یوسف ناظم کا تصنیفی سرمایہ

0
447

—ظفر کمالی

یوسف ناظم (پ نومبر ۱۹۲۱ء) اردو کے بڑے فعال ظرافت نگار اور دانش ور تھے۔ انھوں نے ۱۹۴۴ء سے لکھنا شروع کیا اور اپنے وصال (جولائی ۲۰۰۹ء) تک مسلسل لکھتے رہے۔ تقریباً پینسٹھ برسوں کے طویل تخلیقی سفر میں انھوں نے بہت کچھ لکھا۔ ان کے فن کی مختلف جہتیں ہیں۔ انھوں نے ظریفانہ مضامین، پیروڈیاں، خاکے، کالم، سفرنامہ، تنقیدی مضامین اور بڑی تعداد میں تبصرے لکھے۔ کتابوں کے فلیپ اور ان کے دیباچے اس پر مستزاد ہیں۔ انھوں نے شاعری بھی کی اور ادبِ اطفال کو بھی اپنی توجہ سے محروم نہیں رکھا۔ بھر تری ہری اور کبیر کی تخلیقات کے منظوم ترجمے بھی کیے۔ مختلف شخصیات اور اصنافِ ادب پر انھوں نے رسائل کے خاص نمبر اور کتابیں ترتیب دیں۔ ان کی پہلی کتاب ۱۹۶۳ء میں اور آخری ۲۰۰۹ء میں طبع ہوئی۔ ابھی ان کی تحریروں کا ایک معتدبہ حصہ مدون ہونا باقی ہے۔ اب تک یوسف ناظم اور ان سے متعلق جتنی کتابیں شایع ہو چکی ہیں ان کی تفصیل پیش کی جاتی ہے۔
مضامین کے مجموعے:
(۱) کیف و کم— سنہ اشاعت ۱۹۶۳ء، ناشر ادارۂ ادبیاتِ اردو حیدر آباد، صفحات ۸+۱۵۲=۱۶۰۔ یوسف ناظم نے اپنی کتاب ’ایک اور چکمہ‘ کے انتساب کے صفحے پر لکھا ہے کہ ’میری پہلی کتاب ۱۹۶۳ء میں ادارۂ ادبیات اردو، حیدر آباد سے شایع ہوئی۔ اس کا انتساب میں نے اپنے والد ماجد(جو اس وقت بقید حیات تھے) کے نام کیا تھا لیکن جب کتاب چھپ کر مطبع سے باہر آئی تو اس میں انتساب کا صفحہ ہی نہیں تھا۔‘‘ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ناظم صاحب کے حافظے نے انھیں دھوکا دیا ہے۔ ادارۂ ادبیات اردو کے ایڈیشن میں انتساب کا صفحہ موجود ہے لیکن انتساب ان کے والد کے نام نہیں۔ انتساب کے الفاظ ہیں: ’میکش مرحوم کی یاد میں‘ اور حاشیے میں وضاحت کی گئی ہے صاحب زادہ میر محمد علی خاں میکش۔ کتاب کے دوسرے ایڈیشن میں بھی یہ چیز موجود ہے۔ کتاب کا تعارف کرشن چندر نے لکھا ہے۔ مندرجات کی تفصیل حسب ذیل ہے:
(۱) مرزا غالب کی صحت جسمانی (۲) قواعد اردو (۳) موت (۴) سالانہ رپورٹ (۵)گرہست شاستر (۶) صحت اور زندگی (۷) چوٹی کانفرنس (۸) بارات (۹) آئیے کچھ باتیں ہو جائیں (۱۰) گفتگو (۱۱) ادبیات (۱۲) مجرب نسخے (۱۳) نثر میں ایک نوحہ (۱۴) شعر گوئی (۱۵) مواعظ مولانا یوسف ناظم (۱۶) شہریت
اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن ۱۹۶۴ء میں میر اینڈ کمپنی اردو بازار دہلی سے طبع ہوا۔ صفحات کی تعداد ۱۷۵ ہے۔ اس ایڈیشن میں پہلے ایڈیشن کے سبھی مضامین کے علاوہ درج ذیل تین نئے مضامین شامل کیے گئے ہیں۔
(۱) ناخلف اشعار، (۲) اشتہار بازی، (۳) کالونی نامہ
(۲) فٹ نوٹ— سالِ اشاعت مارچ ۱۹۶۹ء، ناشر نصرت پبلشرز، لکھنؤ، صفحات ۱۶۰۔ اصل کتاب صفحہ ۱۵۵ پر ختم ہو جاتی ہے۔ بقیہ صفحات میں کتابوں کے اشتہارات ہیں۔ سرورق کی پشت پر یوسف ناظم سے متعلق کرشن چندر کی راے درج ہے۔ کتاب کے مندرجات اس طرح ہیں:
(۱) ہدایت نامۂ سامعین (۲) چہرے اور ترکاریاں (۳) خلعتِ فاخرہ (۴) دن منانا (۵) شاعروں کی انسائیکلوپیڈیا (۶) پھلوں کے بیان میں (۷) موازنۂ قیس و فرہاد (۸)لقمانیات (۹) ایک خط (۱۰) مرد کی پسلی (۱۱) مقابلۂ حسن (۱۲) علم بڑی دولت ہے (۱۳) گداگری (۱۴)اشرف المخلوقات (۱۵) برائے فروخت (۱۶) علم سے فلم تک (۱۷) اورینٹ ہوٹل (۱۸) دستیاں اور چمچے (۱۹) علامتی انشائیے (۲۰) فٹ نوٹ۔
کتاب کے آخر میں مصنف نے ’شکریہ‘ کے عنوان سے شکریہ ادا کیا ہے جس نے ایک مضمون کی صورت اختیار کر لی ہے۔
(۳) دیواریے— سالِ اشاعت مارچ ۱۹۷۱ء صفحات ۱۴۰۔ پبلشرز، نقش کوکن پبلی کیشن ٹرسٹ، ڈونگری بمبئی۔ کتاب کا انتساب یوسف ناظم کی اہلیہ محترمہ عائشہ کے نام ہے۔ ’غیر ضروری باتیں‘ کے عنوان سے مصنف نے تین صفحے کا دیباچہ لکھا ہے۔ مشمولات حسب ذیل ہیں:
(۱) دیواریے (۲) لذیذ مشاعرے (۳) نام رکھنا (۴) عرض کیا یوسف ناظم نے (۵) ایک خط (۶) خنجر چلے کسی پہ (۷) جنونِ لطیفہ (۸) نئی شاعری (۹) سقراطیات (۱۰) تانا بانا (۱۱) کہانی ایک دن کی (۱۲) پاندان (۱۳) دھوئے گئے ہم اتنے (۱۴) فہمیاں (۱۵) ابن سقراط کا خط بنت بقراط کے نام (۱۶) آداب عرض ہے (۱۷) سہرا (۱۸) دونوں نے سوچا (۱۹) مستقبل روشن ہے (۲۰) وضعداری (۲۱) نئی یادگارِ غالب۔ فہرست مضامین میں ’وضع داری‘ کا عنوان غلطی سے دو جگہ درج ہو گیا ہے۔
(۴) زیر غور— سنہ اشاعت اگست ۱۹۷۲ء، صفحات ۱۵۵۔ ناشر بنت حوا پبلی کیشنز، بمبئی۔ کتاب کا انتساب اوصاف اور عاقل کے نام ہے۔ ’ظرف قدح خوار‘ کے عنوان سے مصنف کا ایک صفحے کا دیباچہ ہے۔ صفحہ ۱۵۰-۵۱ پر یوسف ناظم کے فن سے متعلق کرشن چندر، ڈاکٹر محمد حسن، مولانا مہر محمد خاں شہاب مالیر کوٹی اور ڈاکٹر سلیمان اطہر جاوید کی آرا ہیں۔ آخری تین صفحات میں کتاب کی ناشر مفیدہ خاں نے ’عرضِ ناشر‘ کے عنوان سے کتاب اور صاحب کتاب کے متعلق اظہارِ خیال کیا ہے۔ کتاب کے مندرجات یوں ہیں:
(۱) زیر غور (۲) آسمان سے کھجور میں (۳) سواریاں (۴) مردم شماری (۵) یادگاریں (۶) گھر کی رونق (۷) ہوئے اس قدر مہذب (۸) اتنی سی بات تھی (۹) ایک وہ ہیں (۱۰) ادبی لغت (۱۱) اِدھر اُدھر کی (۱۲) تین خط (۱۳) انگریز ہندوستان میں (تاریخ جدید) (۱۴) آج کا جغرافیہ (۱۵) سیر کر دنیا کی (۱۶) موسموں کا حلیہ (۱۷) شیر خرمے کی طرف (۱۸) غور کرنے کے بعد۔
(۵) فقط— یہ مجموعہ دسمبر ۱۹۷۷ء میں زندہ دلانِ حیدر آباد نے شایع کیا۔ صفحات کی تعداد ۱۳۶ ہے۔ انتساب محمد علی کے نام ہے۔ ’چھٹی حس‘ کے عنوان سے دو صفحے کا مقدمہ ہے۔ مضامین کی فہرست یوں ہے:
(۱) آئینے میں (۲) شراب سیخ پہ ڈالی (۳) صنعت و حرفت (۴) ذرا مسکرائیے (۵) عید کا چاند اور مبادیاتِ عید (۶) فلمالیخولیا (۷) برتن مری گل کے (۸) تعلیمیات (۹) زروہ افسانہ کہ آشفتہ بیانی مانگے (۱۰) اندھیرا مردہ باد (۱۱) ایک خط بلکہ رسم الخط (۱۲) انصاف (۱۳) پتھر کی لکیر (۱۴) آزادی (۱۵) انقلاب (۱۶) آفسیٹ کی چھپائی (۱۷) جینے کا مزہ کیا (۱۸) شیرو کا خط جھبو کے نام (۱۹) سلف سے خلف تک (۲۰) مرض بڑھتا گیا (۲۱) بقراطیات۔
