دل دھڑکتا ہے(شعری مجموعہ) از ڈاکٹر افروز عالم

0
102

کتاب کا نام ۔ دل دھڑکتا ہے(شعری مجموعہ) سن اشاعت ۔ ۲۰۲۰ ء قیمت ۔ ۳۰۰ روپئے
شاعر ۔ سبھاش پاٹھک ضیاء مبصر ۔ ڈاکٹر افروز عالمؔ صفحات ۔ ۱۱۲
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عوامی مشاعروں کی شہرت اور دیوناگری رسم الخط میں شائع ہونے والے رسائل اور ڈائجسٹوں کی مقبولیت کا ایک حاصل یہ بھی ہوا ہے کہ ہندی زبان و ادب کے دیوانوں کو اردو شاعری کی شیرینی اور غزل کے گداز پہلو کو سمجھنے اور برتنے میں آسانی ہونے لگی، اس طرح زبان و ادب کی تشہیر تو ہوئی لیکن رسم الخط کی تعلیم و تربیت کے فقدان سے تلفظ کا قتل ہونے لگا، نیز غزل کی قوائد کا نستعلیق رسم الخط کے ساتھ مربوط ہونے سے غزل کی تخلیق میں خامیوں کا چلن بڑھنے لگا۔ دیوناگری زبان میں اردو شاعری کرنے والے دوستوں کو جب یہ پتہ چلا کہ اردو شاعری اور ادب کا اصل لطف لینے اور تخلیق میں انصاف کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ نستعلیق زبان کی تعلیم حاصل کریں۔ تاخیر سے ہی سہی بہت حد تک یہ بات آج کے نوجوانوں کو سمجھ میں آگئی ہے۔ میں ایسے نوجوانوں کو بہت پسند کرتا ہوں جو نستعلیق زبان کو لکھنا پڑھنا جانتے ہیں اور اردو شاعری بھی کرتے ہیں ۔ ایسے ہی ایک جواں سال شاعر ہیں سبھاش پاٹھک ضیاء ، جن کا شعری مجموعہ ‘دل دھڑکتا ہے’ شائع ہو کر احباب سے داد حاصل کر رہا ہے۔
محترم جناب کمل کشور پاٹھک کے صاحب زادے ، شاعر سبھاش پاٹھک ضیاء کی پیدائش ۱۵ ستمبر ۱۹۹۰ ء؁ کو مدھ پردیس کے ضلع شیوپوری کے قدر اندرون علاقہ موضع اور پوسٹ سموہا تحصیل کریراسے ہے۔ آپ پاس کے ہی ایک اسکول میں درس و تدریس سے وابسطہ ہیں۔ بایولوجی سے گریجویٹ اور ہندی زبان و ادب سے ماسٹر ڈگری رکھنے والے نفیس مزاج کے مالک سبھاش پاٹھک ضیاء نے اپنی شاعرانہ ضرورت کے تحت اردو لکھنا پڑھنا بھی سیکھا ہے۔ مدھ پردیس اردو اکادمی کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے مشا عر ے میں تو آپ کی شرکت ہوتی ہی ہے ساتھ ہی قرب و جوار میں منعقد ہونے والے عوامی مشاعروں میں بھی آپ کی شرکت رہتی ہے ، ساتھ ہی آپ کی تخلیقات مختلف رسائل میں بھی شائع ہوتی رہتی ہیں۔ اس ضمن میں وسط ہند کی کئی ادبی انجمنوں سے آپ کو سند اور انعامات بھی حاصل ہوا ہے ۔ یہ سارے امتیازی پہلو آپ کی قابلیت کا اقبال ہے۔ ساتھ ہی آپ شاعری کی کئی ایک کتاب کے ترتیب و تالیف میں بھی شامل رہے ہیں ۔ اللہ سے دعا ہے کہ ان کا یہ جذبہ سلامت رہے۔
۱۱۲ صفحات پرمشتمل شعری مجموعہ ‘دل دھڑکتا ہے’ میں ۸۷ غزلیں شامل کی گئی ہیں جب کہ آخر دو صفحہ پر چند متفرق اشعار بھی شامل اشاعت ہیں۔ پیش لٖفظ تحریر کرنے کی رسم محترم ڈاکٹر حسام الدین فاروقی صاحب نے ادا کی ہے ، جب کہ اظہار خیال کے عنوان سے شاعر نے اپنے جذبات کو درج کیا ہے۔ جس میں آپ نے ان احباب کا شکریہ ادا کیا ہے جن سے شاعری کے سفر میں حوصلہ اور سبق ملتا رہا ہے، ساتھ ہی غزل کی آفادیت اور اس طرف مائل ہونے کی وجہ اور غزل کے فن پر اپنی گفتگو سے اپنی علمیت کا ثبوت دیا ہے۔ اس کے بعد محترم ڈاکٹر اشوک مزاج، محترم ڈاکٹر مہندر اگروال ، محترم رفیق عشرت گوالیاری اور محترم یوسف جمال نے اپنے اپنے مختصر مضمون میں شاعر کی شاعری پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ مبارک باد کے طور پر، داخلی فلیپ پر محترمہ ڈاکٹر نصرت مہدی صاحبہ اور محترم شارق کیفی کے مختصر خیالات کو جگہ دی گئی ہے۔ اس طرح بڑے ہی اہتمام کے ساتھ اس کتاب کو منظر عام پر لایا گیا ہے، کیا ہی بہتر ہوتا کہ اسے کسی پیشے ور اشاعتی ادارے سے شائع کرنے کا اہتمام کیا گیا ہوتا، اور وہ صاحبان جو آنکھ بند کر کے نوجوا نوں کی حوصلہ افزائی فرمارہے ہیں، کاش وہ بھی یہ سمجھانے کی کوشش کرتے کہ صرف الفاظ کے ملبے

