تعلیم بالغان : تقاضے اورعملی جہتیں

2
186

(رمضان کے موقع سے خصوصی پیش کش)

عین الحق امینی قاسمی٭

تعلیم بالغان سے مراد یہ ہے کہ وہ لوگ جو اپنی کسی مجبوری یا اپنے مثبت ومنفی ذہن کی وجہ سے وقت پر بنیادی علم حاصل نہیں کرسکے، ایسے بالغ افراد کے حق میںتعلیم وتدریس کا ایک نظام اور طریقہ کار ایسا ہو ، جس سے جڑ کر ٹولہ محلہ کے بالغ مر د و عورت فیض یاب ہوسکیں، حالاں کہ یہ سلسلہ قدیم ضرور ہے ،مگر معیوب نہیں ہے ،جب ہم ابتدائے اسلام میں مقام صفہ پر تعلیم وتدریس کے منظر نامے کو پڑھتے ہیں تو وہاں ہمیں ایک سے بڑھ کر ایک سرمایہ دار اورعزت دار لوگ علم کے حصول میں مشغول نظر آتے ہیں، مدینے کے اندر دار ارقم کے حصوں میں مرد وخواتین کی ایک معتد بہ تعداد موجود ملتی ہے ، ابو بکرؓ وعمرؓ اورعثمان ؓوعلیؓ کے دور خلافت سے لے کر حضرات تابعین ؒ ،تبع تابعین ؒ اور پھر بعد کے دور میں تعلیم بالغان کا غیر مختم سلسلہ کسی نہ کسی شکل میں تاہنوز ہمیں نظر آتا ہے ۔حال کے عصری محاذوں پراگر نظر کریں تو وہاں تعلیم بالغان باعث افتخار واعزاز سمجھا جاتا ہے ،دیکھا جارہا ہے کہ جو جتنا پڑھ رہا ہے ،ڈگری وسند کے ساتھ وہ اتنا ہی آگے بڑھ رہا ہے اور بلند ترین مقام حاصل کررہا ہے ،وہاں نہ کوئی عار ہے اور نہ رکاوٹ ،بلکہ مشاہدہ ہے کہ عصری میدانوں میں ملازمت اور دوسرے شعبوں میں مصروف رہ کر لوگ ایک ساتھ متعدد کورسیزکررہے ہیں ۔

سچ کہا گیا ہے کہ سیکھنے کی کوئی عمر نہیں ہوتی یعنی علم ایک ایسا سرمایہ ہے ،جس کی ضرورت ہر دور ، ہر عمر میں اور ہر فرد کو پڑتی ہے،البتہ جس میں جتنی سیکھنے کی چاہت ہوتی ہے ،اُسی کے بقدرعلم اُس کے نصیبے کاحصہ بنتا ہے ، تعلیم بالغان، سماجی ترقی اور معاشرے کو خواندہ بنانے کا ایک اہم مشن رہا ہے ۔حالیہ دنوں میں اُ س کے تقاضے کئی جہتوں سے سامنے آئے ہیں ، ضرورت ہے کہ سماج کے اُن بالغ افراد کے بیچ تعلیم بالغان کی ضرورت اہمیت اور حل کوسامنے لایا جائے ،جو کسی وجہ سے ابتک بنیادی تعلیم سے محروم ہیں ،اپنا ذاتی احساس یہ ہے کہ اگر اُس کے تقاضوں کی نشاندہی اور عملی جہتوں کی تعیین ہوتی ہے تو معاشرے کی بہت بڑ ی علمی کمی کو دور کیا جاسکتا ہے اور سماج میں موجود مرد و خواتین کا ایک بڑا طبقہ اِس مشن تعلیم بالغان سے مستفید ہو کر ،گھر،خاندان اورسماجی خوشحالی کا مضبوط حصہ بھی بن سکتا ہے۔

