تحقیقی ذوق پر امن معاشرے کا ضامن از: ڈاکٹر ظفر دارک قاسمی

0
80

شعبہ دینیات سنی
علیگڑھ مسلم یونیورسٹی، علیگڑہ
zafardarik85@gmail.com

تحقیق و تفتیش اور تالیف و تصنیف سے معاشروں اور قوموں کا شعور و آگہی بیدار ہوتا ہے۔ گویا جو قومیں اپنے اندر تحقیق و جستجو کے جوہر پیدا کرتی ہیں وہ دنیا کی دیگر قوموں کے لیے مشعل راہ ہوتی ہیں۔ جب اس طرح کی سوچ معاشرے میں فروغ پاتی ہے تو اس کے نتائج ہمیشہ معتدل اور متوازن ہی مرتب ہوتے ہیں۔ اعلیٰ تحقیق اور مفکرانہ سوچ سے جو پیغام جاتاہے اس کی عالمی سطح پر پذیرائی ہوتی ہے۔ جب بھی اداروں اور دانشگاہوں نے تحقیق و تصنیف اور اس کے مسلمہ اصولوں سے انحراف کیا ہے تو نہ صرف ان کا وجود مسمار ہوا بلکہ وہ ادارے اپنی پہچان تک کھو بیٹھے ہیں۔

اس لیے اپنے وجود اور شناخت کو برقرار رکھنے نیز قوم و ملک کی صالح خطوط پر رہنمائی کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے اداروں خصوصا مدارس کے اندر تحقیقی شعور کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیں۔ اس کا جہاں فائدہ عوام اور سماج کو ہوتا ہے وہیں اس بات سے بھی قطعی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ اس سے معاشرے میں تحمل و برداشت، رواداری، امن و سلامتی اور بقائے باہم جیسی مقدس قدریں وجود میں آ تی ہیں۔ اگر سنجیدگی سے غور کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ آ ج انہی قدروں اور مقدس روایات کے عدم فروغ نے معاشرے کے اندر بہت ساری بد عنوانیاں پیدا کی ہیں۔ اس لیے اس وقت معاشرے ، ہمارے اداروں اور مدارس دینیہ میں جس چیز پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ ہم اعلی معیار کے مصنف ومحقق پیدا کریں۔ تبھی جاکر بہت سارے مسائل کا حل نکل سکتا ہے اور سماجی و قومی ہم آ ہنگی کا درست مفہوم و معنی پیش کیا جاسکتا ہے۔ آ ج دنیائے افق پر جو قومیں یا ادارے نمودار ہیں اگر ان کا انصاف سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات تسلیم کرنی ہوگی کہ انہوں نے تعلیم وتربیت کے ساتھ ساتھ جو امتیازی وصف پیدا کیا ہے وہ اعلی تحقیق اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ تالیفات و تصنیفات کا وجود میں لانا ہے۔ اسی طرح اعلی اور متوازن تحقیق سے یہ بھی فائدہ ہوتا ہے کہ وہ تحقیق رہتی دُنیا تک نوع انسانیت کی رہنمائی کا کام کرتی ہے۔ بہت سارے گم گشتہ راہ پر جانے والوں کو صراط مستقیم پر گامزن کردیتی ہے۔ منفی افکار و نظریات اور باطل مقاصد کی ناکامی میں بھی یہی رویہ اور رجحان کار گر ثابت ہوتا ہے۔ اہل علم و فضل اور ارباب دانش و بینش اور محققین جب حالات کا مطالعہ کرتے ہیں تو وہ مسائل کے الجھاؤ اور پیچیدگیوں کو بڑی خوش اسلوبی سے نمٹادیتے ہیں۔ برعکس اس کے اگر کوئی عام شخص یا جس کے مزاج میں تحقیقی نوعیت کا کوئی وصف نہ تو مسائل مزید الجھ کر رہ جاتے ہیں۔ اس طرح کی چیزوں کا ہم اپنے اردگرد آ ئے دن مشاہدہ کرتے رہتے ہیں۔ سابقہ سطور کے تناظر میں یہ بات بڑے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ اعلی تحقیق اور تحقیقی روح سے معاشرہ سر دست کئی فوائد اور ثمرات سے بار آ ور ہوتا ہے۔

