اتم موجود ہے۔ پڑھتے ہوئے قاری عبارتوں سے پھوٹنے والی بہت سی کہانیوں میں الجھ جاتا ہے۔ خالد جاوید بنیادی طور پر وجودی فکشن نگار ہیں۔ ان کے یہاں دہشت خیزی، امراض، تعفن، غلاظتیں، زرد زرد فضا ، انسانی درندگی اور موت جس شدید وجودی کرب کے ساتھ خلق پذیر ہوتی ہے اس کو منفی قدر قرار دینا درست نہیں، اس لیے کہ تمام مذاہب اور فلسفے میں حیات و کائنات کی الم زدگی قدرِ مشترک ہے۔ خالد جاوید کے بیانیے میں بلیک ہیومر بہت غالب ہے۔
مذاکرے میں فرحت احساس، اشعر نجمی، پروفیسر کوثر مظہری، ڈاکٹر مکیش کمارمروٹھا، رضوان الدین فاروقی، ڈاکٹر عمران احمد عندلیب، ڈاکٹر شاہ عالم، ڈاکٹر سید تنویر حسین، ڈاکٹر عادل حیات، ڈاکٹر جاوید حسن، ڈاکٹر ثاقب عمران اور ڈاکٹر ساجد ذکی فہمی بھی موجود تھے۔

Previous article“کیوں نہیں” پرویز انیس- تبصرہ نگار: نثارانجم
Next articleصدائے اردو ہے یہ،سنے ہر کوئی : منجانب: “حلقۂ ادب بہار”

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here