حقانی القاسمی کے تبصرے ’’کتاب کائنات‘‘ کی روشنی میں۔۔ از : عبدالوہاب قاسمی

3
777


اردو ادب میں تدوین و ترتیب کی ایک خوشگوار روایت رہی ہے۔ بہت سے لوگ اس روایت سے وابستہ ہوکر ذہنوں کا حصہ بنے۔ تدوین نہ صرف تحقیق سے آگے کی منزل ہے بلکہ لوہے کے چنے چبانے جیسا عمل ہے۔ قاضی عبدالودود ، رشید حسن خاں اور حنیف نقوی جیسے محققین نے تحقیق و تدوین کا جو نمونہ پیش کیا وہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ آج کے بیشتر مرتّب نہ صرف عجلت کا شکار نظر آتے ہیں بلکہ ادب کے شارٹ کٹ راستے سے شہرت کے بامِ عروج پرپہنچنا چاہتے ہیں حالانکہ وہ یہ فراموش کرجاتے ہیں کہ یہاں کوئی ایسا راستہ سرے سے ہے ہی نہیں۔جس طرح اردو آتے آتے آتی ہے اسی طرح کوئی فن کار اپنی محنت اور معیاری کام کے بل بوتے دھیرے دھیرے شہرت ومقبولیت کی منزل کو پاتا ہے۔دوسروں کے مضامین و مقالات کو جمع کرکے کتاب در کتاب بنانا اور اپنی تالیفی آرزومندی کو پورا کرنا آج بعض لوگوں کی ‘ہابی’ بنتی جارہی ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ زیادہ تر مرتبین آدابِ ترتیب و تالیف سے یا تو ناآشنا نظر آتے ہیں یا پھر حصولِ شہرت کی عجلت میں انھیں نظر انداز کردیتے ہیں۔ ظاہر ہے دونوں صورتوں میں خسارہ مرتب کو ہی اٹھانا پڑتا ہے کیونکہ وقت کا احتسابی نظام بڑا سخت ہے۔

اس تمہید کے ضمن میں دیکھیں تو محمد رضوان کی مرتب کردہ کتاب ‘کتاب کائنات’ کی نوعیت ذرا مختلف ہے۔ یہ کسی ڈگری، شہرت طلبی اور تالیفی آرزو مندی کی تکمیل کو ذہن میں رکھ کر مرتب کی جانے والی کتاب نہیں ہے بلکہ اس میں مرتب کے جذبۂ جنوں اور خلوصِ فراواں کے ساتھ خدمتِ ادب کی سچی تڑپ کا عمل دخل صاف نظر آتا ہے۔ رضوان احمد اس بات سے آگاہ ہیں کہ ایسی کتابوں کو دوام اسی وقت حاصل ہوتاہے جب مرتب پوری ایمانداری کے ساتھ متن کو ترتیب دے۔ متعلقہ تمام متون کو یکجا کرنے سے زیادہ توجہ اس بات پر دینی پڑتی ہے کہ ادب میں اس کی اہمیت و افادیت کس قدر ہے۔ یہاں بعض مرتبین یہ تصور کر بیٹھتے ہیں کہ چیزیں بس قاری تک پہنچادی جائیں۔ ظاہر ہے اس تصور کے ساتھ ہم کسی اعلا تالیف و تدوین کی امید نہیں کرسکتے۔

‘کتاب کائنات’ میں رضوان احمد نے حقانی القاسمی کے تبصروں کو جمع کیاہے۔ حقانی القاسمی چار دہائیوں سے ادب کے بے لوث خادم ہیں۔ اس طویل عرصے میں ان کاقلم ہمیشہ متحرک رہا اور ملک وبیرونِ ملک کے مختلف ماہناموںاور مؤقر اخبارورسائل میں وہ شائع ہوتے رہے۔ ان کے اس طویل قلمی سفر کے محض تبصروں کو اکٹھا کرنا یقینا رضوان احمد کے خلوص اور عز مِ مصمم کا خوشگوار احساس دلاتا ہے۔مادّہ پرست اور خود پرست ادبی ماحول میں ایسے کاموں کا یارا بہت کم لوگوں میں ہوتا ہے۔ ماضی کے بالمقابل آج ادب میں معیار کو بنیاد بناکر کام کرنے سے زیادہ ذاتی اغراض کو مدِّ نظر رکھ کر خدمت کرنے کی سطحی روایت چل پڑی ہے جس کا خمیازہ حقانی القاسمی جیسے نہ جانے کتنے اہم لکھنے والوں کو بھگتنا پڑا ہے۔

حقانی القاسمی نے اب تک جتنے تبصرے لکھے ہیں وہ بقول مرتب پندرہ سو سے زائد صفحات پر پھیلے ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں ان کی کتابوں(1)فلسطین کے چار ممتاز شعرا1995 (2)طوافِ دشتِ جنوں 2003 (3)لاتخف2004 (4)دارالعلوم دیوبند کا ادبی شناخت نامہ 2006 (5)رینو کے شہر میں2007 (6) خوشبو، روشنی، رنگ2009 (7)شکیل الرحمن کا جمالیاتی وجدان2010 (8)بدن کی جمالیات2010 (9)تنقیدی اسمبلاژ2012 (10)ادب کولاژ 2014 (11) تکلف برطرف کوبھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔انھوں نے ادب اور صحافتی ادب دونوں سے اپنا رشتہ قائم کیا اور مقدار کے ساتھ معیار کو بھی ملحوظ رکھا۔ پھر بھی انھیں اب تک نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ رسمی اعتراف کی حد تک جن چند لوگوں نے ان پر مضامین یا اپنی یادداشتیں لکھی ہیں ان کی اپنی اہمیت ہوتے ہوئے بھی تفہیمِ حقانی کے لیے ناکافی ہیں۔ یہ کہاجائے تو بے جانہ ہوگا کہ ابھی ناقدوں اور قلم کاروں پرحقانی القاسمی کا قرض باقی ہے۔ان تمام پس منظر پر رضوان احمد کی نظر رہی ہوگی جب انھوں نے ’’کتاب کائنات ‘‘ کو مرتب کرنے کا ارادہ کیا ہوگا۔

‘کتاب کائنات’ میں پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی کا ایک مقدمہ شامل ہے جبکہ رضوان احمد نے ‘عرضِ مرتب’ کے تحت اپنی بات پیش کی ہے۔ مناظر عاشق ہرگانوی کا مقدمہ اہم ہے کہ وہ حقانی القاسمی کے تنقیدی اختصاص کے کئی پہلوئوں کو قارئین تک پہنچانے میں کامیاب ہے۔ ان کے بقول:
‘‘حقانی القاسمی اردو تنقید کا اہم نام ہے۔ ان کی تنقید کی بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ برہمی، خفگی اور ضعیف الاعتقادی سے کام نہیں لیتے بلکہ دیانتداری سے ذہنی صحت مندی کو تنقید میں بروئے کار لاتے ہیں۔’’ (کتاب کائنات ص13)
اوپر جس ‘ذہنی صحت مندی کو تنقید میں بروئے کار’ لانے کی بات کہی گئی ہے وہ بہت معنیٰ خیز ہے اور مناظر عاشق نے اپنے برسوں کے مشاہدات کویہاں ایک وسیعتناظر میں پیش کیا ہے۔

‘عرضِ مرتب’ 26صفحات پر پھیلا ہوا ہے اس کو پڑھ کر رضوان احمد کی فکری اور تنقیدی لیاقت اور مطالعے کی وسعت کا احساس ہوتا ہے۔ انھوں نے ابتدا میں تبصرے کی روایت کے قدیم و جدید ابعاد کو جس طرح واضح کیا ہے وہ کافی اہم ہیں جن سے مرتب کا ذہنی تناظر بھی سامنے آگیا ہیکہ اپنے موضوع کے سیاق وسباق سے وہ کس قدر آشنا ہیں۔ رضوان احمد نے اپنی تحریر میں حقانی القاسمی کے تبصروں کے منظر وپس منظر ، نشیب و فراز، اختصاص و انفراد اوربین السطور میں پوشیدہ اعلا مقاصد کو دلنشیں اسلوب میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایک جگہ وہ رقم طراز ہیں:
‘‘انھوں(حقانی القاسمی)نے اس ضمن میں چھوٹے اور بڑے فنکاروں کی تفریق نہیں کی۔ انھوں نے ہر حرف کا احترام کیا اور یہ احساس دلایا کہ لکھنے والا خواہ کسی بھی ذہنی سطح کا ہو وہ ہمارے لیے قابلِ احترام ہے۔ اگر وہ لفظ وحرف سے اپنا رشتہ رکھتا ہے تو وہ ہمارے لیے اجنبی نہیں بلکہ ہمارے ہی قبیلے کا ایک فرد ہے اور اس کی مدد یا حوصلہ افزائی کرنا سب کا فرض بنتا ہے۔’’ (ص30)
مذکورہ اقتباس میں رضوان احمد نے حقانی القاسمی کے اس باطن کو پڑھنے کی کوشش کی ہے جس میں ذاتی مقاصد سے ہٹ کر وسیع المشربی کے ساتھ زبان کو زندہ رکھنے کی تڑپ موجود ہے۔ مجموعی طور پر ‘عرضِ مرتب’ تبصرۂ حقانی القاسمی کے ابعاد کا اچھا احاطہ کرتا ہے اور مرتب کی علمی وسعت اور فکری بلندی کا احساس دلاتا ہے۔

‘کتاب کائنات‘ کو دس حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے تنقید، فکشن، افسانہ، سوانح، شخصیات؍تذکرہ، رسائل و جرائد، تراجم، تبصرہ، شاعری، تہذیب و تاریخ، صحافت اور ابلاغیات اور ‘مضامین’ ان جزئیات کودیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ حقانی القاسمی کی ادبی شخصیت میں ادب کے وسیع پہلوئوں کے مطالعے اور محاکمے کی انفرادی لیاقت موجود ہے۔