اب رہا یہ سوال کہ ہم ہم اپنے مزاج اور روح میں تحقیقی اور صالح تنقیدی مزاج کیسے پیدا کریں۔ اس کا جواب اہل علم اور مدبرین و مفکرین نے یہ دیا کہ کثرت مطالعہ اور متنوع افکار کی حامل چیزوں کے پڑھنے سے تحقیق و تفتیش کا شوق و جذبہ ابھرتا ہے۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ آ ج ہمارے بعض اداروں میں اپنے مسلک یا نظریہ کی کتابوں اور ادب و لٹریچر کے پڑھنے ، مطالعہ کرنے کے علاوہ دیگر افکار و نظریات پر نہ صرف پابندی ہے بلکہ ان ہوں نے صریح ہدایات وضع کر رکھی ہیں کہ اگر کوئی بھی طالب علم کسی دوسرے مسلک وجماعت یا فکر ونظر سے وابستہ کسی بھی طرح کا لٹریچر پڑھتے ہوئے پکڑا گیا یا اس کے پاس پا یا گیا تو اس کا اخراج کردیا جائے گا۔ اب ذرا سوچئے کہ تعلیم کا سیل رواں اس طرح کی ہدایات سے رکے گا یا مزید فروغ پائے گا؟ جب تک ہم متنوع افکار ونظریات کو نہیں سمجھیں گے تو ہم نہ ان کا کوئی جواب دے سکتے ہیں اور نہ ہی عصری تحدیات کا مقابلہ کرنے کی استطاعت میں ہوں گے۔ یاد رکھئے اگر انسانیت کی خدمت اور اس کو صالح افکار و نظریات سے وابستہ کرنا ہے تو لازمی طور پر ہمیں اپنے اداروں میں تحقیق و تفتیش کے ساتھ ساتھ روادارانہ مزاج وروح پیدا کرنے کی بنیادی ضرورت ہے۔ جب ہم مثبت طور پر چیزوں کا تجزیہ کریں اور ہمارے طلباء تحقیقی شعور لے کر میدان عمل جائیں گے تو وہ معاشرے میں رائج بہت ساری خرافات اور مسلکی تصادم کو نابود کرنے کی صلاحیت سے ہم کنار ہو سکیں گے۔ بناء بریں جو بات کہی جاسکتی ہے وہ یہ کہ آ ج مسلم معاشرے میں مسلکی نزاع پایا جاتا ہے اس کے لیے۔ خود ہم ذمہ دار ہیں کیوں کہ ہم نے آ ج تک اپنی تمام تر صلاحیتوں اور تصنیفی خدمات کو صرف دوسرے نظریہ یا مسلک کو باطل کرنے میں صرف کیا ہے۔ اگر چہ دوسرے مسلک کی کوئی بات درست بھی ہوتی ہے تو بھی محض اس بناء پر اسے رد کردیا جاتاہے کہ یہ فکر ہمارے مسلک و مشرب کے متصادم یا مخالف ہے۔ جب کہ تحقیق و تفتیش کا تقاضا یہ ہے ہر سچ اور حق بات کو قبول کرنے کی عادت ہونی چاہیے ۔ خواہ وہ کسی بھی فکر اور مسلک و مشرب سے وابستہ ہو۔ یہی وہ سوچ ہے جو سماج میں تنگ نظری اور فکری سطحیت کو کالعدم کرنے کا کام کرتی ہے اسی وجہ سے ہمارا فکری اختلاف، نزاع و تصادم کی شکل اختیار کرلیتا ہے اور پھر معاشرہ کے افراد بری طرح متاثر ہوجاتے ہیں۔
اسی کے ساتھ تحقیق و تفتیش کرتے وقت اس بات کا بھی خیال رہے کہ ہماری کوئی تصنیف و تالیف یا تحقیق و جستجو جانبداری یا عقیدت مندی کا شکار نہ ہونے پائے، بلکہ تصنیف وتالیف کے شعبہ کو تحقیق کے اسلوب وآداب کی پوری رعایت کے ساتھ آ راستہ کیا جائے اگر کوئی بات ہمیں ناگوار یا اپنی سوچ کے خلاف بھی ملے تب بھی اسے اسی رواداری اور منطقی انداز میں پیش کیا جایے جس طرح ہم اپنی فکر اور نظریہ کو پیش کرتے ہیں ۔ مناظرانہ اسلوب یا مجادلانہ انداز اختیار کرنا اپنی بات پر اڑے رہنا ،بلا دلیل اڑیل رویہ اپنانے سے جو نتیجہ یا چیز مرتب ہوتی ہے اس کے نتائج ہمیشہ مایوس کن اور متنفرانہ ہوتے ہیں۔ بات تصنیف و تالیف کی ہی بلکہ حقیقت یہ ہے جانبدار رویہ زندگی کے ہر شعبہ میں مایوسی اور بیزاری پیدا کرتاہے اگر ہم اپنی تحقیقی کاوشوں اور علمی و ادبی مضامین میں کسی ایک فکر یا جمود و تعطل کے شکار ہوتے ہیں تو پھر تعلیم و تربیت اور علمی مقام و منزلت کا مقصد پورے طور پر مفقود ہوجاتا ہے۔ چنانچہ اعلیٰ تحقیق اور متوازن نظریہ کا امتیاز یہ ہوتا ہے کہ اس سے سماج میں مثبت فکر اور انقلابی روح موجزن ہوتی ہے، جو نوع انسانی کی ہر موڑ پر مکمل و مدلل رہنمائی کرتی ہے۔ ہاں جو فکر یا تحقیق کسی بھی نوعیت کی معاشرے میں بد مزاجی یا تندی پیدا کرے تو پھر وہ وقت کے ساتھ ساتھ معدوم ہو جاتی ہے اور ایسے محقق و مدقق کی قدر و منزلت عوام وخواص کی نظروں میں بالکل زائل ہوجاتی ہے۔