(۶) البتہ— یہ مجموعہ مضامین بھی زندہ دلانِ حیدر آباد نے نومبر ۱۹۸۱ء میں شایع کیا۔ صفحات ۱۳۶ ہیں۔ اس کا انتساب کرشن چندر کے نام ہے۔ مختصر پیش لفظ ’پیش!‘ کے عنوان سے ہے۔ اس کے مضامین یہ ہیں:
(۱) ایک پردیسی کا سفر نامۂ ہندوستان (دوسرا ایڈیشن) (۲) ایک پردیسی کا سفرنامۂ ہندوستان (سفر نمبر ۲) (۳) اصنافِ ادب کا دائرہ (۴) شعر و ادب میں جانوروں کا حصہ (۵)دولت خانہ (۶) کبھی ہم میں تم میں قرار تھا (۷) شور نہ کیجیے (۸) بالائے طاق (۹) جی سے بھلایا نہ جائے گا (۱۰) ہندوستانی رقص (۱۱) تختی سے تختے تک (۱۲) مقطع میں آ پڑی ہے سخن گسترانہ بات (۱۳) شیر خرمے کے دو ایڈیشن (۱۴) جلوس پیش خدمت ہیں (۱۵) مضمونچے۔
(۷) بالکلیات— نئی آواز، جامعہ نگر، نئی دلّی سے یہ مجموعۂ مضامین اکتوبر ۱۹۸۴ء میں طبع ہوا۔ صفحات ۱۲۶ ہیں۔ پیش لفظ میں ہی مصنف نے یہ وضاحت کی ہے کہ ’میں اس کتاب کو راجندر سنگھ بیدی کے نام معنون کرتا ہوں۔ مضامین کی فہرست اس طرح ہے:
(۱) انتساب (۲) استقبالیہ (۳) فنونِ لطیفہ (۴) چند مشاہیر عالم (۵) پانچ بچارے (۶) دولت درکار ہے (۷) رسمیں اور قسمیں (۸) مرغ و ماہی (۹) حکومت کا تختہ (۱۰) نمبر صحیح ہونا چاہیے (۱۱) نتیجہ غالب شناسی کا (۱۲) نئے سال کی آمد پر (۱۳) فیصلے (۱۴) کریکٹ سیزن (۱۵)صراحی (۱۶) جیب خاص (۱۷) شیرو کا خط جھبو کے نام (۱۸) تین خط پکوان سے متعلق (۱۹) لاٹھی (۲۰) گوند (۲۱) غذا نامہ
(۸) فی الحال— سالِ اشاعت ستمبر ۱۹۸۶ء، ناشر نئی آواز، جامعہ نگر، دہلی، صفحات ۹۶۔ ایک صفحے کا پیش لفظ ’فی الحال‘ کے عنوان سے ہے۔ مندرجات ملاحظہ ہوں:
(۱) فروغ کی سمت میں (۲) تعلیم بالغان (۳) قینچی (۴) انتظار (۵) اردو کی پہلی کتاب (جدید) کے چند سبق (۶) داستان ٹکٹوں کی (۷) حق نمک کا (۸) ہم نے کرکٹ کھیلی (۹) قطب مینار– یہ کس کی تصنیف ہے (۱۰) دو کہانیاں (مختصر) (۱۱) اخبار کا آخری صفحہ (۱۲) برائے فروخت (۱۳) قمار خانہ (۱۴) مہمانِ خصوصی (۱۵) دولھا مارکیٹ (۱۶) شیرو کے دو خط جھبو کے نام۔
(۹) فی الفور— سنہ اشاعت دسمبر ۱۹۸۸ء، صفحات ۱۱۲، ناشر نئی آواز،جامعہ نگر، نئی دہلی۔ انتساب فکر تونسوی اور احمد جمال پاشا کے نام۔ فہرست جو کتاب کے آخر میں ہے، اس طرح ہے:
(۱) معاملہ کاروں کا (۲) کاتبوں کا شکوہ (۳) وجودِ زن سے ہے۔۔۔ (۴) ابلیس کی مجلسِ شوریٰ (۵) گزرنامۂ لندن (۶) ہم بھی ہیں پانچوں سواروں میں (۷) سیاحت کے بارے میں (۸) جشنِ وجد سے یادِ وجد تک (۹) عالمی جشنِ مزاح (۱۰) شاعر ِدرِپردہ (۱۱)کچھ ابن بطوطی کے بارے میں (۱۲) جس سے جگر شعلہ میں۔۔۔ (۱۳) چاول کا خلاصہ (۱۴) گیس خارج ہونے پر (۱۵) شیرو کا خط جھبو کے نام (۱۶) اشتہاروں کے بیچ (۱۷) جملۂ معترضہ (۱۸) کرم چند کی پیدایش۔
(۱۰) فی الحقیقت— سالِ اشاعت نومبر ۱۹۹۰ء، ناشر نئی آواز جامعہ نگر، نئی دہلی، صفحات ۱۴۱۔ یہ کتاب مضامین، خاکوں اور رپورتاژ پر مشتمل ہے۔ تفصیل یوں ہے:
مضامین: (۱) عنوان (۲) مشاعروں میں ہوٹنگ کے فوائد (۳) کوئی صورت نظر نہیں آتی (۴) دھواں ہی دھواں (۵) دروازے (۶) فیشن (۷) جادوگروں میں عصری حسّیت (۸)نوکری کی تلاش میں (۹) چھتریاں (۱۰) ہمارے نئے مرزا غالبؔ اور ان کی نئی تاریخ پیدایش (۱۱) خدا نہ کرے ہم اسپتال جائیں (۱۲) فصلیں اور موسم (۱۳) فلیپ نگاری۔
خاکے: (۱) یکسوئی کی یاد (کنھیّا لال کپور کا خاکہ) (۲) جادوگر بیدی (۳) عابد علی خاں (۴) خانخاناں رشید حسن خاں (۵) فکر تونسوی (۶) ادب کی ملکۂ معظمہ (عصمت چغتائی)
رپورتاژ: (۱) قیام نامۂ کراچی (۲) تھوڑا سا کراچی (۳) ہند پاک طنز و مزاح سمینار، دلّی
(۱۱) فی زمانہ— جناب عنایت علی نے یوسف ناظم سے متعلق اپنی مرتبہ کتاب ’دامنِ یوسف‘ میں اس کتاب کا ناشر مکتبہ جامعہ دہلی کو بتایا ہے (ص ۱۵) جو درست نہیں۔ ۱۹۹۱ء میں یہ کتاب کوکن اردو رائٹرز گلڈ نیروبی (کینیا) نے شایع کی۔ صفحہ دو پر یہ وضاحت کی گئی ہے کہ ’موڈرن پبلشنگ ہائوس، نئی دہلی-۲ نے کوکن اردو رائٹرز گلڈ شاخ نیروبی (کینیا) کے لیے اے وَن آفسٹ پرنٹرز دہلی میں طبع کرا کے شایع کیا۔‘‘ کتاب صفحہ ۱۲۰ پر تمام ہوتی ہے۔ اس کا انتساب مشفق خواجہ کے نام ہے۔ کتاب کے آغاز میں’’تعارف‘ کے عنوان سے شیخ اسماعیل نے کوکن اردو رائٹرز گلڈ کا تعارف کرایا ہے۔ یوسف ناظم نے ’ابتدا‘ کے عنوان سے پیش لفظ لکھا ہے۔ مشمولات کی فہرست یوں ہے:
(۱) ایک نیا خط استوا (۲) داستان چوہے اور بلّی کی (۳) بے زبانی ہے زباں میری (۴) نشانِ ابہام (۵) ایک گرد آلود مضمون (۶) پیشہ بغیر۔۔۔ (۷) حفاظتی دستہ (۸) راستہ روکو (۹)انٹرویو کے بیان میں (۱۰) فلاپ نگاری (۱۱) آئی جو ان کی یاد تو (۱۲) تصور سے تصویر تک (۱۳) ان کے مفروضے میرے معروضے (رسالہ الفاظ میں پروفیسر گیان چند) (۱۴) حقیقت سے خواب تک (۱۵) یونس اگاسکر: کہاوتوں کی روشنی میں (۱۶) مصنوعاتِ فلکی۔
(۱۲) فی البدیہہ— سالِ اشاعت جنوری ۱۹۹۴ء، ناشر نئی آواز، جامعہ نگر، نئی دہلی، صفحات ۹۶۔ انتساب سردار علی خاں اور سری نواس لاہوٹی کے نام ہے۔ ’اپنا بیان‘ کے عنوان سے مصنف نے پیش لفظ لکھا ہے۔ فہرست مضامین اس طرح ہے:
(۱) ایک گھریلو سیاحت نامہ (۲) انسان شماری (۳) ورنہ میں ہر لباس میں۔۔۔ (۴) غزل خانم (۵) طرّۂ امتیاز (۶) کتابوں کے بارے میں (۷) ملاّ نصرالدین کی یاد میں (۸) خدمت قوم کی (۹) تعلیم بہت ہو رہی ہے (۱۰) رموزِ شکم پروری (۱۱) غالب کی خطوط نگاری جاری ہے (۱۲) جناب ناسٹراڈمس کی یاد (۱۳) بکرے کی یاد میں (۱۴) ایک مرحومہ کی واپسی (۱۵) دنیاداری کے نسخے۔
(۱۳) منجملہ— سنہ اشاعت دسمبر ۱۹۹۶ء۔ عنایت علی خاں نے سالِ اشاعت ۱۹۹۴ء بتایا ہے جو غلط ہے۔ ناشر نئی آواز، جامعہ نگر، نئی دہلی، صفحات ۹۶۔ انتساب محمود چھابرا کے نام۔ مندرجات کی تفصیل یوں ہے:
(۱) کھیل غیروں کا ہوا دیدۂ بینا نہ ہوا (۲) حسن کی قسمیں (۳) روٹی کانفرنس (۴)کتاب کی نام رکھائی (۵) انگلیاں فگار اپنی (۶) قصہ امن کے نوبل پرائز کا (۷) شعر شاعر اور مشاعرہ (۸) ہم اور ایکسچینج (۹) ڈولی اور پینس (۱۰) چند اشیائے خوردنی (۱۱) بچہ مزدور (۱۲)اکیسویں صدی آرشیمدس کے حوالے سے (۱۳) ایک منگیتر کا خط اپنے منگیتر کا نام (۱۴) عید کے بعد (۱۵) اہلیائوں کے نام (۱۶) خودکشی صدائے عام ہے۔
(۱۴) ورنہ— سالِ اشاعت ۱۹۹۸ء، صفحات ۱۷۲، ناشر دارالمعارف ممبئی-دہلی۔ انتساب کے صفحے پر ایک شعر لکھا ہے:
ہوا نہ ختم اندھیرامگر یہ کیا کم ہے
گزرنے والے شب غم سے شمع ساں گزرے
اور شعر کے نیچے بریکٹ میں (اختر سعید خاں)لکھا ہوا ہے۔ درمیان میں ایک سطر کی جگہ چھوڑ کر تحریر ہے کہ’’کے نام جو ہیں تو علاج و معالجے کے ڈاکٹر لیکن عمر بھر کام کرتے رہے ایک ادبی ڈاکٹر کا۔ اس لیے ان سے مریض بھی خوش رہے اور اہل ادب بھی۔‘‘ لکھنے کے طرز سے اندازہ کرنا مشکل ہے کہ انتساب اختر سعید خاں کے نام ہے یا صرف شعر کے خالق کی حیثیت سے ان کا نام دیا گیا ہے اور صاحب انتساب کا نام غلطی سے چھوٹ گیا ہے۔ مندرجات یوں ہیں:
(۱) ایک غیر مقیم ہندوستانی کا سفرنامہ (۲) اعلیٰ تعلیم مقدم ہے (۳) انقلابات ہیں زمانے کے (۴) انگور کی اولادِ نرینہ (۵) معمر شہری (۶) اطوارِ شاہی (۷) رقعے بانٹنا (۸) ہماری مہربان مرغیاں (۹) سارے جہاں میں۔۔۔ (۱۰) خاندانی منصوبہ بندی (۱۱) بڑے لوگ اور عوام (۱۲) ووٹ دینا معیوب ہے (۱۳) ادبی صحافتی دو عملی (۱۴) مینہہ اور ممبئی (۱۵) یار زندہ صحبت باقی (۱۶) شتر گربہ اور شتر غمزوں کی روک تھام (۱۷) مشرق سے ابھرتے ہوئے مغرب کو ذرا دیکھ (۱۸) اردو کا ایک مردانہ شعر (۱۹) مادری زبان (۲۰) یوں کمیشن میں اب دھرا کیا ہے (۲۱) میں پی ایچ ڈی ہونے جا رہا ہوں (۲۲) سپاری اور چمتکار (۲۳) وقت بھاگ رہا ہے (۲۴) مرغانِ چمن (۲۵) قدرت کے کھیل (۲۶) جی سے بھلایا نہ جائے گا (۲۷) بارش کا استقبالیہ (۲۸) چاردن مسقط میں۔
گوشۂ غالب (مختصر): (۲۹) غالب خستہ کے بغیر (۳۰) غالب کے دو رتن (۳۱) غالب اور دو قمری مہینے (۳۲) غالب کان پر رکھ کر قلم نکلے۔
(۱۵) لہٰذا— ناشر نئی آواز، جامعہ نگر نئی دہلی، سنہ اشاعت فروری ۲۰۰۳ء، صفحات ۹۹۔ انتساب اختر زمان ناصر، ڈاکٹر شفیع الدین صدیقی، نجم الثاقب شہنہ اور حمید الماس کے نام۔ فہرست مشمولات:
(۱) ابلیس کا معافی نامہ خالقِ کونین کے نام (۲) کبوتر خانوں سے خونِ کبوتر تک (۳)ننانوے سال کی صدی (۴) سنہ گنے جاتے تھے اس سنہ کے لیے (۵) یہ صدی دانش وروں کی صدی ہے (۶) یہ نیا سال (۷) نانبائی سے گڈ بائی تک (۸) ۳ کا ہندسہ (۹) ہم سب چھے ارب ہو گئے (۱۰) ہمیشہ غصّہ کیوں نہیں آتا (۱۱) بخشش (۱۲) آنا اکیسویں صدی کا اپنے وقت پر (۱۳) بے زبانی ہے زباں میری (۱۴) موبائل فون پر۔۔۔ دو گفتگوئیں (۱۵) کوّے (۱۶) آداب و اخلاق (۱۷) وہ گلیاں یاد آتی ہیں (۱۸) کچھ خبریں اور کچھ خبریاں (۱۹) مشاعرہ ایک صدر دو۔
(۱۶) برائے نام— سنہ اشاعت اپریل ۲۰۰۵ء، ناشر دل رس ایجوکیشنل کلچرل چیری ٹیبل اینڈ لٹریری سوسائٹی اورنگ آباد (مہاراشٹر)، صفحات ۱۶۶۔ عنایت علی نے دو صفحات میں ’عرضِ ناشر‘ لکھا ہے۔ تین صفحات میں مصنف نے ’مقدمۂ معترضہ‘ تحریر کیا ہے۔ انتساب قاضی سلیم، انور معظم، بشر نواز، بہاری لال شیدا، حمایت علی شاعر، وحید اختر اور سکندر علی وجد کے نام ہے۔ مندرجات اس طرح ہیں:
مضامین: (۱) ماحولیات (۲) ابلیس کا نامۂ محبت ’ب‘ برادران کے نام (۳) خوابوں کی حقیقت کیا ہے (۴) شاعری کی صنفی تبدیلی (۵) ٹانگ (۶) اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے صنم (۷) دو مشہور و معروف بلیاں (۸) یوم دلداران اور چار یادیں (۹) توتے اور طوطی کا تنازعہ (۱۰)سوکھا پانی کا (۱۱) انڈا نہ کھانا کفرانِ نعمت ہے (۱۲) دست راست (۱۳) طویل العمری کا مجرب نسخہ (۱۴) ہماری تین مٹھائیاں (۱۵) یک قومی نظریے کی ولادت کا سہرا کس کے سر ہے (۱۶) فروعاتی ادب (۱۷) نظامِ تعلیم میں لنچ (۱۸) بعض سر آماجگاہِ شر ہوتے ہیں (۱۹) مشاعروں میں صدر راج نافذ ہونا چاہیے (۲۰) مشاعروں کی ولادتِ باسعادت قدرتِ رضاعت اور رفتہ رفتہ ترویج و اشاعت (۲۱) رسم افتتاح اور رسم اجرا (۲۲) بلبل اور خندۂ گل (۲۳) آزاد انڈیا میں ایک ارب ویں اولاد آستھا کی آمد پر استقبالیہ (۲۴) لوازماتِ زندگی (۲۵) غیبت گوئی کے بیان میں (۲۶) عمر رفتہ کے بارے میں (۲۷) بام اور لب بام۔
تذکرے: (۲۸) مشتاق احمد یوسفی (۲۹) ادب کے سرمایہ دار: نثار احمد فاروقی (۳۰)ساحل بیزار سلیمان اطہر۔
مجموعے کے آخر میں’’گریز‘ کے عنوان سے یوسف ناظم کی ایک نظم بھی شامل ہے۔ کتاب میں سنہ اشاعت درج نہیں البتہ یوسف ناظم نے اپنے پیش لفظ کے آخر میں ۱۱؍ نومبر ۲۰۰۵ء کی تاریخ میں دی ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ کتاب ۲۰۰۵ء کے آخر یا ۲۰۰۶ء کی ابتداء میں چھپی ہے۔
(۱۷) ایک کتاب اور— ناشر تخلیق کار پبلشرز، لکشمی نگر، دہلی، صفحات ۱۲۵۔ انتساب مدیر شگوفہ سید مصطفی کمال کے نام ہے۔ ابتدا میں یوسف ناظم کا آٹھ سطری پیش لفظ ہے۔ بقیہ مندرجات یوں ہیں:
(۱) عصمت چغتائی کچھ یادیں (۲) خط بولتے ہیں (۳) انگور (۴) ذکر ایک نقاد کا (۵) کھاتے پیتے لوگ (۶) ماہنامہ ’سب رس‘ کا اکتوبر کا شمارہ (۷) ایک مطالبہ کم (۸) ڈریس کوڈ (عرف ضابطۂ لباس) (۹) تاج شاہی سے تاج محل تک (۱۰) اندازِ بیاں اور (۱۱) ابلیس کی پسماندگی (۱۲) علمی و ادبی فضا سارے جہاں سے اچھی (۱۳) طور طریق (۱۴) دو پڑوسیوں کے مابین خط و کتابت (۱۵) لکھا قسمت کا (۱۶) معاملہ جرم و سزا کا (۱۷) حال کے خدّامِ ادب سے کچھ باتیں (۱۸) ایک ایک فقرے کا مجھے دینا پڑا جواب (۱۹) سیاست شطرنج اور بھینس (۲۰)رواج پرانا سلیقہ سہانا (۲۱) دالیں (۲۲) ایک اشاریہ (۲۳) زبانِ یار من رومن و من رومن بہت دانم (۲۴) معاملہ ویژا کا (۲۵) ایک واقعۂ پارینہ کی یاد۔
