حافظ طلحہ کے پائیلٹ بننے پر منظوم تاثرات “دیوانے مدارس کے یوں خود بڑھاتےہیں” از: حامد حسین ندوی

0
175


دیوانے مدارس کے یوں خود کو بڑھاتے ہیں
ہر سو میں علم دیں کا دنیا کا اٹھاتے ہیں

محنت کی مشقت کی تاریخ جو لکھتے ہیں
آغوش میں طوفاں کے آندھی کے جو پلتے ہیں۔

طلحہ بھی اسی رہ کا بے باک سپاہی ہے
منزل کی تڑپ تھی اور منزل پہ رسائی ہے

ہم سب کے لیے اب وہ اک عمدہ نمونہ ہے
منزل نہ ملے جب تک ہر گز نہیں رکنا ہے

افلاک کی دنیا کی اب سیر کرے گا وہ
اونچی بھی اڑان اپنی ہر سو میں بھرے گا وہ

اٹھ باندھ کمر یارو ، کہرام مچا دو اب
منزل نہ ملے جب تک ٹہریں گے نہیں ہم سب

ہے وقت یہی حامد ۔امت کی بھلائی کا
ماضی کی خطاؤں کی بھرپور تلافی کا

Previous articleنعتوں اور غزلوں کا حسین مجموعہ بنام ” آیئنہ ” میرے مطالعہ کی روشنی میں از:عبد الرحیم برہولیاوی
Next articleبرصغیر کے نامور قلمکار خورشید حیات کا انٹرویو از: گُل بانو(پاکستان)

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here