فراق گورکھ پور ی کے شہر میں نصرت عتیق کا شعری مجموعہ ’’ احساس کی امربیل‘‘ کی رسم رونمائی

0
224

گورکھ پور کی رہنے والی مشہور شاعرہ محترمہ نصرتؔ عتیق کے دو شعری مجموعے ’’احساس کی امر بیل(اُردو، ہندی) کی رسمِ رو نمائی شہر کے عالی شان ہوٹل، پرگتی اِن،( وجے چوک، گورکھپور) کے ہال میں دو پہر ۱۲؍بجے ڈاکٹر عزیز احمد، ڈاکٹر کلیم قیصرؔ، ڈاکٹر اکھیلیش مسرا (آئی اے ایس)، محترمہ ڈاکٹر ستیا پانڈے ( سابق میئر) ، پروفیسر کمار ہرش، ڈاکٹر افروز عالم (صدر ۔گلف اردو کونسل) اور وفاؔ گورکھپوری کے ہاتھوں عمل میں آئی۔ ا س ادبی تقریب کی صدارت جناب ٹی ۔ این۔ شریواستو ’’وفاؔ گورکھپوری‘‘ نے کی جب کہ نظامت کے فرائض بین الاقوامی شہرت یافتہ ادیب، شاعر و تنقید نگار جناب افروز عالم نے انجام دیا۔
محترمہ نصرتؔ عتیق کے مجموعے پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے شہر کے معروف ادبی سرپرست ڈاکٹر عزیز احمد صاحب نے کہا کہ نصرتؔ ایک ایسے علمی اور ادبی خانوادے سے تعلق رکھتی ہیں جسے زمانہ ساز کہنا غلط نہ ہوگا۔ ظاہر سی بات ہے کہ اس خانوادے کا ان کی ذات پر جو اثر پڑا وہی ان کے شعری مجموعے ’’احساس کی امر بیل‘‘ میں واضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔ احساس کی امر بیل، انسانی جذبات و احساسات کا شعری دستاویز ہے۔ مہمانِ خصوصی ڈاکٹر اکھیلیش مشر(آئی اے ایس) نے کہا کہ نصرتؔ جی کے کلام میں انسانی زندگی سانس لیتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ وہ ایک ایسی تخلیق کار ہیں جس کی شرافت ، ترنم اور کلام کا ذکر اکثر بڑے لوگ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ ان کے لئے بڑی بات ہے کہ اتنے کم وقتوں میں لوگوں نے انکی تخلیقی قوت کو پہچان لیا۔ پروفیسر ہرش کمار سنہا نے فرمایا کہ نصرتؔ جی کا کلام ہم سب کے لئے فخر کا باعث ہے۔ انھوں نے دونوں زبانوں میں اپنا مجموعہ لاکر زبانوں کے احترام کو زندہ رکھا۔یہی انکی پہچان بنے گی۔ سابق میئر محترمہ ستیا پانڈے نے کہا کہ نصرتؔ میری چھوٹی بہن ہے، اس کے لئے میرے من میں ہمیشہ پیار امڈتا ہے، اس کی شاعری انسانیت کا درس دیتی ہے۔ زندگی کی اتنی مصروفیتوں میں ایک عورت کا شاعری کے لئے اتنا وقت نکالنا بہت بڑی بات ہے۔ میری نیک خواہشات ہمیشہ ان کے ساتھ رہتی ہے۔

عالمی شہرت یافتہ شاعر و ناظم ڈاکٹر کلیم قیصرؔ نے کہا کہ غالباً گورکھپور کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ ہے کہ ایک خاتون تخلیق کار کے دو شعری مجموعے وہ بھی دو دو زبانوں میں بیک وقت منظرِ عام پر آ رہے ہیں۔ ایک ادبی سرپرست ہونے کے ناطے اتنا ضرور کہونگا کہ نصرتؔ کی تخلیق میں جو مضامین اور لفظیات کی ترتیب ہوتی ہے وہ اس کا اپنا ذاتی تجربہ ہے۔محض دو سال میں نصرتؔ نے عالمی سطح پر اپنی شناخت بنا لی ہے۔ میری تمام تر نیک خواہشات اور دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔ ان کے علاوہ فاطمہ ہاسپیٹل، گورکھپور کے ڈائریکٹر فادر سابو، روٹری کلب کے موجودہ صدر جناب اروند چودھری وغیرہ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ آخر میں محترمہ نصرتؔ عتیق نے اپنے تخلیقی سفر اوراپنے شعری مجموعے کے بارے میں تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔ اس کے بعد اس محفل میں موجود مہمان شاعروں سے ان کا کلام بھی سنا گیا، ان کی گل پوشی اور شال پوشی اور ان کو سند سے بھی نوازا گیا۔ نمونہ ئے کلام درج ذیل ہے۔

احساس کی ہے یہ جو ’امربیل‘ ہاتھ میں
ہر طرح سے بلند ہے اہنے صفات میں
وفاؔ گورکھپوری

روایت ٹوٹتی ہے ٹوٹ جائے
نہ ہو روزہ تو افطاری نہ کیجے
ڈاکٹر اکھیلیش مشر(آئی اے ایس)(لکھنئو)

جس گیٹ پر لکھا ہو رہتا تھا یہ بیان
مہمان میرا ہوتا ہے بھگوان کے سمان
لیکن ترقیاتِ زمانہ تو دیکھئے
اس گیٹ پر لکھا ہے ’’کتّوں سے ساودھان‘‘ سنیل کمار تنگ،

کوشش یہ زیادہ سے نہ کچھ کم سے ہوئی ہے
تعمیرِ وطن ’میں‘ سے نہیں ’ہم‘ سے ہوئی ہے
ڈاکٹر کلیم قیصرؔ

اس کی آنکھوں کی طرف دیکھا تو احساس ہوا
راکھ کی تہہ میں کوئی آگ دبی ہو جیسے
ڈاکٹر افروز عالم

کسے ہے شوق بھلا اتنے غم سجانے کا
مگر یہ وقت ہے اب خود کو آزمانے کا
ڈاکٹر سرلا اسماء

سوندریہ بودھ نالے میں بھی ہوتا ہے
بس ڈرسٹی ’سور‘ کی ہونی چاہییٔ
ڈاکٹر انل چوبے

ؔ

رپورٹ : ٖ ڈاکٹراشفاق احمد عمر

Previous articleجاوید دانش کا ڈاکٹر ظفر کمالی سے ادبی مکالمہ از “بلاغ 18 ڈاٹ کام “
Next articleنظم ”مسلمان اور موبائل“ از: خالد عرفان (نیویارک)

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here