“تجھ کو جانا ہے بہت اونچا حد پرواز سے” از : کامران غنی صبا

0
104

“سر! ایک خوش خبری ہے. میں ٹیچر بن گئی” . فون پر ثانیہ کا لہجہ بتا رہا تھا کہ وہ کتنی خوش ہے. ہر چند کہ ثانیہ نے ایک پرائیویٹ اسکول جوائن کیا ہے لیکن اس کی یہ کامیابی نہ صرف اس کے لیے بلکہ میرے لیے بھی بہت بڑی کامیابی ہے.

بات 2013 کی ہے جب میں اردو مڈل اسکول چک نصیر میں تدریسی فرائض انجام دے رہا تھا. چھٹی جماعت کی ایک نئی طالبہ کو جب میں نے اردو کی کلاس میں نصابی کتاب کی عبارت پڑھنے کے لیے کھڑا کیا تو وہ سسکیاں لے کر رونے لگی. وہ اس طرح رو رہی تھی گویا میں نے اسے پڑھنے کے لیے کہہ کر کوئی غلطی کر دی ہو. بمشکل تمام میں اسے سمجھانے میں کامیاب ہو پایا. میں نے اسے سمجھایا کہ اگر تمہیں پڑھنا نہیں آتا تو اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں ہے، تمہیں پڑھانے والے ٹیچر نہیں ملے، پڑھنے کا ماحول نہیں مل سکا لیکن اگر تم پڑھنا چاہتی ہو تو تمہیں پڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا، تمہیں بھی دوسرے بچوں کی طرح پڑھنا آئے گا بلکہ ان شاء اللہ ان سے بھی زیادہ بہتر کرو گی تم، ایسا مجھے یقین ہے. پھر میں نے اسے چھوٹی چھوٹی مشق دینی شروع کی. کلاس کی دو ذہین بچیوں کو اس کے ساتھ لگایا. اس کے معمولی کاموں پر بھی دل کھول کر حوصلہ افزائی کی. ثانیہ خود بھی ذہین تھی بہت تیزی سے وہ آگے کی طرف بڑھتی رہی. سالانہ امتحان ہوا تو اسے کلاس میں تیسری پوزیشن حاصل ہوئی. اس بیچ اردو میں اس کی دلچسپی اچھی خاصی بڑھ چکی تھی. اب وہ نصابی کتاب کے علاوہ اردو اخبارات و رسائل بھی پڑھنے لگی تھی. ساتویں اور آٹھویں جماعت میں بھی ثانیہ کا ریزلٹ اچھا رہا. اردو میں اس کی دلچسپی دن بہ دن بڑھتی ہی گئی.

آج جب مجھے یہ معلوم ہوا کہ ثانیہ نے بطور معلمہ اسکول جوائن کیا ہے تو مجھے ایسا لگا گویا مجھے کوئی بڑا انعام ملا ہو. ایک استاد کے لیے شاید اس سے بڑا انعام کچھ اور ہو ہی نہیں سکتا ہے….. یقیناً ثانیہ کی یہ منزل نہیں ہے. اسے بہت آگے تک جانا ہے لیکن اس کی کامیابی میں اساتذہ اور طلبہ دونوں کے لیے پیغام ہے. اللہ ثانیہ کو بے شمار کامیابیاں عطا فرمائے.
…………….

Previous articleموجودہ حالات کے چیلنجز اور علماء کی ذمے داریاں از : ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی
Next article’صادقہ نواب سحر کے افسانوں پر ایک طائرانہ نظر‘‘ از: ڈاکٹر فاطمہ خاتون

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here