بنگلا نژاد پہلا اردو شاعر: محمد محمود الاسلام

1
104

صفدر امام قادری

پروفیسر محمد محمود الاسلام نقّاد اور محقق سے شاعر کیسے بنے اور پھر باضابطہ شعری مجموعے کی نوبت کس طرح آ گئی، اِس کا ایک دل چسپ قصّہ ہے۔ اُن کی شاعری پر گفتگو کرنے سے پہلے قارئین کے لیے یہ بے حد کار آمد ہوگا کہ وہ اُن اسباب اور اُس پسِ منظر کو جان لیں۔بزمِ صدف انٹرنیشنل اور قومی اردو کونسل کی متعدد دعوتوں پر جب محمود الاسلام کئی بارہندستان تشریف لائے اور درجنوں بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کے انھیں مواقع ملے تو اپنے ملک بنگلا دیش سے یکسر مختلف ادبی اور علمی فضا سے ہم رشتہ ہونے اور اُس سے سیکھنے سمجھنے کے لیے اُنھیں کافی آسانیاں میسّر آئیں۔اُنھوں نے دیکھا کہ ہر عالمی تقریب کا اختتام مشاعرے سے ہوتا ہے اور یہ بھی ملاحظہ کیا کہ بہت سارے ایسے نقّاد اور محقق سے می نار کے علاوہ اُن مشاعروں میں شرکت کرکے اپنی مقبولیت کا ایک دوسرا پہلو بھی پیدا کر لیتے ہیں۔

بنگلا دیش لَوٹنے سے پہلے ہی ایک روز راز دارانہ انداز میں مجھ سے وہ کہنے لگے کہ قادری بھائی، اگلی بار جب آؤں گا تو میں مشاعروں میں بھی شرکت کروں گا۔ میں نے رسمی حوصلہ افزائی کی۔ مجھے اِس بات کی خوشی تھی کہ ادبی تقریبات کی شمولیت نے اُن کے اندر پوشیدہ شاعر کو جگا دیا ہے۔اِسی بیچ چند مہینوں کے بعد اُنھوں نے فون پر یہ اطّلاع دی کہ میں نے شاعری شروع کر دی ہے مگر استاد کے بغیر یہ منزل سَر نہیں ہونے والی ہے۔میں نے اُنھیں کہا کہ ہمارے درمیان ڈاکٹر واحد نظیر صاحب فنِ شعر کے رمز شناس ہیں، اُن سے معاونت لیجیے مگر یہ سلسلہ دوسرے ملک کے استاد سے کتنا قایم رہ سکتا تھا۔ جب ہر ہفتے کوئی نظم ہو جائے یا وفورِ شعر میں شاعر مبتلاے مدام پڑا ہوا ہو تو بھلا کام کیسے چلے گا۔شاعر کے ساتھ ایک مشکل پیدا ہو رہی تھی۔

اسی دوران محمود الاسلام کو شہرِ ڈھاکا میںہی استاد شاعر جلال عظیم آبادی میسّر آ گئے اور اُنھوں نے باضابطہ طور پر اُن کے سامنے شاعر کی حیثیت سے زانوے ادب تہہ کرنا شروع کیا۔چھٹی کے مواقع غنیمت جان کر دونوں جمع ہوتے اور نظرِ ثانی کا ابتدائی کام ہوتا جاتا۔دیکھتے دیکھتے محمود الاسلام کی پچاس تخلیقات مرتَّب ہو گئیں اور اُنھوں نے مجھے اِس کی اطلاع دی۔مشورہ ہواکہ اب اِنھیں مجموعے کی شکل میں منظرِ عام پرلے آنا چاہیے۔جلال عظیم آبادی نے خود مقدمہ لکھنے کا وعدہ کیا تھا مگر قاتل اور ظالم کورونا نے انھیں بیچ محفل سے اُٹھا لیا۔محمود الاسلام اور ہم سب غم میں ڈوبے رہے ۔ میں نے خود محمود الاسلام سے کہا کہ آپ اپنا مسودہ بھیج دیجیے ۔میں جلال صاحب کے بدلے اپنی طرف سے چند الفاظ ضرور لکھنا پسند کروں گا۔
آج جب یہ کتاب شایع ہو رہی ہے، یقینا جلال عظیم آبادی جنت الفردوس میں خوش ہو رہے ہوں گے کہ اُن کے ایک بنگلا نژاد شاگرد نے اردو زبان میں لکھے اپنے کلام کا مجموعہ شایع کر دیا۔زبان اور قوم کی اِس بڑی خدمت کا محمود الاسلام کے وسیلے سے سارا ثواب جلال عظیم آبادی مرحوم تک پہنچے۔

