جن کے کردار سے آتی ہے صداقت کی مہک از : رازد اں شا ہد

0
503

بچپن کے امتحانوں میں ایک سوال کثرت سے آتا تھا کہ’’ اپنے پسندیدہ استاد ‘‘ پر مضمون قلم بند کریں مگر اس وقت استاد کی قدرو قیمت کا اندازہ ہی نہیں ہواتھا بلکہ یقین مانیں اس وقت تو استاد کوئی اچھی مخلوق کا باشندہ بھی معلوم نہیں پڑتاتھا۔ جب استاد کے صحیح معنی سمجھ آنے لگے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ کسی استاد کی شان ، عظمت کو بیان کرنے کے لیے الفاظ کا ذخیرہ بھی بے معنی ہے۔ استاد کی ہستی کو الفاظ کے موتیوں میں پڑو کے لکھنا انتہائی دشوار ہے مگر میں آج یہ جسارت کر رہا ہوں اور اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ کو لے کر استادکی عظمت کو بیان کرنے کی ایک ناکام کوشش کررہا ہوں۔

تعلیم میرے نزدیک تہذیب کا دوسرا نام ہے اور تربیت اسی تہذیب کو سکھانے کا ایک وسیلہ ہے ۔استاد ہی وہ شخصیت ہے جو تعلیم و تربیت کا محور و منبع ہوتا ہے۔ ہمارے یہاں اگرچہ استادوں کی تربیت کو استادوں کی تعلیم کہا جانے لگا ہے مگر ہمارا طریقہ ء کار اور بڑی حد تک ہمارا اندازِ فکر بدستور ہے۔ کسی بھی انسان کی کامیابی کے پیچھے اس کے استاد کی تربیت کارفرما ہوتی ہے۔ اساتذہ انسان کی زندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انسان کی زندگی استاد کے بغیر ایسی ہی ہے جیسے ماں کے بغیر گھر۔خوش قسمت ہیں وہ لوگ جنھیں زندگی میں بہترین اساتذہ میسرہوتے ہیں۔ایک نوخیز بچے سے لے کر کامیاب انسان تک کا سفر استاد کی کارکردگیوں کی مرہونِ منت ہوتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ کس طرح دنیا کے عظیم استادوںنے اپنے شاگردوں کو کہاں سے کہاں پہنچادیا۔ استاد کی تعظیم ہم پر فرض ہے اور کیوں نہ ہو، استاد ہی کی محنت کی وجہ سے انسان بلندیوں تک پہنچتا ہے ۔تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو انسانی تاریخ اساتذہ کے احترام و تکریم کی سنہری داستانوں سے بھری ہوئی ہے۔ کیا بادشاہ، کیا شہنشاہ کیا ولی، کیا صحابہ کرام سبھی نے اپنے اساتذہ کی تعظیم و تکریم کی بہترین مثالیں رقم کیں۔

مشہور قول ہے کہ ’’جس نے معالج کی عزت نہ کی، وہ شفا سے محروم رہا اور جس نے استاد کی عزت نہ کی، وہ علم سے محروم رہ گیا۔‘‘استاد کی بے ادبی اور ناراضگی علم کے نور اور برکت کو زائل کردیتی ہے۔اس بات کو تسلیم کرنے میں کوئی چوں چرا ںنہیں کہ وہی قوم عروج و ارتقاء حاصل کرتی ہے جو اساتذہ کرام کی عزت وتکریم کرتی ہے، اور جب تک معاشرے میں اساتذہ کرام کا احترام ہوتار ہے گا تب تک معاشرہ ترقی یافتہ ہوتا رہے گا، لیکن جب اساتذہ کرام کا احترام اور تقدس ختم ہوجائیگا تو وہ معاشرہ بھی زوال پذیر ہوجائیگا۔اساتذہ تو علم کے روشن منارے ہیں۔ اگر اس دنیا میں استاد نہ ہو تے تو یہ دنیا جہالت کی اندھیر نگری ہوتی۔ یہ تو استاد کا احسان ہے جنہوں نے ہمیں علم کے نور سے منور کر کے جہالت و گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر معاشرے میں زندگی گزارنے کے گر اور آداب سکھائے۔استاد علم کی منہ بولتی تصویر اور اخلاق و آداب کا نمونہ ہوتا ہے اور اس کی ذات معاشرے میں مرکزی کردار کی حیثیت رکھتی ہے۔ استاد اگر حقیقی معنوں میں استاد ہو تو اپنے شاگردوں کی زندگیاں بدل دینے کے ساتھ، قوم کی تقدیر میں بھی صالح انقلاب پربا کردیتا ہے۔استاد کی عظمت اور فضیلت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ربِ ذوالجلال خود سب سے پہلے اور بڑے معلم ہیں۔ ارشادِ ربانی ہے: (ترجمہ و مفہوم) ’’ پڑھ تیرا رب بہت بزرگی والا ہے جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا اور انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔‘‘

