حکومت نے اٹھایا بڑا قدم!

0
329

(مدھیہ پردیش: Shivraj Singh حکومت نے بچوں کے بھیک مانگنے پر روک لگانے کا کیا فیصلہ)

مدھیہ پردیش کے وزیر برائے میڈیکل ایجوکیشن وشواس سارنگ کہتے ہیں کہ ہمارا صاف طور پر ماننا ہے کہ وہ نونہال جنہیں اسکول جانا چاہیئے، جنہیں اپنی زندگی سنورانے کے لئے تعلیم حاصل کرنا چاہئے۔ ایسے بچوں کو اگرکسی دباؤ میں یا کسی اور طریقے سے ایسے کاموں میں ملوث کیاجاتا ہے، جو ان کے بچپن کو ختم کرتا ہے۔

بھوپال: آپ ملک کے کسی بھی شہر میں چلے جائیے آپ کو اسکول جانے کی عمر میں بھیک مانگتے بچوں کی قطار مل جائے گی۔ مدھیہ پردیش کے بھی سبھی شہروں میں ایسے بچوں کی ایک بڑی تعداد ہے، مگر اب یہ بچے بھیک مانگتے ہوئے نظر نہیں آئیں گے، بلکہ ان کے ہاتھوں میں بھیک کے کٹورے کی جگہ کتاب اور کاپی ہوگی۔ محکمہ ویمنس اینڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ نے اس کے لئے مبسوط انداز میں پروجیکٹ بناکر اسے عملی جامہ پہنانے کے لئے کام بھی شروع کردیا ہے۔

واضح رہے کہ مدھیہ پردیش حکومت کے ذریعہ 9 مارچ کو اسمبلی میں پیش کئے گئے بجٹ میں پہلی بار چائلڈ بجٹ بھی پیش کیا گیا۔ حکومت کی جانب سے پیش کردہ بجٹ میں چائلڈ بجٹ کے حوالے سے انیس شعبوں کی نشاندہی کی گئی جن کا تعلق بچوں کی مقوی غذا، تعلیم، اسکالرشپ اور ان کی صحت سے ہے۔ مدھیہ پردیش کے وزیر برائے میڈیکل ایجوکیشن وشواس سارنگ کہتے ہیں کہ ہمارا صاف طور پر ماننا ہے کہ وہ نونہال جنہیں اسکول جانا چاہیئے، جنہیں اپنی زندگی سنورانے کے لئے تعلیم حاصل کرنا چاہئے۔ ایسے بچوں کو اگرکسی دباؤ میں یا کسی اور طریقے سے ایسے کاموں میں ملوث کیاجاتا ہے، جو ان کے بچپن کو ختم کرتا ہے۔ ان سے بھیک منگوائی جاتی ہے تو یہ اب مدھیہ پردیش میں برداشت نہیں کیا جائے گا اور اسی لئے ویمنس اینڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ وزارت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ایسے بچوں کی نشاندہی کرکے ان کے مستقبل کو بہتر بنانے کے لئے انہیں اسکول بھیجاجائے گا اور یہ بھی کوشش کی جائے گی کہ وہ بچے ایسی کسی چیز میں شامل نہ ہوں جس سے ان کا بچپن ختم ہو اور ان کا مستقبل داغدار ہو۔

وہیں مدھیہ پردیش کانگریس کے سکریٹری عبدالنفیس کہتے ہیں کہ حکومت کا اعلان سننے میں بہت اچھا لگتا ہے اور ہم بھی یہ چاہتے ہیں کہ معصوم بچوں کے ہاتھ میں بھیک کے کٹورے کی جگہ کمپیوٹر ہو، لیکن ان بچوں کے ہاتھ میں کٹورے آئے کیسے، یہ بھی تو دیکھئے۔ اس کے لئے حکومت کی پالسی ہی ذمہ دار ہے۔ یہ حکومت صرف اعلان کرتی ہے اور اعلان کے بعد اس پر عمل کبھی نہیں ہوتا ہے۔ اب تک دوہزار سے زیادہ ایسے اعلانات ہیں جن پر عمل نہیں کیا گیا ہے۔

کورونا قہر میں اپنوں کی سرپرستی سے محروم ہونے والے بچوں کو بھی گود لینے اور انکی کفالت کرنے کا حکومت نے اعلان کیاتھا مگر کیا ہوا سب کومعلوم ہے ۔حکومت نے ایسے بچوں کے لئے تو کچھ نہیں کیا البتہ سماجی تنظیموں کے ذریعہ ان بچوں کی کفالت اور تعلیم کا انتظام کیا گیا ہے۔ بھوپال ایم ایل اے عارف مسعود کے ذریعہ بھوپال کے وہ بچے جن کے والدین کا کورونا میں انتقال ہوگیا تھا، ان کی تعلیم کا انتظام کیا گیا تھا او ران کے کالج میں جتنے بھی طلبا آئے بلا لحاظ قوم و ملت سبھی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ یہ حکومت اب تک دو لاکھ اڑسٹھ ہزار کے قریب لون لے چکی ہے۔ لون کے پیسے سے ترقیاتی کام نہیں کئے جارہے ہیں بلکہ کمبل اوڑھ کر گھی پینے کا کام کیا جارہا ہے۔

Previous articleنوکری پیشہ لوگوں کو بڑا جھٹکا!
Next articleبہار میں اساتذہ کی بحالی کے لیے حکومت نے اٹھایابڑا قدم!

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here