جنت میں مردوں کو حوریں ملیں گی تو عورتوں کے لیے کیا؟

0
37

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

ایک ویڈیو گردش میں ہے ، جس میں ایک محترمہ ادائے دل ربائی اور کچھ تمسخر کے ساتھ ایک مولانا صاحب سے پوچھتی ہیں کہ جنّت میں نہ لائبریری ہوگی نہ شاپنگ مال ، بس عیّاشی ہوگی _ وہاں مرد کو بہتّر (72) حوریں ملیں گی ، لیکن عورت کے لیے کیا ؟ وہی شوہر ، جس کے ساتھ اس نے کسی طرح دنیا میں گزارا کیا تھا _ جنّت میں بھی وہی اس کے گلے پڑ جائے گا _ یہ تو بڑی ناانصافی ہے _ مولانا صاحب جواب میں کہتے ہیں کہ عورت جنت میں حوروں کی سردار ہوگی ، وہاں دنیا جیسی شہوت نہیں ہوگی ، بس اللہ کا دیدار ہوگا _ لیکن یہ جواب محترمہ کو مطمئن نہیں کرتا _ ان کا سوال باقی رہتا ہے کہ مرد کے لیے 72 انتہائی حسین و جمیل حوریں ہوں گی تو عورت کے لیے کیا؟

میرے کئی احباب نے مجھے یہ ویڈیو بھیجا ہے اور اس کا کوئی معقول جواب چاہا ہے _

عرض یہ ہے کہ جنّت میں اللہ کے فرماں بردار بندوں (مردوں اور عورتوں) کو حاصل ہونے والی نعمتوں کا صحیح تصوّر نہیں کیا جاسکتا _ جو کچھ قرآن اور حدیث میں بیان کیا گیا ہے وہ محض تقریبِ فہم کے لیے ہے _

اسے ایک مثال سے سمجھا جا سکتا ہے _ اگر رحمِ مادر میں بچے کو فہم و ادراک کی صلاحیت دے دی جائے _ اس کے بعد کوئی اس کے سامنے بیان کرنے لگے کہ باہر کی دنیا کیسی ہے؟ وہ روئے زمین کا پورا نقشہ کھینچ دے _ تمام جزئیات کو تفصیل سے بتادے _ سورج ، چاند ، ستارے ، سیارے ، حیوانات ، نباتات ، پھول ، پھل ، مکانات ، بازار ، غرض دنیا کی تمام دل فریبیوں کو انتہائی دل کش اور دل فریب اسلوب میں پیش کردے تو کیا بچے کے ذہن میں دنیا کی چیزوں کا وہی تصور قائم ہوگا جیسی وہ حقیقت میں ہیں؟ ہرگز نہیں _ اس کی تو کل کائنات بس رحمِ مادر ہے ، وہ اسی کے دائرے میں رہتے ہوئے جو کچھ تصور کرسکے گا کرے گا _ اسی طرح جنّت کی نعمتوں کو چاہے جتنی تفصیل سے بیان کردیا جائے ان کا حقیقی تصوّر انسانی دماغ میں آہی نہیں سکتا _

ایک حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ اللہ کے رسول ﷺ نے جنت کی صفات بیان کیں ، آخر میں فرمایا :
فِيها ما لا عَيْنٌ رَأَتْ ، وَلا أُذُنٌ سَمِعَتْ ، وَلا خَطَرَ على قَلْبِ بَشَرٍ
“اس میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جنھیں نہ کسی آنکھ نے کبھی دیکھا ہوگا نہ کسی کان نے ان کی کبھی تعریف سنی ہوگی اور نہ کسی دل میں ان کا کبھی خیال آیا ہوگا _”
اس کے بعد آپ نے قرآن مجید کی اس آیت کی تلاوت فرمائی :
فلا تَعْلَمُ نَفْسٌ ما أُخْفِيَ لهمْ مِن قُرَّةِ أَعْيُنٍ ( السجدۃ : 17) [ مسلم : 2825)
” پھر جیسا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ان کے لیے چھپا رکھا گیا ہے اس کی کسی کو بھی خبر نہیں ہے ۔ ”