حضرت علی فرماتے ہیں جس نے مجھے ایک لفظ سکھایا وہ میرا استاد ہے اور میں اس کا غلام ہوں چاہے تو مجھ کو آزاد کر دے یا رکھ لیں۔استاد اور شاگرد کا تعلق علم کی بنیاد پر ہوتا ہے شاگرد اپنے علوم کو استاد سے لیتا ہے گویا استاد ایک دریا ہے جس میں علم کا پانی موجیں مارتا ہے اور شاگرد اس دریا میں غوطے لگا کر اس کی گہرائی سے موتی ہیرے اور جواہرات نکال کر اپنے دامن میں بھرتا ہے۔ یا یوں سمجھیں کہ استاد اور شاگرد کی مثال ایک چمنستان کی سی ہے۔ کے استاد دامن کا روح رواں ہوتا ہے۔جس سے چمن کی رونق بہار رہتی ہے اور چمن میںخوش منظر قائم رہتے ہیں اور شاگرد اس چمن کا ایک پھول ہوتا ہے۔ جس سے خوشبو پھیلتی ہے اور فضا علم کی خوشبو سے معطر ہو کر قلب و جگر کو سکون اور ٹھنڈک پہنچاتی ہے۔ چمن کی آبادی پھول سے ہوتی ہے اور پھول اہمیت چمن کے مرہون منت ہے۔گویا دونوں ایک دوسرے کی پہچان ہوتے ہیں۔ اس طرح شاگرد اور استاد کی پہچان اور اس کی قابلیت کے عملی جوہر کا مظہر ہوتا ہے استاد شاگرد کی قابلیت کے جوہر اور اس کی استعداد کا منبع اور محور ہے۔