‘ کتاب کائنات’ کے مندرجات پر نظر کرنے سے پہلے تفہیمِ حقانی کے سلسلے میں کچھ باتوں کی نشاندہی ضروری معلوم ہوتی ہے۔ حقانی القاسمی کا ذہن علمی، نظر جمالیاتی اورباطن جوہرِ انسانیت سے معمور ہے۔ ان کی تمام تحریروں میں شعوری یا لاشعوری طو ر پر اس تثلیث کا خاصا عمل دخل ہے۔ بغور دیکھا جائے تو مذکورہ تینوں اوصاف ایک سچے ادیب کے لیے اہمیت کے حامل ہیں۔ اگر وہ ادیب ناقد بھی ہے تو ان کی اہمیت دوچند ہوجاتی ہے کیونکہ تنقید لکھتے ہوئے ایک ناقد کی ذمے داریاں بڑھ جاتی ہیں۔ اسے ذاتی حصار اور ذہنی و فکری تحفظات سے الگ ہوکر نقد و جرح کی شفافیت کو ہر لمحہ ملحوظ رکھنا پڑتا ہے۔ بہت سے لوگوں کی تنقیدیں آج اس لیے ‘چیستاں’ معلوم ہوتی ہیں کہ وہ ذاتی حصار اور ذہنی تحفظات میں کسی نہ کسی سطح پر گرفتار نظر آتے ہیں۔ لوگوں کی بوالعجبیاں جیسے جیسے حقانی القاسمی کے تجربات و مشاہدات کا حصہ بنتی گئیں ویسے ویسے ان کا قلم مثبت اور تعمیری ہوتا گیا۔ لوگوں نے ادبی قدروں کو نظر انداز کیا اور انھوں نے ہر ممکن طور پر ان کی اہمیت و افادیت کو واضح کیا ۔ لوگوں نے بڑوں کے عمامے گرائے اور انھوں نے سنبھالا دیا۔ نفرت، عصبیت، تنگ نظری ، خود پرستی اور مفاد پرستی کی عام فضا میں حقانی القاسمی نے محبت، الفت، یگانگت اور حقِ وفاداری کی طرح ڈالی۔ کانٹوں میں وہ پھول بنے، خوشبو پھیلائی اور لفظ لفظ کو معطر کیا ۔ یہی عطر بیزی ان کی تحریر وں کی اہم خوبی بن گئی۔ اس خوبی کو ’’خوبیِ محض‘‘ تصور کرکے حقانی القاسمی کی تحریروں کا محاسبہ نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ ان کی علمیت ، مطالعاتی وسعت ، بلند نگاہی، مثالوں اور حوالوں کے اہتمام سے ان کی تحریروں کا گراف کافی اونچا ہوجاتا ہے لہٰذا ان کو انھیں تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
ان کی دیگر کتابوں سے صرفِ نظر کرتے ہوئے ’’کتاب کائنات‘‘ میں شامل تبصروں کو دیکھیں تو یہاں کئی مشترک خوبیاں موجود ہیں۔ حقانی القاسمی نے روایتی قسم کی تبصرہ نگاری پر انحصار نہیں کیا ۔ فکرو نظر کے ساتھ متعلقہ کتاب کی اہمیت وافادیت اور عصری تقاضوں کو واضح کیا۔ کہیں اختصار سے کام لیا اور کہیں یک گونہ تفصیل کی راہ اختیار کی۔ ادب کی نئی آہٹوں ، نئے منطقوں اور نئی پہل کو سراہابھی اور جابجا اہم سوالات بھی اٹھائے۔ تاکہ جمود ٹوٹے اور تحرک کی فضا قائم ہو۔یہاں حقانی القاسمی کی کوشش یہ رہی کہ متن کے بین السطور کو زیادہ سے زیادہ پڑھا جائے اور گفتگو مربوط، منظم اور نتیجہ خیز ہو۔ انھوں نے بطورِ حوالہ اقتباسات کی کثرت کے بجاے کار آمد باتوں کی نشاندہی کی ہے۔ کسی بھی تبصرے کو پڑھنے کے بعد یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ حقانی القاسمی نے انھیں لکھتے وقت کتاب کا مطالعہ کیا پھر اپنی راے قائم کی۔

انگریزی سے لے کر اردوتک تبصروں کے دائرۂ کار میں دانشوروں کا کافی اختلاف رہا ہے۔ چنانچہ الگ الگ تعریفات، دائرۂ کار، اصول و ضوابط اور عملی اقدامات سامنے آتے رہے ہیں۔ ظاہر ہے یہ اختلاف ‘چمن میں اختلافِ رنگ وبو سے بات بنتی ہے’ جیسا ہوتا تو مفید تھا لیکن یہ تو قاری کے لیے باعثِ آزار ہے کہ وہ کس قسم کے تبصروں کو قبول کرے اور کس کو رد کرے، کسے معیاری کہے اور کسے غیر معیاری۔ ایسی ہی کچھ دشواری رہی ہوگی جب لوگوں نے تبصروں کے خانے بنائے ہوں گے۔ تعارفی تبصرے، تنقیدی تبصرے، تحقیقی تبصرے، تشریحی و تعبیری تبصرے، خالص مداحی ، خالص تنقیدی، عالمانہ اور غیر جانبدارنہ وغیرہ۔ یہاں یہ بات بھی موجبِ حیرت ہے کہ بعض ناقدین کسی بھی مبصر کے تبصروں کو مذکورہ تقسیم کے ضمن میں دیکھنے کے بجاے اپنی ذاتی پسند بلکہ ذہنی تحفظات کی بنیاد پر ردّ و قبول کی روش اپناتے ہیں جو یقینا خلافِ انصاف ہے۔ دیگر زبانوں کے بالمقابل اردو میں بھی بہت سے مبصرین نے تبصرے لکھے جو مذکورہ تقسیم کے ضمن میں آتے ہیں ان کا جائزہ بھی اسی پس منظر میں لیا جانا چاہیے۔ حقانی القاسمی کے تبصروں کی نوعیت تعارفی ہونے کے ساتھ تحسین آمیز ہے جن میں عالمانہ فکر و نظر اور نقدو جرح سے بھی کام لیا گیا ہے۔ اس قسم کے تبصرے آل احمد سرور، خلیل الرحمن اعظمی اور عنوان چشتی کے یہاں دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ متعلقہ کتاب کے پس منظر ، محرکات، افادی پہلو اور مندرجات کو قاری پر واضح کردینے کی کوشش اس قسم کے تبصروں کے اجزا ہیں جو حقانی القاسمی کے تبصروں میں بھی موجود ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ایسے تبصروں کی کیا اہمیت ہے اس تناظر میں پروفیسر عبدالحق کی یہ راے ملاحظہ کریں:
‘‘تقریظ ایک رسمِ قدیم ہے جس میں تخلیق کے محاسن و معائب اور مصنف کے کوائف کا ذکر ہوتا ہے۔ خوبیوں کا تذکرہ مطالعہ کی ترغیب دلاتا ہے ۔ کتاب کے مطالعے کا شوق پیدا کرنا تبریک کا ایک بنیادی اسلوب ہے جسے اس زمانے میں خدمتِ علم اور کارِ نیک سمجھنا چاہیے۔ اسمائے صفات کا در آنا ایک لاشعوری اخلاقی عمل ہے۔ یوں بھی تقریظ میں تنقیص کی بہت کم گنجایش ہوتی ہے ۔ دلداری اور فروغِ نظر کے لیے مبالغے سے کام لینا برا نہیں۔’’ (تبریک و تبصرے، ص8)
مذکورہ اقتباس کے پس منظر میں‘کتاب کائنات’ کے تبصرے اور تقاریظ کی اہمیت و افادیت واضح ہوجاتی ہے۔ یہاں حقانی القاسمی نے جن باتوں پر بطورِ خاص توجہ دی وہ ‘خدمتِ علم، دلداری اور فروغِ نظر’ ہے۔ انھوں نے عدمِ تنقیص کی گنجائش سے فائدہ اٹھا کر بہتوں کی زبان بند کردی ہے کیونکہ بقول ظ ۔انصاری:
‘‘علمیت بگھارنا، ہائی کورٹ کا واحد جج بن کر بیٹھنا، مصنف کی رہنمائی کی خاطر حوالوں اور بیانوں کا پورا دفتر کھولنا اور تبصرے کے بہانے اپنی اطلاعات اور تاثرات کی پوتھی پھیلا دینا۔’’ (کتاب شناسی، ص46)

