“اثبات”کا خصوصی شمارہ”عالمی نثری ادب”:ایک تعارف۔۔از: اشعرنجمی

0
138

الحمد اللہ! گزشتہ تقریباً ڈیڑھ سال سے اپنے سینے پر رکھا ہوا دوسرا بوجھ آج اتارنے میں کامیاب ہوگیا۔ ‘اثبات’ کا زیر نظر خصوصی شمارہ ایک عرصے سے تعطل کا شکار تھا۔ اسے جنوری 2020میں شائع ہوجانا تھا۔ اس کی پیشگی بکنگ بھی ہوچکی تھی لیکن پھر اچانک کورونا اور لاک ڈاؤن نامی دو عفریت نے پوری دنیا کو بے حس و حرکت کردیا۔ جو چیز جہاں تھی، وہیں ٹھہر گئی۔ معاشی بدحالی کا ایک دور شروع ہوا جو اب تک جاری ہے۔ میں خود کورونا کا شکار ہوا اور تقریباً اکیس روز اسپتال میں رہا۔ اس درمیان سب کچھ بہہ گیا، پیشگی بکنگ بھی۔ دھیرے دھیرے معمولات زندگی لنگڑاتے ہوئے رینگنے شروع ہوئے۔ میں نے بھی خود کو سنبھالنے کے لیے Print On Demandکی بنیاد پر کتابیں چھاپنی شروع کردیں جس میں ظاہر ہے سارا investmentsمیرے پرنٹر کا ہی ہوتا ہے، میرے ذمے کتابوں کا انتخاب، اس کا مکمل مسودہ ، مارکیٹنگ اور خریدار سے رابطہ ہوتا ہے۔ اس طرح گاڑی آگے کھسکنے لگی۔ اسی درمیان ‘مشاعرہ نمبر’ نکال دیا، اگرچہ اس کی پیشگی بکنگ بھی ہوچکی تھی لیکن یہ میرے پرنٹر کا احسان تھا کہ اس نے اسے اپنے خرچ پر نکال دیا، اس کے بدلے مجھے یہ کرنا پڑا کہ اس کی جتنی کاپیاں پیشگی بکنگ خریداروں کو پرنٹر نےبھیجی تھی، اتنے ہی نئے خریدار اسے دے دیے۔ زیر نظر شمارہ ‘عالمی نثری ادب’ اسی معاہدے کے تحت شائع ہوا ہے کہ پرنٹر جن پیشگی بکنگ کرانے والے خریداروں کو بھیجے گا، مجھے اتنے ہی نئے خریداروں اسے دینے ہوں گے۔ میں ان تمام پیشگی بکنگ کرنے والوں کے صبر کو سلام کرتا ہوں اور ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ ان میں سے بیشتر نے کبھی حرف شکایت زبان پر نہیں لایا بلکہ مجھ پر بھروسہ رکھا ۔ شکر ہے کہ میں آج ان کایقین قائم رکھنے میں کامیاب ہوا۔ ان کے دیے گئے پتوں پر یہ تینوں جلدیں پہنچ جائیں گی۔ لیکن ان سے ایک درخواست ضرور کروں گا کہ اسے اپنے احباب تک پہنچائیں ، انھیں یہ سیٹ خریدنے کی طرف راغب کریں تاکہ میں پرنٹر کے آگے شرمندہ نہ ہوؤں اور مستقبل میں اسی طرح عالمی ادب عالیہ کے تراجم آپ تک پہنچاتا رہوں۔ زیر نظر انتخاب پاکستان میں ‘بک کارنر’ جہلم نے تین ماہ پہلے ہی شائع کردیا تھا اور اس پر کئی حوصلہ بخش تبصرے بھی آ چکے ہیں۔((یہ بھی پڑھیں!اس نے کہا تھا”نئی صدی کا ایک اہم ناول.از:مقصود دانش)