تاریخ میں بڑی بڑی تبدیلیاںاساتذہ کی وجہ سے آئی ہیں یہ ان کے کردار ہی تھے جو تبدیلیوںکے باعث بنے۔ایک بندے کا ویثر ن ہوتا ہے اور پورا زمانہ بدل جاتا ہے۔ اس کی ایک متاثرکن شخصیت ہوتی ہے۔اس میں اخلاقیات ہوتی ہیں۔اس میں برداشت ہوتی ہے۔ اس میں ظرف ہوتا ہے۔ اس کے پاس علم ہوتا ہے۔ اپنے مضامین پر عبور ہوتا ہے۔ اس کو انسانی نفسیات کا پتا ہوتا ہے۔وہ انسانی مزاج سے واقف ہوتا ہے۔اسے علم ہوتا ہے کہ کن بچوں کو دیکھنے سے سمجھ آتی ہے، کن کو سننے سے سمجھ آتی ہے اور کن کو محسوس کرنے سے سمجھ آتی ہے۔ اس کی شخصیت سے لوگوں کو فائدہ ملتا ہے۔ استاد ایک اچھا موٹیویٹر اور کونسلر ہوتا ہے اس کی باتیں سن کر لوگوں کی سوچ میں تبدیلی آتی ہے اور وہ لوگوں کے دلوں پر حکومت کرتا ہے ۔ایک بہترین اور معاشرے کے خیرخواہ استاد کے اوصاف:ٍ
کامیاب ترین استاد وہ ہے جو اپنے علم پر پہلے خود عمل کرے تبھی طلبہ اس کی باتوں پر عمل کریں گے، کسی دانا کا قول ہے کہ عالِم جب اپنے علم پر عمل نہیں کرتا تو اس کی نصیحتیں دلوں سے اس طرح پھسل جاتی ہیں جس طرح سخت چٹان سے بارش کے قطرے پھسل جاتے ہیں ۔استاد کو حْسنِ اَخلاق کا پیکر ہونا چاہئے تاکہ ذہین وغیر ذہین تمام طلبہ اس سے استفادہ کرسکیں، اکثر دیکھا گیا ہے کہ سخت رَوَیّے والے اساتِذہ کے غیر ذہین شاگرد ناکامی ہی کی طرف گرتے جاتے ہیں جس کی بڑی وجہ استاد کے سامنے اپنا ما فی الضّمیر(یعنی دلی بات) نہ کہہ سکنا اور سوال کرنے سے ڈرتے رہنا بھی ہوتی ہیَ ۔وقت کی پابندی کا سب سے بڑا عملی نمونہ ایک استاد کو ہی ہونا چاہئے، کیونکہ جس قدر وہ پابندِ وقت ہوگا، اس کے شاگرد بھی وقت کی پابندی کریں گے، پھر یہی پابندِ وقت طالبِ علم عملی زندگی میں بھی وقت کے قدردان ثابت ہوں گے۔انسانی زندگی میں نشیب و فراز (اْتارچڑھاؤ) آتے رہتے ہیں، پریشانی، بیماری اور ضروریاتِ زندگی کے معامَلات ہر کسی کے ساتھ ہوتے ہیں، لیکن طبیعت کی ہلکی پھلکی ناسازی اور ایسے کام جو کوئی دوسرا بھی کر سکتا ہے ان کی وجہ سے چْھٹّی کرلینا یا درسگاہ دیر سے پہنچنا مْناسب نہیں، ایک اچّھے استاد کے پیشِ نظر قوم کا مستقبل ہوتا ہے جو ایک چھٹّی کیا ذرا سی تاخیر سے بھی متاثر ہوتا ہے۔جس فنّ اور عِلم میں مہارت ہو وہی پڑھائے، خود سیکھنے کے لئے بچّوں پر تَجرِبات نہ کرے بلکہ پہلے خود اچھی طرح پڑھے، سیکھے، سمجھے پھر بچّوں کو پڑھائے ۔بے شک معلّم کا رْتبہ بہت عظیم ہے لیکن ضروری نہیں کہ ہر معلّم ہر پہلو سے کامل و اکمل ہو، سیکھنے سکھانے کا عمل ساری زندگی جاری رہتا ہے اس لئے ایک استاد کو چاہئے کہ اپنی کمی اور کوتاہی کو اعلیٰ ظرفی سے تسلیم کرے اور ان پر قابو پانے کی کوشش کرے۔اساتذہ کی اوّلین کوشش اپنے شاگردوں کی کامیابی ہونی چاہئے اور اس کیلئے اساتِذہ کو بچّوں کی ابتدائی اور ثانوی تعلیم میں بہت محنت کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ بچّوں کی تعلیمی بنیادیں ہیں۔استاد کا فرض بنتا ہے کہ جو بھی سبق پڑھانا ہے اوّلاً اچّھی طرح مطالعہ کرے، سمجھے اور سمجھانے کے لئے تیاّری کرے، جس قدر ہو سکے آسان انداز میں سمجھائے، سبق کو آسان بنانے کے لئے مثالیں بیان کرے اور طلبہ کی ذِہنی سطح کا لازماً خیال رکھے۔ہر شعبہ ء زندگی میں قابل افراد مْہَیَّا کرنے کے لئے تعلیم و تربیَت بہت ضروری ہے اور تعلیم و تربیت کی اہم ذمّہ داری معلّم و مدرّس پر عائد ہوتی ہے۔ یوں تو ہر فنّ اور مضمون کے استاد کو اپنے مضمون کے اعتبار سے محنت کرنی اور کروانی ضروری ہے لیکن اسکول کالج میں اسلامیات اور اس سے متعلقہ مضامین کے اساتِذہ کی ذِمّہ داری بقیہ سب سے زیادہ اہم ہے۔

