“کیوں نہیں” پرویز انیس- تبصرہ نگار: نثارانجم

0
93

کیوں نہیں
پرویز انیس

مکالماتی مائیکروف

” ہیلو!!!! گڈ مارننگ”

“گڈ مارننگ سویٹ ہارٹ۔”

“چلو اٹھ جاؤ آفس کا وقت ہوگیا۔”

“بس ابھی اٹھتا ہوں پانچ منٹ اور سونے دو پلیز ۔”

“کل کی طرح آج بھی باس سے ڈانٹ کھانی ہے کیا؟؟؟؟
پھر بولو گے سارا دن خراب ہوگیا۔”

” اٹھ رہا ہوں بابا ۔۔۔ اچھا پہلے ایک بات بتاؤ؟؟؟۔۔۔ کب تک مجھے اس طرح جگاؤ گی۔۔۔۔ کیا کبھی ایسی صبح آئے گی کہ میں آنکھیں کھولوں اور تم بالوں میں انگلیاں پھیرتی ہوئی میرے پہلو میں ہو”

” آج صبح صبح ہی شروع ہوگئے۔۔۔ جب کہ تم جانتے ہو ایسا ممکن نہیں۔”

“کیوں نہیں”

“اس ‘ کیوں نہیں’ کا جواب پھر کسی دن ڈھونڈ لیں گے۔۔۔۔ اب اٹھو: تمھیں آج آفس میں بہت کام ہے۔۔۔ میں نے سارے کام ‘ٹو ڈو لسٹ’ میں ڈال دیئے ہیں۔”

” بھاڑ میں جائے یہ لسٹ وسٹ۔۔۔ مجھے بس آج اس ‘کیوں نہیں’ کا جواب چایئے ؟”

“‘اس کیوں نہیں’ کا جواب تم مجھ سے بہتر جانتے ہو!!! تو یوں جذباتی نہ بنو۔۔ بچوں کی طرح ضد کرنا چھوڑو اور آفس کی تیاری کرو”

“محبت ایک پاکیزہ جذبہ ہی تو ہے”

“لیکن جذبوں کے اظہار کے لیے ایک پاکیزہ روح کے ساتھ ساتھ ………”

“میں نہیں مانتا۔۔۔۔ اور پلیز!!! پھر سے وہی راگ مت چھیڑو۔”

“تمھارے نہیں ماننے سے حقیقت نہیں بدلنے والی۔”

“محبت ناممکن کو ممکن بنا دیتی ہے۔۔۔۔ محبت صحرا میں پھول کھلا سکتی ہے۔۔۔۔ محبت پہاڑ کا سینہ چیر کر دودھ کی نہر بہا سکتی ہے۔ محبت سے بڑھ کر کوئی جذبات نہیں ۔”

“محبت بہت کچھ کر سکتی ہے لیکن سب کچھ نہیں۔۔۔جس جذبات کی تم بات کر رہے ہو۔۔۔ اب اسی جذبات کی قیمت چکانے کا وقت آگیا ہے۔”

“کیا مطلب!!!! صاف صاف کہو پہیلیاں مت بجھاؤ؟؟؟”

“ہمارے انجینئرس اس خرابی کو دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور بہت جلد وہ اس میں کامیابی حاصل کر لیں گے۔”

“میں سمجھا نہیں!!!؟؟؟”