جنت کی جتنی بھی نعمتیں قرآن اور احادیث میں بیان کی گئی ہیں سب اسی آیت اور حدیث کی تفسیریں ہیں اور اسی زبان میں بیان کی گئی جس سے انسان ان کا بہت ہلکا سا تصوّر کرسکتا ہے _ مثال کے طور پر :
* انسان کھانے پینے کی اچھی اچھی چیزیں پسند کرتا ہے تو خبر دی گئی کہ جنت میں طرح طرح کے لذیذ کھانے ، پھل اور میوہ جات ملیں گے اور فرحت بخش پانی ، دودھ ، شراب ، شہد کی نہریں بہتی ہوں گی کہ ان سے جتنا چاہے فائدہ اٹھا لے _
* وہ اچھے لباس پسند کرتا ہے تو جنت میں ریشم ، کم خواب ، سندس و استبرق وغیرہ کا تذکرہ کیا گیا ، جنھیں وہ نہایت نفیس اور قیمتی سمجھتا ہے _
* وہ بلند اور عالی شان مکانات کو پسند کرتا ہے تو جنت میں ایسے بالا خانوں کا تصور پیش کیا گیا جن کے نیچے بہنے والی نہریں اور خوب صورت باغات کا انتہائی حسین منظر اس کے دل کو لُبھاتا ہے _
* وہ نفیس اور قیمتی برتن پسند کرتا ہے تو بتایا گیا کہ جنت میں انتہائی قیمتی بڑے بڑے تھال ، ساغر ، جام ہوں گے _
* وہ پسند کرتا ہے کہ عیش و آرام کی زندگی گزارے اور دوسرے اس کی خدمت کے لیے موجود رہیں تو جنت میں نوخیز اور خوب صورت خَدَم و حَشَم کا تصور پیش کیا گیا جو ہمہ آں اس کی خدمت کے لیے تیّار رہیں گے _
* وہ سونے ، چاندی ، ہیرے ، موتی اور دیگر جواہرات کو پسند کرتا ہے تو جنت میں ان چیزوں کے وافر مقدار میں موجود ہونے کا ذکر کیا گیا _
* وہ تھکن سے پریشان ہوجاتا ہے ، بے جا شور و شغب سے الجھن محسوس کرتا ہے ، بڑھاپا سے اذیت کا شکار ہوتا ہے ، موت سے گھبراتا ہے تو اسے خوش خبری دی گئی کہ جنت میں ان چیزوں کا گزر نہیں ہوگا _
* اسے آسائشوں کے ختم ہوجانے کا اندیشہ لگا رہتا ہے تو اسے بتایا گیا کہ جنت کی تمام نعمتیں اسے ہمیشہ کے لیے حاصل رہیں گی ، ان پر کبھی فنا اور زوال نہ آئے گا _

یہ تمام باتیں انسانوں کی تقریبِ فہم کے لیے کہی گئی ہیں ، ورنہ ان کی حقیقت کیا ہے؟ یہ صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے _

دنیا میں انسانوں کے نزدیک ایک لذّت بخش چیز ‘جنس’ (sex) ہے _ یہاں انسان ، خواہ مرد ہو یا عورت ، اپنے جوڑے سے جسمانی و روحانی تسکین پاتا ہے _ قرآن کہتا ہے کہ جنت میں اس جذبہ کی تسکین کے بھی وافر مواقع حاصل ہوں گے ، لیکن جیسے جنت کی دیگر نعمتوں کو دنیاوی نعمتوں پر قیاس نہیں کیا جاسکتا اسی طرح اس چیز کو بھی دنیا پر قیاس کرنا کسی طرح درست نہیں _

قرآن کریم میں بتایا گیا ہے کہ جنت میں انسان کو پاکیزہ ساتھی حاصل ہوں گے _ اس کے لیے ‘ازواج’ (جوڑے) کا لفظ آیا ہے _ اس کا اطلاق مرد اور عورت دونوں پر ہوتا ہے _ مرد کے لیے عورت زوج ہے اور عورت کے لیے مرد _ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
وَلَهُمۡ فِیهَاۤ أَزۡوَ ٰ⁠جࣱ مُّطَهَّرَةࣱ (البقرۃ :25)
” ان کے لیے وہاں پاکیزہ جوڑے ہوں گے _”
[ مزید ملاحظہ کیجیے آل عمران : 15، النساء : 57 ، یٰسین : 56 ، الزخرف : 70 ]

مفسرین نے بڑی زیادتی کی ہے کہ انھوں نے ‘ازواج’ کا ترجمہ’ بیویوں ‘ سے کردیا ہے _ اس سے ایسا لگتا ہے کہ قرآن صرف مردوں سے خطاب کرتا ہے اور انہیں جنت میں پاکیزہ بیویوں کی بشارت دیتا ہے _ عورتوں کو بشارت دینے کے لیے اس کے پاس کچھ نہیں ہے _ حالاں کہ ایسا نہیں ہے _ قرآن مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے جوڑے کی بات کرتا ہے _

