بیگ احساس آپ کا جانا رلاگیا سب کو از: مشتاق احمد نوری

0
107

اک وہ نہیں تو شہر میں ہو بولنے لگا
بیگ احساس آپ کا جانا رلاگیا سب کو

یہ 2018 کی بات ہے۔ میں پدم شری مجتبیٰ حسین کی دعوت پر حیدر آباد گیا انہوں نے بہت سا پروگرام قبل سے طے کر رکھا تھا ان میں ایک پروگرام بھاٸی بیگ احساس کی جانب سے تھا۔اردو بھون حیدر آباد میں میرے اعزاز میں ایک فنکشن رکھا گیا تھا۔ اخبار میں خبر آگٸی تھی۔میں مجتبیٰ حسین کے ساتھ پہونچا ٹھیک اسی وقت پروفیسر بیگ احساس بھی گاڑی سے اترے۔ہم دونوں ایک دوسرے سے لپک کر گلے ملے میں ان کے سینے میں خلوص کی گرمی محسوس کرتا رہا۔پھر مجھے پکڑے ہوٸے ہال میں لے آٸے۔ بیگ احساس کی صدارت میں پروگرام شروع ہوا۔مجتبی بھاٸی نے میرا مبالغہ آمیز تعارف پیش گیا ایم پی عزیز احمد صاحب نے گلدستہ پیش کیا اور بیک احساس نے شال پوشی کرکے اپنی محبت کا اظہار کیا۔اتنی محبت سے یہ پروگرام ہوا کہ میں بتا نہیں سکتا۔بہت سے محترم سامعین تشریف فرما تھے شبینہ فرشوری مسٹر فرشوری تسنیم جوہر رٶف خیر وغیر۔اتنی محبت نصیب ہوٸ کہ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔بیگ احساس کی محبت بھری صدارتی تقریر میں اب بھی نہیں بھولا ہوں۔اتنے مخلص اور محبت کرنے والے لوگ کم ہوتے ہیں۔
انہیں ان کے افسانوی مجموعہ ” دخمہ “ پر ساہتیہ اکادمی کا پروقار ایوارڈ بھی ملا۔ان کی تخلیقی پذیراٸ بھی خوب ہوٸی لیکن ان کی انکساری قاٸم رہی وہ ہمیشہ لوگوں سے گرمجوشی سے ملتے ان کی مدھم مسکراہٹ لوگوں کو مسحور کر لیتی۔ان کی شخصیت کا طلسم ملنے والوں کو ان کا گرویدہ بناٸے رکھتا۔

وہ حیدر آباد سنٹرل یونیورسیٹی میں اردو کے پروفیسر تھے۔بہترین استاد کے ساتھ معتبر افسانہ نگار ایک بہترین مدیر اور اچھے منتظمين کار بھی تھے۔

حیدر آباد میں مجتبی حسین کے بعد بیگ احساس ہی وہ شخص تھے جن کی وجہ سے اس خطے کا وقار قاٸم تھا۔بہت دنوں سے بیمار تھے۔پندرہ دنوں سے تو وینٹی لیٹر پہ تھے کل اچانک انہیں دل کادورہ بھی پڑا۔ڈاکٹروں نے Brain dead ڈکلیٸر کردیا لیکن امید کی کرن جھلملا رہی تھی۔کل ہی ان کی موت کی خبر واٸرل ہوگٸ بہت لوگوں نے اظہار تعزیت بھی کردیا۔میں نے انہیں کے فون نمبر پہ فون کیا خیریت دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ کریٹیکل کنڈیشن ہے کسی بھی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ لوگ معجزے کی امید میں تھے لیکن اللہ انہیں اپنی قربت نصیب کرنا چاہتا تھا اس لٸے وہ آج آخرکار اللہ کو پیارے ہوگٸے۔

ادب خصوصاً فکشن کے لٸے ان کاجانا ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔پوری ادبی دنیا مغموم ہے جیسے کوٸ اپنا چلاگیا ہو۔اللہ انکی مغفرت فرماٸے لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے اور ہم لوگوں کے قلب کو بھی سکون سے نوازے۔

Previous articleاردو زبان وادب کا ابتدائی دور – ایک مطالعہ از: ڈاکٹر محمد سراج اللہ تیمی
Next articleشہریت ترمیمی قانون کے خلاف تمل ناڈو اسمبلی میں قرارداد منظور کرنے پر انڈین یونین مسلم لیگ نے کیا تمل ناڈو وزیر اعلی کا شکریہ

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here