“میری جان۔۔۔۔ سافٹ ویئر کے نہ انسانوں کی طرح جسم ہوتے ہیں اور نہ ہی جذبات۔”
____________________________________
کیوں نہیں
پرویز انیس
تبصرہ و تجزیہ
نثارانجم
“کیوں نہیں” جسم کے بادشاہ دل کی مشینی زندگی سے پسپا ئی کا نوحہ ہے۔ انسانی جذبات کی تیزی سے فارمیٹینگ ہوتی سسٹم سافٹ وئر ہے۔۔زندگی کے قالب میں اس کے ڈیفالٹ سسٹم میں نۓ پروگرامنگ لینگویز کے انسٹال ہونے کے دورانیۓ سے بلبلاتی زندگی ہے۔دل کی سر زمین سے محبت حسن جمالیاتی اور انسانی صالح قدروں کے شجر حیات کے اکھڑنے کا دکھڑا ہے ۔دل کی نگری سے ان پرانے حیات زیست کے ایپس unistall کرنے کے وہ Eula Agreement ہیں۔
“جن جذبات کی تم بات کر رہے ہو۔۔۔ اب ان ہی جذبات کی قیمت چکانے کا وقت آگیا ہے۔”
جو انسانی زندگی اور اس کے محور نظام پر گردش کرتی اس بائی ڈیفا لٹ وأئرنگ سسٹم کو تیزی de linking کررہا ہے۔دل کی نگری میں پہ در پہ ٹراجن ہارس حملے کر رہے ہیں۔ ایسے میں دل کےٹھاٹھیں مارتے ہوۓ جذبات پر اہستہ اہستہ جمود طاری ہورہا ہے۔ أنے والے کل کا pop up ہماری نئ زندگی کے اسکرین پر اپنی کشش کے ساتھ حاضر ہے۔
“ہمارے انجینئرس اس خرابی کو دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور بہت جلد وہ اس میں کامیابی حاصل کر لیں گے۔”
حقیقی گوشت پوست کی زندگی کے دل کے اندر دھڑکتے والے نظام جذبات پر ایک virtual حملے سے جو جھتی زندگی ہے ، تیزی سے بدلتی ہوئی حقیقی زندگی کا وہ نیأ مشینی وجود ہے۔
انسانی احساسات سے خالی ہوتی زندگی اور رخصت ہوتے ان احساسات کو ان کی چاپ کو سننے کی کوشش
پرویز انیس کے اس مائکرو فکشن مین ملتی ہے۔
صحرا زیست میں دو بوند محبت کی یہ تلاش ہے جو کرداروں کے مکالموں میں تشنہ لبی کے ساتھ بیان ہوا ہے۔
“لیکن جذبوں کے اظہار کے لیے ایک پاکیزہ روح کے ساتھ ساتھ ………”
ہر جاندار کا دل پوری زندگی میں تقریباً ایک ارب دفعہ دھڑکتا ہے اس دھڑک میں وہ سارے انسانی خصائص ہیں جو رونے ہسنے روٹھنے منانے پیار کرنے شفقت لٹانے ڈھارس دینے محبت کرنے حسن سے محظوظ ہونے کے عوامل کے ساتھ خود کو اہنگ کرنے کے ہنر سے مالا مال ہوتے ہیں۔
جبکہ ایک جدید مائیکرو پروسیسر Microprocessor جو نئ زندگی میں Transplant ہوکر أرہا ہے وہ ہر سیکنڈ میں دس ارب تک کے calculation کر لیتا ہے۔
کیا یہاں ان احساسات کو ڈی کوڈ کرنے کا کوئی نظام ہے۔
“ہم جذباتی طور پر ابھی مشین بننے کے لیے تیار نہیں ہیں”
تیزی سے artificial intelligance مشینی اداب سیکھنے والے انسانی دماغ میں تقریباً 100 کھرب نیوران کنکشنز neuron connection ہیں ۔کیا نئ مشینی تہذیب میں ان تمام انسانی احساسات کے نیورون اسٹیشنوں سے رابطے کے تار منقطع کر دۓ جائیں گے۔
محبت کی وہ technical glitch گوشت پوشت کے کرداروں میں باقی ہے۔بالوں میں ہاتھ پھیرنے کا سرور حاصل کرنے کی وہ جبلی للک ایک spark کی صورت میں باقی ہے۔
“کیا کبھی ایسی صبح آئے گی کہ میں آنکھیں کھولوں اور تم بالوں میں انگلیاں پھیرتی ہوئی میرے پہلو میں ہو”
۔

Artificial intelligence
کسی ارجن کی طرح شعور کی انکھ پر نشانہ باندھے کھڑاہے .to do اور priority list سے الگ ایک ہرٹ فیلٹ دل کا to do list مشرقی تہذیب کے انگن میں اونگھ رہا ہے۔کیا نئ عقلی صدی کے to do list میں دل کی طلب اور راحت رسانی کے لۓ نۓ مشینی انسان کے پاس اس کا کوئی prime time ہے۔۔۔۔۔یہی کچھ سوالات فکشن کے بین اسطور میں فکر کو instigate کرتا ہے

یہ خوف دل کی نگری پر منڈلا رہا ہے کہ ہماری زندگی نۓ دماغ اور سافٹ وئر کے ساتھ جب ایک مصنوعی مشین میں convert ہو جائے گا تو اس نظام خودی اور اس شعوری نظام کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ کیا ہم انسان کہلاۓ گے ۔
ان جذبوں کا کیا ہوگا جو ہمارے احساسات کے ساتھ نتھی ہیں۔
“میری جان۔۔۔۔ سافٹ ویئر کے نہ انسانوں کی طرح جسم ہوتے ہیں اور نہ ہی جذبات!”
ایک بہترین سا ئنسی مایکرو فکشن کی تخلیق کے لۓ مبارک باد۔(یہ بھی پڑھیں!شاہ تاج خان کنڈر گارٹین سے پکنک تک سأئنسی ادب اطفال کا ایک درخشاں ستارہ از: نثار انجم)

Previous articleآٹھویں امیرشریعت کے انتخاب کے لئے وضع کردہ طریقہ غیرشرعی ہے!
Next articleپروفیسر خالد جاوید جامعہ ملیہ اسلامیہ کے برانڈ ایمبیسڈر ہیں: پروفیسر محمد اسد الدین شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے زیرِ اہتمام پروفیسر خالد جاوید کے ناول ’ایک خنجر پانی میں‘ پر مذاکرے کا انعقاد

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here