بچوں کی اسلا می تعلیم و تر بیت اور ہماری ذمے داری

0
14
بچوں کی اسلا می تعلیم و تر بیت اور ہماری ذمے داری

عبدالوہاب قاسمی

بچے تو بچے ہیں…مگر بڑے ہو کر ملک و قوم کی تقدیر بن جا تے ہیں …!!
آج یہ گل نا شگفتہ ہیں ،تو گل دمیدہ بھی ،آج یہ خود سے بے خبر ہیں ،پس و پیش کی آگہی سے نا بلد ہیں ،تو کل کی خانگی اورمعا شرتی زندگی کے ساتھ ملک کے مستقبل کا سہرا بھی انہیں کے سر سجنے والاہے ،آ ج یہ صرف معصوم بچے ہیں ،تو کل کے قا ئد ،رہنما اور معمار قو م بھی یہی ہیں ،کل کے شہری ،حکمر اں ،مقتدی ،امام ،استاذ ،قانون داں اور قانون ساز بھی یہی ہیں ،…آج جبکہ صرف یہ بچے ہیں تو بھی گھر کی رونق انہیں سے دوبالاہے ،یہ ایسے پھول ہیں ،جنکی معصوم مسکر اہٹیں ،والہانہ اور بے لوث محبتیں اور پیار ی پیاری شر ارتیں ہمارے دکھ دردکو فر حت و انبساط اور مسرت و شادمانی میں تبدیل کر دیتی ہیں ۔یہ اپنے چلبلے پن سے ہما ری زندگی میں قوس و قزح کے رنگ بکھیر نے کا ذریعہ بن جا تے ہیں، انہیں کی بدولت ہمار ے اندر ایک نیا جوش ،اور حو صلہ پیدا ہو تا ہے اور امنگوں کے ہزار پھول مسکراتے ہیں ،…تا ہم انکی تعلیم و تر بیت سے وا لدین کی بے تو جہی اور سماج کی پہلو تہی افسو سناک صو رت حال اختیار کر تی جا رہی ہے ،اسلا م بچے کی تعلیم و تر بیت کے لئے جو زریں اصول مر تب کئے گئے ہیں اگر ان کی روشنی میں ان کی تعلیم وتر بیت کی جائے تو یقینا کنبہ و خاندان کی عما رتیں مضبوط و مستحکم بھی ہو ن گی اور ملک و قو م کا مستقبل بھی روشن و تا بناک ہو گا ۔
تعلیم کے حو الے سے آقا ﷺ کا یہ ارشاد :’’طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم ،وفی روایۃ ’’اومسلمۃ ‘‘ کہ علم سیکھنا ہر مرد وعورت پر فرض ہے ،یہاں علم سے مرا د علم دین ہے ،فقہاء نے مزید وضاحت کر تے ہوئے بیان کیا کہ علم د ین کا اسقدر جا ننا کہ فرائض و وو اجبات اور حلال و حرام کی تمیز پید ا ہو سکے فرض ہے ۔مگر آج کا دور ترقی یا فتہ دور ہے ،عصری تعلیم کے بغیر زندگی کے نشیب و فر از سے گذرنا دشوار ہے ،ہر ہر قدم پر عصری تعلیم اپنی اہمیت کو اجاگرکررہی ہے ،ہر کس و نا کس اس تعلیم کی حاجت و ضرورت سے وا قف ہو چکا ہے،اس اہمیت نے انسان کے تعلیمی رجحان و میلان کو اپنی طرف مائل کر لیا ہے ،چنا نچہ اسکی حصو لیابی میں ہر والدین اپنے معصوم بچوں کا روشن مستقبل دیکھ رہے ہیں ،اس لئے اس کی تگ و دو جا ری ہے …مگرعجب المیہ ہے کہ اسی جدو جہد او ر جستجو میں ہم دینی تعلیم کو فر اموش کر تے جا رہے ہیں ۔ہمارے بچے اسلام کی بقدر فر ض تعلیم سے بھی نا آشنا ہوتے جا رہے ہیں ،فر ائض وواجبات سے لا علمی اور حلال و حرام کی تحدیدو تفریق سے نا واقفیت سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے ،جس کے نتیجے میں کتنے فرا ئض و و اجبات کے جنازے نکل رہے ہیں اور کتنی حرام چیزیں بزعم حلال استعمال ہو رہی ہیں ،خود را قم الحروف نے کئی عصری تعلیم یا فتہ نوجو انوں کی توجہ اسلام کی روشنی میں کسی شیٔ کی حلت و حرمت کی جانب مبذول کروائی تو وہ اچنبھے میں آگئے اور بے سا ختہ ان کی زبان سے نکلا ’’اللہ ‘‘ہمیں تو اسکی حلت وحر مت کی بھی خبر نہیں تھی ‘‘غور کیجئے کس قدر بے دینی اوراسلامی تعلیمات سے دوری کی فضا قائم ہورہی ہے ۔