جیسے رویوں سے حقانی القاسمی نے اپنے تبصروں میں گریز کیا ہے۔اس ضمن میں حقانی القاسمی کا نظریہ بھی دیکھتےچلیں:
‘‘اس سے سہیل انجم کی ذہنی ترتیب کا پتہ چلتا ہے ۔ انہوں نے تنقیص و تعریض سے گریز کرکے زیادہ تر پازیٹو نوٹ لکھے ہیں ۔تے تبصرے pickyموڈ میں نہیں لکھے گئے ہیں جبکہ آج کے کچھ تبصرہ نگار خود کو عقل کل سمجھ کر تنک مزاجی، ترشی اور تلخی کا یوں مظاہرہ کرتے ہیں کہ جےسے صاحبِ کتاب کو جلا کر خاکستر ہی کردیں گے ۔ داخلی فرسٹریشن کے شکار ہیں وہ اربابِ ہنر ہیں جو منفی ذہنیت کا زہر اپنی تحریروں میں انڈیل دیتے ہیں اور دوسروں کی اذیت میں مسرت محسوس کرتے ہیں۔ سہیل انجم نے ہر تخلیق پر متوازن، مثبت اور تعمیری انداز میں اپنے ردِّعمل کا اظہار کیا ہے ۔ ترسیل کے ہنر سے آگہی نے انھیں یہ شعور اور سلیقہ بخشا ہے۔’’ (کتاب کائنات ص309)
مذکورہ اقتباس میں حقانی القاسمی کے تبصراتی زاویہ نظر کو صاف طور پر محسوس کیا جاسکتا ہے۔ انھوں نے منفی ذہنیت کے بجائے مثبت اور تعمیری ردِّ عمل کا رویہ اپنایا ہے جس کا خوبصورت اظہار‘کتاب کائنات’ میں موجود ہے۔
‘کتاب کائنات‘ کی ایک اہم خوبی یہ بھی ہے کہ اس میں زیادہ تر ان قلمکاروں کو جگہ دی گئی ہے جنھیں ہمارے نقاد درخورِ اعتنا نہیں سمجھتے۔ میر ، غالب، اقبال، سرسید اور شبلی کے تعلق سے شائع ہونے والی کتابوں کے مبصرین اور ناقدین کی کثیر تعداد ہے جس کا الم انگیز پہلو یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ چبائے ہوئے نوالوں کو ہی چبا رہے ہیں۔ نئی جہت، نیا پہلو اور نئے مباحث گویا ٹھہر سے گئے ہیں۔ ایسے میں حقانی القاسمی کی نظر انتخاب ے پس پردہ یقینی ‘خدمت علم’ کا وسیع تناظر ہے۔ وہ اس عہد کے مجموعی ادبی مزاج کو آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے کا ایک عام مزاج پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ ظاہر ہے اس کے لیے کلاسیکی ادب اور ادیب کے متوازی نئے گمنام اور حاشیائی قلم کاروں میں اچھے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ان کی تحریروں پر محاکمے قائم کرنا ضروری ہے۔ ان کے بقول ‘‘ہمارے عہد کے مجموعی تخلیقی مزاج اور سائیکی کی تفہیم کے لیے کوئی نہ کوئی معتبر وسیلہ یا ذریعہ ہونا چاہیے۔’’ (ص۲۷۰)۔ اس حوالے سے حقانی القاسمی نے نہ صرف عملی ثبوت پیش کیا ہے بلکہ ان قلمکاروں کو سراہا بھی جنھوں نے گمنام ادیبوں پر کام کیا ہے۔ چند اقتباسات ملاحظہ کریں:
‘‘محبوب راہی نے متقدمین، متوسطین، معاصرین اور متاخرین پر مضامین لکھے ہیں لیکن ان کا سب سے اہم کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے ان حاشیائی تخلیق کاروں پر توجہ مرکوز کی جن کے یہاں بے پناہ جوہر ہیں مگر انھیں پرکھنے والا کوئی جوہری نہیں ہے ۔ ’’ (ص99)
‘‘بدر محمدی نے شاعروں پر لکھتے ہوئے متوازن اور معتدل رویہ اختیار کیا اور ان کی خاص بات یہ ہے کہ ان شاعروں کو اپنی تنقید کا حوالہ بنایا ہے جن پر نہ تو کثرت سے مضامین لکھے گئے ہیں اور نہ ہی وہ معاصر تنقیدی حوالوں میں شامل ہیں۔’’ (ص180)
‘‘فاروق ارگلی نے جن شخصیات کے بارے میں لکھا ہے ان میں سے بعض کے ساتھ تو واقعتا بہت سی سطحوں پر ناانصافیاں ہوئی ہیں۔ ان کی خدمات کا کماحقہ اعتراف نہیں کیا گیا۔ تنقیدی مقالات میں بھی تحسین و ستائش نہیں کی گئی۔’’ (ص271)
‘کتاب کائنات’ کے تبصروں میں اردو زبان ، تہذیب اور ماضی کی تابندہ روایت کے تذکرے متعلقہ کتابوں کے ضمن میں جس طرح آئے ہیں ان سے حقانی القاسمی کی اردو دوستی کے ساتھ احیاے اردو، فروغِ اردو اور توسیعِ اردو کی مجنونانہ تڑپ کا خوشگوار احساس ہوتا ہے۔ ایسے تبصروں کو لکھتے ہوئے مبصر نے کہیں جارحانہ رخ اختیار کیا ہے ، کہیں تحقیقی انسلاکات سے کام لیا ہے، کہیں اردو کے مشترکہ کلچر کے تابندہ حوالے پیش کیے ہیں اور کہیں حال اور ماضی کے منظر و پس منظر پرروشنی ڈالی ہے۔ حقانی القاسمی برسوں سے ایک قاری، ایک ناقد اور شعبۂ نشرو اشاعت سے منسلک ایک متحرک کردار کی طرح خدمتِ اردو سے وابستہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انھیں اردو کے تناظرات اورتفاعلات کا گہرا ادراک ہے ۔ اردو کے تعلق سے سردو گرم اور نشیب و فراز آئے دن ان کے تجربات و مشاہدات کا حصہ بنتے رہے ہیں۔ ایسی صورت میں ان کے باطن کا درد صفحات پر بکھرنا لازمی تھا جو بکھرا۔ مظفر مہدی، یونس غازی، اجے مالوی اور فاروق ارگلی کی کتابوں پر کیے گئے تبصروں کو پڑھیے تو اندازہ ہوگا کہ اردو کی لسانیاتی فضا اور تعصب زدہ ماحول سے حقانی القاسمی کا باطن کس کرب کا شکارہے۔
یونس غازی کی کتاب ‘اردو کے فروغ میں ہندوستانی اکادمی کا حصہ’ پر کیا گیا تبصرہ اس حوالے سے بالکل الگ نوعیت کا ہے۔اس میں متعلقہ کتاب کے ساتھ ساتھ حقانی القاسمی نے اپنی معلومات اور تاریخی حسیّت کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔ یونس غازی نے اس کتاب میں ‘ہندوستانی اکیڈمی’ کے فروغِ اردو کو محور بناکر تحقیق کی ہے۔ حقانی القاسمی نے اس کتاب کو سراہتے ہوئے جو اسلوب اختیار کیاہے وہ محققانہ اور قدرے جارحانہ ہے۔ لسانیات کے باب میں اردو کو مذہب سے جوڑکر جو متعصبانہ فضا قائم کی گئی اس تبصرے میں اس کا مدلل جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں بہت سی گمراہیاں روشن ہوگئی ہیں۔ حقانی القاسمی لکھتے ہیں:
‘‘یو نس غازی کا مقا لہ اس کالی رات کا نوحہ بھی ہے اور سماجی لسانیات کی عدالت میں ’ہندوستانی ‘ کا استغاثہ بھی ہے۔’’ (ص97)
کالی رات کے اس نوحے کی ایک تصویر یہ بھی ہے۔ ملاحظہ کریں:
‘‘یک لسانی تشخص پر اصرار نہ ہوتا تو شاید دونوں زبانوں کو زیادہ زندہ رہنے کی تحریک ملتی اور یہ دونوں زیادہ تابندہ اور توانا ہوتیں ۔ دونوں زبانیں مل کر ایک نئی قوت میں تبدیل ہو جاتیں ۔ ایک نئی زبان تشکیل پاتی جو ہندوستان کی داخلی خارجی قوت کا مظہر بن جاتی ۔ قومی اتحاد کی راہیں بھی مضبوط و مستحکم ہوتیں ۔ یہ ہندوستان کی سماجیات اور معاشیات کے لئے بھی مفید عمل ہوتا ۔مگر زبان کی استعماری اور اقتداری سیاست نے ہندوستان کے سماجی اور سیاسی نظام کو مجروح اور مضمحل کر دیا۔المیہ یہ بھی ہوا کہ زبان کو ملک اور مٹی سے جوڑ کر دیکھنے کے بجائے مذہب سے جوڑ دیا گیا اور اس کی وجہ سے زبانوں کی داخلی منطق بھی بگڑی اور خارجی منطقے بھی تبدیل ہوگئے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ زبانوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ‘زبان کا عقیدے سے نہیں اظہار سے رشتہ ہوتا ہے ۔ زبا ن پرمذہب کی بنیاد ہوتی توزبانوں کی معدومی کے ساتھ مذاہب بھی مفقود ہو جاتے یا مذہب کے ختم ہوتے ہی زبانیں بھی اپنا وجود کھودیتیں۔’’(ص85 تا86)
مذکورہ اقتباس میں جن المیوں کا ذکر ہوا ہے وہ ایک طرف حقانی القاسمی کے قلبِ مضطر کا اظہار ہے تو دوسری طرف وہ روشنی ہے جس کو شعوری طور پر ماضی تاحال گمراہیوں میں بدلنے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں۔ماضی میں اس حوالے سے جو کوششیں کی گئی ہیں حقانی القاسمی کی ان پر بھی نظر ہے چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
‘‘اور یہ کتاب ممتاز اس طرح ہے کہ ہندوستان کے لسانی تنازعات کی شدت کے تناظر میں دیکھا جائے تو جس موضوع کا انتخاب یونس غازی نے کیا ہے، وہ عصری تناظر میں گہری معنویت کا حامل بن جاتاہے۔ یہ پرانی بحث کو از سرِ نو زندہ کر نے والی کتاب ہے ۔ ہندی اردو تنازعہ پر لکھی گئی امرت رائے کی اے ہاوس ڈیوائڈیڈ ‘ کرسٹوفر آر کنگ کی ون لنگویج ٹو اسسکرپٹس ‘فرمان فتح پوری کی ہندی اردو تنازعہ اور گیان چند جین کی ایک بھاشا دو لکھاوٹ سے الگ نوعیت کی کتاب ہے ۔ اس میں مفروضات کو ذہنوں پر مسلط کرنے کی کو شش نہیں کی گئی ہے بلکہ دونوں زبانوں کے دانشوروں کے افکار ٰ و خیالات کو من و عن پیش کر دیا گیا ہے ۔ یہ حقائق کی غیر جانبدارانہ تفہیم کی ایک کوشش ہے ۔ یونس غازی نے اپنے نقطہ نظر کو پیش کرنے کے بجائے دونوں زبانوں کے تعلق سے جو مباحث تھے وہ بلا کم و کاست پیش کر دئے ہیں۔’’ (ص85)
