حسرت ان غنچوں پہ ہے (مظفرؔ ، انیقہؔ اور شکیبؔ کے نام) از:ڈاکٹر عطاعابدی

1
124

شہادت کی بدولت وہ کئی معنوں میں زندہ ہے
زمیں پر سرخرو ہو کرفلک والوں میں زندہ ہے
مری آنکھوں میں وہ رنگوں کی صورت جھلملاتا ہے
مرے ماضی کا یہ قصہ مرے خوابوں میں زندہ ہے
قضا تو آنی ہے سب کو فنا ہوتے ہیں سب لیکن
محبت درد کی صورت سب انسانوں میں زندہ ہے
اسی کا یاد پر غلبہ ،اسی کا روح پر قبضہ

جدا مجھ سے ہوا ہے وہ مگر سانسوں میں زندہ ہے
مرے شامل نہیں ہے وہ یہ کیسے مان لوں آخر
وہ میرے گھر میں رہتا ہے مرے اپنوں میں زندہ ہے
گلستاں سے مرے جس گل کو کل گلچیں نے توڑاتھا
وہ خوشبو بن کے اب ہر سوچمن زاروں میں زندہ ہے
مجھے رستہ دکھاتا ہے مرے شب ہائے غم میں وہ
مجھے محسوس ہوتا ہے کہ وہ تاروں میں زندہ ہے
میں اس سے بات کرتا ہوںمیں اس کی بات سنتا ہوں
عجب احساس کی دنیا مری یادوں میں زندہ ہے
یوں غم ہائے انیقہؔ و شکیبؔ اترے مظفرؔ پر
لگا ماضی کا زخم اب حال کے لمحوں میں زندہ ہے
مجھے دنیا کی رونق یونہی بے معنی نہیں لگتی
عطاؔ اک شہر خاموشاں مری آنکھوں میں زندہ ہے

Previous articleاردو میڈیا فورم کےزیراہتمام مولانا محمد باقر کو خراج عقیدت پیش کرنے کا اعلان
Next articleضلع کٹیہار میں اردو شاعری کا منظر نامہ ( قسط اول ) از: احسان قاسمی

1 COMMENT

  1. Allah in masoomon ko Apne jaware Rahmat me jagah de. In ke waledain ko sabre jamil ata farmaey. Gham me braber ki sharik.. NAZNIN.

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here