ترجمہ نگاری اور مختصر بنگلہ افسانوں کے اردو مترجمین از : عظیم انصاری

0
285

زبان و تہذیب کا ایک دوسرے سے بہت گہرا رشتہ ہے۔ ایک تہذیب کا دوسری تہذیب کے ساتھ مکالمہ اسی وقت ممکن ہے جب دونوں تہذیبوں کو قریب لانے میں زبان کا استعمال کیا جائے۔ ظاہر سی بات ہے کہ اس کے لیے دونوں تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے ایسے لوگوں کی ضرورت پڑے گی جو ایک دوسرے کی ترجمانی کر سکیں ۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی ہر زبان میں ترجمہ نگاری کو اہم مقام حاصل ہے۔ دو تہذیبوںکے مکالمہ کے وقت ترجمہ نگار ایک پل کا کام کرتا ہے۔ ایک تہذیب کو دوسری تہذیب سے روشناس کرانے کے لیے ترجمہ نگاری نے بہت اہم کردار نبھایا ہے اور ہر زبان وادب کے قیمتی خزانے کو منتقل کر کے عالمِ انسانیت کو نہ صرف زندہ و جاوید بنایا ہے بلکہ دنیا کو سمیٹ کر ایک عالمی گائوں میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس کے لیے ہمیں ان مفکرین کا شکریہ ادا کرنا چاہیے جنھوں نے ترجمہ نگاری کی طرف اپنی توجہ مبذول کی۔

جس مفکرنے ترجمہ نگاری کے آغاز کا سبب بہت ہی تفصیل سے بیان کیا ہے اس کا نام جارج اسٹائنر ہے۔ اس سلسلے میں اس کی مرتب کی ہوئی کتابAfter Babel کا نام لیا جاسکتا ہے۔ارسطو کی تحریروں میں بھی ترجمہ نگاری کا تذکرہ ہے لیکن تفصیلی گفتگو نہیں ہے۔اڈورڈ سعید نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب ’ Orientalism‘ میں ایک دوسرے حوالے سے اظہارِ خیال کیا ہے۔اس نے ترجمہ نگاری اور تار یخ نویسی کے کسی ضابطہ کی عدم موجودگی پر اظہارِ افسوس کیا ہے۔اس کے مباحث سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ترجمہ شدہ ادب کی ساری خامیا ں نیز تاریخ کے صفحات پر موجود ساری گمراہ کن باتیں ضابطوں اور اصولوں کی عدم موجودگی کے سبب ہیں۔
دنیا کے سبھی ملکوں میں ترجمہ نگاری کے پہل کار وہ مذہبی رہنما اور مبلغین ہیں جنھوں نے اپنے مذہب کی اشاعت کے لیے متعدد زبانیں سیکھیں،ان سے استفادہ کیا اور ترجمہ نگاری کو فروغ دیا۔بعد کے دنوں میں طب اور فلسفہ کی کتابوں کے تراجم ہونے لگے۔بنگال میں فورٹ ولیم کالج کے پلیٹ فارم سے قانون لسانیات اور لغت سازی کی طرف زیادہ توجہ دی گئی۔بنگال، مدراس اور بمبئی کے نواح میں عیسائی مشنریوں نے مقامی تقاضوں کے تحت مذ ہبی کتابوں کے تراجم ہندی، اردو، تامل ، مرہٹی وغیرہ میں کیا۔مغربی بنگال میں سیرامپور اور کلکتہ ان تراجم کے مراکز تھے۔

دورِفرنگ میں غیر مسلموں کی خاصی تعداد ترجمہ نگاری کے میدان میں مصروفِ عمل تھی لیکن آزادی کے بعد یہ منظر نامہ بدل گیا۔غیر مسلم ترجمہ نگاروں کی تعداد گھٹ گئی۔مایوسی کے اس عالم میں بھی کبھی کبھی اچھی خبریں مل جاتی ہیں۔ سوما بندو پادھیائے صدر شعبۂ ہندی،کلکتہ یونیورسیٹی نے حال ہی میں ایک اہم کارنامہ انجام دیا ہے۔ انھوں نے گوپی چند نارنگ کی کتاب ’ساختیات،پس ساختیات اور مشرقی شریات‘ کا بنگلہ زبان میں ترجمہ کر کے اردو دوستی کا ثبوت دیا ہے۔ اس کے علاوہ اس سلسلے سے سروج ناگ رنیش داس گپتا وغیرہ کے نام بھی لیے جاسکتے ہیں۔