جہاں تک دینی تقاضوں کی بات ہے تو یہ ہر مسلمان جانتا سمجھتا ہے کہ قرآن کریم اللہ کی آخری کتاب ہے ،وہ کتاب ہدایت ہے ،اس کو پڑھنے سیکھنا ہر مسلمان کی اولین ضرورت ہے،اس کے بغیر ایک مومن کا قلب ویران ہے،قلب مومن کو ویرانیت سے بچانے اور اللہ کی خوشنودی پانے کے لئے قرآن کریم کو سیکھنا ہر عاقل بالغ مسلمان کے اور پر لازم ہے۔اِسی طرح ہم مسلمان ہیں ،مگردِ ین اسلام کی ہمیں صحیح جانکاری نہیں ہے ،ہم مسلمان ہیں ،مگر ہم اسلام کو نہیں جانتے، ارکان اسلام ،جو اسلام کی بنیاد ہے ،اس کا جاننا اور اُن بنیادوں کے تقاضوں کو حسبِ استطاعت عملاً پورا کرنا فرض ہے ،اسلام کی حلال وحرام کردہ چیزوں کے بارے میں اتنا جاننا جس سے کہ ہم حلا ل کو اختیار کرسکیں اور حرام سے خود کو بچاسکیں،ہمارے لئے یہ بھی لازم ہے کہ دین کے فرائض وواجبات ،اوامر ونواہی کو ہم جانیں ،اپنے نبی ﷺ، آل نبی اور خلفاءراشدین کی سیرت وسنت وغیرہ کو جانیں اور سمجھیں ،اس پر عمل کرنے والے بنیں۔دنیاوی تقاضوں کو اگر بات کریں تو یوں سمجھئے کہ جس معاشرے میں ہم رہتے ہیں ،اُس کے بھی ہمارے اوپر حقوق ہیں،اُن حقوق کی جانکاری اور پوری طرح بجا آوری تب ممکن ہے جب ہم سماجی تقاضوں سے واقف ہوں گے اور سماجی تقاضوں کی جان کاری بغیر علم ِمدنیت کے ممکن نہیں ہے، اس لئے اپنے آپ کو نافع بنانے کے ساتھ ہی گھر، خاندان اور سماج کو مضبوط وخوشحال بنانے کے لئے ہر فر د کوبنیادی علم حاصل کرنا ضروری ہے۔

تعلیم بالغان کے حوالے سے کئی بار ذہن میں یہ سوال بھی آتا ہے کہ یہ اتنابڑا کام ہے پھر بھی لوگ اِس کی طرف توجہ نہ دے کر لاکھوں لاکھ کے خرچ کے ساتھ جلسے جلوس پر اپنی متنوع صلاحیتوں کو کیوں لگا رہے ہیں؟ جب کہ تعلیم بالغان کے کام کو منظم اور پلاننگ وے میں کرنے کی سخت ضرورت ہے،تاکہ ملت اسلامیہ اپنے مقاصد واہداف پر توجہ مرکوز کرکے منزل کو پانے میںسرگرداں رہ سکے۔بھارتی مسلمان ابھی اذیت ناک کرب میں مبتلا ہے،مسلمانوں کے دین وایمان کے خلاف زبر دست محنت اور پلاننگ چل رہی ہے تاکہ انہیں ارتداد کا شکار بنایا جا سکے،ہمارے پاس خود کفیل مکاتب کا کوئی نظام نہیں ہے، دوردور تک کوئی اردو لائبریری نہیںہے،کوئی ڈھنگ کا اپنا معیاری اسکول نہیں ہے،گاو¿ں محلے میں بچے بچیوں کی اخلاقی حالت دن بدن بگڑتی جارہی ہے،معاش ومزدوری کے لئے ہمارے بچے دیس پردیس میں دھکے کھارہے ہیں،مسلم گاو¿ں اور علاقے کی کوئی بااثر شناخت نہیں ،ہمارے نوجوان مثبت اور تعمیری پلاننگ کرنے سے عاری ہیں،نئی نسل پر ایمان وعقائد کے حوالے سے محنت کا کوئی منظم معاصر نظام نہیں ،حال میں کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے سے باحجاب بچیوں پر قیامت ٹوٹ پڑا ہے،اس کا شرعی یا سماجی حل ہم نے ڈھونڈا ہے یا نہ کوئی تیاری ہی کی ہے ۔کیا رات بھر کے مہنگے جلسوں اور نعروں سے ہمارے مسائل حل ہوجائیں گے؟
ہماری ایمانی وفکری صورت حال یہ ہے کہ بسا اوقات گھر یلو اور سماجی زندگی میں بہت سی دفعہ جانے انجانے میں ہم کچھ کام ایسا کر جاتے ہیں جو شر کیہ ہوتے ہیں۔شرک کا مطلب ہے ،اللہ تعالی کی ذاتی وصفاتی خوبیوں میں کسی مخلوق کو شریک سمجھنا ،اللہ کی خوبی یہ ہے کہ وہ اکیلا ہے ،وہی آسمان وزمین اور ساری قدرت کا مالک ہے ،دکھ اور بیماری سب اسی کی طرف سے ملتی ہے ،غیب کا علم صرف اسی کو ہے ،حقیقی حاجت روا وہی ہے،صحت وشفا اسی کے حکم سے حاصل ہوتی ہے ،نفع نقصان کا مالک وہی ہے ، مارنے جلانے اور عزت وذلت اسی کے قبضے میں ہے ،اس لئے اللہ کے علاوہ دوسری کسی مخلوق کو ان مذکورہ بالا خوبیوں کا مالک سمجھنا ہی شرک ہے۔ مثلا : مردوں اور بتوں سے فریاد کرنا، کسی جگہ کا کعبہ شریف کے برا برادب و تعظیم کرنا، کسی کے نام کا بازواور گلے میں پیسہ یا بدھی باندھنا ، نجومی پنڈت وغیرہ سے اپنی قسمت کو جانچا اور فال کھلوانا ، ہولی ، دیوالی ، اور چھٹھ وغیرہ جوخالص غیر اسلامی تہوار ہیں، ان میں شریک ہونا اور غیر کلمہ والوں کے عقیدے کے مطابق ان کے تہواروں میں ہاتھ اٹھانا ، سوپ چڑھانا ، بلی دینا ، غیر اللہ کے نام پرجانور ذبح کرنا ، نذرو نیاز اتارنا ، غیر کلمہ والوں کے مذہبی جلسوں میں شریک ہو کر بھجن کرتن میں دلچسپی لینا ، نیک فالی یا کامیابی کیلئے مندروں میں خود سے یا دوسروں کے ذریعے چڑھاوا پیش کرنا وغیرہ،یہ سب شرکیہ اعمال ہیں، جن سے نیک عمل ضائع اور برباد ہو جاتے ہیں۔ کبھی کبھی کچھ ایسے الفاظ ہم بول جاتے ہیں جو کفر تک پہو نچا دیتے ہیں، جیسے اللہ اوراسکے حکم کوبراسمجھنا۔ اس میں عیب نکالنا ، دین اسلام پر تنقید کرنا ، اپنے مومن ہونے پر افسوس کرنا، اللہ کوکوسنا ، اسکی کاریگری میں صلاح دینا ، اسکی حکمت وتدبیر کو ناقص ٹھہرانا ، یا ایسی کسی بھی طرح کی گفتگو جس سے اللہ کی ذات وصفات یا اسکے پسندیدہ دین پر حرف آتا ہو،تو یہ سب کفر یہ اعمال ہیں۔ایسے اعمال اور ایسے الفاظ سے ہمیں خود بھی پوری طرح متنبہ رہنے اور اپنے رفقاءواہل خانہ کو بھی تنبیہ کرتے رہنے کی سخت ضرورت ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے یا ایھا الذین آمنوا قو اانفسکم و اھلیکم نارا ( اے لوگو!تم اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو بھی جہنم کی آگ سے بچاو¿ ) نیز فرمان رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ہم سب اس بات کے پابند ہیں کہ منکرات و خلاف شرع امور کو حسب استطاعت ہاتھ سے ، زبان سے روکیں یا تیسرے درجہ میں انھیں دل سے برا سمجھیں اور اس سے نفرت کا اظہار کریں۔

