حکومت کی جانب سےکسانوں کو لگا بڑا جھٹکا!

0
641

نئی دہلی ،یکم دسمبر : مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ اس کے پاس کسانوں کے احتجاج کے دوران مرنے والے کسانوں اور ان کے خلاف درج مقدمات کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے۔ ایسی صورت حال میں کسی کو مالی امداد یعنی معاوضہ دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے یہ تحریری جواب لوک سبھا میں پارلیمنٹ کے جاری سرمائی اجلاس میں ایک سوال کے جواب میں دیا ہے۔

پارلیمنٹ میں سوال پوچھا گیا کہ کیا حکومت کے پاس ان کسانوں کا کوئی ڈیٹا ہے جو احتجاج کے دوران مر گئے اور کیا حکومت ان کے اہل خانہ کو مالی امداد دینے کے بارے میں سوچ رہی ہے۔ جس کے جواب میں وزیر زراعت کا یہ جواب آیا ہے۔ وزیر نے اس ایوان کو یہ بھی بتایا کہ مرکزی حکومت نے کسان لیڈروں کے ساتھ 11 دور کی بات چیت کی تھی لیکن یہ بات نہیں بن سکی۔ دوسری طرف کسان تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ احتجاج کے دوران 700 سے زیادہ کسانوں کی موت ہو چکی ہے۔

بتا دیں کہ 11 دن پہلے قوم سے اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کا اعلان کیا تھا اور اس کے لیے کسانوں سے معافی مانگی تھی۔19 نومبر کو وزیر اعظم نے کہا تھاکہ ملک سے معافی مانگتے ہوئے، میں سچے اور صاف دل سے کہنا چاہتا ہوں کہ شاید ہماری کوششوں میں کچھ ایسی کمی تھی کہ ہم کسان بھائیوں کو کو سچ نہیں بتا سکے۔ اس کے بعد انہوں نے احتجاج کرنے والے کسانوں سے گھر واپس لوٹنے کی اپیل کی تھی۔

Previous articleآن لائن روپے کی ادائیگی کرنے والے ضرور توجہ دیں!
Next article“بیٹیوں کی حفاظت کیجئے ” ایک فکری مطالعہ

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here