پریاگ راج (الہ آباد )۔اسمٰعیل گنج قبرستان میں شجر کاری پروگرام

0
67

شجر کاری ہفتہ پروگرام کے تحت پروفیسر صالحہ رشید ، صدر شعبہ عربی و فارسی ، الہ آباد یونیورسٹی نے اسمٰعیل گنج قبرستان میں لاکھ کے ۱۰۰/عدد پودے لگوائے۔لاکھ کی کاشت اس علاقے میں ایک منافع بخش کاشت کی شکل میں دیکھی جا رہی ہے۔ اس موقع پر انھوں نے کہا کہ در اصل کرونا وبا کی تباہ کاریوں نے انسان کو خود احتسابی پر مجبور کر دیا ہے۔جب انسان نے قدرت کی عطا کردہ نعمتوں کے ساتھ کھلواڑ کیا تو اس کے منفی اثرات بھی اسے ہی جھیلنے پڑیں گے ۔گذشتہ ماہ بیماری کے دوران آکسیجن کی قلت اور اس کی حصولیابی کے لئے مچی ہاہا کار نے بتا دیا کہ ہر آتی جاتی سانس کتنی قیمتی ہے۔اس پر جتنا شکر الٰہی کیا جائے کم ہے۔سمندر، پہاڑ ، جنگل ، زمین سب کا توازن ہم نے ہی بگاڑا تو اسے درست کرنے کی ذمہ داری بھی ہماری ہے۔موت کے اس خطرناک منظر نے انسان پر ہیبت طاری کر دی ہے۔خیر دیر آید درست آید۔ ہمیں خود بگاڑی ہوئی اس دنیا کو پھر سے سجانا سنوارنا ہے۔اسی مشن کے تحت شجر کاری کا یہ پروگرام عمل میں آیا ہے۔اس قبرستان سے ملحق مغل تعمیرات کا عمدہ نمونہ پیش کرتی ایک مسجد قائم ہے جس کے ایک ستون پر یہ شعر کندہ ہے ؎
کیا جو غازی نے یہ بنا قائم فکر تاریخ کی ہوئی سب کو
آئی آواز قدسیان فلک رشک بیت الحرام ہی دیکھو
(۱۲۷۲ھ۔۱۸۵۱ء)
اسی مسجد سے لگا ہوا ایک مدرسہ ہے جو بند پڑا ہے۔یہاں کی لڑکیاں مقامی انٹر کالج سے زیادہ تر بارہویں پاس ہیں اور لڑکے کچھ دور کے ڈگری کالج سے گریجویشن کی ڈگری لئے ہوئے ہیں۔پروفیسر صالحہ رشید نے لاکھ کے پیڑوں سے ہونے والی آمدنی سے مدرسہ کو دوبارہ شروع کرائے جانے کی بات کہی۔قبرستان اور مسجد کا رکھ رکھائو بھی اسی مد سے ہوگا۔اس کے لئے وہ جلد ہی گائوں والوں کی ایک کمیٹی تشکیل دیں گی جو ان پودوں کی دیکھ ریکھ کے علاوہ بچوں کی تعلیم کو آج کی ضرورت کے مطابق ڈھالنے کا کام کرے گی۔ان کے لئے کوچنگ سنٹر اور ایک کلینک کھولے جائیں گے۔سول سروسز اور دیگر مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کرائی جائے گی۔یہاں لوگوں کی معاش کا ذریعہ کاشت نہ ہو کر اینٹ کے بھٹے، مویشی فروشی اور زمین کی خرید و فروخت ہے۔یہاں پکی سڑکیں اور پانی کا اچھا بند و بست ہے۔لوگ سیدھے سادے ہیں اور شہر کا رخ کم ہی کرتے ہیں۔اسی لئے انھیں عصری تعلیم سے مزین کرنا بہت ضروری ہے۔ذہین بچوں کی تعلیم کا شہر میں معقول انتظام بھی کیا جائے گا۔حیرانی کی بات یہ ہے کہ یہ گائوں دریائے گنگا سے بمشکل دس کلو میٹر کی دوری پر آباد ہے۔وہی دریائے گنگا جو کرونا کی تباہ کاری کا سب سے بڑا ثبوت ہے مگر اسمٰعیل گنج میں کرونا کا ایک بھی نشان نہیں۔انسان جانور سب معمول کے مطابق اپنی زندگی گذار رہے ہیں۔اللہ کی قدرت کا ایک کرشمہ یہ بھی ہے۔امید ہے شجر کاری کا یہ پروگرام اس گائوں کی صورت کو بدل دے گا۔یہ پروگرام فارسٹ ریسرچ سینٹر فار ایکو ری ہیبیلی ٹیشن ، پریاگ راج ،گورنمنٹ آف انڈیا اور گرین گولڈ فارما پروڈیوسر کمپنی لیمیٹیڈ کے اشتراک سے عمل میں آیا۔

Previous article“ادبی جہتیں”: ایک مطالعہ از: مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
Next articleاردو شاعری میں سہرا لکھنے کی روایت از:: عشرت معین سیما

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here