(۱۸) جاتے جاتے— ناشر تخلیق کار پبلشرز، دہلی، سنہ اشاعت ۲۰۰۸ء، صفحات ۱۲۲۔ کتاب کا انتساب مصنف نے اپنے داماد مشہود فاروقی اور اپنی چھوٹی بیٹی اسما فاروقی کے نام کیا ہے۔ ’ایک معتدل اور متناسب الاعضا پیش لفظ‘ کے علاوہ باقی مشمولات حسب ذیل ہیں:
(۱) پیچیدہ معاملہ صفر کا (۲) پالتو جانور فالتو جانور (۳) پرندوں کی صحبت میں (۴) پھول کی پتّی اور شیر کا پتّا (۵) گردے جائیداد منقولہ ہیں (۶) حیوانِ ناطق کی کہانی اشرف المخلوقات کی زبانی (۷) عوام کے مطالبات اور دیگر لوازمات (۸) ایک بے ضرر خطبۂ صدارت (۹) مولوی مدن: ایک پراسرار شخصیت (۱۰) حال کے خدّامِ ادب سے کچھ باتیں (۱۱) تحفوں کا موسم (۱۲)چند شہرۂ آفاق بیماریاں (۱۳) خانِ خانہ رشید حسن خاں (۱۴) مشفق خواجہ کے لیے (۱۵)سرخ قالین پر استفہامیہ تقریب (۱۶) یہ وہ خلیل خاں نہیں ہیں جو اڑاتے تھے فاختہ (۱۷)قاضی سلیم کے لیے ایک سہمی سمٹی تقریر (۱۸) انشا کا ’گلزار‘ نمبر (۱۹) اہلِ زبان (۲۰) ایوانِ ادب کے جغرافیائی حالات (۲۱) احوال کوئل کے اشغال چکور کے (۲۲) بادشاہوں کی فہرست میں ایک شاہ بلوط بھی ہیں۔
(۱۹) ایک اور چکمہ— سنہ اشاعت ۲۰۰۹ء، ناشر تخلیق کار پبلشرز، دہلی، صفحات ۱۵۷۔ کتاب کا انتساب یوسف ناظم نے اپنے والد، والدہ، اہلیہ، بیٹے، بیٹوں، بہوئوں، پوتے پوتیوں اور نواسے کے نام کیا ہے۔ ابتدا میں مصنف کا مختصر دیباچہ ہے۔ اس کے بعد مرزا خلیل احمد بیگ نے ’یوسف ناظم اور جاتے جاتے‘ کے عنوان سے ان کے فن کا جائزہ لیا ہے۔ کتاب دو ابواب میں تقسیم کی گئی ہے۔ باب اول میں مضامین اور باب ثانی میں تبصرے ہیں۔ مندرجات کی تفصیل اس طرح ہے:
باب اول (مضامین): (۱) ایک نئی بیماری: نام ہے افراطِ زر (۲) روغنِ قاز کی حمایت میں (۳) مخلوط عینک (۴) پولو اور پولیو (۵) یہ درجۂ حرارت نہیں درجۂ شرارت ہے (۶) جھوٹ (۷) ہمارا شعری سرمایہ (۸) معاملہ خلا کے پیدا ہونے اور اس کے پر ہونے یا نہ ہونے کا (۹)کھیل کے میدان سے (۱۰) بازارِ مصر کا آموختہ (۱۱) اولمپک مشعل (۱۲) ہاں میں ہاں ملانے کی داستان (۱۳) لیپا پوتی (۱۴) آڑے ہاتھوں کی منظر کشی (۱۵) قومی پرندہ اور ہمارا طبقۂ اناث (۱۶) علاج معالجے کے بارے میں (۱۷) جھپکی (۱۸) دم سے محرومی کا قضیہ (۱۹) میں غریب آدمی ہوں عنوان کہاں سے لائوں۔۔۔ (۲۰) میں اور عروس البلاد بمبئی (۲۱) میرا تخلیقی سفر: جو میری خوش فہمی کی دین ہے۔
باب ثانی (تبصرے): (۱) کہانی ’قندوز قند کی‘ (فیاض احمد فیضی) (۲) وہ بھی ایک زمانہ تھا (انیس امروہوی) (۳) تنقید اور اسلوبیاتی تنقید (مرزا خلیل احمد بیگ) (۴) شام ہونے والی ہے (شہریار) (۵) نشاطِ آبلہ پائی (اطہر صدیقی) (۶) بی ایس جین: فن اور شخصیت (ڈاکٹر خالد حسین خاں (۷) دروازۂ خاور کھلا (پروفیسر خورشید جہاں)

خاکہ نگاری:
(۱) سایے اور ہم سایے— ناشر زندہ دلانِ حیدر آباد، سالِ اشاعت نومبر ۱۹۷۵ء، صفحات ۱۴۴۔ انتساب والد مرحوم اور والدہ ماجدہ کے نام۔ ’دو لقمے پیش لفظ کے‘ کے عنوان سے مصنف کا مختصر پیش لفظ۔ فہرست مندرجات اس طرح ہے:
(۱) اشفاق حسین مدنظرہٗ (۲) سدا بہار مخدوم (۳) ۔۔۔عرف باقر مہدی (۴) ہوئے تم دوست جس کے (راجندر سنگھ بیدی) (۵) شاعر شوہر اور شخص (جاں نثار اختر) (۶) ہم اپنی اپنی ظلمت اپنی اپنی روشنی خود ہیں (عزیز قیسی) (۷) خواجہ صاحب (خواجہ عبدالغفور) (۸) ہمزاد (مجتبیٰ حسین) (۹) آج کچھ درد مرے دل میں۔۔۔ (ڈاکٹر حامد اللہ ندوی) (۱۰) ڈاکٹر نایک عرف میاں فولادی (۱۱) یک نہ شد دو شد (ڈاکٹر عبدالستار دلوی) (۱۲) ساز کے رستم و سہراب (اللہ رکھا خاں) (۱۳) ڈاکٹر زور صاحب (۱۴) سلیقہ مند (ساجد لطیف) (۱۵) یاد اس کی اتنی خوب نہیں (شوکت علی خاں) (۱۶) مشاعرہ برخاست (سرور ڈنڈا) (۱۷) اریبؔ اپنے نام کے معنی بتائو (۱۸) دولت اور نیکی (محمد صابو صدیق) (۱۹) شاہد صدیقی کی کالم نگاری (۲۰) امجدیات (امجد حیدر آبادی ( ۲۱) نہ مسٹر نہ مولانا (اکبر الٰہ آبادی) (۲۲) بمبئی کا ادبی جغرافیہ۔
(۲) ذکرِ خیر— ناشر نئی آواز، جامعہ نگر، نئی دلّی، سال اشاعت دسمبر ۱۹۸۲ء، صفحات ۱۴۸۔ انتساب بڑے بھائی سید محمد یعقوب مرحوم کے نام۔ فہرست مندرجات ملاحظہ فرمائیں:
(۱) پورا آدمی ادھورا خاکہ (راجندر سنگھ بیدی) (۲) کرشن کتھا (کرشن چندر) (۳) کہنے جاتے تو ہیں پر دیکھیے کیا کہتے ہیں (سکندر علی وجد) (۴) ادھر بھی دیکھ تماشا ہے میری کم سخنی (مجروح سلطان پوری) (۵) وہ نامِ خدا سر سے ہیں تا ناخنِ پا گرم (ظوئے انصاری) (۶) جدید صوفی شاعر (قاضی سلیم) (۷) بیسویں صدی کے انشا (ابن انشا) (۸) صاحبِ اقبال شاعر (ڈاکٹر اقبال) (۹) حرفِ تمنا (مولانا شہاب) (۱۰) جشن خطیبی (سلیمان خطیب) (۱۱) کئی تخلصوں کا شاعر (مرزا عزیز جاوید) (۱۲) تپائی (انور خاں سلام بن رزّاق انور قمر) (۱۳) گٹھری ’واہیات‘ کی (رضا نقوی واہی) (۱۴) ازالۂ حیثیت عرفی کا شاعر (حسن نعیم) (۱۵) طنز و ظرافت پر دستِ شفقت (شفیقہ فرحت) (۱۶) جشن ظرافت کا کچّا چٹھّا (جشنِ ظرافت پٹنہ ۱۹۷۶ء کا رپورتاژ)
(۳) علیک سلیک— ناشر بے باک پبلشنگ ہائوس، مالیگائوں، سنہ اشاعت مارچ ۲۰۰۲ء، صفحات ۱۴۸، انتساب ’خواجہ حمیدالدین شاہد کی یاد میں۔‘‘ انتساب کے الفاظ کے علاوہ مصنف نے پاکستان میں منائے گئے خواجہ حمیدالدین شاہد کے جشن طلائی (۲۸؍ مئی ۱۹۸۸ء) کا دعوتی کارڈ بھی شایع کیا اور ’نسخۂ حمیدیہ‘ کے عنوان سے مختصر مضمون ہی لکھ دیا ہے۔ باقی کے مشمولات یہ ہیں:
(۱) خوشبوئوں میں بسی کچھ یادیں (مالک رام) (۲) جشنِ وجد سے یادِ وجد تک (۳) اختر بھائی (اختر حسن) (۴) اختر بھائی کا پتہ بدل گیا (۵) اچھے دنوں کی جھلملاتی یادیں (مرتضیٰ قادری) (۶) محبوب حسین جگر (۷) متحرک علی سردار جعفری (۸) سری نواس لاہوٹی (۹) عالی جعفری کی یادمیں (۱۰) شام کشن نگم (۱۱) ایک مزاح نگار کا پھسلنا (دلیپ سنگھ) (۱۲) ادب کی قرۃ العین (۱۳) ایک آزاد مطالعہ (جگن ناتھ آزاد) (۱۴) ناظمِ آثارِ قدیمہ (راج بہادر گوڑ) (۱۵) مشفق خواجہ (۱۶) گوپی چند نارنگ (۱۷) مضطر مجاز (۱۸) مغنی تبسم (۱۹) مظہر امام (۲۰) شاہد علی خاں (ایک اشتہار) (۲۱) سید ظفر ہاشمی (۲۲) فقیر محمد مستری (۲۳) سلطان علی خاں (۲۴) ستیو مادھو رائو پگڑی (۲۵) ایک جرعۂ صہبا (صہبا لکھنوی) (۲۶) ہارون بی۔ اے مدیرِ بے باک۔
