حافظ کے اشعار اور ضرب الامثال

0
416

—ڈاکٹر وجیہہ الدین

کسی بھی زبان و ادب میں امثال و حکم کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ ان سے کسی قوم کے رسم و رواج، عادات و اطوار، اخلاق و آداب، نیز تاریخ پر روشنی پڑتی ہے۔ چوں کہ یہ عام لوگوں کے ذوق، مشاہدات اور تجربات پر مبنی ہوتی ہیں اور ان میں مفصل مفاہیم کو چند منتخب لفظوں، مصرعوں یا ابیات میں ادا کیا جاتا ہے اس لیے یہ استعارات و کنایات کی حیثیت اختیار کر لیتی ہیں۔ ہر ضرب المثل میں کوئی نہ کوئی ایسی حکمت چھپی ہوتی ہے جو متعلقہ قوم کی دانش مندی اور فکری رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔ اگر ان ضرب الامثال کا استعمال عام گفتگو میں نہ کیا جائے تو مفہوم میں تشنگی اور بے کیفی کا احساس ہوتا ہے۔ دوسری طرف اس کے برمحل استعمال سے نہ صرف مفہوم بہ خوبی واضح ہو جاتا ہے بلکہ اس میں یک گونہ وسعت اور جامعیت بھی پیدا ہو جاتی ہے۔
ضرب الامثال سے اکثر و بیشتر پند و نصیحت اور کردار سازی کا کام لیا جاتا ہے۔ خالص واعظانہ فقروں کے مقابلے میں ان میں، مخصوص ساخت اور جامعیت کی وجہ سے، ایک خاص قسم کی تاثیر، دل آویزی اور لطف اندوزی بھی پیدا ہو جاتی ہے۔
امثال و حکم کی ابتدا کب اور کیوں کر ہوئی، اس کے متعلق حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ یہ زمانۂ دراز سے ایک علاقہ سے دوسرے علاقے، ایک شخص سے دوسرے شخص، ایک خانوادے سے دوسرے خانوادے، ایک قوم سے دوسری قوم اور ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہوتی رہی ہیں اور آج بھی ہر زبان میں تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ رائج ہیں۔
ضرب الامثال کا استعمال نہ صرف نثر میں، بلکہ شاعری میں بھی کثرت سے ہوتا آیا ہے۔ تقریباً ہر شاعر کے کلام میں اس کی عمدہ مثالیں مل جاتی ہیں۔ جہاں تک فارسی شعرا کا تعلق ہے، ان میں سعدیؔ کو اس سلسلے میں خاص امتیاز حاصل ہے۔ سعدی نے نثر اور نظم دونوں میں انتہائی مہارت اور چابک دستی کے ساتھ ان سے کام لیا ہے۔ اس کی مثالیں گلستاں اور بوستاں میں جگہ جگہ ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔ شاعر کبھی تو ایک مصرعے میں ایک بات کہتا ہے اور دوسرے میں اظہارِ مدعا کے لیے، کسی مناسب اور موزوں ضرب المثل کو نظم کرتا ہے، یا کبھی دونوں مصرعے ہی ضرب المثل ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں شاعر کو اپنا فن اور کمال دکھانے کا پورا موقع مل جاتا ہے جس سے وہ مخصوص شعر ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر کے زبان زد خاص و عام ہو جاتا ہے۔ جو شعر ضرب المثل ہو جاتا ہے اس کا تعلق کسی واقعے یا اخلاق، یا شاعر کے گرد و پیش کی سماجی زندگی سے ہوتا ہے۔ کبھی کبھی اس سے کسی عالمگیر تصور اور علم و حکمت اور اخلاق کے کسی اصول کی عکاسی بھی ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس شعر میں فنی خوبیاں مثلاً سلاست و روانی اور فصاحت و بلاغت بھی بدرجہ اتم موجود ہوتی ہیں اور انھی خوبیوں کے طفیل اسے ضرب المثل بننے کا شرف حاصل ہو جاتا ہے۔ اس لحاظ سے حافظؔ کو دیگر فارسی شعرا کے مقابلے میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔ ان کے اشعار میں اخلاقی اور فکری نکات کی کارفرمائی، ایک مخصوص انداز میں، جا بہ جا نظر آتی ہے۔ ذیل میں امثال و حکم پر مبنی ان کے چند اشعار کی مثالیں پیش کرنے کی کوشش کی جائے گی:
(۱)
ترا چنانکہ توی ھر نظر کجا بیند