جبکہ مذکو رہ حدیث کی روشنی میں انہیں اسلام کی اتنی واقفیت تو ضرور ہونی چا ہئے کہ جب انہوں نے اقرار الہی کر ہی لیا تو احکام الہی اور اسکے طریقے کیا ہیں ؟؟نما ز،روزہ ،زکوۃ ،حج،آپسی معا ملات ،بو د و باش ،رہن سہن ،کھا نے پینے ،اٹھنے بیٹھنے ،سو نے جاگنے او ر تجا رت و معیشت کے احکام اوراسلامی طریقے کیا ہیں ؟اس حدیث کے ضمن میں جسٹس مو لا نا تقی عثما نی فرماتے ہیں :’’اتنا علم حا صل کر نے کے لئے جتنی بھی قر بانی دینی پڑے ،قربا نی دے ،مثلا والدین کو چھوڑنا پڑے ،تو چھو ڑ دے ،بیوی کو اور بہن بھا ئیوں کو چھو ڑنا پڑے تو چھوڑ دے اس لیے کہ اتنا علم حا صل کر نا فرض ہے ،اگر کو ئی یہ علم حا صل کرنے سے رو کے مثلا ماں ،باپ رو کیں،بیوی روکے یا بیوی کو شوہرر وکے تو ان کی بات ماننا جائز نہیں ‘‘(اصلاحی خطبات ج ۱۰صفحہ۱۲۰) اتنی سخت وعید کے با وجو دبھی ہم سے کتنے ہیں جنہیں اپنے فرائض منصبی یاد ہیں ؟یہاں یہ بات بھی قا بل غور ہے کہ بچوں کی دینی تعلیم سے ناواقفیت کی ذمہ داری اگر والدین پر ہے تو معاشرہ او ر سماج کے تعلیم یافتہ حضرات بھی اس ذمہ داری میں شریک ہیں ،اسکا لر ،لکچرر ،اسکو ل اور کا لج کے ڈائرکٹر ،پر وفیسر اور صرف عصری تعلیم کے ساتھ مختص ادارے بھی ،جہاں بقدر فر ض بھی دینی تعلیم کا انتظام و انصرام نہیں ہے …شامل ہیں !!یہ بات بھی بڑی عجیب ہے کہ جس طرح عصری تعلیم یافتہ حضرات مد رسوں میں عصری نصاب کی شمو لیت کی پر زور وکالت کر تے ہیں ،ٹھیک اسی طرح عصری تعلیمی درسگا ہوں میں دینی تعلیم کی شمو لیت کی وکا لت کیوں نہیں کر تے ؟؟
بچوں کی تر بیت کے حو الے سے بھی اسلام میں بڑی تا کید کی گئی ہے ،آقا ﷺنے ارشا د فر مایا :تر جمہ ’’وا لدین پر بچوں کا حق یہ ہیکہ انکے خوبصورت نام رکھیں اور بہترین ادب سے انہیں آراستہ کریں ۔‘‘اس حدیث میں اولاد کے حقوق کیطرف واضح اشارہ مو جو د ہے ،جس طرح ماں باپ کے حقوق اولاد پر ہیں،اسی طرح والدین کے ذمہ بھی اولاد کے حقوق ہیں ،ان حقوق میں اچھی تعلیم ،صحیح تر بیت ،خو بصورت نام (اسلا می نام)اور حسن ادب شامل ہیں ،بچوں کے نام کے تعلق سے بھی حدیث کے اندر صراحت موجو د ہے ،حضرت عبداللہ بن عمر سے رو ایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فر مایا: ’’تمہارے نا موں میں اللہ تعالی کو سب سے زیادہ محبوب نام ’’عبد اللہ اور عبد الرحمن ‘‘ہے (رواہ مسلم)ایک جگہ اور ارشاد ہے :’’انبیا ء علیہم السلام کے نام پر نام رکھو ‘‘۔
حسن ادب کے ضمن میں ماں باپ کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ صحبت صالح کی تلقین کریں اور صحبت طالح سے اجتناب کی ہدا یت کریں ،کیو نکہ صحبت اپنے اند ر کیمیائی اثر رکھتی ہے ،بچوں کو جیسی صحبت ملے گی ویسا ہی نقش انکے معصوم ذہنوں پر ابھرے گا ،آپﷺ کا ار شا د ہے :ترجمہ ’’ہر بچہ فطر ۃ مسلمان ہو تا ہے ،مگر اسکے والدین اسکویہودی یا نصرا نی یا مجو سی بنا دیتے ہیں ،بزبان شاعر بھی سنئے ؎
صحبتِ صالح ترا صالح کند
صحبتِ طالح ترا طالح کند