سفرنامہ:
امریکہ میری عینک سے— ناشر شگوفہ پبلی کیشنز، حیدر آباد، سنہ اشاعت دسمبر ۱۹۹۳ء، صفحات ۱۱۲۔ انتساب اقبال اور شاہینہ ارشد اور سلمیٰ اور مشہود اور اسمٰی کے نام ہے کہ یہی یوسف ناظم کے سفرِ امریکہ کے محرک تھے۔ یہ سفر یوسف ناظم نے اپنی چھوٹی بیٹی کی شادی کی تقریب کے سلسلے میں کیا تھا۔ پورے سفرنامے کو ۳۶ عنوانات میں تقسیم کیا گیا ہے۔
ادبِ اطفال:
(۱) پلک نہ مارو— ناشر مکتبہ پیامِ تعلیم جامعہ نگر، نئی دہلی، سال اشاعت دسمبر ۱۹۸۴ء، صفحات ۶۴۔ مشمولات:
(۱) قربان میاں کے کارنامے (۲) ڈرامے کی تیاری (۳) نیچے سے اوپر تک (۴) پلک نہ مارو (۵) غالبی کباب (۶) کیو میں ہم بھی ہیں (۷) ۱۹۹۵ء (۸) پہچانیے تو سہی (۹) چچا بھتیجے (۱۰) تین بڑے۔
(۲) مرغی کی چار ٹانگیں— ناشر مکتبہ پیام تعلیم نئی دہلی، سنہ اشاعت نومبر ۱۹۸۸ء، صفحات ۴۸۔ مندرجات:
(۱) کرکٹ کا شوق (۲) نئے شیخ چلی (۳) کہانی ہیرے جواہرات کی (۴) ہم مہمان بنے (۵) پانی (۶) گھر کی مرغی (۷) مٹاپا بھی اچھی چیز ہے۔
(۳) گاندھی جی دکھنی افریقہ میں— ناشر مکتبہ پیام تعلیم، نئی دلی، سالِ اشاعت نومبر ۱۹۸۸ء، صفحات ۱۶۔ اس مختصر کتابچے میں ایک مقدمے کے سلسلے میں گاندھی جی کے دکھنی افریقہ کے سفر اور وہاں کے تقریباً تین سالہ قیام میں پیش آنے والے چند واقعات اور ان کی جدوجہد کا تذکرہ سہل زبان میں کیا گیا ہے۔
(۴) بکرے کی تعریف میں— ناشر مکتبہ پیام تعلیم، سال اشاعت جولائی ۱۹۹۲ء، صفحات ۶۴۔ مندرجات اس طرح ہیں:
(۱) یہ میری کمزوری ہے (۲) اولمپک ۱۹۸۸ء (۳) ناریل کی تعریف میں (۴) ہم اور خانے (۵) ایک چھوٹا سا غلط مضمون (۶) پیٹ بھرنے کی باتیں (۷) بکرے کی تعریف میں (۸)مقابلہ (۹) اسکول کا پہلا دن۔
(۵) الف سے ی تک— ڈیمائی سائز کے اس مختصر کتابچے کی دو کاپیاں راقم الحروف کے پاس تھیں لیکن ۱۹۸۹ء میں کسی باذوق نے دونوں کاپیاں چرا لیں۔ اس کے حصول کے لیے بعد میں میں نے بہت کوششیں کیں لیکن ناکام رہا۔ پٹنہ، دلّی، ممبئی، علی گڑھ، حیدر آباد کہیں سے اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ خود یوسف ناظم کے پاس بھی اس کی کوئی کاپی نہیں تھی اور انھوں نے مجھے ایک خط میں لکھا تھا کہ ’اسے بھول جائیے۔‘‘ جہاں تک میری یادداشت کا تعلق ہے یہ سولہ یا چوبیس صفحے کا کتابچہ تھا۔ اس کی قیمت دو روپے تھی۔ بنیادی قاعدوں کا دستور یہ ہے کہ چھوٹے بچوں کو حروف شناسی کے سلسلے میں الف سے آم، بے سے بطخ وغیرہ کی مشق کرائی جاتی ہے۔ یوسف ناظم نے جدّت یہ کی تھی حروف کی مشق کے لیے ایسے الفاظ کا انتخاب کیا تھا جن کے شروع میں نہیں بلکہ آخری میں متعلق حرف تھا، جیسے الف سے تالا۔ اس سے یہ غلط فہمی نہ ہو کہ یہ اردو کا کوئی’’قاعدہ‘ تھا بلکہ یہ مزاحیہ مضامین کی کتاب تھی۔
عباس مجتہد نے ایم فل میں یوسف ناظم پر جو تحقیقی مقالہ لکھا تھا اس کی نقل ازراہِ کرم انھوں نے مجھے بھیجی تھی۔ اس میں ’الف سے ی تک‘ کا سالِ اشاعت دسمبر ۱۹۸۴ء لکھا ہے۔ ناشر کا کوئی تذکرہ نہیں۔ ششماہی ’بنیاد‘ بمبئی کے یوسف ناظم نمبر (جنوری ۱۹۹۴ء) میں سعیدہ مظہر نے کتاب کا سنہ اشاعت ۱۹۷۹ء بتایا ہے اور پبلشر کے طور پر صرف ’پبلی کیشنز‘ تحریر کیا ہے (ص ۹۷)۔ ’دامنِ یوسف‘ کے مرتب عنایت علی نے پبلشر کا نام ’خیاباں پبلی کیشن بمبئی اور سنہ اشاعت ۱۹۸۰ء لکھا ہے۔ خود یوسف ناظم نے ’نیا دور‘ لکھنؤ میں اکتوبر ۱۹۹۷ء کے شمارے میں ’ایک ناگفتہ بہ آپ بیتی‘ کے عنوان سے تیرہ صفحات میں اپنے سوانحی حالات لکھے تھے اس میں ’الف سے ی تک‘ کا سالِ اشاعت انھوں نے ۱۹۹۲ء بتایا ہے (ص ۵)۔ پبلشر کا نام انھوں نے نہیں دیا۔ ماہنامہ ’شگوفہ‘ حیدر آباد کے یوسف ناظم نمبر (مئی ۲۰۰۴ء) میں وہی مضمون ڈائجسٹ کیا گیا ہے اس میں بھی سنہ اشاعت ۱۹۹۲ء ہے لیکن یہاں پبلشر کا نام مکتبہ جامعہ لمیٹڈ بتایا ہے۔ عام حالات میں اپنی کتاب کے متعلق خود مصنف کے قول پر بھروسہ نہیں کرنے کی کوئی وجہ نہیں معلوم ہوتی۔ لیکن جیسا کہ میں نے ابتدا میں لکھا ہے کتاب میرے پاس سے ۱۹۸۹ء میں چوری ہوئی تھی۔ میری یاد داشت کے مطابق کتاب بمبئی سے ہی چھپی تھی، دلّی سے نہیں۔ جب تک یہ کتاب سامنے نہ ہو اس کا صحیح سنہ اشاعت اور پبلشر کا نام بتانا ممکن نہیں۔ تحقیق سے دلچسپی رکھنے والے اس چھوٹی سی بات سے عبرت حاصل کر سکتے ہیں۔
تراجم:
(۱) ارمغانِ سنسکرت (بھرتری ہری اردو میں)— سنہ اشاعت اپریل ۱۹۸۵ء، صفحات ۵۶، ناشر خود یوسف ناظم۔ انتساب سید اشفاق حسین کے نام ہے۔ کتاب میں بھرتری ہری کی تیس تخلیقات کا منظوم ترجمہ کیا گیا ہے۔ کتاب کے اندرونی سرورق پر یہ وضاحت ہے کہ ’ڈکسن اسکاٹ، جان برف، سری آربندو گھوش اور باربراسٹولر ملر کے چند انگریزی تراجم کا منظوم ترجمہ۔‘‘ ایک ترجمہ علامہ اقبال کی فارسی کتاب ’جاوید نامہ‘ سے کیا گیا ہے۔ ڈسکن اسکاٹ نے بھرتری ہری سے متعلق اپنی کتاب کا منظوم انتساب بھی بھرتری ہری ہی کے نام کیا ہے۔ یوسف ناظم نے اسکاٹ کے اس منظوم انتساب کا بھی منظوم ترجمہ کر دیا ہے۔ کتاب کے صفحہ سات سے سترہ تک ان کا مقدمہ ہے اور صفحہ اٹھارہ پر ’پس نوشت‘ کے تحت انھوں نے مختلف لوگوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔ یوسف ناظم نے اپنی مترجمہ کتاب ’نوائے کبیر‘ کے دیباچے میں لکھا ہے کہ ’کئی سال پہلے میں نے بھرتری ہری کی چند نظموں کا منظوم ترجمہ کیا تھا۔ یہ انتخاب ۱۹۷۵ء میںمکتبہ جامعہ دہلی سے شایع ہوا‘ (ص ۵)۔ ظاہر ہے کہ ۱۹۷۵ء مصنف یا کاتب کا سہو قلم ہے۔ پبلشر خود مصنف ہے البتہ کتاب مکتبہ جامعہ کے توسط سے چھپی تھی۔