زیر نظر انتخاب آزمائشی اس لیے تھا چونکہ دوسری زبانوں سے اردو میں ترجمہ ہونے والے نثر پاروں کی فہرست کافی طویل ہے جس کی ببلیوگرافی تو بنائی جا سکتی ہے لیکن انھیں ایک جگہ اکٹھا کرنا ایک مشکل کام ہے۔ چنانچہ اس میں نئے ، پرانے اور بہت پرانے ترجمے بھی شامل اشاعت ہیں۔ لیکن مطبوعہ تراجم کا لازمی مطلب ہمیشہ یہ نہیں ہوتا کہ وہ تمام کے تمام ہر قاری کی نظر سے گزرے بھی ہوں، چونکہ ہندوستان میں چھپنے والے بیشتر تراجم کی رسائی پاکستانی قارئین تک نہیں ہو پاتی اور اسی طرح پاکستان میں شائع ہونے والے تمام تراجم ہندوستانی قارئین تک نہیں پہنچ پاتے۔ پھر یہ بھی ضروری نہیں کہ اپنے ہی ملک میں شائع شدہ تمام تراجم بھی ہمارے زیر مطالعہ رہے ہوں۔اگرچہ اس انتخاب میں سب سے بڑا حصہ فکشن کا ہی ہے، لیکن کچھ اہم علمی اور ادبی مضامین کے ترجمے بھی شامل کیے گئے ہیں۔ اس کے باوجود مجھے یہ دعویٰ ہرگز نہیں ہے کہ بہترین عالمی نثری ادب اس انتخاب کا حصہ ہے۔ بلاشبہ بہت سے نام چھوٹ گئے ہیں اور بہت سے نثر پارے تنگی ٔ صفحات کی نذر ہوگئے۔ بہرحال میں نے اس انتخاب کو ترتیب دیتے ہوئے ناموں کی بجائے مختلف لسانی خطوں کو ترجیح دی اور کوشش کی ہے کہ زیادہ سے زیادہ علاقوں ، زبانوں اور ان سے وابستہ ثقافتوں کی نمائندگی ممکن ہوسکے۔ اس لحاظ سے اس انتخاب کا جواز فنی سطح پر بھی ہے اور سماجی و ثقافتی سطح پر بھی ہے۔ یوں تو ان ممالک کی صنعتی ترقی اور ان کے معاشرتی رجحانات پر عمرانیات اور دیگر علوم کے ماہرین کے تجزیے اپنی جگہ اہم ہیں لیکن ناول اور افسانے میں انسان کے اندرونی احساسات اور مختلف تناظر میں انسانی ردعمل کی جو صورتیں دکھائی جاتی ہیں، وہ تجریدی اصطلاحات کے مقابلے میں زندگی کی تپش کا زیادہ احساس دلاتی ہیں۔ لہٰذا اس انتخاب میں ہماری کوشش یہ رہی ہے کہ فکشن کے حوالے سے ان ممالک کی معاشرتی زندگی ، ان میں انسانی تعلقات کی نوعیت ، قدیم و جدید کے تصادم و اقدار کی ٹوٹ پھوٹ کی جامع تصویر بھی قارئین کے سامنے رکھ دی جائے۔ (یہ بھی پڑھیں!اردو کے ممتاز نقاد ابوالکلام قاسمی صاحب اب ہمارے درمیان نہیں رہے از:اشعر نجمی)

زیر نظر انتخاب ان لوگوں کو ضرور پڑھنا چاہیے جو اپنی کھال میں مست رہنے کا ہنر جانتے ہیں۔ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ میری نظر میں ترجمہ اور روشن خیالی کا آپس میں مضبوط رشتہ ہے۔ ایک مترجم تنگ نظر نہیں ہوسکتا۔ تنگ نظروں میں دوسری زبانوں اور دوسری ثقافتوں کو جاننے کی دلچسپی نہیں ہوتی، اور یہ عدم دلچسپی اکثر غلط فہمیوں بلکہ تشدد کا سبب بھی بنتی ہیں۔ بلا شبہ ادب ایک مخصوص تاریخ، ایک مخصوص ثقافتی ڈھانچے اور ایک مخصوص کمیونٹی میں رہتے ہوئے لکھا جاتا ہے لیکن اس کی ایک بڑی خاصیت otherness ہے۔ اس طرح مقامی ادب سے مراد قومی ادب نہیں ہے۔ اگر وہ ادب ہے تو وہ چاردیواریاں کھڑی نہیں کرے گا بلکہ اسے توڑے گا۔ تو جو لوگ میری زبان، میرا کلچر، میرا مذہب، میری قوم، میرا وطن، میرا ادب وغیرہ جیسے خول میں سمٹے ہوئے ہیں، ان کے لیے یہ انتخاب کئی دنیاؤں، کئی زبانوں، کئی قوموں، کئی ثقافتوں اور زندگی سے متعلق کئی تصورات کا تعارف ہیں۔ زیر نظر انتخاب 7 براعظم، 85 ممالک، 72 زبانوں کی 142 کہانیاں ہی نہیں بلکہ سینکڑوں ثقافتیں، معتقدات اور رسومات اور اربوں انسان کی نفسیات کے روبرو کراتا ہے۔ اس طرح میں کہہ سکتا ہوں کہ آپ کی بک شیلف میں ان تینوں جلدوں کے توسط سے تقریباً سینکڑوں ثقافتیں اور اربوں انسانوں کو آباد کرنے کی کوشش کی گئی ہے ، اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اپنے تحفظات و تعصبات کے تاریک حجرے میں ہی خوش رہنے کو ترجیح دیتے ہیں یا پھر اُٹھ کر اس کھڑکی کو کھولتے ہیں جس کے باہر تازہ ہوا کا جھونکا آپ کا منتظر ہے۔

Previous articleگوشت خوری مذہب اور قانون فطرت کی روشنی میں ! از:مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
Next articleقربانی نفس امارہ کی بھی دیجئے از:مفتی محمد ثناءالہدیٰ قاسمی

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here