مذکورہ بالا شخصیتوں کا تعلق مغربی بنگال سے ہے۔بنگال میں اردو غزلوں کی مقبولیت اردو زبان کی ہر دلعزیزی کی دلیل ہے۔غالب کی غزلوں کے کئی تراجم منظر عام پر آچکے ہیں۔ساہتیہ اکادمی نے چند سال پہلے غالب کی غزلوں پر مبنی تراجم کی ایک کتاب شائع کی ہے۔اس کا دوسر،ا اڈیشن بھی منظرعام پر آچکا ہے۔اب تیسرے اڈیشن کی تجویز زیر غور ہے۔ ترجمہ کے ورک شاپ میں اردو والوں کی جانب سے ڈاکٹر مظفر حنفی،ایم علی،ڈاکٹر شمیم انور، کلیم حاذق وغیرہ شارح کی حیثیت سے شریک تھے۔

پورے ملک میں Translation Studies کے حوالے سے کوئی قابلِ ذکر کتاب نہیں،البتہ مضامین دستیاب ہیں۔ڈاکٹر قمر رئیس کی کتاب…’اردو ترجمہ کی روایت‘ مختلف لوگوں کے مضامین پر مبنی ہے۔اس کتاب میں ترجمہ کے بہت سے گوشے شامل ہونے سے رہ گئے ہیں۔ پروفیسر عبدالمنان اور ڈاکٹر شمیم انور کی دو مختصر تحریریں بھی کافی معلومات فراہم کرتی ہیں۔Translation Studies کے حوالے سے ایم۔علی ایک پہلکار کی حیثیت سے نظرآتے ہیں۔ان کی کتاب ’ترجمہ آئینۂ فردا میں‘ ترجمہ کے سارے ابعاد موجود ہیں۔
اس میں دو رائے نہیں کہ ترجمہ نگاری سہل کام نہیں ہے کیونکہ ترجمہ کرتے وقت ایک مترجم کو ڈھیر سی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک زبان سے دوسری زبان میں متن پیش کرنا بچوں کا کھیل نہیں ہے بلکہ اس کے لیے بڑی سنجیدگی اور متانت کی ضرورت ہے ۔ ایک سنجیدہ مترجم ہی سلیقے سے کسی متن کو ایک زبان سے دوسری زبان میں کامیابی سے منتقل کرسکتا ہے ۔ ایک اچھے مترجم کے لیے ضروری ہے کہ وہ دونوں زبان پر یکساں قدرت رکھتا ہو نیز تہذیبی وثقافتی پہلوئوں کا مطالعہ بہ نظر غائر کرتا ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اچھے ذوق کا مالک ہو او رزیر ترجمہ مضمون پر اپنی گرفت سخت رکھتا ہوتاکہ اصل متن کی خصوصیات واضح طور پر نمایاں ہوں لیکن سب سے بڑی بات جو ایک اچھے مترجم کے لیے ضروری ہے کہ وہ صبر وتحمل کا پیکر ہو،تاکہ ترجمہ کرتے وقت وہ دو تہذیبوں اور دو نثری روایتوں کے ساتھ انصاف کر سکے ۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ایک ترتیب یافتہ شعور کا حامل شخص ہی ایک منصفا نہ رویہ اختیار کر کے ایک کامیاب مترجم بن سکتا ہے ۔ ڈاکٹر جمیل جالبی نے ’ ترجمے کے مسائل‘ میں لکھا ہے :
’’ ترجمہ کرنے والا اپنی شخصیت اور مزاج کو کھو کر دوسرے کی شخصیت اور مزاج میں انھیں تلاش کرتا ہے ۔ کھو کر پانا اور پا کر کھونا اچھے تر جمے کے بنیادی عناصر ہیں۔ اچھا ترجمہ اسی وقت وجود میں آسکتا ہے جب مترجم نے نیک نیتی کے ساتھ اپنی شخصیت کو کھو کر مصنف کی شخصیت میں تلاش کرنے کی کوشش کی ہو ۔ اپنی ذات کی نفی اور اپنی شخصیت سے انکار ایک اچھے مترجم کے لیے ضروری ہے۔‘‘