سے بحر کی شکم پرسی شاعری نہیں ہے۔ سبھاش پاٹھک ضیا ء کو اپنی اڑان میں وقت کے سرد و گرم فضائوں کا بھی مقابلہ کرنا ہے۔ اس کے لئے انہیں تیار کرنا بھی بزرگوں کی ہی ذمہ داری ہے۔ خیر، اب کتاب شائع ہو چکی ہے اس لئے اب ہم شاعری کی طرف چلتے ہیں، جو کہ اصل چیزہے۔
سب سے پہلے تو ہندی ادب اور سائنس کے طالب علم رہے جواں سال شاعر سبھاش پاٹھک ضیاء کواردو شاعری میں مصروفیت کے لئے مبارک باد پیش کرنا چاہئے ، سو میری طرف سے اس کے لئے بہت بہت مبارک باد ۔ اس کے ساتھ ہی کتاب سے چند اشعار پیش خدمت ہے۔
جل گیا ہے کسی کا گھر شاید
گائوں سارا بجھا بجھا سا ہے

جھوٹ تو کر کے دکھاوا بن گیا سچا وہاں
سچ مگر کونے میں بیٹھا آنکھ نم کرتا رہا

شکوہ کیا پتھر سے کرنا ہے مجھے
میں تو شیشہ تھا بکھرنا تھا مجھے

دل پہ کیا کیا ستم نہیں گزرے
شکر کیجے کہ ہم نہیں گزرے

لاکھ لہجے کو نرم رکھوں میں
جس کو ہونا ہے وہ خفا ہوگا

کتنی لذت ہے زخم دل میں ضیاء
زندگی کو نہ نے مزا کہئے

دھوپ ڈھل جاتی ہے گھٹائوں میں
یہ اثر ہوتا ہے دعائوں میں

مذکورہ بالا خوبصورت اشعار سبھاش پاٹھک ضیاء کی شاعری کے مخزن سے ہی انتخاب کئے گئے ہیں۔ شاعرنے اپنے دم بھر اپنی شاعری کے فلک کو جھلملانے کی کوشش کی ہے ۔ سبھاش پاٹھک ضیاء کی شاعری کے سمندر میں لہروں کی جو ہلکی دھاریاں نظر آرہی ہیں،وہ یقینا ایک روز طوفان کا رخ اختیار کریگی۔قدیم خیالات اورالفاظ کی آمیزش سے بھی نئے اشعار کی تخلیق ممکن ہے۔ شاعری میں الفاظ کی بنت اور خیالات کی گہرائی کو ترجیح دی جاتی رہی ہے، جہاں سے شاعر کے ذہنی ارتقا کا اندازہ لگایا جاتا ہے ۔ تخلیق کو تکمیل تک پہنچ نے کے لئے صبر کی ضرورت ہوتی ہے، کیوں کہ فکر کی دھیمی آنچ پر فن کو فروغ ملتاہے ۔فیض صاحب کی مشہور زمانہ غزل ‘گلوں میں رنگ بھرے باد نو بہار چلے’ جب وجود میں آئی تو ہر طرف یہی گفتگو تھی کہ قریب قریب متروک الفاظ سے ایک خوبصورت شاہکار غزل تخلیق ہوئی ہے۔ سبھاش پاٹھک ضیاء ابھی جواں سال نوجوان ہیں اور یہ آپ کی پہلی کتاب ہے اس لئے مشورہ ہے کہ دوسری کتاب تک پہنچنے سے پہلے مشاعروں کے ماحول سے ذرا دور رہیں۔ اگر ترقی پسند شعرا کا بھی مطالعہ جاری کر دیںتو مجھے امید ہے کہ آپ کی دوسری کتاب اپنے سنجیدہ قارئین سے اپنے حصے کا داد حاصل کرنے میں کامیاب ہوگی۔ مجھے امید ہے کہ عزیزم سبھاش پاٹھک ضیاء میری باتوں کو مثبت محسوس کرتے ہوئے، آئندہ کے سفر پر گامزن رہیں گے۔ کیوں کہ ان کی تعلیم اور جذبے کو دیکھتے ہوئے مجھے ان سے اچھی اور بہتر شاعری کی امید ہے۔ اللہ کرے مرحلے شوق کے پورے نہ ہو کبھی

مبصر:۔ ڈاکٹرافروز عالم، صدر ۔ گلف اردو کونسل ( مئی ۔۲۰۲۱ء؁)

ؑ

Previous articleنظم ”اے ارضِ فلسطین” ایک تجزیاتی مطالعہ از عبدالوہاب قاسمی
Next articleغلطیہاے مضامین: ایک تبصرے پر تبصرہ از ظفرکمالی

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here