قرآن کریم میں لفظ ‘حور’ کا استعمال چار مقامات پر ہواہے ۔ لغوی اعتبار سے یہ جمع ہے _ اس کا واحد ‘احور’ (مذکر) ہے اور ‘حوراء’ (مؤنث) بھی _ اس بنا پر اس کا اطلاق مردوں اور عورتوں دونوں پر ہوسکتا ہے ، اگرچہ حور کی جو صفات بیان کی گئی ہیں وہ زیادہ تر عورتوں پر صادق آتی ہیں _ اس کا مطلب یہ ہوا کہ لفظ’حُور’ کسی جنس یا صنف کے لیے مخصوص نہیں ہے ۔

جنّت میں جنسی تلذّذ کے لیے قرآن مجید نے جو اشارے بیان کیے ہیں وہ دنیا میں انسانوں کی نفسیات کے اعتبار سے ہیں _ دنیا میں مرد کے لیے ضابطہ کے مطابق ایک سے زیادہ عورتوں سے تعلق کی اجازت ہے ، جب کہ عورت کے لیے ایک سے زیادہ مرد سے تعلق کی اجازت نہیں _ یہ احکام دونوں کی نفسیات تشکیل دیتے ہیں _ دنیا میں نیک عورت بہ یک ایک سے زیادہ مردوں کی خواہاں نہیں رہتی ، اس لیے اخروی زندگی میں اس کے جنسی تلذّذ کے لیے اس پہلو پر روشنی نہیں ڈالی گئی ، اس لیے کہ اس میں اس کے لیے کوئی وجہِ کشش نہیں تھی _ جو عورتیں اس دنیا میں ایک سے زیادہ مردوں سے تعلق بناکر رکھتی ہیں وہ اطمینان رکھیں _ ان کا داخلہ جنت میں ہوگا ہی نہیں کہ وہاں انہیں بہتّر (72) ‘حور’ مردوں کی تلاش ہو _ وہاں تو جہنم ان کے استقبال کے لیے جوش مار رہی ہوگی _

قرآن مجید میں خلاصہ کے طور پر بس ایک بات کہی گئی ہے کہ جنت میں ہر انسان ، خواہ وہ مرد ہو یا عورت ، اس کی خواہش کی ہر چیز بہت وافر مقدار میں فراہم ہوگی :
وَلَكُمۡ فِیهَا مَا تَشۡتَهِیۤ أَنفُسُكُمۡ وَلَكُمۡ فِیهَا مَا تَدَّعُونَ(حم السجدۃ:31)
” وہاں جو کچھ تم چاہو گے تمہیں ملے گا اور ہر چیز جس کی تم تمنا کرو گے وہ تمہاری ہوگی _”
وَفِیهَا مَا تَشۡتَهِیهِ ٱلۡأَنفُسُ وَتَلَذُّ ٱلۡأَعۡیُنُ (الزخرف :71)
” ہر من بھاتی اور نگاہوں کو لذت دینے والی چیز وہاں موجود ہو گی _”
[ مزید ملاحظہ کیجیے : الطور : 22 ، الواقعۃ :21 ، المرسلات :42 )
بلکہ قرآن اس سے آگے کی بات کہتا ہے کہ وہ جن چیزوں کی خواہش کریں گے ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں ان سے زیادہ ملے گا :
لَهُمۡ مَّا يَشَآءُوۡنَ فِيۡهَا وَلَدَيۡنَا مَزِيۡدٌ (ق : 35)
” وہاں ان کے لیے وہ سب کچھ ہو گا جو وہ چاہیں گے اور ہمارے پاس اس سے زیادہ بھی بہت کچھ ان کے لیے ہے ۔”

ایک حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : جنت میں ایک شخص کھیتی کرنا چاہے گا _ اللہ تعالیٰ اس کی یہ خواہش پوری کردے گا _”(بخاری : 2348 ، 7519)
جب اللہ تعالیٰ کھیتی کرنے والی کی خواہش پوری کرنے پر قادر ہو گا تو پڑھنے والوں کے لیے لائبریری ، تیراکی کرنے والوں کے لیے سوئمنگ پول اور خریداری کرنے والوں کے شاپنگ مال فراہم کرنا اس کے لیے کیا مشکل ہوگا؟!

Previous articleاگلے حکم تک فوری اثر سے نجی دفتروں کو بند کرنے کا حکم دیا گیا
Next articleدستار بندی کے تئیں ایک مشورہ کی محفل کا انعقاد

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here