ممتا بنرجی کی ضمنی انتخاب میں تاریخی فتح ، بی جے پی امیدوار کو قریب 59 ہزار ووٹوں سے دی کراری شکست۔

0
172

کلکتہ ؍3 اکتوبر(یواین آئی) بھوانی پور سے اسمبلی انتخاب میں شاندار کامیابی حاصل کرنے کے بعد وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ نندی گرام میں مجھے سازش کے تحت بہت ہی کم ووٹوں سے ہرایا تھا مگر آج بھوانی پور کے عوام نے مجھے کامیابی دلاکر دنیا کو بتادیا کہ بنگال کیا چاہتا ہے۔انہوں نے بھوانی پور کے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں بھوانی پور کے عوام کا ہمیشہ مقروض رہوں گی بھوانی میں ممتا بنرجی کی جیت یقینی ہونے کا اعترف تو بی جے پی لیڈران بھی کررہے تھے ۔بی جے پی امیدوار پرینکا تبریوال مستقل محنت کررہی تھی اس کی وجہ سے ترنمول کانگریس کے لیڈروں کے سامنے یہ بڑا چیلنج تھا کہ ممتا بنرکی جیت کے مارجن کو اسمبلی انتخابات کے مقابلے دوگنا کرنا ہے ۔گزشتہ اسمبلی انتخابات میں ترنمول کانگریس کے امیدوار شوبھن دیب نے بی جے پی کے امیدوار کو 26ہزار ووٹوں سے ہرایا تھا۔اس مرتبہ ممتا بنرجی نے ریکارڈ57,632ووٹوں سے کامیابی حاصل کی ہے۔2011کے ضمنی انتخاب سے بھی یہ بڑی کامیابی ہے ۔

گزشتہ اسمبلی انتخاب میں جن وارڈوں میں ترنمول کانگریس کی کارکردگی بہتر نہیں تھی اس مرتبہ ترنمول کانگریس نے بھوانی اسمبلی حلقے کے تمام وارڈوں میں جیت حاصل کی ہے ۔ممتا بنرجی نے کہا ‘ہم کسی وارڈ میں نہیں ہارے ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ ہم کسی بھی وارڈ میں نہیں ہارے ہیں۔ کسی بھی وارڈ کے لوگوں نے ہمیںناپسند نہیں کیا ہے یہ ایک ریکارڈ ہے۔ یہاں تک کہ جب 2016 میں اسمبلی انتاب میں ممتا بنرجی کو ایک یا دو وارڈوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ممتا بنرجی نے کہاکہ لیکن اس بار ہم کسی ایک وارڈ میں نہیں ہارے ہیں۔

ممتابنرجی نے بھوانی پور میں فتح کی اہمیت کو بھی واضح کرتے ہوئے کہا کہ بھوانی پور گرچہ ایک چھوٹا مرکز ہے۔ لیکن اس کا دائرہ بڑا ہے۔ پورا بنگال آج بھوانی پور کی طرف دیکھ رہا تھا اور پورے بنگال کو تکلیف ہوئی جب ہم نے تمام انتخابات جیتے لیکن نندی گرام میں میں ہارگئی ۔بنگال کے عوام نے مجھے حوصلہ دیا اور کام جاری رکھنے کی اپیل کی ۔بھوانی پور کے عوام نے ایک بار پھر مجھے حوصلہ دیا ہے ۔ میں ہمیشہ کے لیے مقروض ہوں۔ صرف میں ہی نہیں ، میری پارٹی اور ترنمول کانگریس خاندان اور بنگال کے لوگ انہیں یاد رکھیں گے۔

ممتا بنرجی نے کہا کہ نندی گرام کے نتائج پر میں زیادہ نہیں بولوں گی ،نندیگرام واقعہ ابھی تک زیر التوا ہے ، اس لیے وہ اس کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتی ، لیکن بھوانی پور نے واضح کر دیا ہے کہ بنگال دراصل کیا چاہتا ہے۔

ممتا نے کہا کہ میں دو انگلیوں سے فتح نہیں دکھاؤں گی۔ تین انگلیاں فتح کی نشانیاں دکھاتی ہیں۔ کیونکہ ہم تین جگہ جیت گئے ہیں ۔

Previous articleحضرت مولانا احمد رضا خان کی شاعری میں میلاد مصطفیٰ از: حافظ محمد ہاشم قادری مصباحی جمشیدپور
Next articleاے پی سی آر کے زیرِ اہتمام پریس کلب آف انڈیا (نئ دہلی) میں پریس کانفرنس آج

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here