(۲) نوائے کبیر(برج بھاشا سے اردو میں منظوم انتخاب)— صفحہ دو پر کتاب کا نام ’برج بھاشا اردو میں (منظوم انتخاب)‘ بتایا گیا ہے لیکن اصل نام ’نوائے کبیر‘ ہی ہے۔صفحات ۴۰ ہیں۔ پبلشر کا نام درج نہیں البتہ یہ وضاحت ہے کہ ’پیش کش: یوسف ناظم۔‘‘ سنہ اشاعت بھی موجود نہیں۔ کتاب کے آخر میں کالی داس گپتا رضا کا ’حرفے چند‘ ہے جس کے آخر میں ۴ نومبر ۹۶ء کی تاریخ درج ہے۔ یوسف ناظم نے اپنی آپ بیتی میں سالِ اشاعت ۱۹۹۷ء بتایا ہے اور یہی درست ہے۔ انتساب کے صفحے کی عبارت یہ ہے ’آنجہانی لالہ یودھراج کو خراجِ عقیدت۔ انتساب کبیر بانی کے فاضل مرتب علی سردار جعفری کے نام۔‘‘ صفحہ ۵ سے ۱۳ تک مترجم کا دیباچہ ہے جس میں انھوں نے اعتراف کیا ہے کہ اس ترجمے میں سردار جعفری کی مرتبہ ’کبیر بانی‘ نے ان کی رہنمائی کی۔ اس کتاب میں کبیر کی چھوٹی بڑی ۳۵ تخلیقات کا ترجمہ کیا گیا ہے۔ کالی داس گپتا رضا نے اپنے ’حرفے چند‘ میں بجا طور پر لکھا ہے کہ یوسف ناظم نے اسے اردو زبان میں اس خوبی کے ساتھ نظم کیا ہے کہ یہ جوں کی توںکبیر بانی نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں اردو معلوم ہوتی ہے۔
تالیفات:
(۱) وجد، شاعر اور شخص (ماہنامہ کتاب نما کی خصوصی اشاعت) — مہمان مدیر: یوسف ناظم، صلاح کار ڈاکٹر صفی الدین صدیقی، ڈاکٹر مظہر محی الدین، اشاعت مئی ۱۹۸۴ء، صفحات ۱۴۴۔ ابتدا میں مہمان مدیر کے قلم سے دو صفحات کا پیش لفظ ہے۔ کتاب تین حصوں میں منقسم ہے۔ ’شاعر‘ کے تحت وجد کے فن پر مختلف حضرات کے مضامین ہیں۔ ’زندگی‘ میں حالات، تاثرات اور یادیں ہیں۔ تبصرے میں وجد کی دو کتابوں پر تبصرے ہیں۔ تفصیل درج ذیل ہے:
(شاعر): (۱) میں اور میرا فن سکندر علی وجد (۲) کاروانِ زندگی پروفیسر مسعود حسین خاں (۳) وجد کی شاعری رشید حسن خاں (۴) اوراقِ مصور ظ۔ انصاری (۵) اجنتا اور ایلورا کا شاعر محمد احمد سبزواری (۶) کاروانِ زندگی ڈاکٹر رضی الدین صدیقی (۷) بیاضِ مریم کا شاعر ڈاکٹر وحید اختر (۸) وجد کی نظم نگاری ڈاکٹر سیدہ جعفر (۹) سکندر علی وجد کی تین نظمیں فضیل جعفری (۱۰) شاعرِ جمالیات سکندر علی وجد۔
(زندگی): (۱) سکندر علی وجد ڈاکٹر رضی الدین صدیقی (۲) حالاتِ زندگی ڈاکٹر صفی الدین صدیقی (۳) وجد صاحب– کچھ یادیں کچھ باتیں ڈاکٹر وحید اختر (۴) جانے والوں کی یاد آتی ہے سید شہاب الدین دسنوی (۵) آج کی طرف دیکھو جیلانی بانو (۶) سکندر علی وجد احسن علی مرزا (۷) وجد چچا میاں عزیز قیسی (۸) وجد صاحب ڈاکٹر معین شاکر (۹) یادوں سے چراغاں ہے ڈاکٹر مظہر محی الدین (۱۰) کہنے جاتے تو ہیں۔۔۔ یوسف ناظم۔
(تبصرے): (۱) بیاضِ مریم، اشفاق حسین، (۲) انتخاب، یوسف ناظم
(۲) شگوفہ (ہندوستانی مزاح نمبر، نثر)— اشاعت جون ۱۹۸۵ء، صفحات ۳۸۱۔ یوسف ناظم نے جو کتابیں مرتب کی ہیں، ان میں ’شگوفہ‘ کا یہ نمبر سب سے اہم، مختلف اور یادگار ہے۔ اس میں ہندستان میںبولی جانے والی پندرہ زبانوں کے نثری ظریفانہ ادب کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ اردو کے علاوہ بارہ دیگر زبانوں کی ظریفانہ تخلیقات کے تراجم بھی پیش کیے گئے ہیں۔ اردو کے بارہ ظریفوں نے اپنے اپنے انداز میں اپنے حالات لکھے ہیں اور اپنے شاہکار پیش کیے ہیں۔ ظرافت سے متعلق یوسف ناظم کے مرتب کردہ سات سوالات کے جوابات چودہ نقادوں نے دیے ہیں۔ کلیم الدین احمد اور ڈاکٹر عبدالمغنی کے انٹرویو بھی رسالے کی زینت ہیں۔ آخر میں اردو طنز و مزاح کی منتخب کتابیات بھی پیش کی گئی ہے۔ یوسف ناظم نے ایم اے کے امتحان میں اردو ظرافت پر تحقیقی مقالہ لکھا تھا اس کے دو ابواب رسالے کے چھیاسٹھ صفحات میں شایع ہوے ہیں۔ پہلے باب میں ظرافت کے اصول اور نفسیات سے بحث کی گئی ہے اور دوسرا باب اردو کی ظریفانہ نثر کے جائزے پر مشتمل ہے۔ رسالے میں صفحہ پانچ سے بارہ تک قلمی معاونین کا البم ہے۔ اس میں یوسف ناظم، ظ۔ انصاری، ڈاکٹر محمد حسن، فکر تونسوی، بھارت چند کھنہ، مجتبیٰ حسین، نریندر لوتھر، احمد جمال پاشا، وجاہت علی سندیلوی، رشید قریشی، برق آشیانوی، پرویز یداللہ مہدی، مسیح انجم، ڈاکٹر حامد حسین، اسماعیل آذر، ڈاکٹر گرنام سنگھ تیر، راز سنتوکھ سری، فتورانند، آیپا پانیکر، شیام سندر مشرا، ڈاکٹر سکنیا جوہری، ڈاکٹر درویش ٹھاکر، ڈاکٹر بھکتا وتسل رائو، حمید الماس، کرت بابانی، ڈاکٹر اعجاز علی ارشد، خالد اگاسکر، محمد زماں آزردہ، شفیقہ فرحت، رتی لال شاہین اور محمد ضیاء الدین انصاری کی بلیک اینڈ وھائٹ تصاویر ہیں۔ ’عارضی اداریہ‘ کے عنوان سے یوسف ناظم نے اداریہ سپرد قلم کیا ہے۔ صفحہ ۳۸۱ پر سید مصطفی کمال کا اداریہ ہے۔ مندرجات کی تفصیل اس طرح ہے:
کسوٹی (تنقید، جائزہ)—
(۱) ہندوستان میں اردو طنز و مزاح پروفیسر محمد حسن (۲) اردو طنز نگاری اور ظرافت کے پندرہ بیس سال ڈاکٹر ظ۔ انصاری (۳) اردو ظرافت نگاری یوسف ناظم (۴) اڑیا نثر میں طنز و مزاح شیام سندر مشرا۔ ترجمہ اسماعیل آزر (۵) انگریزی کا دیسی مزاح ڈاکٹر سید حامد حسین (۶) بنگالی میں مزاح ہمانیش گوسوامی۔ انگریزی سے ترجمہ ڈاکٹر یوسف کمال (۷) پنجابی نثری ادب اور طنز و مزاح ڈاکٹر پریتم سنگھ عرشی مترجم راز سنتوکھ سری (۸) تلگو مزاح این وی گوپالاسوامی (شاستری)/ ایس ناگیشور رائو مترجم ڈاکٹر یوسف کمال (۹) تلگو کے نثری ادب میں مزاح ڈاکٹر کے بھکتا وتسل رائو (۱۰) تامل میں طنز و مزاح عزیز تمنائی (۱۱) سندھی نثر میں مزاح کی روایت کرت بابانی مترجم یوسف ناظم (۱۲) کشمیر کے نثری ادب میں طنز و مزاح بشیر عارف (۱۳) کنڑا مزاح حمید الماس (۱۴) گجراتی نثر میں طنز و مزاح اعجاز مدنی (۱۵) ملیالم ادب میں طنز و مزاح پروفیسر آیپا پانیکر مترجم یوسف ناظم (۱۶) میتھلی ادب میں طنز و مزاح ڈاکٹر اعجاز علی ارشد (۱۷) ہندی نثر میں طنز نگاری دے ویش ٹھاکر مترجم خالد اگاسکر (۱۸) طنز کی شوگر کوٹڈ گولی رتی لال شاہین۔ ہندی سے ترجمہ صبیحہ فرزانہ۔
تخلیقات/ تراجم:
ہندی: (۱) جھڑتا نیم بڑھتا تھیم، شرد جوشی، مترجم خالد اگاسکر، (۲) شکایت مجھے بھی ہے، رتی لال شاہین، مترجم صبیحہ فرزانہ
