وہاب اشرفی ذکر، فکر اور فن (ایک تنقیدی مطالعہ) ڈاکٹر محمد سراج اللہ تیمی، پٹنہ

0
332

ڈاکٹر سرور حسین اردو زبان و ادب اور شاعری کی دنیا میں محتاج تعارف نہیں۔ وہ دبستان عظیم آباد کے ہم عصر ناقدین اور محققین میں اپنی ایک علیحدہ شناخت رکھتے ہیں ۔ انکے کئی علمی، ادبی ، تحقیقی و تنقیدی مضامین رسائل و جرائد اور اخبارات میں شائع ہوچکے ہیں۔ ان کی کئی تصنیفات بھی ہیں، جن میں ایک ” گہر ادب ” بھی ہے۔ یہ کتاب 2019 میں شائع ہوئی تھی ۔ اردو حلقہ میں اس کی پذیرائی بھی ہوئی تھی ۔ ان کی ایک اور تصنیف ” وہاب اشرفی ذکر، فکر اور فن (ایک تنقیدی مطالعہ) ہے جو 2020 میں زیور طباعت سے آراستہ ہوکر منظر عام پر آئی تھی۔ اس کو بھی قارئین ہاتھوں ہاتھ لے رہے ہیں۔ راقم السطور کو یہ کتاب فاضل مصنف نے بڑے خلوص ومحبت کے ساتھ 11/اپریل 2021 کو عنایت کی تھی، فجزاہ اللہ احسن الجزا ۔

آخر الذکر کتاب” وہاب اشرفی ذکر، فکر اور فن(ایک تنقیدی مطالعہ)” راقم الحروف کے زیر مطالعہ ہے۔ کتاب کا سرورق بہت ہی جاذب نظر و پرکشش ہے۔ مزید برآں یہ کہ اس پر پروفیسر وہاب اشرفی کی تصویر اس کے حسن کو اور بھی دوبالا کرتی ہے اور قاری کو تسکین بہم پہنچاتی ہے۔ سرورق کے معابعد اندرونی فلیپ پر پروفیسر کوثر مظہری، شعبہ اردو،جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کی بہت ہی جامع تحریر ہے جس میں ڈاکٹر سرور حسین کی صلاحیت و قابلیت اور تحقیق و تنقید سے ان کے شغف کا اعتراف کیا گیا ہے اور اس کتاب کو اردو قارئین کے لیے وہاب اشرفی کی تفہیم وتعبیر میں ضروری قرار دیا ہے۔ وہ رقمطراز ہیں :
” جناب سرور صاحب نے یہ کوشش کی ہے کہ وہاب صاحب کی شخصیت اور علمی وقار دونوں کو اپنے سامنے رکھتے ہوئے وہ ایک ایسی کتاب تصنیف کر سکیں جس میں ممدوح کی زندگی کھل کر سامنے آجائے۔ لہذا انہوں نے وہاب اشرفی کے حالات زندگی، ان کے ماحول ان کی تعلیم وتعلم اور مختلف نوعیتوں کی ذمہ داریوں کا بڑی ہی خوبصورتی سے ذکر کیا ہے۔ ان کی پیدائش تعلیم و تربیت صحافتی زندگی اور ادبی زندگی کےتمام تر نقوش کا ذکر شرح وبسط کے ساتھ کیا گیا ہے ۔ چونکہ” قصہ بے سمت زندگی کا” کی روشنی میں سرور صاحب نے یہ کام کیا ہے، لہذا وہاب صاحب کے احوال و کوائف پر زیادہ چھان پھٹک کرنی نہیں پڑی ہے۔ البتہ انہوں نے جگہ جگہ اپنی تنقیدی بصیرت کی روشنی میں آراء بھی پیش کی ہیں…… مجھے یہ کہنے میں ذرا بھی باک نہیں کہ وہاب صاحب کی شخصیت میں مقناطسیت تھی، فعالیت تھی اور سب سے بڑھ کر پر خلوص علمیت تھی ۔ سرور صاحب نے وہاب فہمی کی طرف قدم بڑھایا ہے۔ امید ہےکہ نئی نسل کے باشعور اسکالر وہاب اشرفی کی نگارشات کی موشگافیوں میں خود کو لگائیں گے جس کے بعد کچھ نئے زاویے سامنے آ سکیں گے تاکہ وہاب اشرفی کی تفہیم و تعبیر کی طرف اردو کے عام قارئین بھی مائل ہو سکیں۔ اس کتاب کی اشاعت پر دل کی گہرائیوں سے سرور حسین کو مبارکباد پیش کرتا ہوں”۔