سب جانتے ہیںکہ بنگلا دیش کا قیام اردو ۔ بنگلا رسّاکشی کی بنیاد پر ہوا تھا مگر پچاس برس گزر جانے کے بعد وہاں وہ نئی نسل بڑی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے جس نے اردو کو ایک جدید زبان کے طور پر نہ صرف یہ کہ اپنی تعلیم اور درس و تدریس یا ملازمت کے لیے استعمال کیا ہے بلکہ وہ تحقیق و تنقید اور رفتہ رفتہ شعر و ادب کے دیگر پہلوؤں کی طرف قدم بڑھا رہی ہے۔ محمود الاسلام اِسی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ بنگلا اُن کی مادری زبان ہے۔مدرسہ، اسکول اور کالج میں انھوں نے عربی، فارسی اور انگریزی کے ساتھ ساتھ ایک جدید زبان کے طور پر اردو کا مطالعہ کیا اور اُسے اعلا تعلیم کا ذریعہ بنانے میں بھی وہ کامیاب ہوئے۔ایم۔ اے۔ اورپی ایچ۔ڈی۔ کی ڈگریاں بھی اسی زبان سے حاصل کیں۔خدا کا فضل رہا کہ اُنھیں مادرِ علمی ڈھاکا یو نی ور سٹی کے شعبۂ اردو میں بر وقت درس و تدریس کا موقع ہاتھ آ گیا جس کے سبب وہ آج ایک سینئر پروفیسر کے طور پر اپنے شعبے کے مقبول استاد نظر آتے ہیں۔اُن کے تحقیقی مضامین رسایل و جراید میں تھوڑے تھوڑے وقفے سے شایع ہوتے رہتے ہیںاور ان کی ایک علمی پہچان بھی قائم ہوئی ہے۔

بنگلا دیش میں اردو کے موجودہ منظر نامے اور ادبی و علمی ماحول کو سمجھے بغیر محمود الا سلام کو بہ حیثیتِ شاعر سمجھنا دشوار ہوگا۔ڈھاکا یونی ور سٹی میں یوں تو نو کی تعداد میں اردو کے اساتذہ ہیں اور بی۔اے، ایم۔اے۔ اور تحقیق کے حلقوں کو جوڑ کر پانچ سو سے کم طالب علم وہاں پڑھنے کے لیے جمع نہیں ہوتے ہیں۔ اساتذہ اور طلبا ، سب کی مادری زبان بنگلا ہے اور اُنھوں نے درس و تدریس کے لییخاص طورپر اردو زبان سیکھی ہے۔اُن تمام کے گھر محلّے سے لے کر یو نی ور سٹی کے برامدوں تک اردو زبان کے لیے کوئی کھُلی جگہ نہیں ہے۔کلاس روم میں استاد کو اردو زبان کے کسی سبق کی تدریس کے دوران تعبیر و تشریح کے مراحل فطری طور پر بنگلا میں ہی حل کرنے پڑتے ہیں۔

مادری زبان اور غیر ملکی زبان کے بیچ یہ چپقلش صرف اردو اور بنگلا میں نہیں ہے بلکہ دنیا کے گوشے گوشے میں موجود ہے۔ زبان اپنے ماحول سے نمو پاتی ہے اوراسی سے اُس کی شاخیں تر وتازہ ہوتی ہیں۔ہم نے ایران اور مصر کے فارسی اور عربی نژاد اساتذہ اور طلبا کو بھی اِس دو راہے پر کھڑا پایا ہے۔یورپ اور امریکا میں جو وہاں کے باشندگان ہماری زبان میں کام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اُن کے حالات کتنے مشکل ہوں گے، اِس کا انداہ بہ آسانی نہیںلگایا جا سکتا ۔

زبان کو تہذیب و ثقافت کا ترجمان کہتے ہیں۔کوئی ایک جملہ ہماری زبان سے نکلتا ہے تو اُس کی پشت پر مذہب ، قومیت، نسل،جغرافیہ اورہزاروں برسوں کی روایات کھڑی ملتی ہیں۔ہمارے محاورات، ضرب الامثال، ثقافتی تلازمے اور نہ جانے کتنے ابواب واہوتے ہیں جو انھی کے سہارے روشن ہوتے ہیں۔ اِن سب سے مل کر کوئی تخلیق کار بڑا ہوتا ہے یا اپنی بڑائی کا دعوا پیش کرتا ہے۔محمود الاسلام کو اردو کی تہذیبی زندگی نہ وراثت میں ملی اور نہ پچھلے پچاس برسوں میں بنگلا دیش میں کوئی ایسا ماحول بن پایا کہ بنگلا دیش میں اردو ایک جزیرے کی طرح آباد رہے۔تھوڑے بہت پرانے اساتذہ سے انھوں نے اردو پڑھی مگر زیادہ تو بنگلا نژاد ہی تھے۔