حضرت مولانا اشرف علی تھانوی علیہ الرحمہ تعلیم بالغان کے سلسلے میں اپنی ایک کتاب میں لکھتے ہیں : ” بوڑھے مرد اور عورت ہر ایک کو قرآن سیکھنے کی ضرورت ہے ،یہ موٹی سی بات ہے کہ جو کام ضروری ہوتا ہے اور ثواب کا ہوتا ہے ، اس کا سامان کرنا بھی ضروری ہوتا ہے اور اس میں ثواب بھی ملتا ہے، پس اس قاعدے سے قرآن کے پڑھنے پڑھانے کا سامان کرنا بھی ضروری ہوگا اور اس میں ثواب بھی ملے گا اور سامان اس کا یہی ہے کہ ہر جگہ کے مسلمان مل کر قرآن کے مکتب قائم کریں اور بچوں کو قرآن پڑھوائیں اور بڑی عمر کے آدمی بھی اپنے کاموں میں سے تھوڑا وقت نکال کر تھوڑا تھوڑا قرآن سیکھا کریں اور جو پڑھانے والا مفت نہ ملے ، سب مل کر اس کو گذارا کے موافق کچھ تنخواہ دیا کریں۔ اسی طرح جو بچے اپنے گھر سے غریب ہوں اور اس لئے زیادہ قرآن نہ پڑھ سکیں ، ان کے کھانے کپڑے کا بندوبست کر دیا کریں کہ وہ اطمینان سے قرآن مجید ختم کرسکیں اور جولڑ کے جتنا قرآن پڑھتے جائیں اپنے گھر جا کر عورتوں اور لڑکیوں کو پڑھا دیا کریں۔ اس طرح سے گھر کے سب مرد اور عورتیں قرآن پڑھ لیں گی۔ ( حیات ا لمسلمین ص / ۹۲،۸۲)