یہ تبصرہ اپنے تناظرات میں بہت وقیع اور کار آمد مباحث کا خلاصہ ہے۔ سید سلیمان ندوی، شمس العلما سید علی محمد شاد، ڈاکٹر تارا چند، سید سجاد حیدر یلدرم، سر عبدالقادر اور مولوی عبد الحق جیسے دانشوروں کے اقوال و نظریات یہاں جس طرح پیش کیے گئے ہیں وہ یقینا مبصر کی ناقدانہ بصیرت کے عکاس ہیں۔ لسانیات کے طلبہ کو یہ تبصرہ ضرور پڑھنا چاہیے کہ انھیں اندھیرے اجالے کا فرق معلوم ہوسکے۔
حقانی القاسمی کے تبصروں میں کتاب کے ساتھ صاحبِ کتاب کو پڑھنے ، اس کے باطن میں اترنے ، اس کی فکری و فنی اور علمی لیاقت، استدلالی جوہر اور اختصاصی لہروں پر گرفت پانے کی عمدہ کوشش ملتی ہے۔ وہ ایک طرف کتاب کی گرہیں کھولتے ہیں تودوسری صاحبِ کتاب کی تصویر کشی بھی کرتے ہیں۔ دونوں پہلوئوں کی حسین آمیزش سے ان کے تبصرے وقیع، جامع اور نافع ہوگئے ہیں۔ یہ بھی ایک اہم پہلو ہے کہ کتاب اورصاحبِ کتاب کے مابین اکتشاف کا یہ عمل کتاب اساس ہے نہ کہ شخصیت اساس۔ شخصیات کے ذاتی حصار کواسی حد تک توڑا گیا ہے جس حد تک کتاب کی تفہیم میں مددمل سکے۔ یہی وجہ ہے کہ ان تبصروں کو ذاتی مدح و ذم کے دائرے میں نہیں رکھا جاسکتا۔ چند مثالیں دیکھیں :
‘‘اقبال واجد کا امتیاز اور اختصاص یہ ہے کہ وہ ہر افسانے کے باطنی ارتعاش کو محسوس کرتے ہیں اور افسانوی متون کے باطن میں داخل ہوکر معانی اور مفاہیم کا استخراج کرتے ہیں۔ انھوں نے افسانے کی تفہیم میں روایتی یا رسمی طریقِ کار اختیار نہیں کیا ہے اور نہ ہی عمومی بیانات پر ان کا انحصار ہے۔ بلکہ ان تنقیدی وسائل کا استعمال کیا ہے جن سے کہانی کی تمام تہیں سامنے آجائیں۔’’ (ص69)
‘‘محبوب راہی کو قدرت نے مغزِ سگاں نہیں مغزِ شاہاں عطا کیا ہے اسی لئے تنقیدی خلعتوں سے نوازتے وقت وہ امیر و فقیر کا فرق نہیں کرتے ۔ ایسی تنقید سے ان کا کوئی تعلق نہیں جو مقام، مرتبہ اور مفاد کو معیار گردانتی ہو اور ایسے تخلیق کاروں کو عمداً نظر انداز کرتی ہو جن سے منفعت کی ذرا بھی امید نہ ہو ۔ ایسی silo mentality کی تنقید سے تو وہ تحسین بھلی جس میں کارو بار کا شائبہ نہ ہواور تخلیق کاروں کو مہمیز کرتی ہو۔’’ (ص98 تا99)
‘‘اجے مالوی کم نگہی کی جنتِ شداد میں قیام کرتے تو شاید ان کے لئے اردو اور ویدک ادب کے داخلی ربط اور رشتوں کی جستجو آسان نہ ہوتی ۔ انھوں نے ویدک تہذیب کی گہرائیوں میں اردو زبان کی جڑتلاش کرکے اردو کی لسانی تشکیلیت کے نظریے کو ایک نیا رخ دے دیا ہے اور اردو کو خالص ویدک لفظ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔’’(ص110)
‘‘دانش غنی ایک باشعور ناقد اور زیرک قاری ہیں۔معاصر ادب ا ور اس کے رجحانات پر ان کی اچھی نظر ہے۔ان کی ادب فہمی پر شاید ہی کسی کو شک ہو۔شاعری کے تنوع، تضاد، تکرار اور تواردپر بھی ان کی نظرہے۔صنائع بدائع، محاسن ومعائبِ سخن سے بھی بخوبی آگاہ ہیں۔کلاسیکی شعری روایت اور معاصر شعری رویے سے بھی واقف ہیں اور لسانی لطافتوں اور نزاکتوں سے بھی آگاہ ہیں۔ان کے اندر تجزیاتی قوت بھی ہے اس لیے شعر فہمی کے مشکل معرکے کو انھوںنے بخوبی سر کیاہے۔’’(ص177)
مذکورہ اقتباسات سے حقانی القاسمی کے اندازِ نقد کا زاویہ منور ہوجاتا ہے۔ یہاں جس قسم کے نکات کی نشاندہی کی گئی ہے وہ کتابوں کے سرسری مطالعے یا محض رسمی تعارف جیسے طریقۂ کار سے ممکن نہیں۔
‘کتاب کائنات’ کے تبصروں میں آگہی ، بصیرت افروزی، علمی ثروت مندی اور فکری بلندی کے بہت سے مظاہر موجود ہیں۔ یہاں ایک ذہن ، ایک نظر اور ایک کردار نے کئی ذہنوں ، مختلف نظروں اورکئی ادبی کرداروں کی فکری آگہی اور علمی روشنیوں کو سمیٹا ہے جنھیں پڑھتے ہوئے قاری ایک طرف مبصر کی ذہنی فراست، مطالعاتی وسعت اور فکری ہمہ جہتی پر متحیر ہوتا ہے تو دوسری طرف خود اس کے ذہن و شعور میں بالیدگی اور فکرو نظر میں وسعت سماتی چلی جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ‘کتاب کائنات’ کا قاری کتاب شروع کرتے ہی کتاب سے بندھ جاتا ہے اور ہر لمحہ اس پر علم و آگہی کے نئے نئے آفاق روشن ہوتے رہتے ہیں۔ ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ مبصر کے چار دہائیوں پر محیط ادبی سفر کے تجربات، مشاہدات، مطالعات یہاں اس طرح جمع ہوئے ہیں کہ اس کی ادبی شخصیت میں بالغ نظری اور ادبی دانشمندی کا ایک بھر پور خاکہ نظروں کے سامنے آجاتا ہے۔ باتوں باتوں میں وہ اپنی بات اس طرح پیش کرتا ہے کہ قاری اس کے نظریات، فکریات اور آئیڈیالوجی سے آگاہ ہوجاتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہر جگہ اتفاق ممکن نہیں تاہم وہ اپنے انفرادی زاویوں کو قاری کے ذہن کا حصہ بنانے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ ہر تبصرہ ایک انکشاف ہے جس میں قاری نئے جہان کی سیر کرتا ہے۔ کیا اردو ، کیا عربی، کیا فارسی اور کیا انگریزی سبھوں کے ادبی ، تصنیفی، تالیفی ،نظریاتی ، فکریاتی رجحانات و رویے یہاں قاری پر ایک سحر قائم کرتے ہیں۔ یہ بات گزر چکی ہے کہ حقانی القاسمی کے یہاں ادب کے وسیع پہلوئوں کے مطالعے اور محاکمے کی صلاحیت ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو ’’کتاب کائنات‘‘ میں ادب کی مختلف اصناف پر لکھی گئی کتابوں پر تبصرے اور مختلف زبانوں کی کتابوں کے حوالے کا جواز نہ ہوتا۔اس پس منظر میں حقانی القاسمی کا یہ قول ان پر بھی صادق آتا ہے:
‘‘ایک جید ناقد کے لیے جس طرح مختلف علوم و فنون، ادبیات، لسانیات سے آگہی اور استحضار ضروری ہے اسی طرح ایک جامع مبصر کے لیے وسعتِ مطالعہ، ذہنی توسع اور لسانی عبور ناگزیر ہے۔’’ (ص304)
حقانی القاسمی کے تبصروں میں مذکورہ زاویوں کا اظہار کئی سطحوں پر ہوا ہے۔وہ کبھی تمہید کو بے مثال بنادیتے ہیں، کبھی ماضی کی کڑیوں کو جوڑتے ہوئے اپنی ذہانت کا ثبوت دیتے ہیں، کبھی تقابلی اسلوب میں نیا زاویہ تلاش کرلیتے ہیں اور کبھی متعلقہ کتاب کی معنیاتی لہروں میں اپنے مطالعاتی مکاشفے کا اظہار کرتے ہیں۔اگر ان کے تمہیدی کلمات کا بغور مطالعہ کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف جامعیت اور معروضیت سے لبریز ہیں بلکہ قاری کے ذہن پر متعلقہ کتاب کی اہمیت و افادیت کو روشن کرنے میں بھی ان کا اہم کردار ہوتا ہے۔ جس زبان یا جس موضوع کی کتاب پر وہ تبصرہ کرتے ہیں ان کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ اپنے وسیع مطالعے کو یہاں محض چند لفظوں یا سطروں میں سمیٹ لیں۔ اس خوبی نے ان کے آغاز کو معنیٰ خیز بنادیا ہے جس میں لفظوں کی کفایت شعاری بھی ہے اور اسلوب کی دلکشی بھی۔چند مثالیں ملاحظہ کریں:
‘‘شعری اصناف میں قصیدہ کو علوے مضامین،شوکتِ الفاظ، نادر تشبیہات، استعارات ، علامات اور صنائع وبدائع کی وجہ سے امتیاز اور انفرادیت حاصل ہے۔دنیا کی بےشتر زبانوں میں قصیدےکی روایت رہی ہے۔عربی،عبرانی، فارسی،اردو، ترکی،کردی، پشتو، پنجابی،سندھی،ملائی، سواحلی اور دیگر زبانوں میں قصیدے لکھے جاتے رہے ہیں اور ان کے انتخابات بھی شائع ہوچکے ہیں جن سے بآسانی یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مختلف زبانوں کے قصیدوں کے موضوعات اور اسالیب میں کتنا اشتراک وافتراق ہے۔ Stefan Sperl اور Christopher Shackleنے ایسا ہی ایک جامع کثیر لسانی انتخاب Eulogy’s Bounty Meaning’s Abundance کے عنوان سے کیا جاتا ہے۔’’ (ص 116)
‘‘عہدِ عباسی میں اگر ترجمے کی روایت کا آغاز نہ ہوتا،توشاید عرب دنیا بہت سے عقلی اور سائنسی علوم و فنون سے محروم رہ جاتی،اس لحاظ سے عہدِ عباسی کا بیت الحکمت صرف عربی ترجمہ نگاری کے باب میں نہیں؛بلکہ دیگر زبانوں کے ذیل میں بھی ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔اردو میں بھی مختلف علوم و فنون اور ادبیات کے تراجم اسی روایت کا تسلسل اور توسیع کہے جاسکتے ہیں۔دراصل اسی زمانے میں عربی، یونانی، سریانی، سنسکرت، ہندی، افریقی، یہودی، سندھی،شامی،رومی،مجوسی،لاطینی،حبشی زبانوں کے عربی میں ترجمے ہوئے اور اہلِ عرب ہندستان،یونان اور فارس وغیرہ کے افکار سے بھی متاثر ہوئے اور بہت سے ہندستانی ودیگر زبانوں کے الفاظ ،اصطلاحات،تعبیرات عربی زبان کا حصہ بنے،ثقافت کی سطح پر تنوع اور توسع پیدا ہوا۔اس طرح دیکھا جائے ،تو عہدِ عباسی ہی میں تقریباً بیس سے زائد اہم علوم و فنون کے عربی ترجمے سامنے آچکے تھے،جن پر آج یورپ کی سائنسی ترقیات کا دارومدار ہے۔’’ (ص:298 تا299)