مندرجہ بالا قول کی روشنی میں ایک بات واضح طور پر کہی جاسکتی ہے ترجمہ نگاری ایک مشکل کام ہے جس کے لیے بڑی فنکاری کی ضرورت ہوتی ہے ۔ مترجم کا یہ فرض ہے کہ وہ اصل متن کا ترجمہ اس ڈھنگ سے کرے کہ اس کی روح مجروح نہ ہو اور متبادلات اس طرح کے ہو ں کہ وہ ان میں رچ بس جائے اور اسلوب بھی قائم رہے لیکن ایسا شاذونادرہی ہوا کرتا ہے۔ اکثر متبادلات کی کمی کی وجہ سے مترجم آغاز سے لے کر خاتمہ تک ایک مقررّہ اصول پر قائم نہیںرہ پاتا اور غیر ضروری رعایت لفظی کے سہارے آگے کی طرف قدم بڑھانے لگتا ہے جو اس کے لیے بھی باعث تسکین نہیں ہوتا ۔ فن ترجمہ میں رعایت کی ترغیب نہیں دی جاسکتی بلکہ ہر مترجم کی کوشش ہونی چاہیے کہ اصل متن کا ہو بہو ترجمہ کرے جو اکثر حالات میں نہیں ہو پاتا ۔ تھیوڈرنے اس سلسلے میں مزید پابندی عائد کردی ہے اس کے مطابق ترجمہ شدہ عبارت میں بھی اصل متن کا اسلوب قائم رہنا چاہیے۔ جناب ایم علی نے اپنی قابل قدر کتاب’ ترجمہ آئینہ فردا میں‘ یہ لکھا ہے :
’’ انیسویں صدی کے اختتام اور بیسویں صدی کے اوائل میں جو نظریات سامنے آئے ہیں ۔ اُن میں دو باتیں مشترک پائی گئیں ۔ اوّل متن کی موجودگی اور دوئم متبادل کی تلاش ۔ بورگس کے نزدیک متبادلات کی عدم موجودگی ہر ترجمہ کی ناکامی کا سبب ہے اور ترجمے کے سارے نقائص اسی کے پر ور دہ ہیں۔‘‘
بہر حال اتنی بات تو طے ہے کہ اچھے ترجمے کے لیے ضروری ہے کہ مترجم کی شخصیت سنجیدہ شعور کی حامل ہو ۔ اس کی ذمہ داریاں اس وجہ سے اور بھی اہم ہو جاتی ہیں کہ وہ ترجمہ کرتے وقت دو زبانوں اور دو تہذیبوں کے مابین ایک پل کا کام کرتا ہے ۔ ظاہر سی بات ہے کہ اس سلسلے میں اس کا تربیت یافتہ شعور ہی اسے کامیابی سے ہمکنار کر سکتا ہے۔ ‘‘ اس بابت مشہور افسانہ نگار انیس رفیع کا کہناہے :

’’تر جمے کے یوں تو کئی اصول مقرر کئے گئے ہیں لیکن عام طور پر بہتر اسی کو مانا جاتا ہے کہ کسی مصنف کے جملے کو اپنی زبان کا لباس پہنایا جائے اور اپنے الفاظ و محاورات کے ڈھانچے میں ڈھالا جائے اور اپنی زبان میں اس طرح پیش کیا جائے کہ ترجمے اور تالیف میں فرق محسوس نہ ہو۔ ‘‘
معروف ناقد ابو ذر ھاشمی نے شوکت عظیم کے بنگلہ افسانوں کے تر جمے کی کتاب’ انسانیت زندہ ہے‘۔کی تقریظ لکھتے ہوئے ترجمہ نگاری کے سلسلے میں یہ لکھا ہے :
’’ترجمے کا فن ایک نازک فن ہے۔ با لخصوص ادب کا ترجمہ جوئے شیر لانے سے کم نہیں ، چونکہ ادب میں الفاظ تخلیقی سطح پر استعمال ہو تے ہیں اور ہر لفظ کا اپنا مزاج اور ذائقہ ہوا کرتا ہے۔اس لیے ان الفاظ کو دوسری زبان میں اس طرح منتقل کرنا کہ ادب پارے کی تخلیقی حیثیت مجروح نہ ہو، جو کھم کا کام ہے۔‘‘
جہاں تک ترجمہ نگاری کے فن کا تعلق ہے اس کی ابتدا لاطینی زبان سے ہوئی۔ دنیا جانتی ہے کہ ارسطو اور افلاطون جیسے فلسفیوں کی تحریر یں سب سے پہلے کسی دوسری زبان میں منتقل ہوئیں۔ اس کے بعد اطالوی اور فرانسیسی زبان میں ترجمے کاکام شروع ہوا۔ جہاں تک انگریزی ادب کا تعلق ہے تو عہد حیات نوترجمہ سے آگے بڑھنے لگا اور ترجمے کی بدولت دنیا سمٹنے لگی۔ آج پوری دنیا میں ترجمہ نگاری کے فن کو تحسین آمیز کلمات سے نوازا جاتا ہے کیونکہ اس کی ضرورت اور اہمیت کا اندازہ سب کو یکساںہے۔ عصر حاضر میں ترجمہ کو جو شرفِ قبولیت حاصل ہے وہ پہلے کبھی نہیں تھا۔ اس لیے آج کے دور میں ترجمہ نگاروں کی ذمہّ داریاں بھی کافی حد تک بڑھ گئیں ہیں۔
