ترجیحات طے کر لیں وقت کے پابند بن جائیں گے از :مدثر احمد قاسمی

0
39

جو کام جس وقت کا ہو اُس کو اسی وقت انجام دینا نتائج کے اعتبار سے بہتر اور زیادہ مفید ہوتا ہے۔اِس کے برخلاف کام کو ٹالنا اور وقت پر انجام نہ دینا جہاں غیر مناسب ہوتا ہے وہیں نقصان دہ بھی ہوتا ہے۔اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم ترتیب وار اپنے کاموں کی اہمیت کو سمجھیں اور اِسی بنیاد پر اپنی ترجیحات طے کریں۔یاد رکھیں! انسانی زندگی کا یہی وہ مرکزی پہلو ہے جس کے درست ہونے پر کامیابی موقوف ہے اور جس کے غیر متوازن ہونے پر کامیابی سے دور ہونا بھی طے ہے۔اسی وجہ سے شریعت نے مشروع چیزوں کو صحیح وقت پر عملی جامہ پہنانے پر زور دیا ہے اور اِس سے کنارہ کشی پر نقصان کو بھی واضح کیا ہے۔ شریعت میں اِس کی لاتعداد مثالیں ہیں،جن میں سے ایک یہ ہے کہ روزہ شروع اور ختم کرنے کے اوقات متعین ہیں ،اب اگر کوئی وقت شروع ہونے کے بعد بھی کھاتا ہے یا وقت مکمل ہونے سے پہلے ہی کھالیتا ہے تو دونوں صورتوں میں اُس کا روزہ باطل ہوجاتا ہے۔اِس عمل کے نقصانات کا اگر تجزیہ کریں گے تو نقصانات کی ایک فہرست سامنے آجائے گی کہ پورے دن بھوکے رہنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا،روزہ بھی نہیں ہوگا،بطور کفارہ روزے بھی رکھنے ہوںگے،شریعت کے حکم کو توڑنے کی وجہ سے گناہ کا بوجھ الگ ہوگا۔ بعینہ اسی طریقے سے کسی بھی کام کو چاہے وہ دینی ہو یا دنیاوی صحیح وقت پر انجام نہ دینے کے مختلف النوع نقصانات ہوتے ہیں۔

آج کل ہماری روز مرہ کی زندگی میں کام کو صحیح وقت پر انجام نہ دینے کی ایک وبا سی پھیلی ہوئی ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ وبا معاشرے کے تقریباً ہر طبقے میں ہے۔چنانچہ اِس حوالے سے جب ہم عوامی زندگی کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ پاتے ہیں کہ اکثر گھروں میں بچوں اور بڑوں کے سونے اُٹھنے کا صحیح وقت ہی متعین ہی نہیں ہے،طالب علموں کے اسکول جانے اور ہوم ورک پورا کرنے میں وقت کی پابندی مفقود ہے،اساتذہ کے کلاس میں آنے جانے میں وقت کے پابند نہ ہونے کی شکایت پائی جاتی ہے ،دفاتر میں صحیح وقت پر آمد و رفت بھی ایک بڑا مسئلہ ہے اور اِسی طرح دیگر شعبہ حیات میں بھی وقت کے پابندی کے حوالے سے کافی شکایتیں پائی جاتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے مختلف شعبہ حیات میں کامیابی کا وہ معیار نہیں پایا جاتا جو مقصود و مطلوب ہے ؛کیونکہ یہ تو ایک مسلمہ اُصول ہے کہ جب وقت کی پابندی نہیں ہوگی تو خاطر خواہ نتائج بھی سامنے نہیں آئیں گے۔