وا لدین بچوں کی پہلی تر بیت گاہ ہو تے ہیں ،پہلا مدرسہ ماں کی گود ہے ،بچہ اپنے والدین سے کا فی متا ثر ہو تے ہیں ،انکی حر کا ت و سکنات کے گر ویدہ ہو تے ہیں ،لہذا ضروری تھا کہ یہ ذمہ داری انہیں پر ڈا لی جا ئے اور انہیں اپنی ذمہ داری بخوبی نبھا تے ہوئے انکے بے داغ ذہنوں پر،دل کی سفید تختی پر اللہ کی عظمت و کبریائی اور وحدانیت و الو ہیت کے نقشے بٹھا ئیں ،انہیں اسلام کے فطری اصول و قوانین کا خو گر بنا ئیں ،انکے دل میں تخلیق انسا نی کا مقصداور انکی ذمہ داریوں کے احساس رو شن کریں ۔ایک اور حدیث کے آقا ﷺ ارشا دفر ما تے ہیں کہ :’’اپنی اولاد کا اکرام کرو اور انہیں حسن ادب سے مزین کرو ‘‘اس حدیث میں غورطلب امر یہ ہے کہ یہاں بچوں کے اکرام کی ہدا یت دی گئی ہے ،تو اکرام سے کیا مرادد ہے ؟مطلب یہ ہے کہ یہ بچے اما نت ہیں اور حس طرح اما نت کی حفا ظت کی ذمہ داری امانت دار پر عا ئد ہو تی ہے اسی طرح ان بچو ں کی معصوم زندگی کی حفا ظت بھی والدین کی ذمہ داری ہے ۔انہیں ما حو ل او ر معاشرہ کے خرا فات اور بدعات سے محفوظ رکھیں۔
بچوں کی اسلامی تر بیت کے حوالے سے یہ واقعہ بھی کس قدر سبق آمو ز ہے ’’سید نا عمر فاروق ؓکا عہد خلا فت چل رہا ہے ،ایک شخص حضرت عمر ؓ کے پاس آ تا ہے ،اپنے لڑکے کی نا فر ما نی پر شکوہ سنج ہوتا ہے ،وہ میرے حقوق کی رعا یت نہیں کر تا ،میرے حکموں کی خلاف ورزی کر تا ہے ،امیر المؤمنین غصہ میں آجا تے ہیں ،لڑکے کو بلا یا جا تا ہے ،آپ اسکی سر زنش کر تے ہیں ،تم کیسے لڑکے ہو ،اپنے والد کوتکلیف پہونچا تے ہو،تمہیں سزا ہو نی چا ہئے …لڑکا عرض کر تا ہے ،اے امیر المؤمنین یقینا یہ میرے الد محترم ہیں ،انکے حقوق بے پا یاں ہیں ،لیکن ذرا ان سے پو چھئے !!کہ انہوں نے میرے کیا حقوق ادا کئے ہیں ،میری اصلاح و تر بیت کا کتنا خیال رکھا ہے ،جبکہ اللہ کے رسو ل ﷺ نے لڑکوں کے اچھے نام کا حکم کیا اور انہوں نے میرا نام ’’جعل‘‘رکھا (گندگی کا کیڑا)انہوں نے میری تعلیم و تر بیت پر کو ئی تو جہ نہ دی ،مجھے حقو ق اللہ اور حقو ق الرسو ل سے آگاہ نہیں کیا ،والدین اور دوسرے لو گوں کے حقوق سے بھی غا فل رکھا ،میرے ساتھ کبھی بھی محبت کامعا ملہ نہیں کیا ؟جس چیز سے میں لا علم ہو ں اسے کیو نکر پو را کر سکتا ہوں ،مجھے یہ بھی خبرنہیں کہ حقوق والدین مجھ پر واجب ہیں …یہ سن کر حضرت عمر ؓ نے فر ما یا :لڑ کے کی کو ئی غلطی نہیں بلکہ اصل مجرم تم ہو اور تمہارے ساتھ یہی معا ملہ ہو نا چاہئے!!
اس واقعہ کے بعد ہم اپنا محاسبہ کریں !کہ کس قدر اپنے بچوں کی دینی تعلیم و تر بیت کے تئیں ہم بیدار ہیں ،عصری تعلیم کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ اس تعلیم کو فراموش کردیا جائے جو معر فت الہی تک پہنچا تی ہے ،اس کے احکا م سے روشناس کر اتی ہے ،اسلام کی حقا نیت وصد اقت سے شمع ایمان و ایقان کی لو بڑھا تی ہے اور عصری تعلیم کا یہ بھی مطلب نہیں ہے کہ بچوں کی تربیت میں کسی قسم کا فر و گذا شت کو روا رکھا جائے ،انہیں بے مہار شتر کی طرح چھوڑ دیا جائے ،کہ انکی جو خواہش ہو وہ کریں …یہ سر اسر بھول ہے ،قیامت خیز بھول!!

Previous article“تاریخ ادب اردو” از : نورالحسن نقوی
Next articleوحدت کا بیاں ہو جا،فطرت کی زباں ہوجا

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here