ظاہر سی بات ہے کہ ہندوستان جیسا ملک بھی ترجمہ نگاری کے فن سے محروم نہیں رہ سکا۔ ہاں یہ ایک الگ بحث ہے کہ اس کی ابتدا اس ملک میں کب اور کیسے ہوئی؟فی الحال ہم اس موضوع کو صرف اردو ، بنگلہ اور بنگال تک ہی محد ود رکھیںگے۔ ہم جانتے ہیں کہ ارد و اور بنگلہ دونوں نوزائیدہ زبانیں ہیں۔ اس لیے ان کا ادبی سرمایہ دیگر زبانوں کے مقابلے میں زیادہ قدیم نہیں ہے ۔ اگر یہ کہا جائے کہ اردو میں متعدد الفاظ ترجموں کی دین ہیں تو بے جانہ ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ ظ۔ انصاری نے یہاں تک کہہ ڈالا کہ ’’ ترجموں کی بدولت ہی اردو ایک با قا عدہ زبان بنی ہے‘‘۔

ڈاکٹر شمیم انور نے اپنے مضمون ’’ مغربی بنگال میں اردو ترجمہ ‘‘ میں لکھا ہے :
’’ تر جمے کے فن کو عظمت عطا کرنے میں فورٹ ولیم کالج نے ایک اہم رول ادا کیا ہے ۔ فورٹ ولیم کالج کے علاوہ نواب فخر الدین خاں شمس الا مرا کے مدرسئہ فخر یہ نے جدید مغربی علوم وفنون کی نصابی کتابوں کے ترجمے کئے ہیں ۔ وہیں شاہان اودھ کی کوششوں سے لکھنؤ میں نواب غازی الدین حیدر نے سائنٹفک سوسائٹی قائم کر کے مدرسوں اور اسکولوں کے لیے جدید نصابی کتابوں کے ترجمے کرائے ۔ ورنہ کلر ٹرانسیلش سوسائٹی ، دلی ّ کالج ، سر سید کی سائینٹفک سوسائٹی ، مہا راجہ کشمیر کا دارالترجمہ جامعہ عثمانیہ ، انجمن ترقی اردو ، دارالمصنفین اعظم گڑھ ، ہندوستانی اکیڈمی ، آلہ آباد اور اردو اکاڈمی جامعہ ملیہ نے آزادی کے قبل ترجموں کے ذریعہ اردو زبان و ادب کو دیگر زبانوں کے تر جمے سے مالا مال کیا اور آزادی کے بعد نیشنل بک ٹرسٹ ، ساہتیہ اکیڈمی ، ترقی اردو بورڈ کے علاوہ تمام صوبوں کی اردو اکیڈمیوں نے اس روایت کوپروان چڑھا یا ہے جس کا نتیجہ ہے کہ آج اردو زبان میں مغربی اور مشرقی زبانوں کے ساتھ ساتھ ہندو ستانی زبانوں کے فن پاروں کے ترجموں کا ذخیرہ کم نہیں ہے۔‘‘
آزادی کے بعد جہاں دوسرے صوبوں میں ترجمے کے کام کو آگے بڑھایا جارہا تھا تو مغربی بنگال بھی اس سلسلے میں پیچھے نہیں رہا بلکہ یہ کہنا حق بجا نب ہوگا کہ فورٹ ولیم کالج کی روایت کو نہ صرف بر قرار رکھنے کی کوشش کی گئی بلکہ اسے مزید استحکام بخشا گیا۔ آزادی کے بعد مغربی بنگال میں اردو تراجم کا اچھا خاصہ ذخیرہ موجود ہے جو دوسری زبانوں سے منتقل ہوکر اردو ادب کے سرمایہ میں اضافہ کر رہے ہیں ۔ لیکن موضوعِ گفتگو چونکہ بنگلہ زبان کا مختصر افسانہ ہے اس لیے ہم اپنی بات یہیں تک محدود رکھ رہے ہیں ۔ اس سلسلے میں شوکت عظیم کا کہنا ہے :
’’بنگلہ زبان کا مختصر افسانہ آج دنیا کی کسی بھی زبان کے افسانوں کے مقابلے میں کھڑا کیا جا سکتا ہے۔ رابندر ناتھ ٹیگور کی مہمیز لگنے کے نتیجے میں بنگلہ افسانے نے جس منزل کی سمت سفر شروع کیا تھا وہ آج بھی جاری ہے ۔ ٹیگور کے افسانوں نے بنگلہ ادب میں ہر لحاظ سے ایک بلند معیار قائم کیا اور اس صنف ادب کو ایک اچھوتا مقام عطا کیا ، ٹیگور کے بعد سرت چندر چٹرجی ، پربھا ت مکھوپادھیائے وغیرہ کی خدمات اس سلسلے میں بے شک یادگار ہیں ۔ اس کے بعد دورانِ ’’ کلو ّ ل ‘‘ عہد بنگلہ ادب میں ایک حیرت انگیز تبدیلی پاتے ہیں۔‘‘