‘‘نظیر اکبرآبادی کے ذہنی اور موضوعاتی کینوس کو ان پر لکھے گئے مشاہیر ادب کے مضامین سے سمجھا جاسکتا ہے بالخصوص شمس الحق عثمانی نے نظیر نامہ کے عنوان سے دو جلدوں میں جو کتاب مرتب کی ہے اس سے نظیر فہمی کی راہ ضرور آسان ہوگئی ہے مگر نظیر کے متن سے براہ راست رشتہ قائم کرنے کے لیے اور ان کے تخلیقی شعری متن کے متن میں موجزن مفاہیم تک رسائی کے لیے نعیمہ جعفری کی کتاب ‘فرہنگ کلیات نظیر اکبرآبادی’ کے بغیر چارہ نہیں کیونکہ نظیر کو اکثر لوگوں نے اپنے اپنے زاویے سے دےکھاہے اور جو حقیقی زاویہ کلام نظیر میں موجود ہے اس سے کم لوگوں کی آشنائی ہوپائی ہے۔’’(ص105)
پہلے دو اقتباسات تمہیدی پیراگراف سے منتخب کیے گئے ہیں ۔ تیسرے اقتباس کو ان کے تنقیدی استحضار اور کتاب کے باطن تک رسائی کی قوت کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔
حقانی القاسمی کے تبصروں میں ادب کی صورتِ حال، اس کے گرتے معیار، ادیبوں کی تن آسانی، حاشیائی فنکاروں اور زندہ ادیبوں پر نہ لکھنے کے منفی رجحانات اور نئے قلم کاروں کی بے راہ روی پر احتجاجی رویہ بھی ملتا ہے۔ یہ ضرور ہے کہ اس احتجاج میں انھوں نے شدّت کے بجاے ناقدانہ ملائمت سے کام لیا ہے جس سے ان کی مفکرانہ دانشمندی کا احساس ہوتاہے۔ ان کے احتجاج میں دردانگیز کیفیت کا ارتقا اس وقت متاثر کن ہوجاتا ہے جب وہ الم انگیز صورتِ حال کی نقش گری کرتے ہیں۔ چند مثالیں ملاحظہ کریں :
‘‘افسانے کی تنقید کا المیہ یہی ہے کہ زیادہ تر لوگ موضوع میں ہی الجھ کر رہ جاتے ہیں اور افسانے کی تفہیم کے دیگر عناصر خاص طور پر فنی اور تکنیکی وسائل سے گریز کرتے ہیں اور ان کے ہاں موضوع کی سطح پر بھی ایک طرح کی محدودیت ہوتی ہے۔’’ (69)
‘‘آج کے عہد میں اس کینن کو بھی توڑنے کی ضرورت ہے جو بڑے ناقدین نے اپنے تعصبات، ترجیحات اور ترغیبات کے زیرِ اثر قائم کیا ہوا ہے ۔ یہ اس حصار کو توڑنے کا ایک عمل ہے جو بڑے تنقیدی ذہنوں نے بنایا ہوا ہے کہ ان کی اقلیمِ نقد میں یہ شعرا داخل ہونے تک کے مجاز نہیں ہیں۔ یہ بڑے ناقدےن کی مملکتِ تنقید سے جلا وطن شعرا ہیں جو اپنی تمام تر تخلیقی قوتوں کے باوجودبے بس ، لاچار اور مجبور ہیں کہ ان نقادوں سے ان کا کوئی ربط یا رشتہ نہیں ہے جو سروں پر سخن وری کا تاج رکھتے ہیں۔’’ (ص181)
تاریخ و تنقید کی حاشیائی سیاست، فراموش کاری اور زندہ زبان میں مردہ پرستی کی روایت اور رویے کی وجہ سے اردو کے ساتھ ‘کیچ22’ جیسی سچویشن پیدا ہو گئی ہے۔ زندہ ادیبوں پر لکھنے کی مناہی ہے کہ سارے بھاری بھرکم تنقیدی کتبے قبر پہ آویزاں کیے جائیں گے گویا تعینِ قدر ہی موت سے مشروط ہے اور اس یقین میں بھی تعصب کا عمل دخل ہو گا کہ پھر محمد حسین آزاد کی ‘آب حیات’ سے تعصبات کا جو سلسلہ چلا ہے اس کے اثرات بہت سے ذہنوں میں اب بھی موجود ہیں۔ اسی وجہ سے بہت سے جینوئن نام ہمیشہ ادب کی تاریخ میں شامل ہونے سے رہ جاتے ہیں۔’’ (ص269)
حقانی القاسمی نے تبصرہ لکھتے ہوئے تعریف، توصیف، حوصلہ افزائی اور قوتِ تخلیق کو مہمیز کرنے والی عبارتیں ضرور لکھی ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے خامیوں، فروگزاشتوں اور تنقیدی و تحقیقی تساہلی کی نشاندہی بھی کی ہے۔ ہی وجہ ہے کہ ان کے تبصروں میں توازن اور غیر جانبدارانہ رویوں کا احساس ہوتا ہے۔ خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کا اسلوب ہمدردانہ ہے نہ کہ متعصبانہ اور جارحانہ ۔ یہ مثالیں دیکھیں:
”ذکیہ مشہدی کے افسانوں کا سماجی جدلیاتی نظام کے تناظر میں جائزہ بھی لیا ہے اور فنی اعتبار سے افعی، قصہ رمن جانکی پانڈے، قشقہ وغیرہ کو کامیاب افسانہ قرار دیا ہے۔ ذکیہ مشہدی کے افسانوں کے تجزیے میں ان کی بعض باتوں سے اختلاف کیا جاسکتا ہے کہ ان کے افسانوں کی تفہیم میں اقبال واجد کا زاویہ نظر قدرے دھندلا سا گیا ہے۔’’ (ص72)
‘‘احمد عارف کی کہانےوں میں اس طرح کے بہت سے جملے استعمال کیے گئے ہیں جن سے اگر گریز کیا جاتا تو شاید بہتر ہوتا۔ اسے بہت سے لوگ لسانی بدتہذیبی کے زمرے میں بھی رکھ سکتے ہیں۔’’ (ص252)
‘‘فاروق ارگلی تنقیدی و توصیفی بیان میں کہیں کہیں افراط وتفریط کے شکار بھی ہوئے مگر ایسا شعوری طور پر نہیں ہو۔’’ (ص272)
‘کتاب کائنات’میں اہم تبصروں کی فہرست کافی طوےل ہے جن پر انفرادی گفتگو باعثِ طوالت ہوگی۔ تاہم کچھ اہم تبصروں کے خصوصی جائزے اس لیے ضروری ہیں کہ ان سے حقانی القاسمی کے طریقۂ کار کی تفہےم آسان ہوجائے گی۔
‘مغرب میں تنقید کی روایت‘ یہ اس کتاب کا اہم تبصرہ ہے۔ پروفیسر عتیق اللہ کی کتاب کا جائزہ لیتے ہوئے حقانی القاسمی نے صاحبِ کتاب کی علمی وسعت اور تنقیدی فکریات پر عمدہ روشنی ڈالی ہے۔ کتاب کے مندرجات کا جائزہ باب در باب لیا گیا ہے اور پروفیسر عتیق اللہ کے خیالات، نکات و جہات اور اہم مباحث کے پہلو بہ پہلو یہ تبصرہ آگے بڑھتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ کتاب کے منظر و پس منظر سے قاری آگاہ ہوجاتا ہے۔ بعض جگہوں پر ایسے نکات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ کتاب کا مغز تبصرے کا حصہ بن گےا ہے۔یہ مثالیں دیکھیں:
‘‘اس کتاب کے ذریعے انھوں نے اس سرچشمے سے روشناس کرانے کی کوشش کی ہے جس سے اردو تنقید کا بہت گہرا رشتہ ہے۔’’ (ص56)
‘‘اردو کی نظری اور اطلاقی تنقید میں بھی مغربی معیارِ نقد کو ہی مدِ نظر رکھا جاتا ہے اس لیے اردو تنقید کی روایت، منہج اور طریقِ کار کو سمجھنے کے لیے مغرب کی تنقیدی روایت کا ادراک اور اس کی تفہیم ضروری ہے مگر المیہ یہ ہے کہ اردو میں مغربی تنقید کی روایت کے حوالے سے کوئی مستند اور مبسوط کتاب نہیں ہے۔’’ (56تا57)
’’اس کتاب میں جن مباحث اور موضوعات کو شامل کیا ہے وہ آج کے تناظر میں بڑی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ مغرب میں تنقید کی روایت اور رویوں کو سمجھے بغیر اردو تنقید میں کوئی پیش رفت ممکن نہیں ہے۔’’ (ص57)
یہ وہ بنیادی نکات ہیں جن سے پروفیسر عتیق اللہ کی کتاب کی اہمیت و افادیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ تنقید کے طالبِ علم کو یہ تبصرہ ضرور پڑھنا چاہیے۔
‘کتاب کائنات’ کا اک اہم، معلوماتی اور قابلِ مطالعہ تبصرہ ‘ردو اور عربی کے اہم قصیدہ گو شعرا’ ہے۔ یوسف رام پوری کی اس کتاب کا جائزہ۲۳ صفحات میں لیا گیا ہے۔ اس تبصرے میں اردو اور عربی کے قصیدہ گو شعرا پر اجمالی مگر بہت کارآمد بحث کی گئی ہے۔ یوسف رام پوری کی کتاب کے سیاق و سباق کو اس طرح ےیاں روشن کیا گیا ہے کہ موضوع کا وسیع تناظر اپنی اہمیت و افادیت کے ساتھ قاری کے ذہن کا حصہ بن جاتا ہے۔ حقانی القاسمی کے ادبی کردار میں عربی، اردو اور انگریزی تینوں زبانوں کا حسین امتزاج ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریروں میں تینوں زبانوں کے جواہر ریزے سماتے چلے جاتے ہیں۔ اس تبصرے میں بھی اس کا عمدہ نمونہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ حقانی القاسمی نے ‘فلسطین کے چار ممتاز شعرا’ کے بعد ‘طوافِ دشت جنوں‘ میں ‘‘ابونواس، خلیل جبران، اموی دور کے تین شاعر، عمر بن ابی ربیعہ اور متنبی جیسے عربی شاعروں پر جس قدر تفصیل سے لکھا وہ قابلِ مطالعہ ہے۔ اس تبصرے میں اس کا عکس نظر آتا ہے۔ یہاں محض قصائد کو محور بناکر ایک مربوط، علمی اور مفید گفتگو سے موضوع پر ان کی دسترس کا احساس ہوتا ہے۔ اس تبصرے میں یوسف رام پوری کی علمی لےاقت اور تقابلی تنقید کی بصیرت افروزی کا اعتراف کیا گےیا ہے۔ان کے طریقۂ کار، اسلوب اور قصائد کے انتخاب پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ تجزیے کے دوران مذکورہ کتاب کی انفرادی جہتوں کو اجاگر کرتے ہوئے حقانی القاسمی نے مدلل بحث کی ہے اور عربی قصائد کے متوازی اردوکے جو قصےدہ نگار شعرا یوسف رام پوری کے محور ر ہے ان کی اہمیت کو بھی نشان زد کا گیا ہے۔ یہ اقتباس دیکھیں:
‘‘اردو میں قصیدے کے تعلق سے یہ اپنی نوعیت کی پہلی تقابلی تنقید ہے جس میں دونوں زبانوں کے قصائد کا تفصیلی ،مربوط اور مرکوز جائزہ پیش کا گا ہے۔ ڈاکٹر یوسف رامپوری نے اس تقابلی طریقۂ کار کو اختیار کیا ہے جس کے ذریعے مختلف ثقافتوں کے متون کی تفہیم اور ثقافتی اظہار کی تمام شکلوں سے آگہی ہوجائے ۔انھوں نے اس تنقیدی مقالے میں دونوں زبانوں کی ادبی روایات، رجحانات، رویوں اور لسانی و موضوعاتی تبدیلیوں پر بھی نظر رکھی ہے۔ اس طرح کے مطالعے سے مختلف ثقافتی اور لسانی متون اپنی حقیقی صورت میں سامنے آتے ہیں۔’’ (ص137)
‘تخلیق کی دہلیز پر‘ کتاب کائنات کا ایک فکر انگیز تبصرہ ہے۔ نوجوان قلم کاروں کے تعلق سے حقانی القاسمی کا رویہ ہمیشہ حوصلہ بخش رہا ہے لیکن بسا اوقات اس نسل کی جانب سے کچھ ایسے سوالات قائم کردیے جاتے ہیں جن میں مضحکہ خیز عناصر شامل ہوجاتے ہیں۔ ظاہر ہے ایسے سوالات کے صحیح جوابات کا تعین بھی ناقد کی ذمے داری ہوتی ہے جس کا نمونہ اس تبصرے میں دیکھنے کو ملتا ہے۔
اس تبصرے میں حقانی القاسمی نے فاروق اعظم کی جن خوبیوں کا تذکرہ کیا وہ یقینا نسلِ نو کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ مطالعاتی وسعت، لسانیات سے واقفیت، سوالات اٹھانے کی قوت اور احتجاجی لہجہ ، یہ فاروق اعظم قاسمی کی وہ خوبیاں ہیں جن سے ان کے ادبی کردار کا انفراد قائم ہوتا ہے۔‘فضائل اعمال اور اردو ادب’ کے عنوان سے اپنے مضمون میں فاروق اعظم قاسمی نے فضائلِ اعمال کو ادبی نوشتہ قراردینے کی جو حمایت کی ہے اس پر حقانی القاسمی کی یہ رائے ملاحظہ کریں:

‘‘ادب کا قبلہ درست کرنے کے لیے اس نوعیت کا احتجاج ضروری ہے مگر یہ بھی خاطر نشاں رہے کہ ادب کو مذہبیانے کے مضر اثرات کسی سے مخفی نہیں ہیں۔ ادب اور مذہب کے مابین تفریقی ربط کو ملحوظ خاطر رکھنا چا ہیے ورنہ بہت کچھ خلط ملط ہو جائے گا۔ مذہب ایک مخصوص نظریۂ حیات کی تبلیغ کرتا ہے جبکہ ادب متضاد اور متخالف نظریات کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتا ہے ۔ مقدس صحیفوں اور مذہبی رزمیوں کے لسانی اعجاز اور قوتِ اظہار سے مقدس رہنمائی حاصل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے مگر ادبی منشور میں مکمل طور پر اس کی شمولیت سے ادب بین مذاہب مجادلہ کی رزم گاہ بن جائے گا اور اس کی آفاقیت بھی مجروح ہوگی۔ ادب کے کثیر اقداری نظام سے اگر کسی مذہبی شہ پارے کا بنیادی تصادم نہیں ہے اور اس میں ادبیت کے وافر عناصر بھی ہیں تو پھر ادب میں اس کی شمولیت کا جواز ہے اور اگر ایک خاص مذہبی فکر کی ترسیل اور تبلیغ کے عناصر کی کثرت ہے تو اسے ادب کا حصہ نہیں بنانا چاہیے ۔ مشترکہ اقدار ہی شمولیت یا اخراج کی بنیاد ہے۔ اےسی صورت میں مولانا حسین احمد مدنی کی خود نوشت ‘نقش حیات’، ‘سفرنامہ شیخ الہند’ او ر‘مکتوبات شےخ الاسلام’ تو ادبِ عالیہ کا حصہ بن سکتے ہیں مگر شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کی کتاب ‘فضائل اعمال’ کو مذہبی یا دینیاتی ادب کے زمرے میں ہی رکھا جائے گا۔یہ اور بات کہ اردو زبان کی توسیع اور ترویج اور بر صغیر سے باہر کے ملکوں میں اس زبان کے فروغ میں فضائل اعمال کا کردار اردو کی بےشتر کتابوں سے زیادہ اہم رہا ہے ۔خاص طور پر تہذیبی اور لسانی اعتبار سے اردو کلچر سے متصادم ماحول میں اس کتاب نے اردو کی شمع روشن کی ہے۔‘‘ (ص151 تا152)
مذکورہ اقتباس لکھنے والا مبصر خالص ادب اور مذہبی ادب کے پس منظر سے آگاہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے اس اقتباس میں بصارت سے بصیرت تک کا سفر طے کر لیا ہے۔ ادب اور مذہب کے مابین باریک مگر نمایاں فرق کو جس خوش اسلوبی سے یہاں پیش کیا گیا ہے اس سے شاید ہی کس کو اختلاف ہو کیوں کہ ادب ، مذہب اور ترویج تینوں گوشوں کو حقانی القاسمی نے اس کے صحیح تناظر میں قاری تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔
‘کلیات خواجہ احمد عباس’ پروفیسر ارتضیٰ کریم کی اس کتاب پر تبصرے کا انداز عالمانہ ہے ۔جس سے اس کی انفرادیت قائم ہوتی ہے۔پروفیسر ارتضیٰ کریم کی ادبی شخصیت میں جو تحرک اور توانائی ہے اس کی عمدہ مثال یہ کلیات ہے۔ آٹھ جلدوں پر مشتمل یہ کلیات اپنے آپ میں ایک دستاویزی حیثیت رکھتی ہے۔یہاں اس بات کا ذکر بے جانہ ہوگا کہ پروفیسر ارتضیٰ کریم نے تخلیق و تنقید کی بہ نسبت ترتیب و تدوین پر زیادہ توجہ دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کلیات کی ترتیب میں انھوں نے اپنے ماقبل کے تجربات اور عملی طریقوں سے بھر پور استفادہ کیا اور آٹھ جلدوں میں خواجہ احمد عباس کا ادبی نگار خانہ تیار کرنا ممکن ہوسکا۔حقانی القاسمی نے ان تمام جلدوں پر مربوط گفتگو کی ہے۔خواجہ احمد عباس کی تحریروں کے سیاق و سباق ،ماقبل انتخاب و اشاعت ،اردو اور انگریزی میں ان کے تعلق سے شائع ہونے والی کتابوں اور مضامین کے تذکروں سے یہ تبصرہ اگر ایک طرف وقیع ہوا ہے تو دوسری طرف ‘کلیات خواجہ احمد عباس’ کی اہمیت و افادیت بھی سامنے آگئی ہے۔ ان آٹھ جلدوں میں خواجہ احمد عباس کے افسانے ، ناول، سوانح، سفرنامے، ڈرامے اور مضامین کو شامل کیا گیا ہے۔ حقانی القاسمی نے اکیس صفحات میں مذکورہ اصناف پر روشنی ڈالتے ہوئے خواجہ احمد عباس کے انفرادو اختصاص کوپر تاثیر اسلوب میں تبصرے کا حصہ بنایا ہے۔یہاں اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ بڑی ذہانتوں کو پڑھنے اور ان کی تخلیقات پر تجزیہ کرنے کے لیے ایک خاص نظر کی ضرورت پڑتی ہے جو حقانی القاسمی کے پاس ہے۔ یہ اقتباس دیکھیے:
‘‘ یقین کے ساتھ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ آج کے عہد میں خواجہ احمد عباس کی طرح لکھنے والا کوئی نہیں ہے اور نہ ہی ہمارا عہد دوسرا خواجہ احمد عباس پیدا کرسکتا ہے۔ ان کی تحریروں میں دوامیت کے نقوش ہیں اور کہیں ایسا نہیں لگتا کہ وہ تحریریں ایک خاص عہد کے لیے لکھی گئی ہیں، ان تحریروں کی ایک خوبی یہ ہے کہ ان میں آفاقی اقدار ہیں اور انہی آفاقی قدروں کی وجہ سے یہ تحریریں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ یہ صرف تحریریں نہیں ہیں بلکہ وہ روشنی اور اجالے ہیں جو خواجہ احمد عباس کے ذہن سے نکل کر تحریروں میں بکھر گئے ہیں اور یہ صرف ان کے ذہن کی نہیں بلکہ روح کی بھی روشنی ہے۔پروفیسر ارتضیٰ کریم صاحب مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے خواجہ احمد عباس جیسی متنوع اور جامع الکمالات شخصیت کی تحریروں کو یکجا کردیا ہے۔ نگارشاتِ خواجہ احمد عباس کی یہ بازیافت یقینا ایک بڑا کام ہے۔’’(ص219)
مذکورہ اقتباس میں خواجہ احمد عباس کے جن فنی کمالات کا اعتراف کیا گیا ہے ان سے مبصر کی ذہنی فراست اور ناقدانہ شعور کا اندازہ ہوتا ہے۔ ایسے فیصلے وسیع النظری کے ساتھ فن کے باطن میں اتر کر ہی دیے جاسکتے ہیں۔حقانی القاسمی کی اس راے سے اس مبسوط کلیات کا جواز بھی فراہم ہوجاتا ہے۔
‘کتاب کائنات’ میں شامل ‘بہار مےں اردو افسانہ’ ، ‘ہے رام کے وجود پہ ہندوستاں کو ناز’، ‘’تاریخ مدینہ بجنور’، ‘بادۂ مغرب’، ‘مطالعات’، ’تاریخ کوروڈیہہ’ اور ‘دہلی میں عصری اردو صحافت’ جیسی کتابوں پر اچھے اور مفید تبصرے ہیں جن سے کتاب کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔
‘کتاب کائنات’ کا ایک اہم باب ‘شاعری’ ہے۔ اس میں اٹھارہ کتابوں پر تبصرے شامل ہیں۔ حقانی القاسمی نثری اصناف کے ساتھ ساتھ شعری اصناف پر بھی بکثرت لکھتے رہے ہیں۔ یہ بھی ایک سوال ہے کہ وہ مذکورہ دونوں اصناف پر لکھتے ہوئے کس میں زیادہ کامیاب ہیں؟ اس کتاب کے مجموعی مطالعے سے اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ متوازی صورت دونوں جگہ موجود ہے۔ وہ جس گہرائی اور گیرائی کے ساتھ نثری کتابوں پر لکھتے ہیں ، شعری کتابوں پر بھی اسی بلند نگاہی اور ناقدانہ طور کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ چنانچہ اس باب کے تبصرے بطورِ دلیل پیش کیے جاسکتے ہیں۔ شاعری پر تبصرہ کرتے ہوئے حقانی القاسمی جن بنیادی باتوں پر توجہ دیتے ہیں ان میں جمالیات، زبانوں کے تشکیلی عناصر، خیالات کی بلندی ، موضوعاتی تنوعات اور شعروں میں زندہ رہنے کی قوت اورعصری حسیت شامل ہیں۔ وہ اشعار کی تشریحی تنقید نہیں لکھتے اور نہ ہی اسکولی تنقید کی پاسداری پر توجہ دیتے ہیں۔وہ انفرادی قرأت اور امتیازی اشارات سے اشعار میں شامل ‘چیزے دیگراست’ کا عنصر تلاش کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ شاعروں کے فکری ارتعاشات اور نئی جہات کو بہت واضح انداز میں نمایاں کرتے چلے جاتے ہیں۔انھیں اشعار میں انسانیت نوازی، اقدار سے محبت، تہذیبی اور ثقافتی سلسلے، سماجی تعامل، عصری تفاعل، احتجاجی لب ولہجہ، باغیانہ تیور، فرقہ وارانہ ہم آہنگی، احساسات، کیفیات اور سرشاری جےسے پہلوؤں کی جستجو رہتی ہے۔ ان کے یہاں اشعار کی جمالیاتی، موضوعاتی اور فکری سطحیں منفرد انداز میں روشن ہوتی ہیں۔باضابطہ تقابلی مطالعے کے بالمقابل وہ یکساں موضوع پر دوسروں کے اشعار کا استعمال ایک آئینے کے سامنے دوسرا آئینہ رکھنے کی طرح کرتے ہیں۔حقانی القاسمی شعروں سے مکالمہ کرتے ہوئے ان کی پر اسراریت اورروحانیت کو اپنے باطن میں محسوس کرتے ہیں ۔ شاعری ان کے نزدیک بڑی ذہانتوں کا زائچہ ہے اور ان کے مطابق اظہار کی زمین بڑے تخیلات سے ہی شاداب ہوتی ہے۔حقانی القاسمی کے ذہنوں میں شاعری کے کیا تصورات ہیں اگر ان کا ادراک ہوجائے تو ان کے اس قسم کے تبصروں کی تفہیم آسان ہوجائے گی۔ اس حوالے سے یہ مثالیں دیکھیں:
‘‘حرف حرف حیرتوں کے در کھولنے والی شاعری روبرو ہو تو ذہنی وجود اےک عجب ارتعاشی کیفیت سے ہمکنار ہوتا ہے۔’’ (ص336)
‘‘بہت سا خونِ جگر جلتا ہے تو ایک خیال وجود میں آتا ہے اور اظہار کی قندیل روشن ہوتی ہے۔’’ (ص346)
‘‘کہتے ہیں کہ احساس واظہار میں گلِ ناشگفتہ کی خوشبو تحلیل ہوجائے تو شاعری کی کیفیت فزوں تر ہوجاتی ہے۔’’ (ایضاً)
‘‘شاعری صرف قافیہ پیمائی یا تک بندی کا نام نہیں ہے بلکہ زندگی کی بنیادی حقیقتوں کے عرفان سے عبارت ہے۔’’ (ص401)
‘‘وجدان کی سانسیں صحت مند یا لمبی نہ ہوں تو پھر شاعری چھوٹی رہ جاتی ہے۔’’ (ص402)
مذکورہ سطور سے اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ حقانی القاسمی کے یہاں شاعری ایک مقدس تخلیقی عمل ہے جس سے نہ صرف ذہنی وجود میں ارتعاش برپا ہوتا ہے بلکہ زندگی کی بنیادی حقیقتوں کا عرفان بھی نصیب ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے شاعری پر تنقید لکھتے ہوئے اپنا ایک انفرادی دائرہ اور نہج قائم کیا۔
شاعری پرتنقید لکھتے ہوئے جن بنیادی تقاضوں کو مدِّ نظر رکھنا چاہیے حقانی القاسمی ان سے بھی آگاہ ہیں۔ اس ضمن میں بدر محمدی کی کتاب ‘ہم عصر شعری جہات‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے انھوں نے جو تمہیدی باتیں لکھی ہیں انھیں دیکھا جاسکتا ہے۔ وہاں انھوں نے ‘شاعری پر تنقید کا حق کسے ہے؟’ جیسے سوالات قائم کیے پھر ان کے جو جوابات دیے ہیں وہ لائقِ توجہ اور قابلِ مطالعہ ہیں۔ وہ اپنا انفرادی زاویۂ نظر پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
‘‘میری نظر میں شاعری پر سچی تنقید صرف وہی لکھ سکتا ہے جو مختلف اصنافِ سخن کی ہئیتوں اور بحور و اوزان سے واقف ہو، خاص طور پر وہ شعری ہیئتیں جن کا ذکر شمیم احمد نے ‘اصنافِ سخن اور شعری ہیئتیں’ میں کیا ہے یا جو مولوی حکیم عبدالغنی نجمی رام پوری کی کتاب ‘بحر الفصاحت’ اور دیگر بیان و بدیع کی کتابوں میں ملتا ہے۔’’ (ص178)
انھوں نے یہ بھی لکھا کہ شاعری پر تنقید لکھنے والوں کے لیے اقسامِ شعر، اصطلاحات، محاسن و معائب، کثرتِ معانی اور جمالیاتی پہلوؤں کا ادراک ضروری ہے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ ‘نکاتِ سخن’،‘اصلاحِ سخن’، ‘مقدمۂ شعرو شاعری‘ اور ‘شعر العجم’ جےسی کتابوں میں شاعری کے حوالے سے جو فنی نکات درج ہیں ان پر بھی ناقد کی نظر ہونی چاہیے۔ یہاں انھوں نے یہ شکوہ کیا ہے کہ آج شاعری پر کثرت سے تنقیدی مضامین لکھے جارہے ہیں لیکن ‘اعلیٰ شعری تنقید کا نمونہ نہیں ملتا۔’’ ان کا یہ شکوہ بھی بجا ہے کہ بیش تر ناقدین ‘‘شاعری کے نفس ِمفہوم کی تعبیرو تشریح میں ہی محصور ہوکر رہ جاتے ہیں’’ (ص۱۷۹)اس تناظر میں ان کی کتاب ‘ادب کولاز’ میں شامل ان کے مضمون ‘تنقید نہ کہ تصغیر‘ کو بطورِ خاص دیکھاجاسکتا ہے جس میں ان کے تنقیدی نظریات کے مزید پہلو سامنے آئے ہیں۔ یہاں حقانی القاسمی کی شعری تنقید کو ان کے قائم کردہ اصول کی روشنی میں بھی پرکھا جانا چاہیے ۔ چند مثالیں دیکھیں :
‘‘یاس یگانہ چنگیزی اور شاد عارفی جیسی نشتریت نے شکیل جمالی کے تخلیقی اظہار کو شعلگی عطا کی ہے اور ان کے احساس کو شعلہ فشاں کیا ہے۔ لہجے میں یہ شعلگی، یہ تمازت، یہ تپش دراصل معاشرتی مکروہات اور جبرِ زمانہ کا ردِّعمل ہے۔’’ (ص333)
‘‘یاور کے موضوعی منطقہ میں افکار کی وہ لہریں مرکزی اہمیت رکھتی ہیں جن کا رشتہ ان ازلی تہذیبی قدروں سے ہے جن سے انسانیت کو معراج ملتی ہے۔’’ (ص338)
‘‘یہ اشعار ان کی داخلی سائیکی، جذباتی مدو جزر اور جمالیاتی قدرکا مظہر ہیں۔ انھوں نے رومانی احساسات کو لفظوں کے نئے تلازمے کے ساتھ پیش کیا ہے اور شاعری میں اس سوزِ دروں کو زندہ رکھا ہے جس کے نہ ہونے سے شاعری بے کیف سی لگتی ہے۔’’ (ص359)
مذکورہ اقتباسات میں شاعر کے ساتھ ساتھ اشعار کے باطن میں اترنے کی جو جستجو ہے وہ دیگر نقادوں سے بہت مختلف ہے۔یہی انفراد حقانی القاسمی کا اختصاص ہے۔
حقانی القاسمی کے یہاں اسلوب اور مستعمل زبان کا معاملہ معاصر تنقیدی زبان و اسلوب سے بہت مختلف ہے۔ اس حوالے سے ان کا وہ انٹر ویو سنا جاسکتا ہے جس میں خان رضوان کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں ‘‘ میری زیادہ تر کتابیں تنقید کے حوالے سے ہیں۔جو مضامین ہیں انھیں آپ تبصرہ کہہ سکتے ہیں، کچھ کو انشائیہ نما مضامین بھی کہہ سکتے ہیں اور کچھ میری تخلیقی سفر کی روداد بھی ہے۔ کئی کئی رپور تاز بھی ہیں، کہیں ان کے اندر خود نوشت کے عناصر بھی ہیں ۔ جیسے ‘رینو کے شہر میں’ ہے اس کو آپ کسی ایک صنف میں قید نہیں کرسکتے نہ وہ تحقیق ہے ، نہ تنقید ہے، نہ انشائیہ ہے۔ تو ظاہر ہے کہ میں نے صنفی حدود کو بھی توڑنے کی کوشش کی ہے اپنی تحریروں میں۔’’
اسد رضا کی یہ رائے بھی دیکھتے چلیں:
‘‘حقانی القاسمی کی زبان قدرے مشکل ہوتی ہے۔ اس لیے مرحوم مظہر امام نے ایک مرتبہ ان کی اردو تحریروں اور فکر کی ستائش کرتے ہوئے فرمایاتھا: ”ارے بھئی حقانی میاں اردو میں کب لکھو گے؟”۔ یہ صحیح ہے کہ تنقید وتحقیق کی زبان عموماً مشکل ہوتی ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ حقانی صاحب چونکہ عربی زبان کے بھی ماہر ہیں؛ لہٰذا ہمیں ان کے معنی عام اردو لغات میں نہیں ملتے۔ دراصل اردو لغات میں عربی،فارسی اور ہندی کے الفاظ کے معنی ومفہوم تو آسانی سے نظر آجاتے ہیں عربی،عبرانی اور یونانی کے الفاظ واصطلاحات کے معنی تلاش وجستجو کے بعد بھی دکھائی نہیں دیتے۔ اسی لیے اردو کے بڑے بڑے پروفیسر اور دانشور حقانی القاسمی کی زبان وبیان کی روانی،فکر کی جولانی اور بین السطور کی کہانی کو پڑھ کر انگشت بہ دنداں رہ جاتے ہیں۔’’ (اردو ویب سائٹ ‘قندیل’ اشاعت16نومبر2019)
مذکورہ دونوں اقتباسات سے حقانی القاسمی کے اسلوب کا کوئی واضح نقشہ سامنے نہیں آتالیکن ڈاکٹر انور سدید نے کچھ واضح لفظوں میں اشارے کیے ہیں ۔ ملاحظہ کریں:
‘‘اس کتاب (طوافِ دشتِ جنوں)کے ادبی اسلوب پر بنارس اور دیوبند کی چھتری تنی ہوئی ہے لیکن علی گڑھ بھی ہر ورق پر روشنی بکھیر تا نظر آتا ہے۔’’
(تخلیق لاہور، اپریل 2006ص124)
ڈاکٹر سدید انور کی تمام کڑیوں کو جوڑ کر یہ کہا جائے توبے جانہ ہوگا کہ حقانی القاسمی کا تنقیدی اسلوب ‘دماغ اساس’ اور ‘روح اساس’ ہے۔ کیونکہ ان کی تنقیدی تحریریں محض مناسب ترین لفظوں کے انتخاب کا ڈھانچہ نہیں بلکہ ان کی شخصیت سانس کی طرح ان میں سرگرم رہتی ہے۔ وہ جتنا شخصی ہے اتنا ہی غیر شخصی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو بڑے بڑے پروفیسر ان ان کے مداح نہ ہوتے۔
جہاں تک ان کی زبان میں عربی کے ساتھ دیگر زبانوں کے الفاظ و تراکیب کے استعمال کی بات ہے تو یہ بہت حد تک درست ہے۔ اس کتاب میں شامل ایک تبصرے ‘نارنگ زار’ کو بطورِ مثال پیش کیا جاسکتا ہے لیکن یہاں ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہم زبان اور ذخیرۂ الفاظ پر قدرت رکھنے کے معاملے میں مفلس، مزید مفلس ہوتے جارہے ہیں۔ ایسے میں اپنا الزام کسی ایسے ادیب پر نہیں ڈال سکتے جو زبان کو ایک دائرے میں رہ کر ثروت مند بنا رہا ہے۔ اس تناظر میں دیکھیں تو حقانی القاسمی کے یہاں دیگر زبانوں کے مستعمل الفاظ اردو کی بنیادی جڑوں سے وابستہ ہیں جنھیں ہم فراموش کرتے جارہے ہیں۔ یہی الفاظ حقانی القاسمی کی تحریروں میں ڈھل کر روشن اور حیات بخش ہوگئے ہیں۔جو لوگ ‘اردو کی پہلی کتاب’ والی نثر ہی جانتے ہیں انھیں حقانی القاسمی کیوں کر پسند آئیں گے؟ حقانی القاسمی ان ادیبوں کی طرح نثر لکھنا نہیں جانتے جن کے مضامین کو پڑھ کر بقول خلیل الرحمن اعظمی ‘‘طبیعت اسی طرح بھاگتی ہے جس طرح ‘طاعت و زہد ’ سے۔’’(مضامین نو، ص154) ۔