ہاں، اُنھوں نے اردو کا ادبِ عالیہ کتابوں میں پڑھا۔رفتہ رفتہ اِس علم نے اردو کے الفاظ ، محاورات اورضرب الامثال پر ایک حد تک اُنھیں قادر ہونے کا موقع دیا مگر اِسی کے ساتھ بنگلا زبان کی روایت ، اُس کا بہترین ادبی سرمایہ اور بنگلا کی شعری فضا نے اُنھیں ایک نئی زبان گڑھنے کا چیلنج پیش کیا۔یہ نئی زبان ارود اور بنگلا کے محاورات اور طریقِ استعمال کے امتزاج سے قایم ہوئی ہے۔اِسی لیے جگہ جگہ نہ صرف یہ کہ زبان و اُسلوب میں اردو کے مانوس لہجے سے مغائرت مل جائے گی بلکہ بعض ایسے نئے موضوعات اور مضامین بھی اُن کے یہاں نظر آجاتے ہیں جو عام طورسے اردو کی کتابوں میںموجود نہیں۔اِسے کوئی اجنبی استعمال کہہ سکتا ہے، کوئی اختراع اور کوئی اور میرے جیسا اردو ادب کا طالب علم ہو تو اِسے اپنی زبان کے دائرے کو وسیع کرنے کی کوشش مانے گا۔محمودا لاسلام کے اِس شعری مجموعے کو اِنھی اسباب اور اپنی زبان کے دائروں کو مزید وسعت بخشنے والے ایک صحیفے کے طور پرمیں دیکھنا پسند کروں گا۔

’پیاسا مَن‘ محمود الاسلام کی ابتدائی شاعری کا مجموعہ ہے جو گذشتہ دو تین برسوں کے دوران اُنھوں نے قلم بند کی ہے۔ شاعر کی عمر جتنی بھی ہو، جب سے وہ شعر گوئی کی طرف آتا ہے، اُسی وقت سے اُس کی بہ حیثیتِ شاعر عمر شمار کی جائے گی۔۲۰۱۸ء سے ۲۰۲۱ء کے درمیان یہ نظمیں عالَمِ وجود میں آئیں۔یہی وہ زمانہ ہے جب وبائی صورتِ حال نے پوری دنیا کو جکڑ لیا تھا اور اِس وبا میں محمود الاسلام بھی ذاتی طور پر بہت مشکلوں سے باہر نکل سکے۔جو شخص دو دہائیوں سے تنقید و تحقیق بالخصوص لسانی تحقیق میں لگا ہوا ہو، اُس سے یہ توقع کہ باضابطہ عروض و بلاغت کے اوزاروں سے فوری طور پر لیس ہو کر میدان میں اُتر آئے، یہ شاید ہی ممکن ہو۔وبائی دَور میں تو یوں بھی وسایل اتنے کم ہو گئے تھے کہ اِس کی گنجایشیں معدوم تھیں۔

محمودالاسلام کے اِ س مجموعے کو رسمی طورپر عروض و بلاغت کے دائروں میں قید کرکے اگر آپ ملاحظہ کریں گے تو نہ صرف یہ کہ آپ شاعر کے ساتھ بے انصافی کریں گے بلکہ ایک نئے تخلیق کار کی آمد آمد کے جشنِ استقبالیہ کو بھی خاک میں ملا دیں گے۔ہم یوں بھی نثری نظمیں پڑھتے ہوئے کہاں ایسے علمی جبر کو رَوا رکھتے ہیں۔ہمارے یہاں بڑی تعداد میں اب شاعری عروضی نظام سے جگہ جگہ لا تعلق ہو کر سامنے آ رہی ہے اور ہم اسے پڑھنے اوراس سے حظ اُٹھا نے کے لیے تیّار ملتے ہیں۔ردیف و قوافی کے شیدائیوں کو البتّہ زیادہ مایوسی نہیں ملے گی کیوں کہ اپنی ہزار ’بے عروضیوں‘ کے باوجود وہ بہت حد تک قافیہ ردیف کے التزام میں بہ شوق مبتلا رہتے ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ اس سے ان کے یہاںکوئی اضافی موسیقی پیدا کرنے کی کوشش نہیں ملتی۔