آ ج ہر طرف مسلک و مشرب اور شخصیت پرستی کا دور ہے۔ ہر ایک نے اپنی اپنی عقیدت و محبت کے الگ الگ بت تراش لیے ہیں اور ان کے اشاروں پر رقص کرنے کو سعادت سمجھا جاتا ہے۔ جس سےمسلسل سماج میں پرخاش اور تعصب ونفرت پیدا ہوتی ہے۔ اس ماحول اور پر مسموم فضا پر کنٹرول کرنا ہے تو ضروری ہے کہ ہمارے مدارسِ دینیہ اور تعلیمی و تربیتی ادارے تحقیق و تفتیش اور تصنیف و تالیف کا ذوق پیدا کریں ۔ اسی کے ساتھ ہمیں اختلاف کے اسلوب وآداب اور تہذیب و شائستگی سے بھی پوری طرح واقفیت پیدا کرنی ہوگی۔ جب ہمارے اندر تصنیفی وتحقیقی تہذیب آ جائے گی تو یقیناً معاشرے سے شخصیت پرستی اور نسلی گروہ بندی و مسلکی عصبیت کا خاتمہ ہوجائے گا اور پھر ہم ایک ہم آ ہنگ اور فلاحی معاشرے کی تشکیل کرنے میں کامیاب ہوسکیں گے۔

Previous articleچین نے افغانستان کوانسانی بنیادوں پرامدادی سامان فراہم کیا
Next article” عکس مطالعہ ” میرے مطالعہ کی روشنی میں از: قمر اعظم صدیقی

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here