فاضل مصنف چونکہ بہت ہی وسیع الظرف اور کشادہ ذہن ہیں جس مظاہرہ وہ عام زندگی میں تو کرتے ہی رہتے ہیں، کتاب میں بھی انہوں نے اس کا جابجا مظاہرہ کیا ہے جس کا بخوبی احساس قارئین کو دوران قرأت ہوتا ہے۔ زیر مطالعہ کتاب کے ” انتساب “میں درج ان کا یہ جملہ اس کا بین ثبوت ہے ” ان روشن ادبی روایات کے نام زندگی کی ارفع قدروں کی بازیافت جن کے پیش نظر رہی ہے”۔
لاریب پروفیسر وہاب اشرفی کی شخصیت بڑی پہلودار و تہ دار تھی۔ وہ بیک وقت ناقد، محقق، مؤرخ، مبصر، افسانہ نگار، شاعر، صحافی، دانشور، قلمکار، فنکار، فکشن نگار اور سوانح نگار تھے۔ ان کی شخصیت کے ان تمام پہلوؤں پر برصغیر ہند وپاک سمیت پوری اردو کائنات میں ارباب قلم نے بہت کچھ لکھا ہے اور آئندہ بھی لکھا جاتا رہے گا۔ڈاکٹر سرور حسین نے بھی اس سلسلة الذهب کو وسعت دینے کی سعئ مسعود کی ہے۔
کتاب کے مشمولات ومحتویات سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ سرور صاحب نے اس کی تصنیف میں بڑی عرق ریزی کی ہے ۔ انہوں نے صرف وہاب صاحب کے تنقیدی کارناموں پر یا کسی ایک گوشہ پر روشنی نہیں ڈالی ہے، بلکہ ان کی پیدائش، پرورش ، پرداخت، تعلیم وتربیت، ملازمت ، عہدے و مناصب، حالات زنگی اور ان کی متنوع خدمات کو موضوع بحث بنایا ہے۔ دعویٰ بلا دلیل قابلِ قبول نہیں ہوتا۔ اس لیے اپنے دعویٰ کی تائید میں بطور دلیل اس کتاب کی فہرست مضامین نذر اہلِ نظر کرتا ہوں :
تقریظ: ڈاکٹر ہمایوں اشرف (ص:8) ، تقریظ:ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی(ص:14) ، پیش لفظ:(ڈاکٹر سرور حسین)(ص:19)، وہاب اشرفی:تعارف واحوال (ص:22) ، شخصیت (ص:42)، وہاب اشرفی کا فکری، سماجی و تہذیبی رویہ(ص:64)، وہاب اشرفی اور عصری حسیت(ص:84)، وہاب اشرفی بحیثیت نقاد (ص:101)، وہاب اشرفی کی اہم کتابوں پر ایک اجمالی نظر (ص:128)، وہاب اشرفی: بحیثیت محقق (ص:248)، وہاب اشرفی: بحیثیت مورخ (ص:256)، وہاب اشرفی کی افسانہ نگاری (ص:267)، وہاب اشرفی اور ان کی آپ بیتی: قصہ بے سمت زندگی کا- ایک تنقیدی جائزہ (ص:287)، وہاب اشرفی کانثری اسلوب (ص:328) وہاب اشرفی کی تبصرہ نگاری (ص:356)، وہاب اشرفی بحیثیت صحافی (ص:367)، وہاب اشرفی کی شاعری (ص:378) اور کتابیات(ص:386) ہیں۔
متذکرہ بالا سبھی رشحات و تخلیقات اور موضوعات بہت اہمیت کی حامل ہیں۔ ان سبھی میں جس طرح پروفیسر وہاب اشرفی کی شخصیت کے گوناگوں پہلوؤں اور ان کے گراں قدر کارناموں کو اظہر من الشمس کیا گیا ہے وہ وہاب شناسی کا روشن باب تو ہے ہی مزید برآں یہ کہ یہ ڈاکٹر سرور حسین کا قابلِ صد ستائش کارنامہ بھی ہے۔
ڈاکٹر ھمایوں اشرف، ایسوسی ایٹ پروفیسر، ونوبا بھاوے یونیورسٹی، ہزاری باغ نے اپنی تحریر ” احوال واقعی” میں ڈاکٹر سرور حسین کو اردو زبان و ادب کا اچھا شاعر و ادیب قرار دیتے ہوئے تحقیق وتنقید کے میدان میں ان کی خدمات کا اعتراف کیا ہے۔ پروفیسر وہاب اشرفی کی شش جہت شخصیت اور ان کے کارناموں پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ علاوہ ازیں انہوں نے اس کتاب کے حوالے سے گراں قدر تأثرات پیش کئے ہیں اور اس کو کتب تنقید نگاری میں شمار کئے جانے کے ساتھ ساتھ ادبی حلقوں میں اس کی پذیرائی کی امید بھی ظاہر کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں :
” یہ کتاب تنقید نگاری میں سرور حسین کی پیش قدمی کا بین ثبوت ہے۔امید قوی ہے کہ ادبی حلقوں میں اس کی پذیرائی ہوگی۔” (ص:13)
ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی، صدر شعبہ اردو، پٹنہ یونیورسٹی، پٹنہ نے اپنی تحریر “حرفے چند” میں ڈاکٹر سرور حسین کی ادبی حیثیت، علمیت، تحقیق وتنقید کے اصولوں سے ان کی اچھی واقفیت، علمی و ادبی خدمات اور ان کے اسلوب نگارش میں متانت ، شیفتگی، سنجیدگی وغیرہ پر بڑی عمدگی سے روشنی ڈالی ہے۔ پروفیسر وہاب اشرفی کی شخصیت کے کئی پہلؤوں پر بھی خامہ فرسائی کی ہے۔ نیز کتاب کے مشمولات ومحتویات کو اہم بتایا ہے اور یہ امید ظاہر کی ہے کہ :
“ہر اچھی کتاب قارئین کو مزید مطالعہ کے لیے مہمیز کرتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ” وہاب اشرفی :ذکر، فکر اور فن ” نہ صرف ناقدین اور قارئین کی فکر کو مہمیز کرے گی، بلکہ وہاب اشرفی کی ازسرنو تفہیم میں بھی معاون ثابت ہوگی”۔ (ص:18)
فاضل مصنف نے” پیش لفظ” بقلم خویش لکھا ہے۔ اس میں انہوں نے پروفیسر وہاب اشرفی کی شخصیت اور خدمات پر سرسری گفتگو کی ہے۔ اس کتاب کی وجہ تصنیف بھی بتائی ہے اور اخیر میں قلمبند کیا ہے کہ :
” میں نے حتی المقدور کوشش کی ہے کہ ہر طرح کے تحفظات سے اپنے ذہن کو محفوظ رکھ کر نتائج تک پہنچنے میں کامیابی حاصل کرسکوں۔ تاہم میں کس حدتک اپنے مقصد میں کامیاب ہوسکا ہوں اس کا فیصلہ تو آپ قارئین ہی کریں گے۔”(ص:20)
فاضل قلمکار نے کتاب کی میں جو مواد پیش کیا ہے اس کا لب لباب یہ ہےکہ وہاب اشرفی کا اصل نام سید عبد الوہاب اشرفی تھا۔ ان کے والد کا نام سید شاہ امام الدین اور دادا کا نام احمد اشرف تھا۔ پیدائش جہان آباد ضلع کے قصبہ کاکو سے ملحق بی بی پور گاؤں میں 2/جون 1936 کو ہوئی۔(حالانکہ بعض دوسرے قلمکاروں نے 3/جون 1936لکھا ہے۔ واضح رہے کہ اپنی تاریخ پیدائش کو لے کر چونکہ وہاب صاحب خود تذبذب کا پوری زندگی شکار رہے،اس لئے سرور صاحب بھی اس گتھی کو نہیں سلجھا سکے)۔ ابتدائی تعلیم گاؤں کے ہی مدرسہ میں مولوی محمد یعقوب سے حاصل کی۔ 9151 میں رحمت اللہ ہائی اسکول سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ کلکتہ سیٹی کالج سے 1954 میں آئی اے کیا۔ سنٹرل کالج سے 1956 میں انگریزی میں آنرس کیا۔ بی آر اے بہار یونیورسٹی سے 1960 میں انگریزی اور 1962 میں اردو میں ایم اے کیا۔ بہار یونیورسٹی نے انہیں ” اردو نثر میں شاد عظیم آبادی کا حصہ ” کے موضوع پر 1968 میں پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض کی۔ کلکتہ میں روز نامہ “الحق”، “عصر جدید” اور”اخوت ” میں بطور مترجم وصحافی کام کیا۔ پٹنہ میں لائف انشورنس کارپوریشن کے ڈیولپمنٹ سیکشن میں 1958 سے 1964 تک کام کیا۔ اردو گرلس کالج پٹنہ میں 1961 سے 1962 تک جزوقتی لکچرر رہے ۔ ایل ایس کالج مظفرپور اور بی ایس اے کا لج داناپور پٹنہ میں بھی کچھ مہینوں تک خدمات انجام دی تھیں ۔ 1969 میں مگدھ یونیورسٹی گیا کے گیا کالج میں ان کی باضابطہ تقرری ہوئی تھی، مگر جلد ہی ان کا تبادلہ مگدھ یونیورسٹی کے پوسٹ گریجویٹ شعبہ میں ہوگیا ۔ اس کے بعد 1976 میں ان کا تبادلہ رانچی یونیورسٹی میں ہوگیا، جہاں مارچ 1994 تک رہے۔ بہار میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ لالو پرساد یادو نے انہیں مارچ 1994 میں ہی بہار اسٹیٹ یونیورسٹی سروس کمیشن کا چئیرمین بنایا تھا۔ مدت کار پوری ہونے کے بعد پھر انہیں 1998 میں بہار انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن کونسل کے اعلی عہدے پر فائز کیا گیا اور 2002 میں وہ مکمل طور پر ملازمت سے سبکدوش ہوئے ۔ 15/ جولائی 2012 کو انہوں نے اپنی زندگی کی آخری سانس لی۔ ان کی وصیت کے مطابق انہیں ان کے آبائی گاؤں بی بی پور قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔
وہاب اشرفی کی شادی موضع بہراواں، پوسٹ شورم پور ضلع پٹنہ کے باشندہ سید محمد شعیب کی صاحبزادی نسیمہ خاتون سے 1958 میں ہوئی تھی۔ ان کا تخلیقی سفر کلکتہ میں دوران طالب علم ہی شروع ہوگیا تھا۔ ان کی پہلی غزل 1955 میں روزنامہ “اخوت” کلکتہ اور پہلی نظم روزنامہ “ہند ” میں شائع ہوئی تھی۔ پہلا افسانہ “اپنی اپنی راہ” 1958 میں بیسویں صدی، دہلی میں شائع ہواتھا۔ پہلا تنقیدی مضمون “تابان القادری کی شاعری ” مشمولہ “نقوش تاباں” کے عنوان سے 1956 میں منظر عام پر آیا تھا اور باضابطہ تنقیدی تصنیف ” قطب مشتری: ایک تنقیدی جائزہ ” کے عنوان سے 1967 میں شائع ہوئی تھی جو ادبی دنیا میں ایک عظیم نقاد کی آمد کا پیغام تھی۔
ڈاکٹر سرور حسین نے وہاب اشرفی کے آبای گاؤں بی بی پور کی تاریخ اور تہذیب کے پس منظر میں ہندو ستان کی تاریخ و تہذیب کو بھی اس کتاب میں طشت ازبام کیا ہے ۔وہاں کس طرح فرقہ وارانہ فسادات ہوئے ، شر پسند عناصر نے کس طرح ننگا ناچ کیا ، کس طرح مسلمانوں کا جانی و مالی خسارہ ہوا، کاکو سے لے کر کلکتہ تک کے فسادات، مشرقی پاکستان میں نامساعد حالات اور تقسیم ہند کے اثرات پر بھی خامہ فرسائی کی ہے۔ ان سب کے علاوہ انہوں نے پروفیسر وہاب اشرفی کی تنقیدی خدمات اور نظریات کا تفصیل سے جائزہ لیا ہے اور اردو تنقید نگاری میں انکے مقام و مرتبہ کا تعین کیا ہے ۔ تنقید کے حوالے سے اشرفی صاحب کے بدلتے رجحانات کو بھی واشگاف کیا ہے۔ ترقی پسندی سے لیکر ما بعد جدیدیت تک وہ فکری طور پر کن تبدیلیو سے دوچار ہوئے اور ماضی کے ادبی سرمایوں سے لےکر اپنے عہد کی تخلیقات تک کو قومی و بین الاقوامی ادبی پس منظر میں انہوں نے کس طرح دیکھنے کی سعی کی ان سب کو بھی حوالہ قرطاس کیا ہے۔ وہاب اشرفی نے تنقید کے علاوہ تحقیق کے میدان میں کیا کچھ کارنامے انجام دیے نیز ادبی تاریخ نویسی میں انکی خدمات کی اہمیت کیا ہے اس حوالے سے بھی مدلل گفتگو کی ہے۔ وہاب اشرفی نے ابتدا میں افسانہ نگاری میں بھی خوب خوب طبع آزمائی کی تھی اور اپنے کئی افسانوں سے اردو قارئین کو محظوظ کرایا تھا، چنانچہ سرور حسین نے انکی افسانہ نگاری کی خوبیوں پر بھی سیر حاصل گفتگو کی ہے۔ انہوں نے وہاب اشرفی کی آپ بیتی “قصہ بے سمت زندگی کا ” منصفانہ تجزیاتی مطالعہ بھی کیا ہے اور اس کتاب کی روشنی میں ان کی کئی کمیوں کو عادل و منصف بن کر بے نقاب کیا ہے۔ ان کے جیل جانے کا منظر وپس منظر بھی بیان کیا ہے۔ وہاب اشرفی کی تبصرہ نگاری اور اس کی خوبیوں کو بھی بڑی ایمانداری سے پیش کیا ہے۔ ان کی شاعری کے حوالے سے بھی سیر حاصل گفتگو کی ہے۔ وہاب اشرفی کا اپنا ایک مخصوص اسلوب تھا جو ان کے تمام مضامین، تالیفات و تصنیفات میں نظر آتا ہے، سرورصاحب نے ان کے مخصوص اسلوب پر اپنے مخصوص اسلوب میں روشنی ڈالی ہے اور قارئیں کو دوران قرأت خوشگوار ماحول عطا کیا ہے۔ کتاب کے بیک فلیپ پر پروفیسر علیم اللہ حالی کی گراں قدر تأثراتی تحریر ہے جس میں انہوں نے پروفیسر وہاب اشرفی جیسے کثیر التصانیف اہل قلم و عظیم ناقد کی تعریف کی ہے ۔ ساتھ ہی ان کے حوالے سے ڈاکٹر سرور حسین کی اس کاوش کو کافی سراہا ہے اور یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ:
ڈاکٹر سرور حسین نے بھی معروضی انداز اختیار کرتے ہوئے بیانات کے درمیان پروفیسر اشرفی کی شخصیت کے نہاں خانے تک پہنچنے کی کوشش کی ہے۔ یہ کتاب موصوف کی تنقید نگاری اور افسانہ نگاری جیسی اصناف ادب میں طبع آزمائی کے حوالے سے بھی عالمانہ اطلاعات فراہم کرتی ہے۔ لکھنے والا اپنی بہتر نگارشات کے ذریعہ پہچانا جاتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ڈاکٹر سرور حسین کی کتاب ان کی باوقار شناخت کا ذریعہ بنے گی۔ ”
حاصل مطالعہ کے طور پر عرض کروں کہ ڈاکٹر سرور حسین نے اس کتاب میں موضوع کی مناسبت سے بہت سارے مواد کو سمیٹ دیا ہے ۔ اس کو ہوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے سمندر کو کوزے میں بند کردیا ہے۔ بلاشبہ یہ کتاب وہاب اشرفی کی شخصیت نیز ان کی علمی،ادبی، تحقیقی، تنقیدی، صحافتی ، افسانوی، تاریخی اور شاعرانہ خدمات کے متعدد گوشوں پر محیط ہے جو قارئین کے لیے یقیناً وہاب شناسی و وہاب فہمی میں ریفرنس کی حیثیت رکھتی ہے، چنانچہ انصاف کا عین تقاضا ہے کہ ڈاکٹر سرور حسین کو ایک کامیاب مصنف کے طور پر دیکھاجائے اور اس کتاب کی اہمیت وافادیت کو سر کی آنکھوں سے تسلیم کرکے وسیع الظرفی اور کشادہ ذہنی و کشادہ قلبی کا ثبوت دیا جائے!!!

موبائل:9199726661

Previous articleغزل از : افتخار راغبؔ
Next articleکہانی”ایلین چاچا” از: انجینئر محمد عادل

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here