بہت دیر کردی مہرباں فیصلہ لیتے لیتے از: قمر اعظم صدیقی

0
69

بھیرو پور، حاجی پور، ویشالی، بہار
9167679924

امارت کے سلسلے میں کہاں سے شروع کروں کہاں پہ ختم ، کس موضوع پہ گفتگو کروں اور کسے چھوڑ دوں ، کیونکہ ہر ایک بات موضوع بحث ہے۔ امیر شریعت ولی رحمانی صاحب کے انتقال کے بعد سے نئے امیر شریعت کے انتخاب کی جو اٹکلیں شروع ہوئیں وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ ایک دوسرے پر الزام تراشی،شخصی قصیدہ گوئی حد تو یہ ہو گئی کہ لوگ گالی گلوج پر اتر آۓ۔ اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔ آپ کو جان کر حیرت ہوگی کہ یہ لوگ کوئی اور نہیں بلکہ علماء دین ، دین کے علمبردار، انبیاء کے وارث کہلاتے ہیں۔ افسوس صد افسوس جس ادارے کو ہمارے بزرگوں نے اپنے خون پسینے سے سینچا تھا ، آج اس کے وجود کو خطرہ لاحق ہے۔ بے شک آج ان مرحومین کی روحیں بے چین و پریشان ہوں گی ۔

مولانا شمساد رحمانی کا نائب امیر بنایا جانا یہ خود ایک موضوع بحث ہے کیونکہ حضرت امیر شریعت ولی رحمانی صاحب نے پورے ساڑھے پانچ سالوں میں نائب امیر شریعت منتخب نہیں کیا تو ا چانک دوران علالت نائب کی بحالی اپنے آپ میں ایک بڑا سوال ہے ؟ حضرت کی بحالی والا لیٹر بھی سامنے آیا تو شک اور بھی پختہ ہوا کیونکہ جس لیٹر پیڈ کا استعمال ہوا ہے وہ خانقاہ رحمانی مونگیر کا ہے ۔ نائب امیر شریعت کی بحالی کے لیے دوسرے ادارے کا لیٹر پیڈ یہ بات عقل سے بعید ہے۔