’’بقدر بینش خود ھر کسی کند ادراک‘‘
مندرجہ بالا شعر کا مصرعۂ ثانی ضرب المثل کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ اس شعر میں حافظ کہتا ہے کہ اے خدا! تیری ذات و ماہیت کا مکمل ادراک ممکن نہیں۔ ہر شخص اپنی ذہانت اور فہم کے مطابق ہی تیری حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔
(۲)
ماجرای من و معشوقِ مرا پایان نیست

’’ھرچہ آغاز ندارد، نپذیرد انجام‘‘
اس شعر میں بھی مصرعۂ ثانی ضرب المثل ہے اس کا مطلب ہے جس کی ابتدا نہیں اس کی انتہا کیسی۔ شعر میں مفہوم اس طرح ادا کیا ہے کہ میرے اور میرے معشوق کے افسانے کی کوئی انتہا ہی نہیں کیوں کہ جس کی ابتدا نہیں، اس کی انتہا بھی نہیں۔
(۳)
گفت آسان گیر برخود کارھا کزروی طبع

’’سخت می گیرد جہان برمردمانِ سخت کوش‘‘
اس شعر کا بھی دوسرا مصرعہ ضرب المثل ہے۔ اس شعر میں آسان پسندی اور میانہ روی کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ اپنی جان کو خواہ مخواہ جوکھم میں نہیں ڈالنا چاہیے اور اپنی استطاعت کے مطابق ہی ہر کام کو انجام دینا چاہیے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: لَاُیکَلِّفُ اللّٰہُ نفْساً اِلّٰا وُسْعَہَا۔ (اللہ تعالیٰ کسی فرد پر اس کی استطاعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا)
(۴)
ھر گہ کہ دل بعشوہ دھی خوش دمی بود

’’درکارِ خیر، حاجت ھیچ استخارہ نیست‘‘
اس شعر کا بھی مصرعہ ثانی ضرب المثل ہے۔ یعنی نیک کام میں دیری کیسی۔ شاعر کا کہنا ہے کہ جس وقت بھی دل میں کسی نیک عمل کا داعیہ پیدا ہو اس کو فوراً انجام دے دینا چاہیے، اس واسطے کہ نیک کام میں دیر کیسی۔
(۵)
من اگر نیکم اگربد، برو خود را کوش

’’ھر کسی آن دَرود عاقبتِ کار کہ کشت‘‘
اس شعر کا مصرعہ ثانی ضرب المثل ہے۔ جیسی کرنی ویسی بھرنی اس شعر میں دوسروں کی برائیوں سے چشم پوشی کرنے اور اپنے اعمال پر نظر رکھنے کی تلقین کی گئی ہے۔ عربی میں یہ ضرب المثل اس طرح رائج ہے: کَمَا تَزْرَعْ، تَحْصُدُ (جیسا بوئو گے ویسا ہی کاٹو گے)۔
(۶)
ھزار نکتہ باریک تر زمو اینجاست

’’نہ ھر کہ سر بترا شد قلندری داند‘‘
اس شعر کا مصرعہ ثانی ضرب المثل ہے۔ اس شعر میں حافظؔ نے کہا ہے کہ صرف ظاہری صورت اختیار کر لینے سے کوئی شخص درویش اور خدا رسیدہ نہیں ہو سکتا۔ اس تک پہنچنے کے لیے سخت ریاضت اور نفس کشی درکار ہوتی ہے۔
(۷)
دور مجنون گذشت و نوبت ماست