رابندر ناتھ ٹیگو ر ، سرت چندر چٹرجی اور پربھات مکھو پادھیائے کے علاوہ جن لوگوں نے مختصر افسانے کی دنیا میں اپنے نام کا ڈنکا بجا یا ہے ان میں مانک بندوپادھیائے، تارا شنکر بندوپادھیائے ، ببھوتی بھوشن بندوپادھیائے بالائی چند مکھو پادھیاے(بن پھول ) ، سمریش مجمدار ، سمریش باسو ، سنیل گنگو پادھیائے ، سنجیب چٹو پادھیائے اور سید مصطفے سراج وغیرہ خاص ہیں۔
آزادی سے قبل اور آزادی کے بعد بھی ترجمہ نگاری کا فن پروان چڑھتا رہا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کا ز کو آگے بڑھانے میں فورٹ ولیم کالج ، کلکتہ کا زبردست ہاتھ رہا۔ دیگر زبانوں کے ساتھ ساتھ بنگلہ ادب کا ترجمہ بھی اردو زبان وادب کے سرمائے میں اضافہ کرتا رہا۔ چونکہ میرا موضوع بنگلہ افسانوں کے اردو تراجم تک محدود ہے لہذا میں دیگر اصناف سخن کا ذکر نہیں کرنا چاہوں گا ۔ آزادی کے بعدمغربی بنگال میں جن شخصیتوں نے بنگلہ افسانوں کا اردو میں ترجمہ کیا ہے ان میں ایک نام پدم شری سالک لکھنوی کا ہے جو شاعر وادیب ہونے کے علاوہ ایک کامیاب مترجم بھی تھے۔ انھوں نے چند ہی بنگلہ افسانوں کا ترجمہ کیا ہے اُن میں سے ایک ترجمہ رابندر ناتھ ٹیگور کا افسانہ ساکچھی (گواہ ) ہے۔ کلکتہ کے اور ایک شاعر علقمہ شبلی نے جہاںمختلف اور متعددبنگلہ نظموں کو اردو میں منتقل کیا ہے وہیں انھوں نے چند بنگلہ افسانے بھی ترجمہ کیے ہیں جن میں نیلیما سین بندوپادھیائے کی کہانی ’’ باپ ‘‘ شامل ہے۔ بنگلہ اور اردو کے مشہور اسکالر شانتی رنجن بھٹا چاریہ نے بھی چند بنگلہ کہانیوں کا ترجمہ اردو میں کیا ہے جن میں سوکانت بھٹا چاریہ کی کہانی’ بھدر لوک ‘ مشہور ہے۔
بزرگ شاعر وادیب قیصر شمیم نے بھی بنگلہ ادب کے کئی افسانوں کا اردو میں ترجمہ کیا ہے جس میں مہاشویتا دیوی کے دو افسانے ’ کہا تھا پانی ‘ اور ’ طلاق ‘ سمریش مجمدار کی کہانی ’تبدیلی‘ اور رابندر ناتھ ٹیگور کے افسانوں میں لین دین ، پوسٹ ماسٹر ، رام کنھائی کی بے وقوفی ، جہیز ، ڈاکو اور جگیشور کا یگیہ خاص ہیں۔ نصر غزالی نے یوں تو زیادہ تر بنگلہ نظموں کا اردو میں ترجمہ کیا ہے لیکن انھوں نے چند افسانوں کا بھی ترجمہ کیا ہے جن میں بولائی چندرمکھوپادھیائے (بن پھول) کی کہانی چھوکری قابلِ ذکر ہے۔ فیروز عابد طبع زاد جدید افسانوں کے لیے پہچانے جاتے ہیں ۔ انھوں نے بہت سے بنگلہ افسانوں کابھی اردو میں ترجمہ کیا ہے جن میں ر ابندر ناتھ ٹیگور کی کہانی ’گھر والی‘ ، ’ سنیل گنگوپادھیائے کی کہانی ’ بو‘ ۔ سمریش باسو کی کہانی ’آداب ‘ راج شیکھر باسو کا افسانہ ’ پرارتھنا ‘ نبیندو پھوش کا سائبان ، مانک بندو پادھیائے کا افسانہ ’ فنکار ‘ سید مصطفے سراج کا بھار ت وغیرہ خاص ہیں۔ ترجمے کا ایک حوالہ سعید پریمی بھی ہے جنھوں نے مانک بندوپادھیائے کا افسانہ ’ ہارن کانتن داماد ‘ منورنجن ہاجرا کا ٹھیکہ دار ، منوج داس کا ’ کون تھے وہ لوگ ‘ ارون دھتی مکھرجی کا ’جب بارش آئی‘ ، اور سنیل گنگو پادھیائے کا ’ ڈر ‘کو اردو کا قالب عطا کیا ہے ۔اردو ڈرامے کی دنیا پر چھا جانے والے ممتاز ڈرامہ نگار ظہیر انوراور کمال احمدنے بھی کئی بنگلہ افسانوں کا ترجمہ اردو میں کیا ہے۔