ایک شیدائے قرآن کی رحلت(حامد عبد الرحمن الکاف) از: ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

1
110

علمی ، دینی اور تحریکی حلقوں میں یہ خبر بہت افسوس کے ساتھ سنی جائے گی کہ جناب حامد عبدالرحمن الکاف (حیدر آباد دکن ) کا آج انتقال ہوگیا _ انا للہ وانا الیہ راجعون _

موصوف کی شخصیت کا امتیازی وصف قرآن مجید سے ان کا شغف ، قرآنی موضوعات سے ان کی گہری دل چسپی اور ان پر تحریر و تصنیف کی خدمت ہے _ انھوں نے آخری زمانے میں عام فہم اور آسان انگریزی زبان میں قرآن مجید کا ترجمہ اور مختصر تفسیر simplified Quran کے نام سے کی تھی _ پھر اردو زبان میں ‘آسان تفسیر’ لکھی _ پارۂ عم کی اشاعت ہوچکی تھی ، باقی کی کمپوزنگ ہورہی تھی کہ وقتِ موعود آگیا ۔

جناب حامد عبد الرحمٰن نے عثمانیہ یونی ورسٹی (حیدرآباد) سے معاشیات میں بی ، اے کیا تھا _ اس کے بعد علومِ دینیہ حاصل کرنے کا شوق ہوا تو رام پور (اترپردیش) میں جماعت اسلامی ہند کی قائم کردہ ثانوی درس گاہ چلے گئے _ وہاں وہ درس گاہ کے آخری بیچ (Batch) کے طالب علم رہے _ جناب عبدالباری شبنم سبحانی ان کے ہم جماعت اور پروفیسر محمد نجات اللہ صدیقی اور پروفیسر محمد عبدالحق انصاری ان کے سینیر تھے _ ان کے اساتذہ میں مولانا ابو اللیث ندوی اصلاحی ، مولانا صدر الدین اصلاحی ، مولانا اختر احسن اصلاحی اور مولانا نظام الدین اصلاحی تھے ۔ طالب علمی کے زمانے سے ہی وہ تحریک اسلامی سے وابستہ ہوگئے تھے _ تقریباً سات دہائیوں تک تحریک سے ان کا گہرا تعلق برقرار رہا ۔

الکاف صاحب کو تحریر و تصنیف کا بہت عمدہ ذوق تھا _ ان کے مضامین ہند و پاک کے متعدد رسائل ، مثلاً محدث ، ترجمان القرآن ، دعوت ، زندگی / زندگی نو اور تحقیقات اسلامی وغیرہ میں شائع ہوئے ہیں _ تحقیقات اسلامی میں شائع ہونے والے ان کے درج ذیل مقالات قابلِ ذکر ہیں :
1 _ کریڈٹ کارڈ کے کاروبار کو اسلامیانے کا مسئلہ ، اپریل _ جون 1986
2 _ فی ظلال القرآن کی بعض تفسیری خصوصیات ، اکتوبر _ دسمبر 2008
انگریزی زبان میں ان کی دو کتابیں اسلامک ریسرچ اکیڈمی کراچی سے شائع ہوئیں :
* Organization of the credit operation under the Islamic banking System
* Al_Murabaha in theory and practice
ان پر تحقیقات اسلامی ( اپریل _ جون 1988)میں جناب محمد طاہر بیگ کا تبصرہ شائع ہوا _

مرحوم راقمِ سطور سے بہت محبت کرتے تھے _ غالباً 2011 کے اواخر میں جماعت اسلامی ہند کے تیار کردہ لٹریچر پر ریویو کے لیے ایک سہ روزہ سمینار حیدر آباد میں منعقد ہوا تھا _ اس میں موصوف سے راقم کی بہت تفصیلی ملاقات ہوئی تھی _ بعد میں بھی ان سے مراسلت رہی اور فون کے ذریعے بھی رابطہ رہا _ میرا ایک مبسوط مقالہ ‘دارِ ارقم’ پر تحقیقات اسلامی میں شائع ہوا _ اس میں میں نے بعثتِ نبوی کے بعد کے ابتدائی زمانے کے لیے ‘خفیہ مرحلۂ دعوت’ کے الفاظ استعمال کیے تھے _ الکاف صاحب نے مجھے متنبہ کیا کہ ‘خفیہ دعوت’ کے لفظ سے منفی تاثر پیدا ہوتا ہے ، اسے Underground کے معنیٰ میں سمجھا جاتا ہے ، اس لیے ان کے بجائے ‘انفرادی دعوت’ کے الفاظ استعمال کرنے چاہییں _ میں نے ان کا یہ استدراک تحقیقات اسلامی (اکتوبر _دسمبر 2013) میں ‘کیا مکی عہد کی ابتدا میں دعوت خفیہ تھی؟ ‘ کے عنوان سے شائع کردیا _

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مرحوم کی مغفرت فرمائے ، ان کی دینی و علمی خدمات کو قبول فرمائے ، ان کی سئیات سے درگزر فرمائے ، انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے اور پس ماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے ، آمین ، یا رب العالمین !

Previous articleیوم وفات پر یاد کئے گئے علامہ جمیل مظہری ۔زیرِ اہتمام :بزم تعمیر ادب ذخیرہ , جموئ
Next articleنظم “پھر “ڈیلٹا”سے ناک میں دم کر دیا گیا ” از: خالد عرفان (نیویارک)

1 COMMENT

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here