استاد کو چاہئے کہ صرف پڑھانے کی حد تک نہ رہے بلکہ بچوں کو سیکھنے کے عمل میں مدد دینے کیلئے نصابی اور غیر نصابی دونوں طریقے استعمال کرے۔استاد کا کردار اور ذمّہ داری صرف تعلیمی ادارے ہی تک محدود نہیں ہوتی، طالبِ علم استاد کا لگایا ہوا وہ پودا ہوتا ہے جس کی حفاظت و پرورش کرنا، دنیا کے سَرد وگرم سے بچانا، آبیاری کرنا، نگہداشت کرنا اور پروان چڑھانا استاد کی ذمّہ داریوں میں شامل ہے۔ اس لئے اسے چاہئے کہ طالبِ علم کی درسگاہ کے علاوہ کی مصروفیات و مَشاغل سے بھی حتَّی الاِمکان واقفیت رکھے تاکہ اسے گھر کا کام (Homework)دینے اور اسباق وغیرہ کی تیاری نہ ہونے یا کمی ہونے کی صورت میں مناسب انداز میں نصیحت کرسکے، طلبہ کو صرف کتاب پڑھا دینا اور نصاب مکمل کروا دینا حقیقی کامیابی نہیں، اصل کامیابی یہ ہے کہ نصاب کے ساتھ ساتھ کتابِِ زندگی بھی پڑھائے، دنیا میں جینے اور کامیاب رہنے کے اْصول بھی سکھائے۔ بچے کی تربیت میں والدین اور استاد دونوں ہی کا اہم حصّہ ہوتاہے، استاد کو چاہئے کہ کبھی بھی یہ نہ سوچے کہ یہ میرے پاس پڑھنے آئے ہیں، کتاب پڑھاؤں، سبق سنوں اور واپس بھیج دوں، تربیت ماں باپ خود کریں۔ بچوں کی تربیت کے ہر پہلو کو ملحوظِ خاطر رکھنے کیلئے مرد اَساتِذہ بچوں کے والد اور خواتین ٹیچرز والدہ سے رابطہ رکھیں اور ان کی خامیوں اور کوتاہیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ ہر ہر بات کی شکایت کرنے کے بجائے خامیوں کو دور کرنے کی سچی نیّت سے مْشاورت کریں اور بچوں میں علم حاصل کرنے کی لگن پیدا کرنے کی ہرممکن کوشش کریں۔ ایک اچھا استاد اپنے طالب علموں کے دلوں میں اپنے مقصد اور نصبْ العین سے لگن پیدا کرتا ہے اور ان کو بے کار مَشاغِل سے اجتناب کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ایک کامیاب استاد کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے شاگردوں کو محنت کا عادی بنائے اور انہیں سمجھائے کہ کاہلی، سستی، وقت کے زِیاں اور کام کو ٹالنے کی عادت سے تعلیمی معیار گِرتا ہے جو ایک قوم کا مجموعی نقصان ہے۔اچھے استاد کے اوصاف میں یہ بھی شامل ہے کہ اپنے طلبہ کو پریشانی اور ناکامی کی صورت میں حوصلہ دے اور مزید محنت سے کام لینے کی نصیحت کرے اور اچھے مشورے د ے طالبِ علم کو اس کی ذہنی اِستِعداد، میلانِ طبع اور شوق و لگن کے اعتبار سے نیک مشورہ و راہنمائی دینا بھی ایک اچھے استاد کے اعلیٰ ترین اوصاف بلکہ ذمّہ داریوں میں سے ہے۔

آج اساتذہ کی حالت ضرور بہتر ہوئی ہے، ان کی ہر طرح مادی ترقی بھی ہوئی ہے مگر یہ تصویر کا صرف ایک رخ ہے، اس کا دوسرا پہلو اتنا ہی دھندلا اور قابل ِ غور ہے، جو ہمیں بتاتا ہے کہ استاد و شاگرد کا مستحکم رشتہ جو پہلے تھا وہ اب کافی کمزور ہوچکاہے۔ ایک زمانہ وہ تھا جب استاد کو شخصیت ساز اور معمارِ قوم تصور کیا جاتاتھا اور حاکم ِ وقت بھی اپنے استاد کے احترام میں سرجھکا دیتے تھے۔ سکندر ِ اعظم کا واقعہ مشہور ہے کہ وہ اپنے استاد ارسطو کے ساتھ سفر کررہاتھا، راستے میں ایک دریا آیا تو دونوں میں یہ مشورہ ہوا کہ پہلے پانی میں اتر کر کون اس کی گہرائی کا اندازہ لگائے۔ سکندر اعظم کی ضد تھی کہ دریا کی گہرائی ناپنے کا اسے موقع دیا جائے۔ ارسطو نے سکندر کو اس سے باز رکھتے ہوئے کہاکہ میں تمہار ا استاد ہوں ، تمہیں میری بات ماننی ہوگی۔ پانی میں پہلے میں اتروں گا۔ سکندر نے برجستہ جواب دیا کہ استاذ محترم اس عمل میں آپ کی جان بھی جاسکتی ہے۔ لہذا میں ہرگز یہ گوارہ نہیں کروں گا کہ دنیا آپ جیسے لائق استاد سے محروم ہوجائے۔ کیوں کہ سیکڑوں سکندر مل کر بھی ایک ارسطو پیدا نہیں کرسکتے، جب کہ ایک ارسطو سیکڑوں کیا ہزاروں سکندر پیدا کرسکتاہے۔ سکندر کا یہ قول بھی بہت مشہور ہے کہ میرے والدین نے مجھے آسمان سے زمین پر اتارا جب کہ میرے استاد نے مجھے زمین سے آسمان کی بلندی تک پہنچا دیا۔