معروف شاعر، افسانہ نگاراور ناول نویس ڈاکٹر مشتاق انجم نے بھی بن پھول کے چند افسانوں کا بنگلہ سے اردو میں ترجمہ کیا ہے ۔ بحیثیت مترجم اُن کی صلاحیت مسلم ہے کیونکہ انھوں نے مغربی بنگال اردو اکیڈمی کے ایما پر۲۰۱۴ء میں راجہ رام موہن رائے کی چار سو آٹھ صفحات پر مشتمل سوانح عمری (مصنف نگیندر ناتھ چٹرجی)کا بنگلہ سے براہِ راست ترجمہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ ھال ہی میں انہوں نے بنگلہ دیش کے بزرگ مصنف سید انوار الحافظ کے دو ناولوں ’تمی سندھیار میگھ مالا‘(۲۰۱۷ء) اور ’تین بیگہہ زمین‘ (۲۰۱۸ء) کا اردو میں ترجمہ کیا ہے جن کی کافی پذیرائی ہوئی ہے۔ ان کے علاوہ جن لوگوں نے بنگلہ افسانوں کااردو میں ترجمہ کیا ہے ان میں ظفر العام خطری، نوشاد مومن ، (مدیر ، مژگاں ) ، عظیم اقبال ، ڈاکٹر ہمایوں جمیل خان ، اسلم اختر ، خالدہ حسینی اور احمد سعدی خاص ہیں۔

ڈاکٹر شہناز نبی ایک خوش فکر شاعر وادیب ہونے کے ساتھ اچھی مترجم بھی ہیں ۔ انھوں نے مالک بندوھیائے کے منتخب افسانوں پر مشتمل ایک کتاب مرتب کی ہے جس میں چھوٹا بو کل پور کے مسافر ( پروفیسر نصر غزالی ) ، ہارن کانتن داماد ( سعید پریمی)، فنکار ( فیروز عابد)،ٹیچر ڈاکٹر (شیخ الماس حسین) اور معتبر تاریخ (ڈاکٹر شہناز نبی) شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے رابندر ناتھ ٹیگور کی کہانی ـ ’کابلی والا‘ اور سرت چندر چٹر جی کی کہانی ’مہیش‘ کا بنگلہ زبان سے اردو میں ترجمہ کیا ہے۔ ڈاکٹر شہناز نبی کے علاوہ جن خاتون قلمکاروں نے بنگلہ افسانوں کا اردو میں ترجمہ کیا ان میں خالدہ حسینی اور عذرا مناظ ہیں ۔ خالدہ حسینی نے برج بلبھ کی کہانی ’ حقیقت سے دور‘ کا ترجمہ کیا ہے۔ عذرا مناظ ایسی خاتون قلم کار ہیں جو ان دنوں تواتر سے بنگلہ کہانیوں کا اردو میں ترجمہ کر رہی ہیں ۔ اب تک وہ رابندر ناتھ ٹیگور کی آ ٹھ کہانیوں ، سائنس داں ، راج باڑی ، بڑی خبر ، چنڈی ، راج رانی ، منشی ، جادوگر اور پری کا ترجمہ کر چکی ہیں۔اس کے علاوہ انھوں نے مہاشویتا دیوی ( ہر زمانے کی کہانی)‘ لیلا مجمدار (جادوگر) اورببھوتی بھوشن بندوپادھیائے (ڈاکوئوں کی سلامی ) کے افسانوں کا بھی اردو میں ترجمہ کیا ہے۔
بنگلہ مختصر افسانوں کے ترجمے کے سلسلے میں ایک نام شوکت عظیم کاہے۔ بنگلہ افسانوں کے ترجمے کی ان دو کتابیں ہیں۔ (۱) انسانیت زندہ باد(۱۹۸۸) اور کرسی نامہ (۱۹۹۸)۔ انسانیت زندہ ہے میں نو افسانے شامل ہیں ۔ خزانچی بابو( تارا شنکر بندوپادھیائے) ‘ فٹ پاتھ کا سورج مکھی ( چھبی باسو) ‘ دس روپئے کا نوٹ ( ویرین گنگو پادھیائے)‘ ایک ٹوکری خبر اور ( سدھا نگھشو گھوش ) ‘ تین سو ئچ (شیکھر باسو)، ذمہ داری (سمریش مجمدار )‘ انسانیت زندہ ہے (وکاش جانا) ‘ روپئے اگانے والا پیڑ رادھا ناتھ منڈل اور کلکتہ بہت دور ہے(دیپانکر داس)۔ کرسی نامہ مین جو کہانیاں شامل ہیں وہ یوں ہیں؛ تاش کا گھر ( تارا شنکر بندوپادھیائے)‘ آداب( سمریش باسو)‘ کرسی نامہ ( سید مصطفیٰ سراج )‘ سمجھوتہ ( سمریش مجمدار )‘ ایک ادھو را حساب ( کنہائی کنڈو) اور تعفن (سمترا لہری)۔ اس کے علاوہ شوکت عظیم نے جن افسانوں کا اردو میں ترجمہ کیا ہے۔ ان میں نذرالاسلام کی کہانی ’مہاجر‘ ،وکاش جانا کی ’بھوک‘ ،سنتوش کمار گھوش کی’ چھوٹی سی بات ‘، جگدیش شرما کی’ بارش‘ اور نارائین گنگو پادھیا ئے کی کہانی ’ایک خط محترم ممتحن‘ کے نام شامل ہیں۔