نائب امیر شریعت روز اول سے یہی کہتے آئے کہ آپ لوگ اطمینان رکھیں سب کچھ دستور کےمطابق ہوگا لیکن وقت نے ثابت کردیا کہ ان کا لیا گیا فیصلہ دستور کے خلاف تھا۔ گیارہ رکنی کمیٹی بنائی گئی اس میں جو دھاندھلی ہوئی اس کا ذکر مفتی نذر توحید صاحب نے اپنے استعفیٰ نامہ میں کیا ہے۔ اس کے بعد انتخاب امیر کے لیے شریعت و دستور ارباب حل و عقد کو بالاۓ طاق رکھ کر نامنیشن فایل کرنا وہ بھی ١٥١ ارباب حل و عقد کے دستخط کے ساتھ ۔کچھ ایسی ہی وجوہات سے مفتی نزر توحید صاحب نے استعفیٰ دے دیا اور مولانا پروفیسر یاسین صاحب نے جھارکھنڈ کی امارت کو علیحدہ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ “محمد زبیر عالم دربھنگہ رکن ارباب حل و عقد” نے اپنی پوری تحریر میں دلائل کے ساتھ انتخاب کے غیر دستوری ہونے کا ذکر کیا ہے۔ محمد جاوید اقبال ایڈوکیٹ صاحب نے بھی نائب امیر شریعت کو لکھے خط میں غیر دستوری طریقہ کا ذکر کیا ہے۔ تمام علمائے دین ، بالغ نظر دانشوران ، اور غیور عوام اس بات پر اتفاق رکھتے ہیں کہ امیر شریعت کے انتخاب کا طریقہ کار غیر دستوری ہے ۔غیر دستوری انتخاب کے خلاف پورے ہندوستان کے باشعور علمائے کرام ، دانشوران کرام اپنے بیانات اور تحریروں کے ذریعے احتجاج کرتے رہے ۔ اسی درمیان بتاریخ ۲۷ جولائی صبح سے ہی واٹس ایپ کے کئی گروپ پر ایک بے نام شخص کی تحریر گردش کرنے لگی جو خود کو امارت شرعیہ کے ملازم بتا رہے ہیں اور ۳۵ سالوں سے امارت میں ہونے کا ذکر کیا ہے انہوں نے اپنی گوہار عوام سے لگائ ہے۔ ایک دردمندانہ نہایت اہم اپیل کی ہے جس میں امارت میں ہو رہے غنڈہ گردی اور دارالافتاء ، دارالقضاء، حتیٰ کہ تمام شعبے گناہ کبیرہ میں مشغول ہیں اس لیے اس ادارے کو بچا لیجیے۔ ان کی تحریر سے ان کی پریشانی صاف عیاں ہوتی ہے قارئین اگر اس تحریر کو پڑھنا چاہتے ہوں تو 27 تاریخ کے پیغام میڈیا پروٹل پر جا کر پڑھ سکتے ہیں ۔ گویا کہ شمشاد رحمانی صاحب کے خلاف متعدد ایسے ثبوت موجود ہیں جن میں وہ شریعت کی دھجی اڑا رہے ہیں ۔ حد تو تب ہو گئی کہ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کی پٹنہ تشریف آوری ہوئی اور ان کے چاہنے والوں کی ا یک بڑی تعداد نے ان سے امیر شریعت کے عہدے کو قبول کرنے کے لیے درخواست کی تو موصوف نے یہ کہ کر حامی بھر دی کہ اتفاق رائے سے دستور کے مطابق اگر لوگوں کی رضامندی ہوگی تو میں امیر شریعت کا عہدہ قبول کرنے کو تیار ہوں۔ اس کے بعد خالد سیف اللہ رحمانی صاحب سے یہ بھی پوچھا گیاکہ امیر کے انتخاب کا موجودہ طریقہ( ووٹنگ سسٹم ) شرعی اعتبار سے کیسا ہے؟ موصوف نے جواب دیا کہ نہ تو شریعت کی رو سے درست ہے نہ ہی دستور کے مطابق ہے۔ اس خبر کے بعد ایک مخصوص خیمے میں بےچینی پیدا ہو گئی اور خطرہ لاحق ہوگیا کہ اب وہ فرد واحد جس کے امیر بنانے کے لیے جو زمین تیار کی گئی تھی وہ زمین پاؤں کے نیچے سے کھسک گئی ہے ۔اور اسی بوکھلاہٹ میں امارت کے ایک ادنیٰ خادم “آفس سکریٹری ارشد رحمانی” کی یہ جرأت کہ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کے خلاف لب کشائی پہ آمادہ ہو جاۓ اور ان کی حق گوئی کے خلاف اخباروں میں بیان جاری کروا دیا گیا اور یہ سارا کھیل نائب امیر شریعت کی موجودگی میں ہوتا رہا اور نائب امیر شریعت تماشائی بنے دیکھتے رہے اور اپنی پیٹھ خود ہی تھپتھپاتے رہے اور اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کے بجائے دہائی دیتے رہے کہ سب کچھ دستور اور شریعت کے مطابق ہی ہو رہا ہے۔ دوسری جانب ان سب کے خلاف دانشوروں کی ایک ٹیم نے جس کی صدارت ایڈوکیٹ راغب احسن صاحب کر رہے تھے اس میٹنگ میں یہ فیصلہ لیا گیا کہ نائب امیر شریعت نے ۳ ماہ گزر جانے کے بعد بھی امیر شریعت کا انتخاب نہیں کرایا اور انتخاب کا موجودہ طریقہ بھی غیر دستوری ہے ۔جس وجہ سے دستور کےمطابق اب یہ اختیار مجلس شوریٰ کے ایک تہائی لوگوں کے ہاتھوں میں ہے۔ پھر ان لوگوں کی پانچ رکنی ٹیم نے مل کر سبھی اضلاع کا دورہ کیا اور ایک تہائی مجلس شوریٰ کے لوگوں کا دستخط حاصل کیا ۔ قابل مبارکباد ہیں وہ لوگ جن لوگوں نے دستخطی مہم میں حصہ لیا ۔ میں سب کچھ اخباروں اور سوشل میڈیا پر پڑھتا اور دیکھتا رہا ۔ دل و دماغ پر ایک بےچینی سی طاری رہتی وہ اس لیے کہ میں نے بہت قریب سے و ہاں رہ کر دوران طالب علمی مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی رحمۃ اللہ علیہ اور مولانا نظام الدین رحمتہ اللہ علیہ جیسے بزرگوں کے دور کی امارت دیکھی تھی اور فی الوقت جو گھناؤنا کھیل امارت میں چل رہا ہے وہ ان بزرگوں کے خوابوں کا خون ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ بہر حال میں کر بھی کیا سکتا تھا میرے بس میں کچھ تھا بھی نہیں سواۓ دعا کرنے کے۔ پھر بھی میں نے ا پنی جانب سے اتنا ضرور کیا کہ نائب امیر شریعت مولانا شمشاد رحمانی صاحب کو ایک خط بذریعہ واٹس ایپ روانہ کر دیا تاکہ روز محشر مجھ سے کوئی پوچھ نہ ہو کہ امارت منہدم ہو رہی تھی تو تم نے کیا کیا؟