افسوس یہ ہے کہ دورِ جدید میں اس پر ایک سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔ نظامِ تعلیم میں کسی اصلاح سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ استاد اور شاگرد کے رشتے میں آج بگاڑ کیوں پیدا ہواہے ، گرہیں کہاں پڑگئی ہیں؟ الجھاو کہاں ہے اور عقدہ کشائی کی صورت کیا ہے۔ ماضی میں یعنی قدیم تعلیمی نظام میں استاد و شاگرد کا رشتہ کبھی کوئی مسئلہ نہیں بنا۔ چاہے رشی منیوں کی پاٹھ شالائیں ہوں یا صوفی سنتوں کی خانقاہیں اور دینی درس گاہیں ہوں۔ ان کا روحانی و اخلاقی نظام ہی تعلیم و تدریس کا بنیادی ذریعہ ہے۔ یہ تجربہ تو جدید تعلیمی اداروں میں نہیں کیا جاسکتا۔ کیوں کہ وقت اور حالات کے ساتھ اب ماحول میں بہت فرق آگیا ہے۔جدید تعلیمی نظام اور نظرئیے پر غور وفکر سے قبل ان پر اثر انداز ہونے والے سیاسی ، سماجی اور معاشی محرکات پر بھی نگاہ ڈالنی ضروری ہے۔ انیسویں صدی کے اواخر میں یورپ میں صنعتی انقلاب آیا اور ساری دنیا پر اثر اندااز ہوا۔ اس انقلاب کے نتیجہ میں مادیت اور لادینیت کا وہ سیلاب آیا کہ ہماری بہت سی اخلاقی و روحانی قدریں برباد ہوگئیں۔ قدیم تہذیبی بساط ہی الٹ گئی۔ ظاہر ہے کہ ہمارا قدیم تعلیمی نظام بھی بدلا اور اسی کے ساتھ استاد اور شاگرد کا رشتہ بھی متاثر ہوا۔ المیہ یہ ہے کہ جو محبت اور تعظیم کا رشتہ تھا ،جو خلوص اور تعلق خاطر پر مبنی تھا، وہ کاروباری سطح پر آگیا۔ جب ساراماحول مادیت سے متاثر ہوا تو متعلم بھی یعنی ایک طالب علم کی منطق یہ ہوئی کہ میں نے اسکول کالج میں داخلہ لیا ہے ، فیس اداکرتاہوں۔ اس لئے مجھے حق ہے کہ میں کلاس روم میں بیٹھوں اور لکچر سنوں۔ میں کسی استاد کا رہین منت اور احسان مند نہیں ہوں اور دوسری طرف آج کے معلم یعنی استاد بھی اسی ماحول کی پیداوار ہیں۔ ہم سب علم محضاس لئے حاصل کرتے ہیں کہ کسبِ معاش کرسکیں۔ جس کی وجہ سے علم کے لئے جو ایک لگن اور پیاس ہونی چاہئے وہ باقی نہیں رہ پائی۔ نتیجہ میں اپنے مضمون پر کامل دسترس نہیں ہوتی اور ایسے میں استاد اپنے عیوب چھپانے کے لئے علم وفضلیت کے لبادے اوڑھے اپنے شاگردوں کو ایک فاصلے پر رکھتاہے۔ پھر ان کے دل میں استاد کے لئے محبت و تعظیم باقی نہیں رہتی۔

طالب علم کو چاہئے کہ وہ اپنے استاد کے ادب واحترام کو اپنے اوپر لازم سمجھے،استاد کے سامنے زیادہ بولنے کے بجائے انکی باتوں کو بغور سماعت فرمائیں.اوراپنے استاد کو برا بھلا نہ کہیں،ورنہ تمہارے تلامذہ بھی تمہیں برا بھلا کہیں گے. استاد کو کبھی ناراض نہ ہونے دیں،اگر انکی شان میں کوء بے ادبی ہوجائے تو فورا انتہاء عاجزی کے ساتھ معافی مانگ لیں۔
وہی شاگرد پھر ہو جاتے ہیں استاد اے جوہرؔ
جو اپنے جان و دل سے خدمت استاد کرتے ہیں۔

آبگلہ، گیا ،بہار۔

Previous articleدرخواست نویسی کا طریقہ
Next articleنظم: ضدی لڑکے : ہندی سے ترجمہ: ایس ایم حسینی

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here