شو کت عظیم کے بعد ایک اور نا م جمیل احمد کا ہے جو تر جمے کی دنیا میں اپنی پہچا ن بنا رہا ہے۔انھو ں نے ۲۰۱۱ ء میں بچو ں کے لیے ۱۷ افسا نو ں پرمشتمل ایک کتاب کی اشا عت کی جس کا نام ــــ’ بھو تو ں کا البم‘ہے۔اس کے علا وہ انھو ں نے مختلف بنگلہ افسا نوں کواردوکا قالب عطا کیاہے۔ان میں سنیل گنگو پادھیا ئے کا’ فیصلہ‘ ،ریتیشوربر من کا ’جا نشین ‘، بن پھو ل کا’بن پھو ل‘،ارو ن دے کا ’درند ہ‘، استو پن چٹو پا دھیائے کا’ قحط‘،پر دیپ اچا ریہ کا ’قیدہستی‘،ونود گھو شال کا ’سفید خو ن‘،ہما یوں احمد کا ’سا ون کا سو دائی‘،امدادلحق ملن کا ’را جا کا بلا وا ‘،سید مصطفے سراج کا ’وہ لڑ کی ‘ اور رما نا تھ رائے کا ’بن مانش‘خا ص ہیں۔ان کا قلم ابھی رواںدواںہے اور مستقبل قریب میں اور بھی امید یں وا بستہ کی جا سکتی ہیں۔
ترجمے کی دنیا کاایک اور کامیاب ، اور قابلِ احترام شخصیت کا نام ہے شبیر احمد ۔ انھو ں نے بن پھول کے ۶۰ سے زائد افسانوں کا اردو میں ترجمہ کیا ہے جن میں سے سلیکھا کے آنسو اور ودھاتا خاص ہیں ۔ انھوں نے پرشوم رام کی دو کہانیوں رقص عریاں اور آسمانی چیل کا بھی ترجمہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ سمریش باسو کا آداب اور رابندر ناتھ ٹیگور کے چند افسانوں کا بھی ترجمہ کیا ہے۔ اگر وہ چاہیں توآسانی سے بنگلہ افسانوں کے ترجمے کی کتاب نکال سکتے ہیں ۔ اس میں شک نہیں کہ وہ ایک بہت ہی کامیاب مترجم ہیں جس کا اندازہ آپ ان کی مندرجہ ذیل کتب سے لگا سکتے ہیں:
۱۔ ’’چلتے چلتے‘‘ (۲۰۰۳)۔ یہ جدید بنگا لی شاعر سبھاش مکھوپادھیائے کے مجموعۂ کلام ’’جو تو دور ۔ای۔جائے‘‘ کا ترجمہ ہے جس پرساہتیہ اکاڈمی کا ایورڈ بھی مل چکاہے۔
۲۔ ’’شاہ بے لباس‘ ‘جو نریندر ناتھ چکر ورتی کے مجموعۂ کلام ’’ النگو راجا ‘‘ کے ترجمہ اور تو ضیحی اشاروں پر مبنی ہے ۔ (۲۰۰۶)
۳۔ سنیل گنگو پادھیائے کے ناول ’’سیئی سومئے‘‘کا ترجمہ ’’اور اس وقت‘‘ (۲۰۰۷)، ساہتیہ اکاڈمی
۴۔ صلاح الدین پرویز کے ناولIdentity Card کا ترجمہ ’’پریچے پتر‘‘ ( اردو سے بنگلہ ) ۔ ( ۲۰۰۸) ، ساہتیہ اکاڈمی
۵۔ ’’بچوں کے رابندر ناتھ‘‘ (جلد اول)]ٹیگور کے کہانیوں ، ڈرامہ اور نظموں کا بنگلہ سے ترجمہ [ ۔ ۲۰۱۵
شبیر احمد کے علاوہ جن لوگوں نے بحیثیت مترجم اپنی الگ شناخت بنائی ہے ان میںخورشید اکرم ، ایم علی اور کلیم حاذق خاص ہیں۔ خورشید اکرم نے جہاں سنیل گنگو پادھیائے کے ناول ’’ اتم پرکاش ‘‘ کو اردو میں ترجمہ کیا ہے وہیں ا نھوں نے ببھوتی بھوشن بندوپادھیائے ، منوج مترا اور ٹیگور کے چند افسانوں کا بھی ترجمہ کیا ہے۔ متی نندی کی ایک کہانی اندھیرے سے اندھیرے تک کا انھوں نے بڑا شاندار ترجمہ کیا ہے۔

کلیم حاذق نے ۱۹۹۸ ء میں بہ اشتراک افسر احمد اردو ناول دو گز زمین کا بنگلہ ترجمہ کیا جس پرساہتیہ اکیڈمی کا انھیں انعام بھی ملا ہے۔انھو ں نے چند بنگلہ افسانوں کا اردو میں ترجمہ کیا ہے جن میں ریتک کمار گھٹک کا ’ساتھی‘ اور نذرالاسلام کا ’کٹھل چور ‘خاص ہیں۔