’’ھر کسی پنج روز نوبت اوست‘‘

اس شعر کا مصرعہ ثانی ضرب المثل ہے یعنی ’آج وہ اور کل ہماری باری ہے۔‘‘ اس مضمون کو حافظؔ نے کتنے عمدہ طریقے سے ادا کیا ہے۔
ایک اردو شاعر نے اس کو یوں نظم کیا ہے: (مرزا شوق، مثنوی زہر عشق)
موت سے کس کو رستگاری ہے
آج وہ اور کل ہماری باری ہے
(۸)
ای نور چشم من سخنی ھست و گوش کن

’’چون ساغرت پرست بنوشان و نوش کُن‘‘

اس شعر کا دوسرا مصرعہ ضرب المثل ہے۔ اس میں جیو اور جینے دو کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے حافظؔ نے یہ پیغام پہنچانے کی کوشش کی ہے کہ آسائش و آسودگی کے زمانے میں تہی دستوں اور غم زدوں کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔
(۹)
دلربایی ھمہ آن نیست کہ عاشق بکشند

’’خواجہ آنست کہ باشد غم خدمتگارش‘‘
اس شعر کا دوسرا مصرعہ ضرب المثل ہے۔ شاعر کا کہنا ہے کہ عاشق کو قتل کرنا ہی سب کچھ نہیں ہے، بلکہ آقا کو اپنے خدمت گزاروں کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔
(۱۰)
زرویِ دوست دلِ دشمنان چہ دریابد

’’چراغِ مردہ کجا شمع و آفتاب کجا‘‘
اس شعر کا دوسرا مصرعہ ضرب المثل ہے۔ اس کے علاوہ اس مفہوم سے متعلق فارسی میں دوسری ضرب الامثال بھی موجود ہیں۔ ان میں سے بعض یہ ہیں:
چشمہ پیش دریا بردن، چہ نسبت خاک را با عالم پاک، وغیرہ۔ اسی مفہوم کو اردو میں ’سورج کو چراغ دکھانا‘ کہہ کر ادا کیا جاتا ہے۔
(۱۱)
آسایش دو گیتی تفسیر این دو حرفست

’’بادوستان مروت بادشمنان مدارا‘‘
جیو اور جینے دو (Live and Let Live) کا تصور مندرجہ بالا شعر میں ادا کیا گیا ہے۔ اس شعر کا بھی مصرعہ ثانی ضرب المثل ہے۔
(۱۲)
’’من از بیگانگان دیگر ننالم

کہ بامن ھرچہ کرد آن آشنا کرد‘‘
یہ پورا کا پورا شعر ضرب المثل ہے۔ اس کے لیے عربی میں یہ ضرب المثل ہے: اَلْأَقارِبُ کَانْعَقَارِبِ۔ (اقرباء بچھو کے مانند ہوتے ہیں)۔ شکیلؔ بدایونی نے اسی مفہوم کو اس طرح نظم کیا ہے:
(۱۳)
مرا عزم اتنا بلند ہے کہ پرائے شعلوں کا ڈر نہیں

مجھے خوف آتش گل سے ہے کہیں یہ چمن کو جلا نہ دے
ایک اور شاعر نے اسی مفہوم کو کچھ یوں ادا کیا ہے:
دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
(۱۴)
چاک خواھم زدن این دلق ریاپی چکنم

’’روح را صحبت ناجنس عذابیست الیم‘‘
حافظؔ کے اس شعر کا مصرعہ ثانی ضرب المثل کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں اس مثل کو اس طرح ادا کرتے ہیں: نادان کی دوستی جی کا جنجال۔ فارسی میں اسی مفہوم کو ادا کرنے کے لیے ایک اور ضرب المثل رائج ہے۔ یعنی: ’دیدار یارِ نامتناسب جہنم است‘‘
(۱۵)
مکن زغصہ شکایت کہ در طریق طلب

