تذکرہ مشاہیر ادب ،مشرقی مگدھ —-ایک طائرانہ نظر از : ڈاکٹر سیّدشاہداقبال(گیا)

0
150

جناب ابوالکلام رحمانی کی یہ مایہ ناز تصنیف ۲۰۱۴ء میں منظرعام پر آئی ہے اس میں مشرقی مگدھ کی چھ اضلاع مونگیر…جموئی /لکھی سرائے /شیخ پورہ /نوادہ اور نالندہ سے تعلق رکھنے والے مشاہیرادب (ادبا وشعرا ) کاذکر ہے —-علاقائی تذکرے لکھنے کی روایت گذشتہ نصف صدی سے شروع ہوئی ہے اورتقسیم ہند کے پس منظرمیں بہت سے ادباء و شعراء اپناگھربار چھوڑ کردیارغیر میں سکونت پذیر ہوگئے ۔ ان کے احوال سے نئی نسل ناواقف ہے -جناب ابوالکلام رحمانی نے دوسوسال 1740تا 1960تک کی تاریخ مرتب کی ہے لیکن میرامطالعہ یہ بتارہاہے کہ انہوں نے اٹھارھویں صدی سے بیسویں صدی تک کے مشاہیر ادب کاذکر کیاہے ان میں حصہ نثر میں 21اورحصہ نظم میں 47ادبا اورشعرا کاسوانحی خاکہ پیش کیاہے اوران کی علمی وادبی اورشعری خدمات کاذکر کیاہے ۔ اس تذکرے میں ضیماً چھ کی مشاہیر ادب کابھی احوال درج ہے ۔

ابوالکلام رحمانی ایک تجربہ کارادیب ہیں ان کا اس سے قبل ’’تذکرہ مشاہیر ادب شیخ پورہ ‘‘ 2000ء میں منظرعام پرآیاتھا ۔ اس تذکرے کی اشاعت سے ان کو مشرقی مگدھ کاتذکرہ لکھنے کاشوق پیداہوا۔ ابوالکلام رحمانی نے خود اعتراف کیاہے کہ انہیں اس کام کے لیے پروفیسر شاہ مقبول احمد اورپروفیسر جاوید نہال صاحبان نے رہنمائی فرمائی ہے ۔ ان دونوں پروفیسرصاحبان کاوطن بھی مشرقی مگدھ رہاہے اس لیے ان کی یہ خواہش تھی کہ ابوالکلام رحمانی یہ معرکہ سرانجام دیں۔جسے ابوالکلام رحمانی صاحب نے بہ حسن خوبی انجام دیاہے ۔

ابوالکلام صاحب نے حصہ نثرمیںمولاناسید محمداحسن گیلانی / مولانا سید عبدالغنی وارثی استھانوی / پروفیسر عبدالغفور شہباز / مولوی عبدالکریم دسنوی / حافظ سید تجمل حسین دسنوی /حکیم ابوالمحد عبدالصمد اوگانوی /حکیم سید محمد احسن استھانوی /مولوی عبداللہ گیلانی /حکیم عبدالخلیل نظردسنوی /عبدالصمد آزاد بازیدپوری /علامہ سید سلیمان ندوی /مولانا سید منظر ندوی /محی الدین عزم بازید پوری /مولانا سید مسعود عالم ندوی / سید صباح الدین عبدالرحمن /سید شہاب الدین دسنوی / مشتاق احمد استھانوی /پروفیسر ڈاکٹر مجیب الرحمن /مظہر انصاری چکدینوی / حافظ محمدادریس سنسہاروی /محمدعبدالرقیب ظفر چکدینوی /ڈاکٹر جاویدنہال اوگانوی /انورعظیم نوادوی /عبدالقوی دسنوی/سید شمیم اختر چواروی /سید علی چواروی /ڈاکٹر محی الدین ظفر اوگانوی –

جناب ابوالکلام رحمانی نے سب کے نام کے ساتھ ان کاوطن کانام سابقہ میں جوڑ دیاہے ۔انہوں نے ان تمام ادبا /حکما / شعرا اورمشاہیر ادب کااحوال اس طرح لکھاہے جیسے معلوم ہوتاہے کہ علم کاسمندر بڑھتا چلاآرہاہے کسی طرح کی معلومات تشنہ طلب نہ رہ جائے اس کی بھی انہوںنے بھرپور کوشش کی ہے ۔ مجھے ایسامحسوس ہوتاہے کہ وہ کلکتہ کی تمام بڑی بڑی لائبریریوں کی ورق گردانی کرتے رہے ہیں اور علمی ذخیرے سے معلومات اکٹھا کیاہے ۔انہوںنے کلکتہ میں موجود سینئر اساتذہ کرام کی ذاتی کتب خانے سے بھی استفادہ کیاہے ۔ جس کاابوالکلام رحمانی نے اعتراف بھی کیاہے ۔