اپنی کتاب ’ ترجمہ آئینہ فردا میں ‘(۲۰۱۰ ) کے ذریعہ خوش فکر شاعر وادیب ایم علی نے اپنی صلاحیت کا نمایاں اظہار کیا ہے۔ اس سے قبل انھوں نے اپنی تنقیدی مضامین ( بدلتے زاویے ، ۲۰۰۳) کے ذریعہ اپنی ناقدانہ صلاحیت کی پہچان بنائی ہے ۔ انھوں نے بھی بہت سے بنگلہ افسانوں کا اردو میں ترجمہ کیا ہے جس میں رابندر ناتھ ٹیگور کے افسانے گھاٹ ، چھٹی ، شبھو اور کنکال خاص ہیں۔ انھوں سرت چندر چٹرجی کے افسانوں مہیش ، قاتل کا بھائی اور صندوق کا بھی ترجمہ کیا ہے ۔ ۲۰۱۵ ء میں انھوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کی ایماپر ٹیگور ریسرچ اینڈ ٹرانسیلشن اسکیم کے تحت رابندر ناتھ ٹیگور کے ناول ’گورا‘ کا ترجمہ کیاہے ۔
بنگلہ افسانوں کا براہ راست اردو میں ترجمہ کرنے والوں میں نسیم عزیزی اور فہیم انوربھی ہیںجوتواتر کے ساتھ ترجمہ کر رہے ہیں۔
نسیم عزیزی انگریزی ، ہندی اور بنگلہ تینوں زبانوں سے ترجمہ کرتے ہیں۔ اب تک انھو ں نے بنگلہ کے سو لہ (۱۶) افسانوں کا ترجمہ کیا جن میں بن پھول کے چار افسانے کنکڑ اور تاڑ کا درخت ، ایک بوند کہانی ، آنکھیں گیئں اور مختصر ترین کہانی، سنیل گنگو پادھیائے کے دو افسانے گوشت ،ایک خط اور ایک سفید پرندہ ، سچترا بھٹا چاریہ کے دو افسانے سنسار اور پوتل ، رماناتھ رائے کی کہانی چائے یا کافی ، سیکیت مکھوپادھیائے کی برکھا کی کائنات ، نیلا نجن چٹو پادھیائے کا بڑا آدمی ، شیلن سرکار کا قاتل ، میرا چٹو پادھیائے کا آنسو بھرا کرب ، شیب ناتھ بندو پادھیائے کا کٹھ پتلی کی شادی، انیندا یتا گو سوامی کا آخری کیل ، سدیپ جوار دار کا وین انکل اور مونی ، دیپا نکر گوسوامی کا جھٹکا خاص افسانے ہیں۔
فہیم انور نے شاعری اور مضمون نگاری کے ساتھ بہت سے بنگلہ افسانوں کا ترجمہ بھی کیا ہے۔ انھوں نے بن پھول کے ۹ افسانوں کا ترجمہ کیا ہے جو یوں ہیں :
ساتھ ساتھ ، اندر باہر ، بدُھلی ، انسان کادل ، سناتن پور کے باشندے ، سلیکھا کے آنسو ، مشترکہ خواب ، املا اور اپنے پرائے ۔
اس کے علاوہ انھو ںنے پر وتیند پوتری کی کہانی پیتل کی جھنجڑی، انشچے چکر ورتی کی کہانی ریزہ ریزہ خواب ، نارائن گنگوپادھیائے کی کہانی مشق ، سنیل گنگو پادھیائے کی کہانی چور سادھو اور رابندر ناتھ ٹیگور کے دو افسانے مہمان وسرِ ساحل کا ترجمہ کیا ہے۔ حال ہی میں انھوں نے رابندر ناتھ ٹیگور کی خود نوشت سوانح میری یادیں (بنگلہ:جیون شریتی ) کا ترجمہ کیا ہے۔
مندرجہ بالا تفصیلات کی روشنی میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ بنگلہ افسانوں کا اچھا خاصہ ذخیرہ اردو ادب میں محفوظ ہورہا ہے۔ اگر شبیر احمد اور کلیم حاذق جیسے باصلاحیت مترجم اس طرف متوجہ ہو جائیں تو بنگلہ زبان کے معیاری اور نمائندہ افسانوں کے ذخیرے سے اردو ادب مزید مالا مال ہو جائے گا۔

Previous articleباقر مہدی ۔۔ ایک تعارف از: انسان گروپ مغربی بنگال
Next articleدانش گاہوں میں انقلاب کی آہٹ از : امتیاز وحید

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here