الغرض: معاشرے میں فکری وعملی ارتداد کے سد باب اورد ینی بیداری کیلئے مسلسل کام کرتے رہنے کی ضرورت ہے ، جلسوں اور مشاعروں کی محفل سجانے سے بہتر ہے کہ زمینی محنت اور خاموش محنت کا مزاج بنا کر گھر ،خاندان اور سماج کو مضبوط کیا جائے ، تعلیم بالغان اور مثبت اجتماعی غور وفکر کے بعد کام کا رخ بھی طے ہوسکتا ہے اور عمومی صورت حال کی پوری جانکاری بھی ہوسکتی ہے۔ ہمیں اجتماعی غور و فکرسے کام کا رخ بھی طے کرنا ہے ،تا کہ منکرات پر قابو بھی پایا جا سکے اور سماجی وذاتی زندگی میں دینی بیداری کی ضرورت کا احساس بھی زندہ رہے۔ اس کے لئے ہمیں مندرجہ ذیل امور پر کام کرنا چاہئے۔( 1 ) ہر کلمہ گوا پنی ذات کی اصلاح کی ذمہ داری قبول کرے ( 2 ) ہربستی میں مکا تب دینیہ قائم ہوں ،جہاں بنیادی دینی تعلیم اور عقائد سکھائے جائیں ( 3) مساجد کو مرکز بنا کر تعلیم بالغان اور عقائد ومسائل اور ترجمہ قرآن کریم کا اہتمام کیا جائے۔ ( 4 ) باضابطہ صباحی یا مسائی تعلیم بالغان کانظم بذریعہ امام صاحب کیا جائے( 5 ) سنجیدہ ومتدین عالم دین کے ذریعے مستورات میں بھی ہفتہ پندرہ دن میں عموی بیان کا مربوط سلسلہ قائم کیا جائے ( 6 ) ائمہ مساجد ہر جمعہ کو لگ الگ عملی ،سماجی اور اسلامی اخلاق کے موضوع پر بیان فرمائیں ( 7 ) سماج میں ہمدردی اور استقامت فی الدین جیسے مضامین کا مذاکرہ کیا جائے ( 8 ) برادران وطن کے ساتھ خوش اخلاقی اور مداہنت کے بغیر رواداری کا مظاہرہ کیا جائے ( 9 ) باطل فرقے مثلا : قادیانی فتنے ،شکیلی فتنے ، مہدوی فتنے ، اور اس طرح ختم نبوت کی عمارت کو کمزور کرنے والے فتنوں سے متنبہ ، ہوشیار اور باخبر رہا جائے( 10 ) مسلک عمل کیلئے ہوتے ہیں ،ان سے چھیڑ چھاڑ اورالجھے بغیر اپنے اعمال کی اصلاح کی فکر کیا جائے اور نیز ! گاوں محلے کے بچوں کو سو فیصد تعلیم سے جوڑنے کی اجتماعی کوشش کی جائے۔ رمضان کے مبارک موقع پر گاؤں سماج کے بالغ افراد بھی اپنی ترتیب بناکر صبح یا شام تھوڑی دیر امام صاحب کے ساتھ بیٹھ لیا کریں تو بڑا فایدہ ہوگا یہ ایک اچھا موقع ہے۔اگر مذکورہ بالا امور پر ہم دیانت داری اور تعلیم بالغان کی مدد سے مسلسل عمل پیرا ہو جائیں تو انشاءاللہ دینی بیداری پیدا کر نے اور فکری وعملی ارتداد سے بچ کر ایک مضبوط اور تعلیم یافتہ خوشحال سماج کی تشکیل میں ہم کامیاب ہو سکتے ہیں۔

ناظم معہد عائشہ الصدیقہ رحمانی نگر ،خاتوپور بیگوسرائے
ainulhaqueamini@gmail.com

Previous articleاذان کی مخالفت میں مسجد کے سامنے بجایا ہنومان چالیسہ:جانیے پھر کیاہوا؟
Next articleمسلم پرسنل لاء بورڈ کا انتباہ!

2 COMMENTS

  1. بلاغ 18ڈاکام پیج پر اپنا مضمون ” تعلیم بالغان :تقاضے اور عملی جہتیں ” پڑھ کر خوشی ہوئی ،عمدہ طباعت اور مضمون نگار کے واضح تعارف کے ساتھ اس کی اشاعت کے لئے دل سے دعائیں نکلیں ،اللہ پاک بلا18ڈاٹ کام کی خدمات کو قبول فرمائے اور بلاغ 18 کے برابر اجراء وارتقاء کا سبب پیدا فرمائے ۔

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here