دیکھاجائے تو اکثر صورتِ حال میں وقت کے پابند نہ ہونے کی وجہ غیر ضروری یا کم ضروری چیزوں میں مشغول ہونا ہے ،جس کی شریعت اسلامیہ نے ممانعت کی ہے۔اسی کو مثبت انداز سے ذیل کی حدیث میں سمجھا یا گیا ہے ،چنانچہ نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے:”بیشک انسان کے اچھا مسلمان ہونے کی خوبی یہ ہے کہ وہ بیکار اور فضول چیزوں کو چھوڑ دے۔”(ترمذی)ظاہر ہے کہ جب انسان بیکار اور فضول چیزوں کو چھوڑ دیگا تودینی یا دنیوی اعتبار سے جو کام ضروری ہیں ان کو صحیح وقت پر انجام دینے کے لئے اُس کے پاس وقت ہوگا اور اس کے سامنے کوئی رکاوٹ بھی نہ ہوگی۔

ایک طرف وقت کی پابندی کے تعلق سے ہمارے اندر بے اعتنائی پائی جاتی ہے ،وہیں جب ہم اکابرین کی زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں تو بیشمار ایسے واقعات ہمارے سامنے آتے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اپنے گرانقدر کاموں کے لئے وقت کی پابندی تو کرتے ہی تھے لیکن اس درمیان ضروریاتِ زندگی کی تکمیل میں جو وقت صرف ہوتا تھا،اُس پر بھی وہ پریشا ن ہوتے تھے، جودرحقیقت وقت کے استعمال کے تعلق سے اُن کے بلند معیار زندگی کو بتلانے کے لئے کافی ہے۔چنانچہ امام رازی ؒ کا قول ہے: خدا کی قسم مجھ کو کھانے کے وقت علمی مشاغل کے چھوٹ جانے پر افسوس ہوتا ہے ؛کیونکہ وقت ایک قیمتی شئی ہے۔”(بستان المحدثین)

وقت کی پابندی کس قدر ضروری ہے ،اِس کا اندازہ ہم ایک مثال سے بخوبی لگا سکتے ہیں،مثال یہ ہے کہ اگر کسی کو دور دراز علاقے سے دہلی کا سفر کرنا ہواور اُس نے ٹرین سے ٹکٹ بُک کروالیا ہو تو اُس کے لئے ضروری ہے کہ وہ ٹرین پکڑنے کے لئے متعینہ وقت پر اسٹیشن پہونچ جائے ؛کیونکہ اگر وہ ایک منٹ بھی تاخیر کرتا ہے تو صرف اس کی ٹرین ہی نہیں چھوٹے گی بلکہ وہ اپنی منزل سے بھی دور رہ جائے گا،یہی مثال تمام ضروری کاموں کا ہے کہ اگر اُنہیں وقت پر انجام نہ دیاجائے تو وقت کے ضیاع کے ساتھ منزل سے دورہونے کا بھی نقصان اٹھانا پڑیگا۔ اس کے برخلاف وقت کی پابندی کرنے والا نہ صرف یہ کہ منزل پر پہونچ جائے گا بلکہ اس کی پوری زندگی وقت کی پابندی کے حوالے سے مثالی بن جائے گی؛کیونکہ عموماً ایسا ہوتا ہے کہ جو لوگ اہم کام صحیح وقت پر انجام دے دیتے ہیں اُن کے دیگر کام بھی از خود وقت پر ہونے لگتے ہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ ہم سب کو وقت کا پابند بننے کے لئے جو سب سے اہم کام کرنا ہے وہ یہ ہے کہ ہم زندگی میں اپنی ترجیحات طے کرلیں جو شریعت سے متصادم نہ ہو ں۔اِس طرح ہم ایک اہم کام کی جگہ غیر اہم کام کرنے سے بچ جائیں گے یا ضروری کام کی جگہ کم ضروری کام کرنے سے بچ جائیں گے اور ہماری زندگی کی گاڑی منزل پر پہونچنے تک ٹائم ٹیبل سے چلتی رہے گی۔

Previous articleحملہ آورکون؟ از : مولاناخالدسیف اللہ رحمانی
Next articleغزل ’’اب کہاں تیری ردائے شب بخیر ‘‘ از: افتخار راغبؔ دوحہ، قطر

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here