’’براحتی نرسید آنکہ زحمتی نکشید‘‘
حافظؔ کے اس شعر کا دوسرا مصرعہ ضرب المثل کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تکلیف اٹھانے کے بعد ہی راحت نصیب ہوتی ہے۔ خود حافظ نے اس مفہوم کو دوسرے انداز میں بھی ادا کیا ہے۔ ’مقام عیش میسر نمی شود بی رنج‘ اس مفہوم کے لیے ایک اور ضرب المثل ہے، اور وہ یہ ہے: ’نابردہ رنج گنج میسر نمی شود۔‘‘
اردو کے ایک شاعر نے اسی بات کو اس مختصر اور دلنشین پیرائے میں بیان کیا ہے: ’بن جلے روشنی نہیں ہوتی۔‘‘
(۱۶)
باخرابات نشینان زکرامات ملاف

’’ھر سخن وقتی و ھر نکتہ مکانی دارد‘‘
ہر بات موقع و محل کے لحاظ سے کہنی چاہیے۔ اس مفہوم کو مندرجہ بالا شعر کے مصرعہ ثانی میں حافظ نے بہت خوبی سے ادا کیا ہے۔ نظامیؔ نے اسی مضمون کو کچھ یوں نظم کیا ہے۔
سخن تانپرسند لب بستہ دار
گُہر نشکنی تیشہ آھستہ دار
نپرسیدہ ھر کو سخن یاد کرد
ھمہ گفتہ خویش را برباد کرد
بکن معاملۂ وین دلِ شکستہ بخر
’’کہ باشکستگی ار زد بصد ھزار درست‘‘
(نظامیؔ)
حافظ کے اس شعر کا مصرعہ ثانی ضرب المثل کے طور پر مستعمل ہے۔ یہ مفہوم درجِ ذیل حدیث قدسی پر مبنی معلوم ہوتا ہے: أَنا عِندَالمُنکسرَۃِ قُلُوبُہُم۔ (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں شکستہ دلوں کے قریب ہوتا ہوں)۔ اسی بات کو علامہ اقبالؔ نے کچھ اس طرح ادا کیا ہے:
تو بچا بچا کے نہ رکھ اسے، ترا آئینہ ہے وہ آئینہ
کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہِ آئینہ ساز میں
(۱۷)
گرچہ منزل بس خطرناکست و مقصد بس بعید

’’ھیچ راھی نیست کو رانیست پایان، غم مخور‘‘
حافظ کے مندرجہ بالا شعر کا مصرعہ ثانی ضرب المثل کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ اسی مفہوم کو اس طرح بھی ادا کیا گیا ہے:
در نا امیدی بسی امید است
پایان شب سیہ، سپیداست
یاھر نشیبی را فرازی است۔ ان میں آیت ربانی اِنَّ مَعَ العُسرِ یسْراً۔ (بے شک تنگی کے بعد راحت ہے) کی ہی ترجمانی کی گئی ہے۔
(۱۸)
’’وقت را غنیمت دان آن قدر کہ بتوانی‘‘

حاصل از حیات ای جان! یکدمست تادانی
حافظؔ کے اس شعر کا مصرعہ اوّل ضرب المثل کے طور پر مستعمل ہے۔ اس میں وقت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے اور وقت کو غنیمت جاننے اور حَتَّی الْمَقْدُور۔ اس کی قدر کرنے کی تلقین کی گئی ہے، کیوں کہ گیا وقت پھر ہاتھ نہیں آتا۔ اسی مفہوم کو اردو کے ایک بزرگ شاعر نے یوں ادا کیا ہے:
ہے عمر رواں کا ہر اک لمحہ گوہر
اگر رائیگاں یہ نہ جائے تو جانیں
’’تو و طوبیٰ وماوقامت یار/ فکر ھر کسی بقدر ھمت اوست‘‘
ارشاد باری ہے: لَیْسَ لِلْاِنسَانِ اِلَّا ماسَعٰی۔ (ہر شخص کے لیے وہی ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے) (النجم: ۳۹) اسی مفہوم کو حافظ نے مصرعہ ثانی میں نظم کیا ہے اور یہ ضرب المثل کے طور پر مستعمل ہے۔
(۱۹)
مشکلی دارم ز دانشمند مجلس باز پرس

