ملکہ زبیدہ کے محل میں سوباندیاں حافظہ قرآن

0
107

محمد_علی_جوہر_سوپولوی

یوں تو روئے زمین پر بہت سی اللہ کی بندی تھیں اور ہیں، جنہوں نے اچھے اخلاق اور عمدہ کارناموں کی بدولت نیک نامی حاصل کی ہے، ان میں امہات المومنین رضی اللہ عنہن ، صحابیات رضی اللہ عنہن اور تابعیہ کی اچھی خاصی تعداد ہے جن کے نقش قدم پر چل کر ہر عورت عند اللہ وعند الرسول مقبول ومقصود ہوسکتی ہے…
زبیدہ خاتون انہیں پاک باز وپارسا خاتون میں سے ایک ہیں یہ خلیفہ ہارون رشید کی اہلیہ ہیں، ان کا اصل نام امۃ العزیز ہے، ’ملکہ‘ موصل میں پیدا ہوئیں اور تین سال کی عمر میں یتیم ہوگئیں ، ان کے والد جعفر ،خلیفہ منصور کے چھوٹے صاحبزادے تھے، اسی لئے منصور کی کنیت ابوجعفر پڑی، بہر حال والد کے انتقال کے بعد دادا نے ان کی پرورش کی، وہ پیار سے ان کو زبیدہ کہہ کر پکارتے، اسی نام سے یہ اتنا مشہور ہوئیں کہ لوگ ان کا اصل نام بھول گئے…
تقریباً ۱۶/ سال کی عمرمیں ان کا عقد مسنون ہارون رشید سے ہوا، ہارون رشید کے بھائی محمد ہادی کے انتقال کے بعد آپ خلیفہ بنے اور زبیدہ ملکہ بن گئیں..
اللہ تعالیٰ نے ملکہ کو پارسائی ، ہمدردی اور سلیقہ مندی کا وافر حصہ عطا فرمایا تھا، خلیفہ نے چند دنوں میں ہی سلطنت کی عظمت وشوکت کو کمال پر پہنچادیا، اور ادھر زبیدہ نے محل کے انتظام میں وہ شان پیدا کردی جو پہلے کسی نے نہ دیکھی تھی…
ملکہ کی فیاضی کا یہ عالم تھا کہ اس کے در سے کوئی بھی سائل خالی نہ لوٹتا، اس کے پاس ۱۰۰ حافظ قرآن باندیاں تھیں، ہر ایک دس پارے روز تلاوت کرتی تھی، ہمہ وقت ان کے محل سے تلاوت قرآن کریم کی آواز آتی تھی، بھلائی اور خدمت خلق میں ملکہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھیں…
چنانچہ ۲۰۸ھ مطابق ۸۲۴ء کو جب حج کے لئے نکلیں تو اپنے ساتھ انجینئروں کو بھی لے لیا، اور جہاں جس چیز کی ضرورت محسوس ہوئی فوراً اس کو کروایا، چنانچہ تاریخ اسلامی کے صفحات میں سینکڑوں مسجدیں، تالاب اور سرائے کا ان کے دیاگار کے طور پر ذکر ہے…
ان سب کا سب سے بڑا اور ہمیشہ زندہ رہنے والا کار نامہ یہ ہے کہ مکہ مکرمہ کے لئے ایک نہر کا انتظا کیا جو آج بھی ’’نہر زبیدہ‘‘ کے نام سے معروف ہے.
مکہ مکرمہ سے تقریباً تیس کلو میٹر مشرق میں پہاڑوں کے درمیان ایک چشمہ ملا، وہیں سے اس نہر کی ابتداء ہوئی، یہ نہر عرفات ،مزدلفہ اور منی سے ہوتی ہوئی مکہ مکرمہ پہنچی ہے، اس کے اصل حصے زمین دوز ہیں جگہ جگہ پانی کے ذخیرے بنادیئے گئے ہیں، حج کے ایام میں لاکھوں لوگ منی، مزدلفہ اورعرفات میں قیام کرتے ہیں اور اس نہر کا پانی استعمال کرتے ہیں، اس نیک خاتون نے حرم مکہ کو اس وقت سیراب کیا جب پانی کی بہت قلت تھی، اور ایک کوزہ پانی ایک دینار میں ملتا تھا، حج کے اس سفر میں ملکہ نے تقریباً ستر لاکھ اشرفیاں کار خدمت خلق میں صرف کئے…
ملکہ نے ستر برس کی عمر پائی ان کو گزرے صدیاں بیت چکیں، مگر ان کی نیک کامی کی وجہ سے ان کی نیک نامی اب تک بوسیدہ بھی نہیں ہوئی ہے… (رحمۃ اللہ علیہا)

اس خاتون کا کارنامہ فی زمانہ عورتوں کے لئے مشعل راہ ہے ، اس نے اپنی زندگی کے قیمتی اوقات اور اپنے شوہر کی مدد سے مخلوق خدا کو کتنا عظیم فائدہ پہنچایا…
اللہ تعالیٰ ہم تمام بھائیوں اور بہنوں کو اصلاح فرمائے… آمین ثم آمین!!
نوٹ: مکہ مکرمہ میں اب نہر زبیدہ کے صرف آثار باقی ہیں عملاً اب وہ ہر باقی نہیں ہے…

Previous articleمیاں بیوی آپس میں کیسے رہیں۔۔آخری قسط
Next articleدھماکہ۔۔(سائنسی مضمون)

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here