میرے خط کا کوئی جواب نہیں ملا۔ حالات سے باخبر رہنے کے لیے میں مولانا عالم قاسمی صاحب، تنویر عالم صاحب سے گاہے بگاہے بات کرتا رہا اسی کشمکش کے عالم میں ایک بہت ہی اہم خبر سامنے آئی جس سے دل کو کچھ حد تک اطمینان حاصل ہوا وہ خبر تھی ” مولانا سہیل قاسمی صاحب صدر مفتی امارت شرعیہ بہار ، اڑیسہ جھارکھنڈ نے ایک فتویٰ جاری کیا کہ ابھی جو امیر شریعت کے انتخاب کے لیے ووٹنگ سسٹم کا استعمال کیا جائے گا وہ شریعت اور دستور دونوں کے خلاف ہے۔ اس خبر نے پورے ہندوستان کے لوگوں کو راحت بخشی اور پھر امید کی ایک نئی کرن سامنے آئی۔ قابل مبارکباد ہیں سہیل احمد قاسمی صدر مفتی امارت شرعیہ جنہوں نے اس پر فتن وقت میں بہت ہی جرأت مندانہ فیصلے کو انجام دیا۔ ان کی یہ جرأت اور راغب احسن ایڈوکیٹ صاحب کی ٹیم کے محنت کے نتیجے میں ٢٩ جولائی کو قائم مقام ناظم شبلی قاسمی کو ایک میمورینڈم پیش کیا گیا جس میں غیر دستوری انتخاب کو روکنے اور آیندہ انتخاب مجلس شوریٰ کے لوگوں کے ہاتھوں کراۓ جانے کی مانگ کی گئی ۔ اس کے بعد مجبوراً نائب امیر شریعت شمشاد رحمانی صاحب نے پریس ریلیز جاری کر واضح کیا کہ ۸ اگست کا انتخاب ملتوی کیا جاتا ہے۔ بہر حال حضرت والا نے دیر سے ہی صحیح درست فیصلہ لیا جس کےلیے میں ان کا شکر گزار ہوں۔ اور امید کرتا ہوں کہ آئندہ بھی صاف و شفاف ماحول میں دستور کے مطابق ارباب حل و عقد کے ممبران کے ذریعہ بنا کسی دباؤ کے اس کار خیر کو انجام دیا جاۓگا۔ اور ارباب حل و عقد کے ممبران سے بھی گزارش ہے کہ بنا کسی دباؤ، بہکاوے میں آکر اپنے امیر کا انتخاب شریعت اور دستور کو مدنظر رکھتے ہوئے کریں گے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارہ بلاغ 18 ڈاٹ کام کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

Previous articleمسجد نبوی کے خطاط کی زندگی ،ایک کہانی ایک سبق از:تحریر: توقیر بُھملہ
Next articleمولانا محمد اظہار الحق قاسمی بھی چلے گئے از: مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here