محمودالاسلام بے شک مادری زبان بنگلا اور سیکھی ہوئی زبان اردو کے بیچ ایک نقطۂ مفاہمت تلاش کرنے کے لیے نکلے ہیں۔اِس مجموعے میں وہ ایک نئی ادبی فصل قایم کرنے اور موجد ہونے کا کوئی دعوا تو نہیں کرتے۔ شاید یہ ابھی غیر ضروری ہوتایا قبل از وقت قرار دیا جاتا۔سینکڑوں اور ہزاروں سال کی آزمائی ہوئی زبان کے طلسمات کو اپنی مٹھّی میں پکڑنے میںانھیں وقت لگے گا۔ تین سال کی شاعری جب تیس سال کی مشقِ سخن پار کرلے تو عین ممکن ہے کہ اُن کی اردو شاعری میں بنگلا زبان کی فطری لَے، ماحول کا کھُلا پن اور اردو زبان کا مانوس لہجہ اِس طرح سے شیر و شکر ہو جائیں کہ پڑھنے والے اُسے ایک نئے شہ پارے کے طور پر ملاحظہ کریں۔

’پیاسا مَن‘ کی شاعری اگر چہ اَن گڑھ ہے مگر موضوعاتِ شاعری سے یہ پتا چلتا ہے کہ شاعر اپنی دنیاکا ایک بے دار مغز شہری ہے۔اُسے دین، سیاست، مذہب، بازار، تعلیم اور نئی ترقیات کے مختلف مسایل سے بھر پور آ گاہی ہے ۔ وہ انسان دوست اور نئی دنیا کے خوابوں کا تمنّائی ہے۔ وہ سوکھا محقق اور مرا ہوا استاد بھی نہیں ہے بلکہ اُس کے جذبات متلاطم ہیں،دل و دماغ میں بھونچال مچا رہتا ہے۔ اُسے دنیا کی ہزاروں حسین چیزیں متوجہ کرتی ہیں اور وہ نہ جانے کتنی رُکاوٹوں کو چیلنج کرتا ہوا منزلِ شوق تک پہنچنا چاہتا ہے۔اِس لیے اِس کتاب کو نفسِ مضموں کے اعتبارسے کوئی مبتدیانہ تصنیف تسلیم کرنا شاعر کے ساتھ شدید بے توجّہی کا ثبوت ہوگی۔ یہ غور و فکر کرنے والی اور دنیا کو بدلنے کے لیے سرگرمِ عمل شاعری ہے۔

جہاں تک مجھے معلوم ہے، ’ پیاسامَن‘ کوبنگلا دیش میں کسی بنگلا نژاد فن کار کا پہلا اردو شعری مجموعہ ہونے کا شرف حاصل ہو رہا ہے۔ میں اِس کے لیے پروفیسر محمود الاسلام کی خدمت میں مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ وہ ہمارے ادارے بزمِ صدف انٹر نیشنل کی بنگلا دیش شاخ کے صدر بھی ہیں اور وہاں سے ایک اردو رسالہ ’اُمیّد‘ عنوان سے شایع کرنے والے ہیں۔مجھے یقین ہے کہ اُن کے اِس مجموعے کو اردو زبان کے روایتی قاری ہمدردانہ انداز میں اور ایک غیر اردو خطّے میں تنو مند ہو رہی اپنی زبان کی تازہ کونپل کے طور پر ملاحظہ کریں گے۔ان شاء اللہ، جب اُن کا اگلا شعری مجموعہ سامنے آئے گا تو بے شک زبان و بیان کے اعتبار سے وہ اِ س سے زیادہ پختہ اور با اعتبار تسلیم کیا جائے گا۔

Previous articleآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے کیا بڑا اعلان!
Next articleعلامہ جمیل مظہری: شخصیت اور شاعری

1 COMMENT

  1. قبلہ! آپ جیسے محقق ادیب سےبڑاتاریخی سہوہواہے۔۔۔۔۔۔صدیوں پہلے،بہت سے بنگالی اردوصاحب دیوان شعراء ہوگزرےہیں۔۔۔۔۔۔۔آپ کو لکھناچاہیےتھا۔۔۔اولین بنگلہ دیشی اردوصاحب دیوان شاعر
    سہیل احمدصدیقی

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here