’’تو بہ فرمایان چرا خود تو بہ کمتر میکنند‘‘
اس شعر میں بھی مصرعہ ثانی ضرب المثل ہے۔ اس میں بے عمل عالموں، واعظوں اور خود ساختہ و ریاکار صوفیوں پر چوٹ کی گئی ہے، کیوں کہ ان کے ظاہر و باطن میں کوئی مطابقت نہیں ہوتی۔ یہ حضرات دوسروں کو تو نصیحت کرتے ہیں مگر خود اس پر عمل نہیں کرتے۔ ان پر دوسروں کو نصیحت اور اپنے کو فضیحت والی باب صادق آتی ہے۔ جلوت میں توبہ تقویٰ اور پارسائی کا ڈھونگ رچاتے ہیں، لیکن خلوت میں کچھ اور ہی کرتے ہیں۔ حافظؔ ہی نے خوب کیا ہے:
واعظان کین جلوہ بر محراب و منبر میکنند
چون بخلوت میروند آن کار دیگر میکنند
(۲۰)
صلاحِ کار کجا و من خراب کجا

’’بہ بین تفاوت رہ کز کجاست تا بکجا‘‘
حافظ کے اس شعر کا مصرعہ ثانی ضرب المثل ہو گیا ہے۔ کہاں میں رند خرابات اور کہاں نیکیاں؟ یعنی میرا ان سے کیا تعلق۔ دونوں راستوں کا فرق ملاحظہ کیجیے۔ یہ مثل ایسے موقع پر استعمال کی جاتی ہے جہاں دو چیزوں میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔
(۲۱)
نیکنامی خواھی ای دل! بابدان صحبت مدار

’’خود پسندی جانِ من برھانِ نادانی بود‘‘
اس شعر کا مصرعہ ثانی ضرب ا لمثل ہے: اس شعر میں خودستائی اور خود پسندی کو جہالت اور نادانی کی علامت قرار دے کر اس سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔
ضرب المثل کا معاملہ فارسی کیت قریباً ہر شاعر کے کلام میں یکساں طور پر نظر آتا ہے۔ ضرب الامثال کا مطالعہ ہم کئی زاویوں سے کر سکتے ہیں۔ ایک زاویہ سماجی بھی ہے۔ اگر ضرب الامثال کا سماجی زاویے سے مطالعہ کیا جائے تو امکان ہے کہ ایسے نتائج حاصل ہوں جن سے ہمارے سماجی رویوں اور ہماری سماجی تاریخ کے بعض گوشوں کو سمجھنے میں مدد ملے۔ بعض فارسی ضرب الامثال ہندوستانی زبانوں میں خاص کر ہندی اردو میں ترجمہ ہو کر زبان زد خاص و عام ہو گئی ہیں۔ ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض ہندوستانی ضرب الامثال فارسی میں ترجمہ ہوئی ہیں۔ اگر ہم نظیریؔ کی استعمال کردہ ضرب الامثال کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کریں تو ممکن ہے ہمیں یہ بات معلوم ہو کہ اس نے بعض گجراتی ضرب الامثال کا فارسی ترجمہ کیا ہے اور انھیں اپنے اشعار کی لڑی میں بہ خوبی پرویا ہے۔


Previous article’خاکِ جستجو‘ کی تخلیقی حسّیت
Next articleصنف‌ افسانہ اور اس کا آغاز و ارتقاء

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here