جامعۃ الفلاح _ امید کی کرن

0
19

از: ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

جامعۃ الفلاح ، بلریا گنج ، اعظم گڑھ کی مجلسِ شوریٰ کا اجلاس 29 _ 30 نومبر 2021 کو جامعہ کے کیمپس میں منعقد ہوا _ اس میں شرکت کرنے کے لیے اعظم گڑھ کا سفر کرنا پڑا _

ملک کے دیگر مدارس کے مقابلے میں جامعۃ الفلاح کا ایک امتیاز یہ ہے کہ اس کی مجلسِ شوریٰ کو اعلیٰ اختیاری باڈی کی حیثیت حاصل ہے _ اس کی تمام ذیلی مجالس ، ناظمِ جامعہ اور مہتمم تعلیم و تربیت ، سب اس کے سامنے جواب دہ ہیں _ اس کے کچھ ارکان بنیادی ہیں اور کچھ میقاتی ، جن کا انتخاب 3 برس کے لیے ہوتا ہے _ کسی میقاتی رکن کا انتخاب بار بار ہوسکتا ہے _ یہ مدرسہ اگرچہ جماعت اسلامی ہند کی فکر کا امین ہے ، لیکن ارکانِ شوریٰ میں جماعت کے باہر سے بھی متعدّد علماء ، مدارس کے ذمے داران اور ماہرینِ تعلیم کو بھی شامل کیا گیا ہے _کچھ ارکان مقامی (بلریا گنج قصبے کے) اور کچھ بیرونی ہیں _ یہاں موروثی نظام قائم نہیں ہے _ ناظمِ جامعہ کو ارکانِ شوریٰ دوبارہ منتخب کرسکتے ہیں اور کارکردگی کا جائزہ لے کر ، یا دوسرے اسباب سے کسی دوسرے کو بھی ناظم بناسکتے ہیں _ گزشتہ میقات میں مولانا رحمۃ اللہ اثری ناظم تھے ، اِس میقات میں نظامت کی ذمے داری مولانا محمد طاہر مدنی کو تفویض کی گئی ہے _ کسی کو بھی ذمے دار بنایا جائے ، ذمے داری کی منتقلی بہت پُرسکون ماحول میں انجام پاتی ہے _ مجلسِ تعلیمی وہاں کے نظامِ تعلیم پر نظر رکھتی ہے اور اسے بہتر بنانے کے لیے برابر کوشاں رہتی ہے _ جامعہ کی انجمن طلبۂ قدیم دیگر مدارس کی انجمنوں کے مقابلے میں بہت زیادہ فعّال ہے _ وہ تعلیم ، تربیت ، تنظیم کے میدانوں میں برابر مختلف سرگرمیاں انجام دیتی رہتی ہے _ مجلس شوریٰ کا اجلاس ہر برس دو مرتبہ منعقد ہوتا ہے _

جامعہ کی مجلسِ شوریٰ کے اجلاس کا زیادہ تر وقت تعلیم کے جائزہ میں صرف ہوتا ہے _ مہتمم تعلیم و تربیت تعلیمی پیش رفت کو تفصیل سے پیش کرتے ہیں ، کم زوریوں اور خامیوں کا اعتراف کرتے ہیں ، ساتھ ہی معیار کی بہتری کے لیے تجاویز اور مشورے بھی پیش کرتے ہیں _ اِس اجلاس میں مہتمم صاحب نے شعبۂ حفظ کو بہتر بنانے کے لیے تفصیلی خاکہ پیش کیا ، جسے منظوری دی گئی _ جامعہ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہاں غیر نصابی سرگرمیوں کا منصوبہ بہت تفصیل سے بنایا جاتا ہے _ طلبہ سے غیر درسی مطالعہ کروایا جاتا ہے ، اس کے مسابقات ہوتے ہیں اور اسلامیات کے مختلف موضوعات پر ماہرین کے لیکچرس کروائے جاتے ہیں _ اِس بار طے کیا گیا کہ ٹیچرس ٹریننگ کا بھی اہتمام کیا جائے _

کورونا اور لاک ڈاؤن کے عرصے میں ملک کے تمام پرائیوٹ تعلیمی ادارے پریشان رہے ، خاص طور سے دینی مدارس پر افتاد پڑی ، ان کا تعلیمی نظام درہم برہم ہوکر رہ گیا اور ان کے لیے اپنے معلّمین کی تنخواہیں دینا بھی ممکن نہ رہا _ جامعۃ الفلاح نے اس مصیبت پر قابو پانے کی حتّی الامکان کوشش کی _ اس نے آن لائن تعلیم کا نظام جاری رکھا اور اساتذہ کے مشاہرے بند نہ کیے _

جامعہ کی انجمن طلبۂ قدیم نے ایک بڑا ہاسٹل تعمیر کرکے جامعہ کو دینے کا منصوبہ بنایا تھا _ لاک ڈاؤن میں اس کا کام رک گیا تھا _ اِس اجلاس میں اس کو دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا _ صدر انجمن عزیزی سید ابو الاعلی نے وعدہ کیا کہ وہ رمضان المبارک تک زیریں منزل کو قابلِ رہائش بنوانے کی کوشش کریں گے _

جامعہ عوام کو صحتی و طبی خدمات فراہم کرنے کے لیے ایک ہاسپٹل چلا رہا ہے _ اس کی کارکردگی رپورٹ اور حسابات پیش کیے گئے _ اس کی نگرانی ایک کمیٹی کر رہی ہے _ اس کی تشکیلِ نو کی گئی _ بعض انتظامی معاملات بھی پیش کیے گئے اور کچھ مسائل بھی زیرِ بحث آئے _ سب پر تفصیل سے مباحثہ ہوا اور ان کے سلسلے میں اتفاقِ رائے یا کثرتِ رائے سے فیصلے کیے گئے _

صدر انجمن طلبۂ قدیم نے طلبہ کے درمیان توسیعی خطبات کا پروگرام بنالیا تھا _ چنانچہ پہلے دن مولانا محمد الیاس فلاحی نے مسجدِ جامعہ میں بعد نماز ظہر ‘طلبۂ مدارس اور ان کی ذمے داریاں ‘ کے عنوان پر خطاب کیا _ دوسرے دن تعلیم شروع ہونے کے بعد مولانا ولی اللہ سعیدی فلاحی نے طالبات کے سامنے ‘خواتین کا مقام و مرتبہ اور ان کا سماجی کردار ‘ اور راقم نے طلبہ کے سامنے ‘موجودہ دور میں فکرِ اسلامی کے چند اہم موضوعات’ کے عناوین پر خطاب کیا _

جامعۃ الفلاح کا شمار شمالی ہند میں دینی تعلیم کے بڑے اداروں میں ہوتا ہے _ اس کے فارغین ملک کی عصری دانش گاہوں میں بھی تدریس کی خدمت انجام دے رہے ہیں _ اس کا تعلیمی و تربیتی نظام مثالی ہے _ اس کا نظم اجتماعی انداز سے چلانے کی کوشش کی جاتی ہے _ ملک کے دیگر مدارس کو اس کی تقلید کرنی چاہیے _

Previous articleشاکر کریمی- ادب کا ایک ستون گرگیا
Next articleپروفیسر ابنِ کنول کی تقریظ نگاری

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here