ملیالم: مہاراجہ اور مینڈک، آیپا پانیکر، مترجم یوسف ناظم
مرہٹی: میں ٹیلی فون کرتا ہوں، گنگا دھر گاڈکل، مترجم خالد اگاسکر
گجراتی: (۱) اگر شانتی لال مل جائے، ونود بھٹ، مترجم ڈاکٹر سکینہ چودھری، (۲) بلا عنوان، لگن بہاری لال، مترجم مناظر عاشق ہرگانوی
کنڑا: ڈارون کا فلسفہ، بیچی، مترجم حمید الماس
کشمیری: سٹی بس میں سوار ہونا، ڈاکٹر محمد زماں خاں آزردہ، مترجم منصور احمد منصور
راجستھانی: ضرورت ہے مصنفوں کی، پورن سرما، مترجم مناظر عاشق ہرگانوی
تامل: بلیوں کی ہڑتال، کل کی، مترجم عزیز تمنائی
تلگو: بے تکی حرکتیں، حماقتیں، راوی کونڈل رائو، مترجم مسیح انجم
پنجابی: اعزاز دانشور کا، ڈاکٹر گورنام سنگھ تیر، مترجم راز سنتوکھ سری
بنگالی: آ بیل مجھے مار، نارائن گنگو پادھیائے، مترجم مناظر عاشق ہرگانوی
اڑیا: غیر ضروری مہمان، فتورانند، مترجم اسماعیل آذر
انتخاب و بقلم خود سوانح (اردو):
(۱) احمد جمال پاشا کپور ایک تحقیقی و تنقیدی مطالعہ (۲) برق آشیانوی اعضائے رئیسہ اور سر (۳) بھارت چند کھنہ ضرورت ہے ایک صدر کی (۴) پرویز یداللہ مہدی کہانی پر بیٹھنا (۵) رشید قریشی– آئینہ بڑھاپا اور کبریٰ بیگم (۶) شفیقہ فرحت تعزیت ہماری (۷) فکر تونسوی بیویوں کی ٹریڈ یونین (۸) مجتبیٰ حسین قصہ ڈاڑھ کے درد کا (۹) مسیح انجم دستر خوان کے شیر+شعر (۱۰) نریندر لوتھر حیدر آباد کا تغرافیہ (۱۱) وجاہت علی سندیلوی برکت ایک چھینک کی (۱۲) یوسف ناظم باقر مہدی۔
سوال نامہ صفحہ-۳۳۴
جواب نامہ(تاثرات)
(۱) پروفیسر محمد حسن (۲) پروفیسر گوپی چند نارنگ (۳) پروفیسر قمر رئیس (۴) پروفیسر نثار احمد فاروقی (۵) شمس الرحمن فاروقی (۶) باقر مہدی (۷) ڈاکٹر وحید اختر (۸) رشید حسن خاں (۹) شمیم حنفی (۱۰) عمیق حنفی (۱۱) ابن فرید (۱۲) ڈاکٹر سلیمان اطہر جاوید (۱۳) مناظر عاشق ہرگانوی۔
بات چیت:
کلیم الدین احمد اور ڈاکٹر عبدالمغنی سے، ڈاکٹر اعجاز علی ارشد
اردو طنز و مزاح: منتخب کتابیات: ڈاکٹر ضیاء الدین انصاری
(۳) سہ ماہی تکمیل، بھیونڈی (شاذ تمکنت نمبر)، جنوری تا جون ۱۹۸۹ء، مدیران: اصغر حسین قریشی، مظہر سلیم، ترتیب: یوسف ناظم، صفحات ۱۵۴، اداریہ: یوسف ناظم (ص ۳-۴)
نقش فریادی (شاذؔ کی تحریریں):
(۱) خطوط (پانچ خطوط)، (۲) تبصرہ (اخترالایمان کے مجموعے بنت لمحات پر)
ہم عصروں کے خطوط شاذؔ کے نام:
خلیل الرحمن اعظمی، جعفر علی خاں اثر، محی الدین قادری زور، سجاد ظہیر، فراق گورکھپوری، ظ۔ انصاری، اخترالایمان، اسلوب احمد انصاری، وزیر آغا، سلیمان اریب، احمد ندیم قاسمی، جاں نثار اختر، نریش کمار شاد، شہریار، قاضی سلیم، وحید اختر، نشور واحدی (خلیل الرحمن اعظمی کے چار خطوط ہیں اور بقیہ حضرات کے ایک ایک خط ہیں)
انتخاب کلام (شاذؔ تمکنت مرحوم)
شاذؔ آئینہ خانے میں (مضامین):
(۱) شاذ تمکنت ڈاکٹر انور معظم (۲) شاذ نجد دکن کا آبلہ پا- عزیز قیسی (۳) سرگوشی اقبال متین (۴) شاذ کے نام خطوط مظہر سلیم۔
کاغذی ہے پیرہن (خاکے):
(۱) شاذ تمکنت، عوض سعید (۲) شاذ تمکنت، راشد آذر (۳) شاذ کی یاد میں،یوسف ناظم
جانے والوں کی یاد آتی ہے (خراجِ عقیدت)
بابا کی یاد میں، نژاد تمکنت
منظوم خراجِ عقیدت: (۱) رحمن جامی (۲) سکندر محسن (۳) اختر واجدی (۴) رشید شہیدی (۵) مومن خاں شوق ۔آخر میں ’پڑائو‘ کے عنوان سے مدیران نے ایک صفحے کا اداریہ لکھا ہے۔
(۴) سہ ماہی تکمیل، بھیونڈی (عزیز قیسیؔ نمبر)، (اکتوبر ۱۹۹۲ء تا مارچ ۱۹۹۳ء)، انتساب زہرہ قیسی کے نام
مہمان مدیر: یوسف ناظم، صفحات ۲۴۰
مہمان اداریہ: یوسف ناظم (ڈیڑھ صفحات میں)، پڑائو (اداریہ)
عزیز قیسی: حمایت علی شاعر
تصویریں بولتی ہیں (دس تصویریں)
آواز دے کہاں ہے (مضامین):
(۱) زہرہ قیسی-عزیز قیسی اپنے گھر میں (۲) راج بہادر گوڑ- عزیز قیسی (۳) ڈاکٹر صفی الدین احمد- عزیز قیسی کچھ یادیں کچھ باتیں (۴) احمد خاں- عزیز قیسی ایک بھائی ایک انسان (۵) مشتاق مومن- افسانہ نگار عزیز قیسی (۶) یعقوب راہی عزیز قیسی کہاں گئے تم (۷) محمد ایوب واقف- عزیز قیسی کی یاد میں (۸) یوسف ناظم- عزیز قیسی خدا حافظ (۹) مظہر سلیم- عزیز قیسی ماضی کے آئینے میں۔
رد عمل (تبصرہ):
غلام نبی مومن- عزیز قیسی کا فن، گرد باد کے آئینے میں
زاویۂ نگاہ (عزیز قیسی کی تحریریں):
(۱) گرد باد کا دیباچہ (۲) حسرت موہانی بہ حیثیت شاعر (۳) امجد حیدر آبادی (۴) کرشن چندر (۵) اخترالایمان (۶) عشق نامہ کوکن
ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے (عزیز قیسی کی کہانیاں):
(۱) بند مکان کھلا دروازہ (۲) کنواں کھودنے والے
سرگوشیاں (تاثرات):
(۱) علی سردار جعفری (۲) شمس الرحمن فاروقی (۳) پروفیسر قمر رئیس (۴) ڈاکٹر وحید اختر (۵) حسن فرخ (۶) رفعت سروش (۷) ڈاکٹر اجمل اجملی (۸) زبیر رضوی (۹) شاہد علی خاں (۱۰) محمود ایوبی (۱۱) ندا فاضلی (۱۲) حسن کمال (۱۳) سلام بن رزاق (۱۴) حمایت علی شاعر۔
حمایت علی شاعر- عزیز قیسی
پروفیسر قمر ساحری- عزیز قیسی
سردار الہام- عزیز قیسی کی رحلت پر
انتخابِ کلام (نظمیں، غزلیں، رباعیات)
(۵) انبساط (مزاحیہ مضامین کا انتخاب)
مرتب: یوسف ناظم، ناشر نیشنل بک ٹرسٹ، انڈیا، نئی دہلی۔ پہلا ایڈیشن ۱۹۹۹ء، صفحات ۹۶۔ کتاب کی ابتدا میں چھ صفحات پر مشتمل یوسف ناظم کا پیش لفظ ہے۔ اس کے بعد اردو کے چودہ ظرافت نگاروں کے ایک ایک مضمون کا انتخاب ہے۔ آخر میں متعلقہ ظرافت نگاروں کا مختصر تعارف ہے (ص ۹۱-۹۶)۔ مشمولات اس طرح ہیں:
(۱) ارہر کا کھیت رشید احمد صدیقی (۲) اپنی یاد میں کنھیا لال کپور (۳) مشاعرے میں صدارتی خطبہ فکر تونسوی (۴) گلی ڈنڈے پر سیمینار احمد جمال پاشا (۵) تعزیتی جلسے مجتبیٰ حسین (۶) کوڈاں نریندر لوتھر (۷) تربوز وجاہت علی سندیلوی (۸) کرسی نامہ شفیقہ فرحت (۹) خالی جگہ پر کرو دلیپ سنگھ (۱۰) قصہ ایک سفر کا مسیح انجم (۱۱) داستان چوہے اور بلی کی یوسف ناظم (۱۲) کہانی پر بیٹھنا پرویز یداللہ مہدی (۱۳) ہماری عینک کی پہلی سال گرہ معین اعجاز (۱۴) عزت اسے ملی عظیم اختر۔
