مدارس میں تعلیمی سلسلہ قائم کرنے کے لئے بہتر تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے

0
7
مدارس میں تعلیمی سلسلہ قائم کرنے کے لئے بہتر تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے

مولانا نسیم اختر شاہ قیصر

دیوبند، 10؍ جون (رضوان سلمانی) معروف ادیب وقلم کار مولانا نسیم اختر شاہ قیصر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس ایک سال سے زائد کے عرصہ میں کوروناوائرس سے جہاں نظام زندگی ٹھپ ہوا اور کاروان حیات سستی کے ساتھ چلا ، ظاہر ہے کہ اس سے ہر شعبہ زندگی کو متأثر ہونا ہی تھا ۔ معاش اور روزگار کے مسائل ، تعلیم اور ترقی کی رفتار سب کچھ ٹھپ ہوکر رہ گیا۔ ان تعلیمی اداروں کی بات تو چھوڑدیجئے جو سرکاری امداد اور فیس کی بنیاد پر چل رہے ہیں یا چلتے ہیں۔ سب کی کہانی یکساں تھیں، مگر سب سے زیادہ ان حالات کا شکار دینی مدارس ہوئے، مدارس کے جو مددگار ومعاون تھے ان کے کاروبار بند پڑے تھے ، ان کے ہاتھ خالی تھے ، تو ظاہر ہے کہ مدرسوں کا تعاون کیسے کرتے ، ادھر مدرسوں میں مالیات کی تنگی نے پائوں پساردیئے ، اساتذہ اور ملازمین کی تنخواہوں کے لالے پڑگئے ، پورے ہندوستان میں چند ہی مدارس تھے جنہوں نے نہ تو ملازمین کو ادارے سے علیحدہ کیا اور نہ تنخواہیں روکیں ، ورنہ سبھی مدارس کے ملازمین کو تنگیوں کا سامنا رہا ، بہت سوں نے ملازمتیں کھودیں۔ بے شمار مدرس وملازمین کی ملازمتیں ختم ہوگئیں اور مدارس کی بڑی تعداد میں تالا لگ گیا ، یہ صورت حال جوں کی توں ہے۔ 2020سے 2021تک چل رہا یہ لاک ڈائون مدارس کے لئے سخت چیلنج بن گیا ۔
سوال یہ ہے کہ اگر مکمل لاک ڈائون کھل بھی جاتا ہے اور ہفتہ میں دو دن کی قید بھی اٹھالی جاتی ہے تو کیا مدارس کے حالات بہتری کی طرف آئیں گے یا ان پر ختم ہونے اور وجود مٹ جانے کے بادل چھائے رہیں گے۔ فی الحال جو صورت ہے اس میں کوئی امید افزا بات نظر نہیں آتی۔ مدارس اپنی راہ پر لوٹنے میں اچھا خاص وقت لیں گے اور یہ بھی یقین کے ساتھ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ حالات تمام ہی مدارس کے بنیں گے، وہ خدشات اور خطرات بدستور سامنے ہے جو اکثر مدارس کے بند ہونے کا سبب بنا۔ انہوں نے کہا کہ حالات بہتر ہوتے ہی نئی گائڈ لائن سامنے آنے کے بعد ہی مدارس کے لئے ایک مشترکہ لائحہ عمل کی ضرورت ہے۔ اس لئے کہ تمام ہی تعلیمی اداروں میں تعلیمی نظام متأثررہا اور تعلیم صفر کے درجہ میں رہی۔ اس صورت حال سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے اور بغیر تدبیر اور بہتر حکمت عملی کے ایسا کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

مولانا نے کہا کہ جیسا کہ کہا جارہا ہے کہ کورونا وائرس کی تیسری لہر بھی قریب ہی ہے تو ایسے میں کیا کیا جائے اور کیا نہ کیا جائے یہ ایک سنجیدہ سوال ہے۔ سردست اگر مدارس کھلتے ہیں تو عیدالاضحی کی چھٹی ختم کردی جائے اور تعلیمی سلسلہ شروع کردیا جائے۔ چھٹی کی نہ کوئی حاجت ہے اور نہ ضرورت ۔ ایک سال سے زائد کا زمانہ چھٹیوں کا زما نہ ہے ، یہ جو وقت گزررہا ہے اس کی تلافی بھی اسی طرح سے ہوسکتی ہے کہ تعلیمی سلسلہ قطعی منقطع نہ ہو، طلبہ بھی توجہ کے ساتھ پڑھیں اور اساتذہ بھی پابندی کا خیال رکھیں ۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کی آمد کے بعد مدرسوں میں احتیاطی تدابیر پر بھی نظر رہنی چاہئے کہیں ایسا نہ ہو کہ اس جانب سے غفلت ہوجائے اور پھر کوئی نیا مسئلہ پیش آئے کہ مدارس اپنا تعلیمی سلسلہ جاری نہ رکھ سکیں ، بڑی سوجھ بوجھ اور ہوشمندی کے ساتھ اس سمت میں قدم بڑھانے کی ضرورت ہے۔ باقی جو بھی احوا ل ہوں ان کے مطابق فیصلے کئے جاسکتے ہیں۔ (بشکریہ ہندوستان ٹائمز)

Previous articleحضرت مولانا مفتی جنید احمد قاسمی صاحب کی دو کتابوں کا رسم اجراء۔
Next articleدھیمے سُروں کی شاعری- (شہریار کی شاعری کاتفصیلی مطالعہ۔ حصّہ اوّل )

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here