اس کے باوجود ابوالکلام رحمانی نے چند اندراجات چھوڑدئیے ہیں اس پر غالباً ان کی نظر نہیں گئی ہے ۔ پروفیسر ابوظفر ندوی کی تاریخ وفات درج نہیں ہے ۔ان کا انتقال 28مئی 1958میں ہواتھا ۔ پروفیسر نجیب الشرف ندوی کاانتقال 5ستمبر 1968میں ہواتھا یہ بھی درج نہیں ۔ سید شہاب الدین دسنوی کی تاریخ وفات درج نہیں ۔ان کاانتقال 30مارچ 1998میںہواتھا-اسی طرح پروفیسر مجیب الرحمن کا انتقال 11فروری 1999ء میں ہواتھا ۔ یہ بھی درج نہیں کیاگیاہے ۔انورعظیم کاانتقال 20اکتوبر 2000ء میں ہواتھا یہ بھی درج نہیں ہے -واضح ہے کہ مذکورہ تمام مشاہیرادب کی سن ولادت درج شدہ ہے -!

اسی طرح حصہ نظم میں بھی حکیم سید برکات احمدمیرنگری کی سن ولادت درج نہیں ہے ان کاسن ولادت 1984ہے ۔ پروفیسر سید عبدالماجد اخترکی تاریخ وفات درج نہیں ہے ۔ان کاانتقال 20ستمبر 1969میںہوا تھا ۔سید نجم الہدیٰ گیلانی کی تاریخ وفات 20فروری 1985ہے جو درج نہیں کی گئی ہے -حکیم سعداللہ کی سن وفات 2000ہے یہ بھی درج نہیںہے ۔ پروفیسر عطاکریم برق کی تاریخ وفات 4 اکتوبر 1999ء ہے یہ بھی درج نہیں ہے ۔جمیل ظہرکی تاریخ وفات 3جنوری 2018ء ہے مذکورہ کتاب کی ترتیب کے وقت وہ باحیات تھے -اس طرح علقمہ شبلی کی تاریخ وفات درج نہیں ہے ان کاانتقال 13؍اگست 2019ء میں ہواہے۔ مذکورہ کتاب کی ترتیب اوراشاعت کے وقت علقمہ شبلی صاحب باحیات تھے -!!

ابوالکلام رحمانی جیسے تحقیق اورتنقیدکے سنگلاخ زمین کے فروگذاشت کی تصحیح کر لیں گے -!!
الغرض -یہ کتاب ’’تذکرہ مشاہیرادب مشرقی مگدھ ‘‘ ایک ایسا علمی کارنامہ ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے ۔جیسے جیسے زمانہ گذرتاجائے گا اس کتاب کی اہمیت بڑھتی جائے گی ۔یہ کتاب ہرصاحب علم /ریسرچ اسکالر اور عام قارئین کے لیے بھی بے حد مفید ہے جس کاہرلائبریری اورنجی کتب خانوں میںہونابے حد ضروری ہے ۔
میںابوالکلام رحمانی صاحب کواس گرانقدر تصنیف وتالیف پرمبارک باد پیش کرتاہوں اورامید کرتاہوں ابوالکلام رحمانی صاحب آئندہ بھی اپنی علم کی جولانیاں دکھلاتے رہیںگے —-!!!

DR. S. SHAHID IQBAL Ph.D
At: ASTANA-E-HAQUE, ROAD NO: 10
WEST BLOCK, NEW KARIMGANJ
GAYA-823001 (BIHAR)
E-mai:drsshahidiqbal@gmail.com

٭٭٭

Previous articleکریں سیاست بھی، حمایت بھی لیکن اجالے میں !! از: جاوید اختر بھارتی
Next articleسرزمینِ متھلا کے نیّر اعظم: معروف مترجم سید محمود احمد کریمی ’’زاویۂ نظر کی آگہی‘‘ کے حوالے سے از: مظفر نازنین ۔ کولکاتا

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here