‘کتاب کائنات’ میں حقانی القاسمی کی ذہانت و صلابت اور پختہ علمی و استدلالی اسلوب کا عمدہ اظہار ہوا ہے۔اس کتاب کو پڑھنے کے بعد قاری کے اندر کسی قسم کی محرومی کا احساس باقی نہیں رہتا۔ منتخب کتابوں کے گہرے اسرار، مصنف اور مرتب کے علمی و ادبی زاویے اور ہر تبصرے میں ایک نیا احساس، نئی روشنی اور نئی جہات اس پر روشن ہوتی رہتی ہیں۔امید ہے کہ تبصرے کی دنیا میں اس کتاب کے ذریعے حقانی القاسمی کی ایک نئی اور دیر پا شناخت قائم ہوگی۔

Abdul Wahab Qasmi
Madrasa Ismail Shaheed Takiya Siwan
841226 Bihar
Near Shining Star Public School

Previous articleحجاز مقدس کا پامال ہوتا تقدس از: مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
Next articleیوپی الیکشن: نہیں ہے کسی کو بھی سیاست کے معیار کو گرنے کی فکر !! از :جاوید اختر بھارتی

3 COMMENTS

  1. مضمون عمدہ ،دلچسپ اور تنقیدی ہے۔ حقانی القاسمی کی ادبی شخصیت کا یہاں جس طرح اعتراف کیا گیا ہے وہ قابل داد ہے۔سیمانچل کے اس گوہر نایاب پر ایسی تحریر بہت کم نظر سے گذری۔عام طور پر ہمارا ادبی معاشرہ جس بے حسی کا شکار ہے،ایسی تحریریں گاہے بگاہے سامنے آتی رہنی چاہیے۔مضمون نگار یقیناً قابلِ داد ہیں۔

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here