(۶) اردو کے منتخب خاکے
مرتب: یوسف ناظم معاون الیاس شوقی، ناشر انجمن ترقی اردو (ہند) نئی دہلی، سنہ اشاعت ۲۰۰۷ء، صفحات ۱۹۱، کتاب کا ’حرف آغاز‘ ڈاکٹر خلیق انجم نے تحریر کیا ہے۔ یوسف ناظم کا تین صفحات پر مشتمل ابتدائیہ ہے۔ اس کے بعد الیاس شوقی کا قدرے تفصیلی مقدمہ ہے جس میں خاکے کے فن سے بحث کی گئی ہے۔ کتاب میں جن خاکہ نگاروں کے خاکے منتخب کیے گئے ہیں ان کی تفصیل اس طرح ہے:
(۱) گھمّی کبابی اشرف صبوحی (۲) نام دیو مالی مولوی عبدالحق (۳) کندن رشید احمد صدیقی (۴) عبدالمجید سالک شورش کاشمیری (۵) کنھیا لال کپور میرزا ادیب (۶) تین گولے سعادت حسن منٹو (۷) دوزخی عصمت چغتائی (۸) ابراہیم جلیس مرزا ظفرالحسن (۹) باقر مہدی یوسف ناظم (۱۰) شاذ تمکنت مجتبیٰ حسین (۱۱) مسعود حسن رضوی ادیب علی جواد زیدی (۱۲) اخترالایمان رفعت سروش (۱۳) میں اور شیطان ڈاکٹر اسلم پرویز (۱۴) طوطی کوشش جہت سے مقابل ہے آئینہ (ڈاکٹر ظ۔ انصاری) انور ظہیر خاں۔
یوسف ناظم کی تحریروں کے دو انتخابات بھی شایع ہوے ہیں۔ افادیت کے خیال سے ان کا تعارف بھی پیش کیا جاتا ہے۔
(۱) زیر غور
مرتبہ: رعنا فاروقی، ناشر اسامہ شکیب، کتاب مکتبہ ہم زبان کراچی نے شایع کی ہے۔ سالِ اشاعت ۱۹۸۹ء، صفحات ۱۶۰۔ واضح رہے ’زیر غور‘ کے عنوان سے یوسف ناظم کا مجموعہ ۱۹۷۲ء میں بمبئی سے شایع ہوا تھا۔ رعنا فاروقی نے بھی نام ضرور’’زیر غور‘ رکھا ہے لیکن اس کے مندرجات الگ ہیں۔
کتاب میں طاہر مسعود کا فلیپ ہے۔ رعنا فاروقی نے تین صفحے کا دیباچہ لکھا ہے۔ مشمولات کی فہرست درج ذیل ہے:
(۱) ابلیس کی مجلس شوریٰ (۲) معاملہ کاروں کا (۳) جملہ معترضہ (۴) اردو کی پہلی کتاب (جدید) کے چند سبق (۵) دولھا مارکیٹ (۶) فنونِ لطیفہ (۷) مرغ و ماہی (۸) ایک پردیسی کا سفرنامۂ ہندوستان-۱ (۹) ایک پردیسی کا سفر نامہ ہندوستان-۲ (۱۰) شعر و ادب میں جانوروں کا حصہ (۱۱) صنعت و حرفت کا پہلا سبق (۱۲) ذرا مسکرائیے (۱۳) عید کا چاند اور مبادیاتِ عید (۱۴)اتنی سی بات (۱۵) گھر کی رونق (۱۶) دن منانا (۱۷) اشرف المخلوقات (۱۸) موت (۱۹)مرزا غالب کی صحت جسمانی (۲۰) باقر مہدی (۲۱) سلیمان اریب (۲۲) راجندر سنگھ بیدی (۲۳)کرشن چندر۔
(۲) دامنِ یوسف
مرتب: عنایت علی، ناشر دل رس ایجوکیشنل کلچرل چیریٹیبل اینڈ لٹریری سوسائٹی، اورنگ آباد، سنہ اشاعت جون ۲۰۰۳ء، صفحات ۴۰۰۔ انتساب محترمہ بیگم یوسف ناظم (عائشہ بیگم صاحبہ) کے نام۔ عنایت علی نے ’عرضِ مرتب‘ میں تحریر کیا ہے کہ ’دامن یوسف میں ہم نے یوسف ناظم صاحب کی ان تحریروں کا انتخاب کیا ہے جو ۱۹۴۴ء سے لے کر جون ۲۰۰۲ء تک شایع ہوئی ہیں۔ ہر دس سال کے عرصہ میں مصنف نے کیا لکھا ہے اس کا احاطہ کیا گیا تاکہ اس سے قاری کو ان کے فنی ارتقا کا بھی اندازہ ہو سکے۔‘‘ مرتب نے انتخاب میں صرف یوسف ناظم کی کتابیں ہی پیش نظر نہیں رکھیں بلکہ رسائل و جرائد کو بھی کھنگالا ہے۔ اس سے یہ انتخاب زیادہ وقیع ہو گیا ہے۔ ’یوسف ناظم، روز و شب کے آئینے میں‘ کے عنوان سے مرتب کتاب نے یوسف ناظم کے مختصر حالات اور ان کی تحریروں کا مختصر تعارف کرایا ہے۔’’کچھ اپنے بارے میں‘ یوسف ناظم کی مختصر خود نوشت ہے۔ پروفیسر ظفر احمد نظامی نے مقفیٰ نثر میں یوسف صاحب کا مختصر خاکہ لکھا ہے۔ ’کہتی ہے خلقِ خدا‘ کے عنوان سے یوسف ناظم کے فن سے متعلق ڈاکٹر سیدہ جعفر، نریندر لوتھر، مجتبیٰ حسین، ڈاکٹر خلیق انجم، ڈاکٹر لئیق صلاح، ڈاکٹر محمد طیب انصاری، ڈاکٹر مظہر محی الدین، ڈاکٹر بانو سرتاج، رشید الدین اور ڈاکٹر عبدالرحمن اکولوی کی مختصر رائیں پیش کی گئی ہیں۔ ’یوسف ناظم کا فن‘ کے عنوان سے ڈاکٹر سلیمان اطہر جاوید کا تفصیلی مقالہ بھی شاملِ کتاب ہے۔ یوسف ناظم کی جو تحریریں منتخب کی گئی ہیں اس کی تفصیل اس طرح ہے:
۱۹۴۴ء سے ۱۹۶۰ء تک:
(۱) قواعدِ اردو (بڑی جماعتوں کے لیے) (۲) صحت و زندگی (۳) بارات (۴)مواعظ مولانا یوسف ناظم (۵) موت (۶) مرزا غالب کی صحت جسمانی (۷) گرہست شاستر (۸) دیواریے (۹) نئی یادگارِ غالب (۱۰) فٹ نوٹ۔
۱۹۷۱ء سے ۱۹۸۰ء تک:
(۱۱) زیرِ غور (۱۲) غور کرنے کے بعد (۱۳) سواریاں (۱۴) مردم شماری (۱۵) سیر کر دنیا کی (۱۶) انگریز ہندوستان میں (تاریخ جدید) (۱۷) آئینے میں (۱۸) عید کا چاند اور مبادیاتِ عید (۱۹) ایک پردیسی کا سفرنامہ۔
۱۹۸۱ء سے ۱۹۹۰ء تک:
(۲۰) شعر و ادب میں جانوروں کا حصہ (۲۱) تختی سے تختے تک (۲۲) مرغ و ماہی (۲۳) فنونِ لطیفہ (۲۴) رسمیں اور قسمیں (۲۵) نمبر صحیح ہونا چاہیے (۲۶) کرکٹ سیزن (۲۷) چند مشاہیرِ عالم (۲۸) ہم بھی شوہر ہیں (۲۹) خدا نہ کرے ہم اسپتال جائیں (۳۰) داستان ٹکٹوں کی (۳۱) گول میز (۳۲) معاملہ کاروں کا (۳۳) بوڑھوں کے بارے میں (۳۴) ہم بھی ہیں پانچوں سواروں میں (۳۵) وجودِ زن سے ہے (۳۶) دروازے (۳۷) ہوا خوری (۳۸) مشاعروں میں ہوٹنگ کے فوائد (۳۹) اشتہاروں کے بیچ (۴۰) فلیپ نگاری (۴۱) نوکری کی تلاش میں (۴۲) تلاشِ ابہام۔
۱۹۹۱ء سے ۲۰۰۰ء تک:
(۴۳) رموزِ شکم پروری (۴۴) شادی خانہ آبادی (۴۵) روٹی کانفرنس (۴۶) غزل خانم (۴۷) مادری زبان (۴۸) حسن کی قسمیں (۴۹) اہلیائوں کے نام (۵۰) چند اشیائے خوردنی (۵۱) یار زندہ صحبت باقی (۵۲) ابلیس کا معافی نامہ خالق کونین کے نام (۵۳) کوّے (۵۴) بخشش (۵۵) بوڑھوں کا سال (۵۶) رقعے بانٹنا۔
۲۰۰۱ء سے آگے:
(۵۷) جوش ملیح آبادی غالب کے حضور میں (۵۸) غالب کلکتہ اور ہائے ہائے (۵۹)نان بائی سے گڈ بائی تک (۶۰) ضرب المثل اشعار اور ایک سالم غزل (۶۱) ارم سے عدم تک (۶۲) یہ بھی ایک قصۂ درد ہے (۶۳) یہ حکایت ہے شکایت نہیں ہے (۶۴) اختصار نامہ زلف دراز کا (۶۵) جھرجھری (۶۶) کون سی چیز خالی نہیں ہے۔


Previous articleتذکرہ عرب کے چاند کا: ازولادت تانبوت
Next articleٹول کٹ

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here