“قرض جاں” میں ہیں کئی اور جہاں از: حقانی القاسمی، دہلی۔

0
146

جن موسموں، منظروں، ماہ و مہتاب آب و آفتاب سے آنکھوں کا پہلا رشتہ قائم ہوتا ہے وہ چیزیں لوحِ ذہن پر ہمیشہ محفوظ رہتی ہیں۔ ماضی کی مشعل جلتی رہتی ہے اور مراجعت کا عمل بھی جاری رہتا ہے۔ مہاجرت میں اس مراجعت میں اور شدت آجاتی ہے۔ عدیل زیدی کی شاعری میں یہ شدت اس طرح کی شعری کیفیت اختیار کرلیتی ہے:
چلو کہ ہم بھی اسی سرزمیں کے ہوجائیں
ہماری مٹی میں شامل جہاں کا موسم ہے

جس میں صدیوں کی دفن ہے تاریخ
اسی ہندوستاں کے ہم بھی ہیں
اپنی مٹی اور ماں کے تعلق سے شاعری اسی ناسٹلجیا کا مظہر ہے :
میں اس سے قیمتی شے کوئی کھو نہیں سکتا
عدیلؔ ماں کی جگہ کوئی ہو نہیں سکتا
اور اسی احساس سے جڑا ہوا دربدری اور بے گھری کا درد بھی ہے ، جو گھر اور مکان کے تضاد و تفریق کے ساتھ ان کی شاعری کا حصہ بنا ہے:
اپنی قسمت کہاں ہے پرکھوں سی
گھر نہیں یہ مکان ہے صاحب

ہائے وہ لوگ بھی کیا لوگ تھے جو گھر میں رہے
میں تو گھر ہو تےبھی گھر ڈھونڈنے گھر سے نکلا
گھر عطا کر مکاں سے کیا حاصل
صرف وہم و گماں سے کیا حاصل

گھر کہاں گھر رہا تنہائی ہے دیواریں ہیں
ہم نہ جی پائیں گے ایسے نئے انداز کے ساتھ
عدیل زیدی کی شاعری میں مٹی کی محبت بھی ہے، ہجرت کی وحشت بھی۔ روح اور جسم کی کشمکش ہے اور ذات کی جستجو بھی ۔ زوال تہذیب کا نوحہ بھی ہے ، اقدار کی شکستگی کا مرثیہ بھی ۔ حیات و کائنات کا پورا شعور ہے، جو اپنے تضادات اور تناقضات کے ساتھ ان کی شاعری میں منعکس ہے ۔(یہ بھی پڑھیں!نصرت کی فرقت مدتوں رُلائے گی۔۔ از:حقانی القاسمی)
عدیل زیدی کے تجربات اور مشاہدات کا منطقہ بہت وسیع ہے اور ان کی آفاقی بصیرت اور مطالعۂ کائنات کا رقبہ بھی وسیع ہے۔ مشرق و مغرب کے تہذیبی معاشرتی ، لسانی تنوعات اور تضادات سے بھی ان کی پوری آگہی ہے۔ اسی لیے عدیل زیدی کے یہاں کئی سطحوں پر فکری تنوع اور تجرباتی تازگی کا بھی احساس ہوتا ہے۔ ساری دنیا کے شب و روز ،واقعات و واردات سے ان کی شاعری کا رشتہ ہےاو ران کے جگر میں سارے جہاں کا درد بھی ہے۔ سانحۂ نیوزی لینڈاور البانیہ جیسی نظمیں اس کا ثبوت ہیں۔
عدیل زیدی کے یہاں خیال کی ندرت اور اظہار کی جدت بھی ہے ۔ کلاسکیت سے رشتہ جوڑتے ہوئے جدیدیت سے بھی اپنی فکر و فرہنگ کو ہم آہنگ کیا ہے:
تھے آسماں پہ تو کتناسکوں زمیں پر تھا
ہمارے ساتھ یہ اتریں قیامتیں کیسی

ہے میرا واسطہ ایسے قبیل سے کہ جہاں
چراغ بجھ گئے پر دل میں تیرگی نہ رہی
عدیل زیدی کے شعری مجموعہ ’’قرضِ جاں‘‘ میں ’کئی جہاں‘ ہیں۔ جہانِ خواب بھی اور جہانِ خراب بھی۔ اس کے علاوہ کئی جہاں اور بھی ہیں، جن کی جستجو ناقدین اور قارئین کی ذمہ داری ہے۔(یہ بھی پڑھیں!رینو کے شہر میں: تخلیقی بیانیہ کی تمثال از: محمد جابر زماں)

Previous articleعلامہ اقبال اور حب الوطنی از: ڈاکٹر احمد علی جوہر
Next articleامیر شریعت رابع: ابوالفضل حضرت مولانا سید شاہ منت اللہ رحمانی رح از: مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here